سیاست و حالات حاضرہ

عصر حاضر میں اتحاد و اتفاق کی اہمیت۔

تحریر : محمد ارشاد عالم مصباحی

👀 تاریخ اس بات پر شاہد عدل ہے کہ قوموں کے عروج و زوال، اقبال مندی و سربلندی، ترقی و تنزلی، خوشحالی و بدحالی کے تقدم و تخلف میں اتحاد و اتفاق، باہمی اخوت و ہمدردی اور آپسی اختلاف و انتشار، تفرقہ بازی،اور باہمی نفرت و عداوت کلیدی رول ادا کرتا ہے۔ اور آج کے دور میں مسلمان جس قدر ذلیل و خوار اور رسوا ہے شاید اس سے پہلے کسی دور میں رہا ہو اور جتنا کمزور آج کا مسلمان ہے شاید ہی اتنا کمزور کبھی رہا ہو۔ یہی وجہ ہے کہ آج کے دور میں مسلمانوں کی بین الاقوامی طور پر کوئی اہمیت نہیں ہے اور دنیا کی تمام قومیں مسلمانوں کو لاغر سمجھتی ہیں ۔ ہر جگہ انہیں ہراساں کیا جارہا ہے، ان کی عزت و ناموس محفوظ نہیں ہے، ان کے املاک تباہ و برباد کئے جا رہے ہیں، بہت سارے ممالک میں انہیں تہ وتیغ کیا جارہا ہے جن میں قابل ذکر فلسطین، افغانستان،عراق وغیرہ ہیں۔ وطن عزیز میں بھی مسلمانوں کو مختلف اوقات میں مختلف طریقے سے ہراساں و پریشاں کیا جاتا ہے کبھی شریعت میں رد وبدل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے تو کبھی اسلامی قلعے مدارس و مساجد کی طرف انگشت نمائی کی جاتی ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر ہماری ایسی بری حالت کیوں ہو رہی ہے، ہمیں ہر طرف سے دبانے کی کوشش کیوں کی جارہی ہے۔ اس کے اسباب و وجوہات کیا ہیں جب کہ اللہ نے مسلمانوں کو ان کے گناہوں اور معصیتوں کے باوجود بہت ساری نعمتوں سے نواز رکھا ہے اور یہ نعمتیں مختلف انواع و اقسام کے ہیں جسے اللہ نے مسلمانوں کو زراعتی،حیوانی،آبی، معدنی غرضیکہ ہر قسم کے ثروت و دولت سے نوازا ہے،مسلمانوں کی تعداد بھی ایک عرب سے زائد ہیں ،ساٹھ کے قریب اسلامی ممالک ہیں اور ان کا محل وقوع بھی بہت اہم ہے، پھر مسلمان اتنا بے بس، مجبور، کمزور، ذلیل وخوار کیوں ہیں ان کے خون کی قیمت پانی سے بھی ارزاں کیوں ہے ؟
ان کے متعدد وجوہات ہو سکتے ہیں مگر ان میں سب سے اہم اور اصل وجہ آپسی اختلاف و انتشار اورتفرقہ بازی ہے یہی وہ بیماری ہے جس نے آج مسلمانوں کو مفلوج کر رکھا ہے اور جس کی وجہ سے آج اغیار ہم پر غالب ہوتے جارہے ہیں۔ ہمیں اپنے اسلاف سے اتحاد و اتفاق اور باہمی یکجہتی کی جو میراث ملی تھی ہم نے اسے پس پشت ڈال دیا ہے
جبکہ قرآن کریم نے ہمیں زمانہ نزول سے ہی یہ سکھا دیا تھا کہ
وَ اَعِدُّوْا لَهُمْ مَّا اسْتَطَعْتُمْ مِّنْ قُوَّةٍ وَّ مِنْ رِّبَاطِ الْخَیْلِ تُرْهِبُوْنَ بِهٖ عَدُوَّ اللّٰهِ وَ عَدُوَّكُمْ وَ اٰخَرِیْنَ مِنْ دُوْنِهِمْۚ-لَا تَعْلَمُوْنَهُمْۚ-اَللّٰهُ یَعْلَمُهُمْؕ- (۶۰)
ترجمۂ کنز العرفان
اور ان کے لیے جتنی قوت ہوسکے تیار رکھو اور جتنے گھوڑے باندھ سکو تاکہ اس تیاری کے ذریعے تم اللہ کے دشمنوں اور اپنے دشمنوں کو اور جو اُن کے علاوہ ہیں انہیں ڈراؤ، تم انہیں نہیں جانتے اوراللہ انہیں جانتا ہے۔
اور قرآن مجید میں مسلمانوں کو متعدد بار اس بات کی تلقین کی گئی کہ آپسی اختلافات کو ختم کرکے متحد و متفق ہو جاؤ
ارشاد باری تعالیٰ ہے
وَ اعْتَصِمُوْا  بِحَبْلِ  اللّٰهِ  جَمِیْعًا وَّ لَا تَفَرَّقُوْا۪- (۱۰۳)
ترجمۂ کنز العرفان
اور تم سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی کے ساتھ تھام لو اور آپس میں تفرقہ مت ڈالو
جب انسان اتحاد و اتفاق کو طاق نسیاں میں رکھ کر گروہوں اور ٹولیوں میں بٹ جاتا ہے، تو ان کا انجام کیا ہوتا اور کس طرح سے انہیں اس کا نتیجہ ملتا ہے اس کی وضاحت کرتے ہوئے
خدائے تعالیٰ کا ارشاد ہے
وَ لَا تَنَازَعُوْا فَتَفْشَلُوْا وَ تَذْهَبَ رِیْحُكُمْ (۴۶)
ترجمۂ کنز العرفان
اور آپس میں بے اتفاقی نہ کرو ورنہ تم بزدل ہوجاؤ گے اور تمہاری ہوا (قوت) اکھڑ جائے گی۔
مزید فرمایا
وَلَا تَكُوْنُوْا كَالَّذِیْنَ تَفَرَّقُوْا وَاخْتَلَفُوْا مِنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَهُمُ  الْبَیِّنٰتُؕ-وَاُولٰٓىٕكَ لَهُمْ عَذَابٌ  عَظِیْمٌۙ(۱۰۵)
ترجمۂ کنز العرفان
اور ان لوگوں کی طرح نہ ہونا جو آپس میں مُتَفَرّق ہو گئے اورانہوں نے اپنے پاس روشن نشانیاں آجانے کے بعد (بھی) آپس میں اختلاف کیا اور اُن کے لیے بڑا عذاب ہے۔

اور اس کے بر عکس آج دوسری قومیں متحد و متفق ہو کر اپنے مذہبی اور بنیادی اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر’’الكفر ملّة واحدة‘‘کا عملی نمونہ پیش کررہے ہیں۔ ساری دنیا ایک مرکز پر یکجا ہوکر اپنی اپنی حکمت عملی تبدیل کررہی ہے مگر یہ قوم مسلم ہے جو احوال زمانہ سے بے خبر خود اپنی ہی جڑیں کاٹنے میں لگی ہے۔
نفرت وحقارت کی ایسی بیج بودی کہ ہرکوئی ایک دوسرے کو نیچا دکھانے میں اپنی پوری توانائی صرف کر رہا ہے، خواہ اس کے لیے ملت کاجنازہ نکل جائے یا اپنی ہی عظمت داؤ پر لگ جائے۔ یہ زندہ قوموں کی علامت نہیں، ہمارے موجودہ حالات مستقبل کی تباہی کے غماز ہیں، جس پر کمربستہ ہونا ہمارے لیے نہایت ضروری ہے۔ورنہ آنے والی نسلیں ہمیں معاف نہیں کرسکتیں۔ لہٰذا رفتار زمانہ پر نظر رکھتے ہوئے ہمیں اپنی آپسی خصومت اور چپقلش کو خاکستر کر کے نئے عزم وحوصلہ، نئے جوش وولولہ اور نئی سوچ وفکر کے ساتھ زمام قیادت کو سنبھالنا ہے۔ امن وامان اور اتحاد واتفاق کی باد بہاری سے ساکنان عالم کے مشام جاں کو معطر کرنا ہے۔ آج پھر ہمیں اپنا بھولا ہوا سبق یاد کرکے اپنی عظمت رفتہ کو حاصل کرنا ہے، ہمیں اپنے ماضی کو سامنے رکھ کرحال کی تعمیر کرنی ہے اور مستقبل کے لیے اطمینان بخش لائحہ عمل تیار کرناہے۔
محمد عربی ﷺ کا درِ پاک ہی وہ واحد جگہ ہے جس سے وابستگی کی بناء پر ہمارا ماضی روشن ہوا اور مستقبل بھی ان کے در پر لوٹنے ہی میں منور ہوگا اور یہی وہ مرکز روحانیت ہے جہاں ہم متحد ہوسکتے ہیں۔ لہذا ہمیں اپنے آقا ﷺ کی طرز زندگی کو اپنا کر ان کی غلامی میں آجانا چاہیے کیوں کہ انہی کی اطاعت واتباع میں ہماری کامیابی وکامرانی کا راز مخفی ہے۔ ؎
اخیر میں اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ خدائے وحدہ لاشریک ہم سب کو اتحاد واتفاق کے ساتھ رہنے اور ایک دوسرے سے محبت و مؤدت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔۔۔۔
آمین بجاہ النبی الامین ﷺ

+91- 9260935215

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے