حدیث پاک گوشہ خواتین

الأربعين لصاحبِ جوامع الکلم و الحکم (چھٹی حدیث)

تحریر: بنت مفتی عبدالمالک مصباحی، جمشیدپور

حضورﷺ افضل الخلائق و سید المرسلین

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ :
"أَنَا أَكْرَمُ الْأَوَّلِينَ وَالْآخِرِينَ وَلَا فَخْرَ ".
{سنن الترمذي، أَبْوَابُ الْمَنَاقِبِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، الحدیث ٣٦١٦}
ترجمہ : میں اولین و آخرین میں سب سے زیادہ عزت والا ہوں اور اس پر مجھے فخر نہیں –

وضاحت : یہ ایک طویل حدیث کا حصہ ہے جس میں انبیاے سابقین اور ہمارے آقاے کریم ﷺ کے فضائل و مناقب کا ذکر ہے، لیکن چوں کہ ہم نے اس حدیث کو عقائد کے باب میں نقل کیا ہے اسی لیے بس حضور ﷺ کے اسی جملے کو ذکر کیا –
اب آئیے دیکھتے ہیں……

اس حدیث کی جامعیت :
یہ حدیث بھی جامع احادیث میں سے ایک ہے، اس میں حضور ﷺ کے بارے میں کیا کیا اور کیسے عقائد رکھنا چاہیے گویا سب کا ذکر ہے، اولا اس حدیث کی جامعیت پر عالم ربانی، قاطع طُرق الشیطانی یعنی علامہ فضل رسول قادری بدایونی – رحمة الله عليه – کا جملہ دیکھتے ہیں؛ آپ اس حدیث کے تحت فرماتے ہیں :
الظاهر ان اللام للإستغراق و إنه أكرم الخلائق بالإتفاق –
ترجمہ : ظاہر یہ ہے کہ اس حدیث میں مستعمل لام استغراق کے لیے ہے، جس کا معنی یہ ہوگا کہ بے شک حضور ﷺ تمام خلائق سے بالإتفاق افضل و اعلی ہیں –
{المعتقد المنتقد، باب ٢ نبوات، ص١٢٤، مطبوعہ المجمع الاسلامی مبارک پور}
اور اعلٰی امام اہل سنت ماحی بدعت امام احمد رضا خان محقق بریلوی – رحمة الله عليه – اسی کے حاشیہ میں "الظاهر” پر لکھتے ہیں :
لیس هذا محل الاستهظار بل هو مقطوع عند اولی الأبصار –
ترجمہ : یہ (کہ لام استغراق کے لیے ہے) ظاہر ہے اس لفظ کے ذریعے نہ کہا جائے بلکہ یہ کہا جائے کہ قطعی (اس حدیث میں استغراق ہی کے لیے مستعمل ہے) کہ یہی بصیرت والے علماء کے نزدیک ہے –
{المعتمد المستند، ایضا}
_ائمہ اجلہ کے یہی جملے اس حدیث کی جامعیت کے لیے کافی ہیں کہ یہ حدیث استغراقی معنی سمیٹے ہوئے بے شمار عقائد کا مرجع اور اصل ہے،
لیکن آئیے اس حدیث کے ضمن میں ذرا تفصیلات پر نظر ڈالتے ہیں اور حضور سید الانبیاء – ﷺ – کے متعلق کیسے عقیدے رکھنا چاہیے جانتے ہیں :

❶ ــــ حضور – ﷺ – تمام لوگوں میں سب سے افضل : اس حدیث میں جو لفظ "اولین و آخرین” ہے بڑا جامع ہے کہ اس میں کوئی قید نہیں اولین انسان میں سے ہوں یا ملائکہ میں سے ہوں یا دیگر کسی مخلوق میں سے بلکہ عام ہے اور اس میں تمام مخلوقات شامل جیسا کہ اوپر واضح ہوا، اب دلائل کی روشنی میں دیکھتے ہیں کہ اشرف المخلوقات یعنی انسانوں میں سب سے افضل ہیں، یوں تو تمام انبیائے کرام، تمام مخلوق یہاں تک کہ رُسُل ملائکہ سے افضل ہیں جیسا فرمان الہی ہے :
كُلًّا فَضَّلْنَا عَلَى الْعٰلَمِیْنَۙ(انعام؛ ۸۶)
ترجمہ : ہم نے ہر ایک کو اس کے وقت میں سب پر فضیلت دی۔
اس آیت کی تفسیر میں علما نے لکھا ہے :
یعني: علی عالمي زمانهم ویستدلّ بهذہ الآیۃ من یقول: إنّ الأنبیاء أفضل من الملائكة؛ لأنّ العالم اسم لکلّ موجود سوی اللّٰہ تعالی فیدخل فیہ الملک فیقتضي أنّ الأنبیاء أفضل من الملائكة ۔
(تفسیر الخازن لباب التأويل في معاني التنزیل، تحت سورہ انعام آیت ٩٠، ج٢، ص ٤٠٩، مطبوعہ دار الکتب العلمیہ)
ترجمہ : یعنی ہر نبی کو ان کے زمانے کے تمام لوگوں پر فضیلت حاصل رہی اور اس آیت میں اس بات کی دلیل ہے کہ انبیاء کرام علیہم السلام فرشتوں سے افضل ہیں کیوں کہ عالم یعنی جہان میں اللہ تعالیٰ کے سوا تمام موجودات داخل ہیں تو فرشتے بھی اس میں داخل ہیں اور جب تمام جہاں والوں پر فضیلت دی تو فرشتوں پر بھی فضیلت ثابت ہوگئی۔
اس آیت اور تفسیر سے بالعموم تمام انبیاء کی تمام مخلوقات پر فضیلت ثابت ہوئی ذرا تخصیص کے ساتھ مگر ہمارے آقا – ﷺ – کی شان یہ ہے کہ آپ کو بالعموم اولین و آخرین پر، تمام انسانوں پر فضیلت حاصل ہے جیسا کہ حدیث شریف ہے : عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ : رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَا سَيِّدُ النَّاسِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ – (صحيح البخاري، كِتَابُ التَّفْسِيرِ، سُورَةُ بَنِي إِسْرَائِيلَ،بَابُ ذُرِّيَّةَ مَنْ حَمَلْنَا مَعَ نُوحٍ إِنَّهُ كَانَ عَبْدًا شَكُورًا الحديث ٤٧١٢) ترجمہ : میں قیامت کے دن لوگوں کا سردار (افضل) رہوں گا – جب قیامت میں شان ہوگی تو دنیا میں تو بدرجہ اولی تمام انسان کے سید و سردار اور لوگوں میں افضل و اکرم ہیں –
❷ ـــ حضور – ﷺ – تمام فرشتوں سے افضل : جیسا کہ اوپر واضح ہوا کہ تمام انبیاء تمام فرشتوں سے افضل و اعلی ہیں تو حضور – ﷺ – تو بدرجہ اولی تمام فرشتوں سے افضل ہیں جیسا کہ خود حضور – ﷺ – کا ارشاد گرامی ہے :
عَن عَائشَة – رضي الله عنها – عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ :
"أنَا سَیّدُ العَالمِیْن” ۔
(مفاتیح الغیب (التفسیر الکبیر) بحوالہ البیہقی تحت الآیۃ ۲ /۲۵۳،دارالکتب العلمیۃ بیروت)
ترجمہ : میں تمام عالم کا سردار ہوں –
_اس حدیث مبارکہ سے بھی اظہر من الشمس ظاہر ہے کہ حضور – ﷺ – تمام عالم سے افضل و اعلی ہیں اور عالمین میں فرشتے بھی شامل ہیں –

❸ ـــ حضور – ﷺ – تمام انبیا سے افضل : ابھی ثابت کیا گیا کہ تمام مخلوقات میں انبیاے کرام کی ذات سب سے افضل و اعلی ہے لیکن اب یہ سوال ہوتا ہے کہ تمام انبیاء میں سب سے افضل کون ہیں؟ تو علماے حق کا ماننا ہے کہ تمام انبیاء میں سب سے افضل و اعلی اور سید الانبیاء و المرسلین ہمارے آقا حضور محمد – ﷺ – ہیں ہیں، ان کی افضیلت کا واضح اور جلی ذکر احادیث مبارکہ میں تو ہے ہی لیکن بے شمار قرآنی آیات بھی اس طرف مشیر ہیں جن میں سے تین یہ ہیں :

💫انبیاء پر فضیلت آیات کی روشنی میں :
(١) __
وَ اِذْ اَخَذْنَا مِنَ النَّبِیّٖنَ مِیْثَاقَهُمْ وَ مِنْكَ وَ مِنْ نُّوْحٍ وَّ اِبْرٰهِیْمَ وَ مُوْسٰى وَ عِیْسَى ابْنِ مَرْیَمَ۪-وَ اَخَذْنَا مِنْهُمْ مِّیْثَاقًا غَلِیْظًاۙ(الأحزاب؛ ۷)
ترجمہ : اور اے محبوب یاد کرو جب ہم نے نبیوں سے عہد لیا اور تم سے اور نوح اور ابراہیم اور موسیٰ اور عیسیٰ بن مریم سے اور ہم نے ان سے گاڑھا عہد لیا۔

استدلال : اس آیت میں اللہ رب العزت نے بالعموم تمام انبیاے کرام کے میثاق کا ذکر فرمایا ہے لیکن…..
وَإِنَّمَا خُصَّ هَؤُلَاءِ الْخَمْسَةُ وَإِنْ دَخَلُوا فِي زُمْرَةِ النَّبِيِّينَ تَفْضِيلًا لَهُمْ.
( تفسير القرطبي ،تحت سورہ أحزاب، آیت ٧)
ترجمہ : ان پانچوں (اولوا العزم انبیاے کرام) کو خاص کر دیا گیا ہے اگر چہ یہ انبیاء کے زمرے میں شامل تھے، یہ تخصیص ان کی فضیلت کے لیے ہے –
اب ان مخصص اور منتخب انبیاے کرام کی ترتیب پر نظر کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ….
بترتیب الأربعة وفق الوجود و قد نبینا – ﷺ – لتقدم رتبته فی عالم الشهود –
(منح الروض الأزهر في شرح الفقه الاکبر للقاری، ص٣٣٨، مطبوعہ دار البشائر الاسلامیه)
یعنی تمام انبیاءِ کرام علیہم السلام جن کا اس آیت میں ذکر ہوا، ان کا تذکرہ اسی ترتیب سے ہوا جس ترتیب سے وہ دنیا میں تشریف لائے لیکن حضور اقدس – ﷺ – کی تشریف آوری اگرچہ تمام نبیوں کے بعد ہوئی لیکن اللہ – ﷻ – نے آپ کا ذکر دوسرے انبیاء کرام سے پہلے کیا اور یہ انداز تمام نبیوں پر حضور – ﷺ – کی افضلیت کے اظہار کے لیے ہے۔ اور اس لیے بھی کہ آپ عالم شہود میں تمام انبیا سے پہلے موجود تھے، جیسا کہ حدیث شریف میں ہے :
عن قتادة قال: و ذُكر لنا أن نبيّ الله ﷺ كان يقول:
"كُنْتُ أوَّلَ الأنْبِياءِ فِي الخَلْقِ، وآخِرَهُمْ فِي البَعْثِ” –
(تفسير الطبري، سورة الأحزاب ایة ٧، ج١٩، ص٢٣)
ترجمہ :حضرت قتادہ – رضي الله عنه – نے کہا کہ نبی کریم – ﷺ – فرمایا کرتے تھے "میں تخلیق کے اعتبار سے پہلا نبی ہوں اور بعثت میں آخری نبی” –
بہر حال ہر دو صورت میں اس آیت کریمہ میں حضور – ﷺ – کی عظمت شان کا اظہار ہے کہ حضور تمام انبیاء سے افضل و اعلی ہیں –

(٢)__
كُنْتُمْ خَیْرَ اُمَّةٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ – (آل عمران؛ ١١٠)
ترجمہ : تم بہتر ہو ان سب امتوں میں جو لوگوں میں ظاہر ہوئیں –

استدلال : اس آیت کریمہ میں اللہ رب العزت نے حضور – ﷺ – کی امت کو خیر امت فرمایا ہے، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ تمام امتوں میں سب سے افضل امت حضور – ﷺ – کی امت ہے – تو اسی آیت سے یہ بھی بدرجہ اولی ثابت ہوا کہ تمام نبیوں میں ہمارے نبی کریم – ﷺ – سب سے افضل نبی ہیں کہ نبی ہی کی وجہ سے امتی کو شرف و افضلیت حاصل ہوئی ہے؛ اسی کو ملا علی قاری – رحمة الله عليه – نے مذکورہ آیت کے ضمن یوں تحریر فرمایا ہے :
لما کانت أمته علیه السلام خیر الأمم کان هو خیر الانبیاء، کما أشار الیه صاحب بردة البوصیري،
إلا أنه عکس القضیة في محصول الزبدة حیث قال :
لَمَّا دعَا اللهُ داعِيْنَا لِطَاعَتهِ
باكْرمِ الرسُلِ كُنَّا اكْرم الامَمِ.
(منح الروض الأزهر في شرح الفقه الاکبر للقاری، ص٣٣٨-٣٣٩، مطبوعہ دار البشائر الاسلامیه)
__اسی آیت کے تحت تفسیر کبیر میں ہے :
أمة محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم أفضل الأمم، فوجب أن یکون محمد أفضل الأنبیاء ، بیان الأوّل قولہ تعالی: { كُنْتُمْ خَیْرَ اُمَّةٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ } پ۴، اٰلِ عمرٰن:۱۱۰۔ بیان الثاني أنّ هذہ الأمة إنّما نالت هذہ الفضیلة لمتابعة محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم، قال تعالی: { قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ } پ۳، اٰلِ عمرٰن:۳۱۔
(تفسیر کبیر تحت آیت مذکورہ)
(ترجمہ اور خلاصہ وہی ہے جو اوپر ذکر ہوا)
الغرض اس آیت کریمہ سے بھی حضور – ﷺ – کی افضلیت تمام انبیاے سابقین پر ثابت ہوتی ہے –

(٣)_
اُولٰٓىٕكَ الَّذِیْنَ هَدَى اللّٰهُ فَبِهُدٰىهُمُ اقْتَدِهْؕ- (أنعام؛ ٩٠)
ترجمہ : یہ ہیں جن کو اللہ نے ہدایت کی تو تم انھیں کی راہ چلو تم فرماؤ –

استدلال : یہ آیت سورہ انعام کی ہے، اس سورہ کے ابتدائی حصے میں اللہ رب العزت نے کفار و مشرکین کی بد بختیوں کا ذکر فرمایا اور اس کے بعد ارشاد فرمایا :
قَدْ نَعْلَمُ اِنَّهٗ لَیَحْزُنُكَ (أنعام؛ ٣٣)
ترجمہ : ہمیں معلوم ہے کہ تمہیں رنج دیتی ہے وہ بات جو یہ کہہ رہے ہیں –
یعنی اللہ – ﷻ – نے اپنے حبیب – ﷺ – کو تسلی دیتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ ہمیں معلوم ہے کہ آپ ان کی باتوں سے رنجیدہ ہو جاتے ہیں لیکن آپ رنجیدہ نہ ہوں کہ….
وَ لَقَدْ كُذِّبَتْ رُسُلٌ مِّنْ قَبْلِكَ فَصَبَرُوْا عَلٰى مَا كُذِّبُوْا وَ اُوْذُوْا حَتّٰۤى اَتٰىهُمْ نَصْرُنَاۚ-وَ لَا مُبَدِّلَ لِكَلِمٰتِ اللّٰهِۚ-وَ لَقَدْ جَآءَكَ مِنْ نَّبَاِی الْمُرْسَلِیْنَ(انعام؛ ۳۴)
ترجمہ : اور تم سے پہلے رسول جھٹلائے گئے تو انھوں نے صبر کیا اس جھٹلانے اور ایذائیں پانے پر یہاں تک کہ انہیں ہماری مدد آئی اور اللہ کی باتیں بدلنے والا کوئی نہیں اور تمہارے پاس رسولوں کی خبریں آہی چکیں ہیں۔
سبحان اللہ؛ اس آیت کریمہ میں اللہ رب العزت نے اپنے حبیب کے قلب اطہر کو کیا ہی أحسن انداز میں تسلی بخشی ہے اور صرف اتنا ہی نہیں بلکہ اس آیت یعنی آیت نمبر چوتیس (٣٤) سے لے کر مسلسل آیت نمبر (٨٩) تک یعنی پچپن (٥٥) آیات میں اپنے حبیب – ﷺ – کی تسلی کی خاطر انبیاے سابقین کے بلند حوصلے، تحمل، صبر اور اس طرح کی دوسری خوبیوں کا ذکر فرمایا اور اس کے بعد آیت نمبر نوے (٩٠) میں ارشاد فرمایا : "اُولٰٓىٕكَ الَّذِیْنَ هَدَى اللّٰهُ فَبِهُدٰىهُمُ اقْتَدِهْؕ-” یعنی اے حبیب! آپ کفار و مشرکین کی تکلیف دہ باتوں سے شکستہ اور رنجیدہ نہ ہوں بلکہ ان انبیاء کا ذکر سن مطمئن ہو جائیں اور غموں کو بھول جائیں –
اللہ اللہ! کیا شان ہے ہمارے آقا – ﷺ – کی؛ حضور جب غم گین ہوں تو اللہ خود تسلی عطا فرمائے؛ واہ اسی لیے تو امام نے کہا ہے :
خدا کی رضا چاہتے ہیں دو عالم
خدا چاہتا ہے رضائے محمد
__ اسی عزت و فضیلت والی آیت کے تحت امام علاء الدین بغدادی المعروف امام خازن – رحمة الله عليه – فرماتے ہیں :
"احتج العلماء بهذه الآية على أن رسول الله صلى الله عليه وسلم أفضل من جميع الأنبياء عليهم الصلاة والسلام. بيانه أن جميع خصال الكمال وصفات الشرف وكانت متفرقة فيهم فكان نوح صاحب احتمال على أذى قومه، وكان إبراهيم صاحب كرم وبذل مجاهدة في الله عز وجل، وكان إسحاق ويعقوب من أصحاب الصبر على البلاء والمحن، وكان داود عليه السلام سليمان من أصحاب الشكر على النعمة، قال الله فيهم:  { اِعْمَلُوْۤا اٰلَ دَاوٗدَ شُكْرًاؕ-}[پ۲۲، سبا: ۱۳]، وكان أيوب صاحب صبر على البلاء، قال الله فيه : { اِنَّا وَجَدْنٰهُ صَابِرًاؕ-نِعْمَ الْعَبْدُؕ-اِنَّهٗۤ اَوَّابٌ (۴۴) }  [پ۲۳،  صٓ: ۴۴]، وكان يوسف قد جمع بين الحالتين، يعني: الصبر والشكر، وكان موسى صاحب الشريعة الظاهرة والمعجزات الباهرة، وكان زكريا ويحيى وعيسى وإلياس من أصحاب الزهد في الدنيا، وكان إسماعيل صاحب صدق وكان يونس صاحب تضرع وإخبات ثم إن الله تعالى أمر نبيه صلى الله عليه وسلم أن يقتدي بهم وجمع له جميع الخصال المحمودة المتفرقة فيهم فثبت بهذا البيان أنه صلى الله عليه وسلم كان أفضل الأنبياء لما اجتمع فيه من هذه الخصال التي كانت متفرقة في جميعهم والله أعلم”.
(تفسیر الخازن لباب التأويل في معاني التنزیل، تحت سورہ انعام آیت ٩٠، ج٢، ص ٤٠٩، مطبوعہ دار الکتب العلمیہ)
یعنی حضور – ﷺ – تمام انبیا سے افضل ہیں کیوں کہ جو شرف و کمال اور خصوصیات و اوصاف جدا جدا انبیاے کرام علیہم السلام کو عطا فرمائے گئے تھے حضور – ﷺ – کے لیے سب کو جمع فرما دیا اور جب آپ – ﷺ – تمام انبیاے کرام کے اوصافِ کمالیہ کے جامع ہیں تو بے شک سب سے افضل ہوئے ۔

اسی لیے محدث دہلوی – رحمة الله عليه – نے فرمایا :
جمیع کمالات کہ در ذوات مقدسہ انبیاء سابق مودع بود، 
در ذات شریف او بازیادتیہا موجود بود، ع
آنچہ خوباں ہمہ دارند تو تنہا داری۔
(تکمیل الإیمان از شیخ عبد الحق محدث دہلوی، ص۱۲۴، مطبوعہ الرحیم اکیڈمی کراچی)
یعنی: جس قدر کمالات انبیاء سابقین کی ذواتِ مقدسہ میں ودیعت فرمائے گئے تھے وہ سب بلکہ ان سے زیادہ آپ – ﷺ – کی ذات شریف میں موجود۔ع 
جو کچھ تمام حسین باعتبار مجموعہ کے رکھتے ہیں وہ آپ تنہا رکھتے ہیں ۔

ان آیات سے ثابت ہوا کہ حضور – ﷺ – سید المرسلین ہیں؛ اب اسی موضوع پر اختصار احادیث پر نظر ڈالتے ہیں :
💫انبیاء پر فضیلت احادیث کی روشنی میں :
(١) _
عن ابن عباس رضي اللّٰه تعالی عنہما: ((فضلت علی الأنبیاء بخصلتین))۔  ’’المواہب اللدنیۃ‘‘، المقصد الرابع، الفصل الثاني، ج۲، ص۲۵۳۔
ترجمہ : میں دو باتوں سے تمام انبیاء پر فضیلت دیا گیا –
(٢) _
عن حذیفۃ قال: قال رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم: ((فُضّلنا علی الناس بثلاث))۔
’’صحیح مسلم‘‘، کتاب المساجد ومواضع الصلاۃ، الحدیث: ۵۲۲، ص۲۶۵۔
ترجمہ : ہمیں تین وجہ سے تمام لوگوں پر فضیلت ہوئی۔

(٣) _
عن أبي أمامۃ: أنّ رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیه وسلم قال: ((فضلت بأربع))۔
’’المسند‘‘ للإمام أحمد بن حنبل، الحدیث: ۲۲۲۷۲، ج۸، ص۲۸۴۔
ترجمہ : میں نے چار وجہ سے فضیلت پائی۔

(٤) _
عن السائب بن یزید، قال: قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم:((فضلت علی الأنبیاء بخمس))۔
’’المعجم الکبیر‘‘  للطبراني،  الحدیث: ۶۶۷۴،  ج۷، ص۱۵۵۔
ترجمہ : میں پانچ وجہ سے انبیاء پر فضیلت دیا گیا ۔

(٥) _
عن أبي ہریرۃ أنّ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم قال: ((فضلت علی الأنبیاء بست))۔
’’صحیح مسلم‘‘، کتاب المساجد ومواضع الصلاۃ، الحدیث: ۵۲۳، ص۲۶۶۔
ترجمہ : مجھے انبیاء پر چھ باتوں سے تفضیل دی گئی ۔

(٦) _
قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم: ((أعطیت أربعا لم یعطهن أحد من أنبیاء اللّٰه))۔
’’المسند‘‘ للإمام أحمد بن حنبل، الحدیث: ۱۳۶۱، ج۱، ص۳۳۳۔
ترجمہ : مجھے چار فضیلتیں ملی کہ مجھ سے پہلے انبیاء میں سے کسی کو نہ دی گئی –

(٧) _
أخبرنا جابر بن عبد اللّٰہ أنّ النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم قال: ((أعطیت خمساً لم یعطهن أحد قبلي…إلخ))۔
’’صحیح البخاري‘‘، کتاب التیمم، الحدیث: ۳۳۵، ج۱، ص۱۳۴۔
ترجمہ : مجھے چیزیں دی گئی کہ مجھ سے پہلے کسی کو نہیں ملی –

(٨) _
قال رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیه وسلم: ((أعطیت خمساً لم یعطهن أحد من الأنبیاء قبلي…إلخ))۔
’’صحیح البخاري‘‘، کتاب الصلاۃ، الحدیث: ۴۳۸، ج۱، ص۱۶۸۔
ترجمہ : مجھے چیزیں دی گئی کہ مجھ سے پہلے کسی نبی کو نہیں ملی –

(٩) _
عن عبادۃ بن صامت أنّ النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلمخرج فقال: ((إنّ جبریل أتاني فقال: اخرج فحدث بنعمة اللّٰه التي أنعم بها علیك فبشرني بعشر لم یؤتها نبي قبلي))۔’’الخصائص الکبری‘‘، باب اختصاص صلی اللّٰہ علیہ وسلم بعموم الدعوۃ۔۔۔ إلخ، ج۲، ص۳۲۰۔
ترجمہ : جبریل نے میرے پاس حاضر ہو کر عرض کی : باہر جلوہ فرما کر اللہ تعالٰی کے وہ احسان جو حضور پر کئے ہیں بیان فرمائیے ۔ پھر مجھے دس فضیلتوں کا مژدہ دیا کہ مجھ سے پہلے کسی نے نہ پائیں ۔

(١٠) _
قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم : ((أعطیت ما لم یعط أحد من الأنبیاء))۔
’’المصنف‘‘ لابن أبيشیبۃ، کتاب الفضائل،  باب ما أعطی اللّٰہ تعالی۔۔۔ إلخ،  الحدیث:  ۹، ج۷، ص۴۱۱۔
ترجمہ : مجھ سے پہلے (یہ فضائل) انبیاء میں سے کسی کو نہیں ملی –

اعلی حضرت – رحمة الله عليه – نے اس موضوع پر بے شمار احادیث نقل فرمائی ہیں انھیں میں سے دس میں نے اوپر ذکر کیا – آپ – رحمة الله عليه – یہ احادیث نقل کرنے کے بعد تحریر فرماتے ہیں کہ:
’’ان روایات ہی سے یہ بات ثابت ہوگئی کہ اعداد مذکورہ میں حصر مراد نہیں ، کہیں دو فرماتے ہیں ، کہیں تین، کہیں چار، کہیں پانچ، کہیں چھ، کہیں دس۔ اور حقیقۃً سو اور دوسو پر بھی انتہا نہیں ۔ امام علامہ جلال الدین سیوطی قدس سرہ نے ’’خصائص کبری‘‘ میں اڑھائی سو کے قریب حضور   – ﷺ – کے خصائص جمع کئے۔ اور یہ صرف ان کا علم تھا ان سے زیادہ علم والے زیادہ جانتے تھے۔ اور علمائے ظاہر سے علمائے باطن کو زیادہ معلوم ہے، پھر تمام علوم عالم اعظم حضور سید عالم  – ﷺ – سے ہزاروں منزل ادھر منقطع ہیں ۔جس قدر حضور اپنے فضائل وخصائص جانتے ہیں دوسرا کیا جانے گا، اور حضور – ﷺ –  سے زیادہ علم والا ان کا مالک ومولی جل وعلا ہے، { وَ اَنَّ اِلٰى رَبِّكَ الْمُنْتَهَى (۴۲)}  پ۲۷،  النجم: ۴۲،
(ترجمہ:بیشک تمہارے رب ہی کی طرف منتہی ہے۔ ت)جس نے انہیں ہزاروں فضائل عالیہ وجلائل غالیہ دئے اور اوربے حد وبے شمار ابدالآباد کے لیے ابد الآباد کے لئے رکھے { وَ لَلْاٰخِرَةُ خَیْرٌ لَّكَ مِنَ الْاُوْلٰىؕ(۴)} پ۳۰، الضحی: ۴، (ترجمہ: اور بے شک پچھلی گھڑی آپ کے لئے پہلی سے بہتر ہے) ۔
(تجلی الیقین بان نبینا سید المرسلین ص ١١٠_١١٥، مطبوعہ مرکزی مجلس رضا لاہور، فتاویٰ رضویہ ج٣٠، ص٢٥٣)

