حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ

از قلم: حضور شارح بُخاری فقیہ اعظم ہند مفتی محمد شریف الحق امجدی قدس سرہٗ العزیز:

امیر المؤمنین حضرت عثمان بن عفان بن ابی العاص بن امیہ بن عبدشمس بن عبدمناف رضی اللہ عنہ، خلیفہ ثالث اور عشرہ مبشرہ میں سے ہیں۔ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی پھوپھی ام حکیم البيضاء بنت عبدالمطلب کی صاحبزادی ارویٰ کے صاحبزادے ہیں، حضرت بیضاء کی خصوصیت یہ ہے کہ یہ حضرت عبداللہ کے ساتھ جڑواں پیدا ہوئی تھیں۔ (تاریخ الخلفاء، ص ۱۰۶)
حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم سے چھ سال چھوٹے ہیں، سابقین اولین میں سے ہیں۔ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر اسلام لائے، اسلام قبول کرنے والوں میں ان کا چوتھا یا پانچواں نمبر ہے۔ اسلام لانے کے جرم میں ان کا چچا حکم بن العاص انہیں چٹائی میں لپیٹ کر دھونی دیتا تھا، جس سے دم گھٹ گھٹ جاتا، مگر ان کی استقامت میں کوئی فرق نہیں آیا، حبشہ کی طرف پہلی ہجرت کی تھی۔ ان کے فضائل و مناقب مشہور و معروف ہیں۔ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کو اتنے پیارے تھے کہ یکے بعد دیگرے اپنی دو صاحبزادیاں حضرت رقیہ رضی اللہ عنھا پھر حضرت اُم کلثوم رضی اللہ عنھا ان کے نکاح میں دیں اس لیے ذوالنورین ان کا خطاب ہے۔ حضرت اُم کلثوم کے وصال کے بعد حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر اور کوئی بیٹی ہوتی تو اس کو بھی تمہاری زوجیت میں دے دیتا۔ غزوہ بدر کے موقع پر حضرت رقیہ رضی اللہ عنھا کی حالت بہت نازک تھی حضور علیہ السلام نے انہیں حضرت رقیہ کی دیکھ بھال کے لیے مدینہ طیبہ ہی میں روک دیا، مگر شرکائے بدر میں شمار فرمایا اور مال غنیمت سے بھی حصہ دیا۔ اسی طرح بیعت رضوان میں بھی شریک نہ ہو سکے اس لیے کہ یہ اس وقت مکہ معظمہ قریش سے مصالحت کی گفتگو کے لیے گئے تھے، آنے میں تاخیر ہوئی اور یہ افواہ پھیل گئی کہ حضرت عثمان شہید کر دیے گئے، اس پر حضور علیہ السلام نے بیعت رضوان لی تھی۔ حضور نے اپنے ایک ہاتھ کو دوسرے پر رکھا اور فرمایا: یہ بیعت عثمان کی ہے۔

حضرت فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کی تدفین کے تین دن بعد ان کی مقرر کردہ شوریٰ کے انتخاب سے حضرت عثمان یکم محرم ۲۴ھ کو مسند خلافت پر رونق افروز ہوئے، یہ آپ کے عہدِ مبارک میں یہ بلاد فتح ہوئے:
رَیْ، ایران کا موجودہ دارالسلطنت طہران یہ عہد فاروقی میں فتح ہوا تھا مگر پھر ایرانیوں نے لے لیا تھا، سابور، قبرص (کریٹ)، ارجان، دار بجرد، افریقہ، طرابلس، اصطخر، نیشاپور، طوس، سرخس، مَروْ، بیہق وغیرہ۔
آپ ہی کے ایام خلافت میں پہلا اسلامی بیڑہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے تیار کیا اور قبرص پر حملہ آور ہوئے جس کے شرکا کے لیے جنت کی بشارت حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے دی ہے۔ (بخاری۔ کتاب الجہاد وغیرہ)
آپ ہی کے عہد میں ایران کا آخری فرماں روا یزدجر مارا گیا، حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے ایام خلافت میں اس قدر دولت کی فراوانی تھی کہ ایک لونڈی اپنے ہم وزن قیمت پر اور ایک گھوڑا ایک لاکھ درہم میں اور ایک کھجور کا درخت ایک ہزار درہم میں بکتا تھا۔ (عینی۔ ج ۳ ص ۵)
تاریخ الخلفاء میں ہے کہ حضرت عثمان ایک شخص کو ایک لاکھ اسی تھیلی دیتے تھے جن میں چار چار ہزار اوقیہ ہوتا تھا، ایک اوقیہ چالیس درہم کا ہوتا ہے تو ہر تھیلی میں ایک لاکھ ساٹھ ہزار درہم ہوئے۔ (تاریخ الخلفاء، ص ۱۰۸)
چالیس دن (بدایہ نہایہ ج ۷ ص ۱۹۰) کے محاصرے کے بعد اٹھارہ ذوالحجہ ۳۵ھ (عینی۔ ج ۳ ص ۵) جمعہ کے دن عصر کے وقت اپنے دولت کدہ میں شہید کیے گئے اور دوسرے دن ہفتہ کی رات میں جنت البقیع کے مشرقی کنارے حش کوکب میں مدفون ہوئے، انہیں جس شقی نے شہید کیا تھا اس کا نام اسود تجیبی (ایضاً، اکمال) ہے، شہادت کے وقت عمر مبارک بیاسی سال تھی، حضرت عثمان سے ایک سو چھیالیس احادیث مروی ہیں جن میں گیارہ امام بخاری نے تخریج کی ہیں۔ (نزہۃ القاری، کتاب الوضو، جلد اول صفحہ نمبر 444 فرید بک اسٹال)

حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے کتنے مصاحف لکھوائے؟
ابو حاتم نے کہا کہ حضرت عثمان نے سات مصحف لکھوائے تھے، جنہیں شام، عراق، بصرہ، کوفہ، بحرین، مکہ، یمن بھیجا تھا۔ ایک قول یہ ہے کہ پانچ نسخے لکھوائے تھے، ایک اپنے پاس رکھا اور چار مختلف ممالک میں بھجوائے۔ ابو عمرو دانی نے کہا: چار لکھوائے تھے، ایک اپنے پاس رکھا اور بقیہ دوسرے ممالک میں بھیجے۔ ابو حاتم سجستانی نے کہا: سات لکھوائے تھے۔ تعداد میں اختلاف ہے، مگر اس پر اتفاق ہے کہ حضرت عثمان نے حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کے یہاں سے حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کا جمع فرمودہ صحیفہ منگوایا اور اس سے متعدد نسخے لکھوائے اور مختلف ممالک میں بھجوائے۔

(نزہۃ القاری، کتاب العلم، جلد اول صفحہ نمبر 343 فرید بک اسٹال)

پیشکش: تنظیم شبستان حضور شارح بُخاری ممبئی

Leave a Comment