متفرقات

ایک نوجوان نے حاکم وقت کو حیران کر دیا

ازقلم: خبیب القادری تحسینی ارشدی فیضی مدناپوری
ب

آج کل بہت سے لوگوں کو دیکھا جاتا ہے کہ وہ اخراجات ہونے کے باوجود مال ودولت کی مالک ہونے کے باوجود ایک دوسرے سے دنیاوی مال و دولت کے حصول کے لیے سوالات کرتے ہیں
وہ کام کرتے ہیں جو مجبور و مساکین کے لائق ہوتے ہیں
ایسے لوگوں کی نصیحت کی غرض سے ایک واقعہ بیان کیا جاتا ہے آپ بھی پڑھیں اور نصیحت حاصل کریں اور اپنے احباب کو بھی بھیجیں تاکہ وہ بھی نصیحت حاصل کریں اور آخرت کی تیاری کریں واقعہ یہ ہے

ایک دفعہ خلیفہ عبدالملک بن مروان بیت اللہ کا طواف کر رہا تھا؛اس کی نظر ایک نوجوان پر پڑی؛ جس کا چہرہ بہت پُر وقار تھا؛ مگر وہ لباس سے مسکین لگ رھا تھا- خلیفہ عبدالملک نے پوچھا ؛
یہ نوجوان کون ہے ؟
تو اسے بتایا گیا کہ اس نوجوان کا نام ” حضرت سالم ” ہے اور یہ سیدنا حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا بیٹا اور سیدنا حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا پوتا ہے۔
یہ سن کر خلیفہ عبدالملک کو دھچکا لگا؛ اور اُس نے اِس نوجوان کو بُلا بھیجا؛ خلیفہ عبدالملک نے پوچھا ؛
بیٹا میں تمہارے دادا سیدنا حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا بڑا مداح ہوں؛ مجھے تمہاری یہ حالت دیکھ کر بڑا دُکھ ہوا ہے ؛ مجھے خوشی ہو گی اگر میں تمھارے کچھ کام آ سکوں ؛ تم اپنی ضرورت بیان کرو_ جو مانگو گے تمہیں دیا جائے گا ؟
نوجوان نےجواب دیا "” اے امیر المومنین میں اس وقت اللہ تعالیٰ کے گھر بیتُ اللّٰہ میں ہوں اور مجھے شرم آتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے گھر میں بیٹھ کر کسی اور سے کچھ مانگوں !
خلیفہ عبدالملک نے اس کے پُرمتانت چہرے پر نظر دوڑائی اور خاموش ہو گیا ؛ خلیفہ عبد الملک نے اپنے غلام سے کہا
” یہ نوجوان جیسے ہی عبادت سے فارغ ہو کر بیتُ اللّٰہ شریف سے باھر آئے، اسے میرے پاس لے کر آنا *
سالم بن عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما جیسے ہی فارغ ہو کر حرمِ کعبہ سے باہر نکلے تو غلام نے اُن سے کہا ‘
"جناب امیر المؤمنین نے آپکو یاد کیا ہے ؟
حضرت سالم بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ خلیفہ کے پاس پہنچے۔ خلیفہ عبدالملک نےکہا ؛
” نوجوان: اب تو تم بیتُ اللّٰہ شریف میں نہیں ہو، اب اپنی حاجت بیان کرو۔ میرا دل چاہتا ہے کہ میں تمہاری کچھ مدد کروں”
حضرت سالم بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نےکہا:
” اے امیرالمؤمنین! آپ میری کونسی ضرورت پوری کر سکتے ہیں دنیاوی یا آخرت کی_ ؟
جناب امیرالمؤمنین نےجواب دیا:
” میری دسترس میں تو دنیاوی مال و متاع
ہی ہے –
حضرت سالم بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جواب دیا:
” امیر المؤمنین! دنیا تو میں نے کبھی اللّٰہ سے بھی نہیں مانگی جو اس دنیا کا مالکِ کُل ہے ؛ خالق کل ہے ؛ رازق کل ہے ۔ آپ سے کیا مانگوں گا؟
میری ضرورت اور پریشانی تو صرف آخرت کے حوالے سے ہے۔ اگر اس سلسلے میں آپ میری کچھ مدد کر سکتے ہیں تو میں بیان کرتا ہوں:-
خلیفہ عبد الملک حیران و ششدر ہو کر رہ گیا اور کہنے لگا:
” نوجوان یہ تُو نہیں، تیرا خون بول رہا ہے _”
خلیفہ عبدالملک کو حیران اور ششدر چھوڑ کر حضرت سالم بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ وہاں سے نکلے اور حرم سے ملحقہ گلی میں داخل ہوئے اور نظروں سے اوجھل ہو گئے۔

یوں ایک نوجوان نے حاکمِ وقت کو آخرت کی تیاری کا بہت اچھا سبق دے گیا
خلاصہ : ہمیں اور آپ کو چاہئے کہ کہ دنیا کی زیب و زینت عیش و عشرت سے گریز کریں
اور آخرت کی تیاریاں کریں اس فانی دنیا سے کچھ نہیں بنے گا
سبق: جب دنیا ہی فانی ہے تو اس سے دل لگانے سے کیا ملے گا
اللہ تعالیٰ آخرت کی تیاری کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین یارب العالمین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے