نگاہِ لطف و عنایت شفیعِ محشر ہو

ازقلم: عبدالمبین حاتم فیضی

خدائے پاک کے نائب، جہاں کے سرور ہو
حضور ! آپ کا پھر کیسے کوئی ہمسر ہو

حضور ! آپ کا عاشق بلند و برتر ہو
حضور ! آپ کا دشمن ذلیل و کمتر ہو

ہے حسنِ یوسفِ کنعاں بھی آپ کا صدقہ
حضور ! آپ خلائق میں سب سے سندر ہو

حضور ! جب مجھے تڑپائے خاورِ محشر
تو سر پہ آپ کی رحمت کی نوری چادر ہو

بنوں میں مرجعِ رشکِ مہ و نجومِ فلک
جو گردِ روضۂِ آقا مجھے میسر ہو

کھُلا ہے نامۂِ اعمال میں پریشاں ہوں
نگاہِ لطف و عنایت شفیعِ محشر ہو

میں اس سےپہلے کہ دنیا سےکوچ کرجاؤں
الہی ! دیدِ درِ شہ مرا مقدر ہو

لوائے نعت ہے حاتم تمہارے ہاتھوں میں
نصیب ور ہو مقدر کے تم سکندر ہو