منقبت

منقبت : کسی سے نہ ہرگز دبے فخر ازہر

رشحات قلم : محمد وسیم اختر رضوی نعیمی

شریعت کے عامل ملے فخر ازہر
طریقت میں کامل بنے فخرازہر

ترے بغض میں جو جلے فخر ازہر
اسی آگ میں جل مرے فخر ازہر

چمکتے تھے اب بھی چمکتے ہیں مرشد
نہ ڈوبے ستارے ترے فخرازہر

تصلب پہ قائم رہے وہ ہمیشہ
کسی سے نہ ہرگز دبے فخرازہر

بحکم خدا جبکہ آیا بلاوا
تو مہمان کعبہ بنے فخرازہر

سبھی سے یہی کہتے آئے، کہیں گے
مقدر سے ہم کو ملے فخر ازہر

میں اوصاف کیسے گنا پاؤں ان کے
ہیں وہم وگماں سے پرے فخرازہر

ہوا تذکرہ جب تمہارا کہیں پر
تو چہرے چمکنے لگے فخرازہر

نبی کی محبت کے تم نے جہاں میں
بہت سے جلائے دیے فخر ازہر

کرو خوب شاہ مدینہ سے الفت
سبھی سے یہی کہہ گئے فخر ازہر

بچائی سبھی خانقاہوں کی عزت
جنھوں نے وہ جد ہیں ترے فخرازہر

تھا علم رضا ان کی گھٹی میں شامل
اسی سے پلے اور بڑھے فخر ازہر

زمانے میں فتنے اٹھانے لگے سر
نظر سے جب اوجھل ہوئے فخرازہر

مخالف ہوائیں بہت سی چلی تھیں
نہ آگے کسی کے جھکے فخر ازہر

ترے گیت گاتے ہیں گاتے رہیں گے
ترے کھا کے ٹکڑے بھلے فخر ازہر

دبائے ہیں میں نے بھی پاؤں تمہارے
مجھے بھی یہ موقعے ملے فخر ازہر

جنہوں نے تمہیں دیکھا اک بار مرشد
وہ دیوانے تیرے ہوے فخر ازہر

دعاء ہے کہ دل میں چراغ محبت
ترے صدقے ہر دم جلے فخر ازہر

رہے گی وہ قسمت پہ نازاں ابد تک
گیے جس جگہ پہ مرے فخر ازہر

تری عظمتوں کا ہی ڈنکا بجے گا
یہ حاسد جلے یا مرے فخر ازہر

ہراک صلح کلی کے تیرے قلم نے
کیے بند سب راستے فخر ازہر

برا کہہ کے دل کو دکھایا ہے جس نے
اسے بھی دعائیں دیے فخر ازہر

ترے لاڈلے شاہ عسجد رضا خاں
خوشا بخت قائد بنے فخر ازہر

وسیم ازہری کی یہی ہے تمنا
ترے در پہ جاکے مرے فخرازہر

وسیم رضاکار خلد بریں بھی
ترے ساتھ جائے مرے فخر ازہر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے