(افسانہ )۔۔۔۔ واپسی

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

تحریر : توصیف عالم کشن گنج بہار

رامو کی شرارتیں عروج پر تھیں دن بھر دوستوں کے ساتھ آوارہ گردی کرنا پھر بلا وجہ لوگوں کے ساتھ مار پیٹ کرنا اور رات کودیر سے گھر آنا اس کا معمول بن گیا تھا ۔ گاؤں کا ہر شخص اس سے پریشان رہتا تھا رامو کا بڑا بھائی پربھو ایک سنجیدہ شخص تھا لیکن بہت غریب اور قرض میں ڈوباہوا تھا کھیتی باڑی ان کا ذریعہ معاش تھا بڑی مشکل سے گھر کا گزارا ہوا کرتاتھا لیکن آجکل یہ بہت زیادہ پریشان رہتاتھا ایک رامو کی روز بروز کی شرارتیں جس سے آئے دن کوئی نہ کوئی ان کی شرارت کی شکایت لیکر ان کے گھر آدھمکتا تھا دوسرا مہاجنوں کا دباؤ جو ہر دن قرض وصولی کے لئے ان کے در پے رہتے تھے ۔
ایک دن رامو نے گاؤں میں پردھان کی بیٹی گوری سے چھیڑ چھاڑ کردی تھی جس سے گاؤں میں بہت بڑا ہنگامہ کھڑا ہوگیا تھا اور لوگوں نے ان کو درخت سے باندھ کر رکھا تھا پھر شام کو اس تعلق سے پنچایت بٹھائی گئی اور یہ طے پایا کہ رامو کو گاؤں سے نکال دیا جائے ۔
حالانکہ رامو کے بڑا بھائی پربھو نے پنچایت کے سامنے معافی تلافی کے ساتھ رونا دھونا بھی کی لیکن کوئی بھی معافی کے لئے تیار نہیں ہوا ۔
بالآخر پربھو نے دوسرے دن علی الصبح رامو کو کہیں بھیج دینے کے لئے روپے پیسے کا انتظام کیا اور رامو کو گاؤں سے باہر کردیا ۔
رامو در بدر بھٹکتا ہوا کسی بڑے شہر میں پہونچ گیا اور کسی کی نظر عنایت سے کسی کام میں لگ گیا۔
اب رامو میں کافی تبدیلی آچکی تھی وہ محنت اور ایمانداری سے کام کررہاتھا اور اس کی محنت و ایمانداری کی وجہ سے اس کی کمائی بھی اچھی ہورہی تھی دھیرے دھیرے ان کی گھریلو حالت بھی اچھی ہوگئی تھی اور پربھو بھی بہت خوشحال ہوگیا تھا قرضداروں کے پیسے بھی لوٹادئے تھے ۔
ادھر گاؤں میں پردھان جی کی حالت کچھ اچھی نہیں تھی وہ بیمار رہنے لگے تھے پھر ایک دن علاج کے لئے پردھان جی نے کسی بڑے شہر کا رخ کیا اور اسی شہر میں پہونچ گئے جہاں رامو کام کیا کرتاتھا پردھان جی کو اسپتال میں ایڈمٹ ہونا پڑا جب رامو کو پتہ چلا کہ پردھان جی بھی اسی شہر کے کسی اسپتال میں ایڈمٹ ہیں تو وہ بھی وہاں پہونچ گیا اور پردھان جی کی خدمت کرنے لگا چونکہ اب رامو گاؤں والا رامو نہیں تھا حال حلیہ سب کچھ بدل گیا تھا جس سے پردھان جی رامو کو پہچان نہیں پائے اور رامو نے بھی اپنا تعارف کرانا مناسب نہیں سمجھا لیکن پردھان جی کے اچھے ہونے تک وہ ان کی خدمت کرتا رہا اور پردھان جی چند ہفتے کے بعد اچھے ہوکر گاؤں واپس چلے گئے کچھ دنو کے بعد رامو بھی شادی کی غرض سے گاؤں واپس چلا گیا پربھو رامو کو لیکر پردھان جی کے پاس پہونچا جیسے ہی پردھان جی نے رامو کو دیکھا ان کی آنکھوں کے سامنے اسپتال کا منظر گھومنے لگا اور رامو کی احسانات یاد آنے لگے اور یہ جان کر بہت متاثر ہوئے کہ یہ رامو ہے ۔
اس وقت پربھو بھی رامو کی کمائی کی وجہ سے گاؤں کے مالداروں میں شمار ہونے لگا تھا اور پربھو گوری کے ساتھ رامو کا رشتہ کرنے کی کوشش میں لگ گیا اور پردھان جی بھی رامو کی بدلی ہوئی عادات اور حالات کو دیکھتے ہوئے رامو سے رشتہ کرنے کے لئے تیار ہوگئے ۔

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

About ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانب دار نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

Check Also

ایسی گرمی ہے کہ پیلے پھول بھی کالے پڑ گئے

ازقلم: محمد ہاشم اعظمی مصباحینوادہ مبارکپور اعظم گڈھ یوپی مکرمی! یہ بات سب کو معلوم …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