❹ ـــ حضور – ﷺ – کی عظمت شان کے لیے "میثاق النبیین” :
زیر بحث حدیث مبارکہ میں حضور – ﷺ – کا فرمان "أَنَا أَكْرَمُ الْأَوَّلِينَ وَالْآخِرِينَ ” یوں ہی نہیں بلکہ آیات قرآنیہ کے شرح میں ہے، جن میں سے کچھ واضح ہوا اور بہت کچھ باقی ہے؛ انھیں فضائل میں سے کہ حضور – ﷺ – اولین و آخرین، انبیاء و مرسلین میں سے سب افضل ہیں؛ اس پر بے شمار دلائل میں سے ایک یہ بھی ہے کہ (١) حضور نبی کریم – ﷺ – کی شان میں اللہ تعالیٰ نے محفل قائم فرمائی۔
(٢) خود عظمت مصطفٰی – ﷺ – کو بیان کیا۔
(٣) عظمت مصطفٰی کے سامعین کے لیے کائنات کے مقدس ترین افراد انبیاء کرام علیہم السلام کو منتخب فرمایا۔
(٤) کائنات وجود میں آنے سے پہلے حضور اقدس – ﷺ – کا ذکر جاری ہوا اور آپ – ﷺ – کی عظمت کا بیان ہوا۔
(٥) آپ – ﷺ – کو تمام نبیوں کا نبی بنایا کہ تمام انبیاء کرام علیہم السلام کو بطور خاص آپ – ﷺ – پر ایمان لانے اور مدد کرنے کا حکم دیا۔
(٦) انبیاے کرام علیہم کو فرمانے کے بعد باقاعدہ اس کا اقرار لیا حالاں کہ انبیاے کرام کسی حکم الہٰی سے انکار نہیں کرتے۔
(٧) انبیاء کرام علیہم السلام نے اس اقرار کا باقاعدہ اعلان کیا۔
(٨) اقرار کے بعد انبیاء ِکرام علیہم السلام کو ایک دوسرے پر گواہ بنایا۔
(٩) اللہ تعالیٰ نے خود فرمایا کہ تمہارے اس اقرار پر میں خود بھی گواہ ہوں۔
(١٠) انبیاء کرام علیہم السلام سے اقرار کرنے کے بعد پھر جانا مُتَصَوَّر نہیں لیکن پھر بھی فرمایا کہ اس اقرار کے بعد جو پھرے وہ نافرمانوں میں شمار ہوگا۔
(صراط الجنان فی تفسير القرآن، ج١، مطبوعہ مکتبة المدینہ دہلی)

💫ذہن میں سوال اٹھ رہا ہوگا کہ یہ سب کہاں سے ثابت ہیں تو یہ بڑی کہی جا رہی ہیں!
تو دیکھیے یہ فضائل کہیں اور سے نہیں بلکہ اللہ رب العزت کے کلام مقدس سے ثابت ہے، اللہ – ﷻ – ارشاد فرماتا ہے :
وَ اِذْ اَخَذَ اللّٰهُ مِیْثَاقَ النَّبِیّٖنَ لَمَاۤ اٰتَیْتُكُمْ مِّنْ كِتٰبٍ وَّ حِكْمَةٍ ثُمَّ جَآءَكُمْ رَسُوْلٌ مُّصَدِّقٌ لِّمَا مَعَكُمْ لَتُؤْمِنُنَّ بِهٖ وَ لَتَنْصُرُنَّهٗؕ-قَالَ ءَاَقْرَرْتُمْ وَ اَخَذْتُمْ عَلٰى ذٰلِكُمْ اِصْرِیْؕ-قَالُوْۤا اَقْرَرْنَاؕ-قَالَ فَاشْهَدُوْا وَ اَنَا مَعَكُمْ مِّنَ الشّٰهِدِیْنَ(۸۱)فَمَنْ تَوَلّٰى بَعْدَ ذٰلِكَ فَاُولٰٓىٕكَ هُمُ الْفٰسِقُوْنَ(آل عمران؛ ۸۲)
ترجمہ : اور یاد کرو جب اللہ نے پیغمبروں سے ان کا عہد لیا جو میں تم کو کتاب اور حکمت دوں پھر تشریف لائے تمہارے پاس وہ رسول کہ تمہاری کتابوں کی تصدیق فرمائے تو تم ضرور ضرور اس پر ایمان لانا اور ضرور ضرور اس کی مدد کرنا فرمایا کیوں تم نے اقرار کیا اور اس پر میرا بھاری ذمہ لیا سب نے عرض کی ہم نے اقرار کیا فرمایا تو ایک دوسرے پر گواہ ہوجاؤ اور میں آپ تمہارے ساتھ گواہوں میں ہوں۔ تو جو کوئی اس کے بعد پھرے تو وہی لوگ فاسق ہیں۔

حضرت علی – رضي الله عنه – میثاق النبیین کی تشریح میں فرماتے ہیں جسے امام المفسرین امام طبری – رحمة الله عليه – نے اپنی سند سے نقل فرمایا ہے :
عن علي بن أبي طالب قال: لم يبعث الله عز وجل نبيًّا، آدمَ فمن بعدَه – إلا أخذ عليه العهدَ في محمد: لئن بعث وهو حيّ ليؤمنن به ولينصرَنّه = ويأمرُه فيأخذ العهدَ على قومه –
(تفسیر الطبري، آل عمران؛ آیت:٨١، ج٥، ص٥٤٠)
ترجمہ : اللہ تعالٰی نے آدم علیہ الصلٰوۃ والسلام سے لے کر آخر تک جتنے انبیاء بھیجے سب سے محمد رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے بارے میں عہد لیا گیا کہ اگر یہ اس نبی کی زندگی میں مبعوث ہو تو وہ ان پر ایمان لائے اور ان کی مددفرمائے اوراپنی امت سے اس مضمون کا عہد لے ۔
_ یہی تفسیر بے شمار صحابہ و تابعین اور ائمہ مفسرین کی ہے کہ اس موضوع پر میثاق کے یہی معانی ہے، اب خوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ حضور – ﷺ – کا جامع فرمان "أَنَا أَكْرَمُ الْأَوَّلِينَ وَالْآخِرِينَ” کتنی وسیع معنویت پر مشتمل ہے –

❺ ـــ تمام انبیاء حضور – ﷺ – کے امتی ہیں :
مذکورہ بالا آیت یعنی میثاق النبیین والی آیت سے یہ بھی ثابت ہے کہ تمام انبیاء حضور کے امتی ہیں اور ہمارے نبی تمام رسول اور نبیوں کے بھی رسول و نبی ہیں؛ جیسا کہ اعلی حضرت – رحمة الله عليه – نے علامہ تقی الدین سبکی – رحمة الله عليه – کے حوالے سے تحریر فرمایا ہے :
امام علامہ تقی الملۃ والدین ابوالحسن علی بن عبدالکافی سبکی رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے اس آیت کی تفسیر میں ایک نفیس رسالہ التعظیم والمنہ فی لتؤمنن بہ ولتنصرنہ لکھا ۔ اوراس میں آیت مذکورہ سے ثابت فرمایا کہ ہمارے حضور صلوات اللہ تعالٰی وسلامہ علیہ سب انبیاء کے نبی ہیں، اورتمام انبیاء ومرسلین اوران کی امتیں سب حضور کے امتی ۔ حضور کی نبوت ورسالت زمانہ سیدنا ابوالبشر علیہ الصلٰوۃ والسلام سے روز قیامت تک جمیع خلق اللہ کو شامل ہے ، اورحضور کا ارشاد :
"وکنت نبیا واٰدم بین الروح والجسد” –
(المستدرک للحاکم،کتاب الایمان، ج٢، ص٦٠٩، مطبوعہ دارالفکر بیروت)
ترجمہ : میں نبی تھا جبکہ آدم علیہ السلام روح وجسد کے درمیان تھے ۔
یہ حدیث اپنے معنی حقیقی پر ہے ۔ اگر ہمارے حضور حضرت آدم و نوح و ابراہیم و موسیٰ و عیسٰی صلی اللہ تعالٰی علیہم وسلم کے زمانہ میں ظہور فرماتے ، ان پر فرض ہوتا کہ حضور پر ایمان لاتے اور حضور کے مددگار ہوتے ۔ اسی کا اللہ تعالٰی نے ان سے عہد لیا اورحضور کے نبی الانبیاء ہونے ہی کا باعث ہے کہ شب اسرا تمام انبیاء و مرسلین نے حضور کی اقتداء کی ، اوراس کا پورا ظہور اروز نشور ہوگا جب حضور کے زیر لوا آدم ومن سوا تمام رسل وانبیاء ہوں گے ، صلوات اللہ وسلامہ علیہ وعلیہم اجمعین۔
یہ رسالہ نہایت نفیس کلام پر مشتمل جسے امام جلال الدین نے خصائص کبری اور امام شہاب الدین قسطلانی نے مواہب لدنیہ اور ائمہ مابعد نے اپنی تصانیف منیعہ میں نقل کیا اور اسے نعمت عظمیٰ و مواہب کبرٰی سمجھا "من شاء التفصیل فلیرجع الٰی کلما تھم رحمۃ اللہ تعالٰی علیہم اجمعین” (جو تفصیل چاہتا ہے وہ ان کے کلام کی طرف رجوع کرے ان سب پر اللہ تعالٰی کی رحمت ہو۔ ت)

بالجملہ مسلمان بہ نگاہ ایمان اس آیت کریمہ کے مفادات عظیمہ پر غور کرے ، صاف صریح ارشاد فرما رہی ہے کہ محمد صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم اصل الاصول ہیں محمد صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم رسولوں کے رسول ہیں ، امتیوں کو جونسبت انبیاء ورسل سے ہے وہ نسبت انبیاء ورسل کو اس سید الکل سے ہے ، امتیوں پرفرض کرتے ہیں رسولوں پر ایمان لاؤ ، اوررسولوں سے عہد وپیمان لیتے ہیں محمد صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے گروید گی فرماؤ۔ غرض صاف صاف جتارہے ہیں کہ مقصود اصلی ایک وہی ہیں باقی تم سب تابع وطفیلی ع
مقصود ذاتِ اوست دگر جُملگی طفیل
یعنی : مقصود ان کی ذات ہے باقی سب طفیلی ہیں –
(تجلی الیقین بان نبینا سید المرسلین ص ٢٢-٢٤، مطبوعہ مرکزی مجلس رضا لاہور، فتاویٰ رضویہ ج٣٠، ص١٣٨)
_ ہم اختصار کے پیش نظر انھیں پانچویں باتوں پر گفتگو سمیٹتے ہیں جنھیں مزید کی طلب ہو ان کو امام عشق و محبت اعلی حضرت – رحمة الله عليه – کا رسالہ "تجلی الیقین بان نبینا سید المرسلین” پڑھنے کا مشورہ دیتے ہیں ایک اس رسالے کا ضرور مطالعہ کریں اور دیکھیں کہ ہمارے آقا – ﷺ – کی افضلیت کی کیا شان ہے –

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے