متفرقات

غدیر خم کی کیا حقیقت ہے؟

سوال غدیر خم کی نسبت درست حقیقت (hakikat) بیان فرمادیں !

جواب (Cevap)
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ’’حجۃ الوداع‘‘ سے مدینہ منورہ واپسی کے موقع پر غدیرخُم (جومکہ اورمدینہ کے درمیان ایک مقام ہے) پر خطبہ ارشاد فرمایاتھا، اور اس خطبہ میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کی نسبت ارشاد فرمایاتھا: "من کنت مولاه فعلي مولاه” یعنی جس کامیں دوست ہوں علی بھی اس کا دوست (dost) ہے۔

اس کا پس منظر یہ تھا کہ ’’حجۃ الوداع‘‘ سے پہلے رسول اللہ ﷺ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو یمن (Yemen) کی طرف والی/ عامل بناکر بھیجا تھا ، وہاں کے محصولات وغیرہ وصول کرکے ان کی تقسیم اور بیت المال کے حصے کی ادائیگی کے فوراً بعد حضرت علی رضی اللہ عنہ حضور ﷺ کے پاس حج کی ادائیگی کے لیے پہنچے۔ اس موقع پر محصولات کی تقسیم وغیرہ کے حوالے سے بعض حضرات نے حضرت علی رضی اللہ عنہ پر اعتراض (objection) کیا، اور یہ اعتراض براہِ راست نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوکر دوہرایا، آپ ﷺ نے انہیں اسی موقع پر انفرادی طور پر سمجھایا اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کی تصویب فرمائی، بلکہ یہ بھی ارشاد فرمایا کہ علی کا اس سے بھی زیادہ حق (hakkı) تھا نیز آپ ﷺ نے انہیں حضرت علی رضی اللہ عنہ سے محبت کا حکم (hüküm) دیا اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں دل(kalp) میں کدورت اور میل رکھنے سے منع فرمایا، چناں چہ ان حضرات کے دل حضرت علی رضی اللہ عنہ کی طرف سے بالکل صاف ہوگئے، وہ خود بیان فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ کے اس ارشاد کے بعد ہمارے دلوں میں حضرت علی رضی اللہ عنہ محبوب ہوگئے۔ البتہ اسی حوالے سے کچھ باتیں سفرِ حج سے واپسی تک قافلے میں گردش کرتی رہیں، آپ ﷺ نے محسوس فرمایا کہ اس حوالے سے آپ ﷺ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی قدر و منزلت اور ان کا حق (hakkı)ہونا بیان فرمائیں، چناں چہ سفرِ حج سے واپسی پر مقام غدیرِ خم میں نبی کریم ﷺ نے ایک خطبہ ارشاد فرمایا، جس میں بلیغ حکیمانہ اسلوب میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کا حق واضح فرمایا، اور جن لوگوں کے دل میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں کوئی شکوہ یا شبہ تھا اسے یوں ارشاد فرماکر دور فرمادیا: «اللَّهُمَّ مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ، اللَّهُمَّ وَالِ مَنْ وَالِاهُ، وَعَادِ مَنْ عَادَاهُ»، قَالَ: فَلَقِيَهُ عُمَرُ بَعْدَ ذَلِكَ، فَقَالَ: هَنِيئًا لَكَ يَا ابْنَ أَبِي طَالِبٍ! أَصْبَحْتَ وَأَمْسَيْتَ مَوْلَى كُلِّ مُؤْمِنٍ وَمُؤْمِنَةٍ” یعنی اے اللہ! جو مجھے دوست رکھے گا وہ علی کو بھی دوست رکھے گا/میں جس کا محبوب ہوں گا علی بھی اس کا محبوب ہوگا، اے اللہ! جو علی سے محبت رکھے تو اس سے محبت رکھ __ اور جو علی سے دشمنی (düşmanlık) رکھے تو اس کا دشمن (düşman) ہوجا۔ آپ ﷺ کے اس ارشاد کے بعد حضرت عمر رضی اللہ عنہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے ملے تو فرمایا: اے ابن ابی طالب! آپ کو مبارک ہو! آپ صبح و شام ہر مؤمن مرد اور ہر مؤمنہ عورت کے محبوب بن گئے۔ حضراتِ شیخین سمیت تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کے دل میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کی محبت پہلے سے تھی، جن چند لوگوں کے دل میں کچھ شبہات تھے آپ ﷺ کے اس ارشاد کے بعد ان کے دل بھی حضرت علی رضی اللہ عنہ کی محبت سے سرشار ہوگئے۔ اس خطبہ سے آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا مقصود یہ بتلانا تھا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ اللہ کے محبوب اور مقرب بندے ہیں ، ان سے اور میرے اہلِ بیت (Ahlebait) سے تعلق رکھنا مقتضائے ایمان ہے، اور ان سے بغض وعداوت یا نفرت و کدورت ایمان کے منافی (against) 1ہے۔

مذکورہ پس منظر سے یہ بات بخوبی واضح ہے کہ آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا غدیرخُم میں "من کنت مولاه فعلي مولاه” ارشاد فرمانا حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خلافت(khilafat) کے اعلان کے لیے نہیں، بلکہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی قدر و منزلت بیان کرنے اور معترضین کے شکوک دور کرنے کے لیے تھا _ نیز حضرت علی رضی اللہ عنہ کی محبت کو ایک فریضہ لازمہ کے طور پر امت (ümmet) کی ذمہ داری قرار دینے کے لیے تھا ۔ اور الحمدللہ! اہلِ سنت و جماعت ( Ahle sünnet) اتباعِ سنت میں حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی محبت کو اپنے ایمان کا جز سمجھتے ہیں، اور بلاشبہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے اہلِ ایمان ہی محبت رکھتے ہیں۔

مذکورہ خطبہ اور ارشاد کی حقیقت یہی تھی جو بیان ہوچکی۔ باقی ایک گم راہ فرقہ اس سے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے لیے خلافت بلافصل ثابت کرتاہے، اور چوں کہ یہ خطبہ ماہ ذوالحجہ میں ہی ارشاد فرمایا تھا، اس لیے ماہ ذوالحجہ کی اٹھارہ تاریخ کو اسی خطبہ کی مناسبت سے عید مناتاہے، اور اسے ’’عید غدیر‘‘ کا نام دیاجاتاہے۔اس دن عید کی ابتدا کرنے والا ایک حاکم معزالدولۃ گزرا ہے، اس شخص نے 18/ذوالحجہ 351 ہجری کو بغداد میں عید منانے کا حکم دیاتھا اوراس کا نام "عید خُم غدیر” رکھا۔
ماہ ذوالحجہ کی اٹھارہ تاریخ کو خلیفہ سوم امیرالمومنین حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کی شہادت (şehadet) بھی ہے۔ ان کی مخالفت میں بھی بعض بدنصیب لوگ اس دن اپنے بغض (grudge) کا اظہار کرتے ہیں۔ اہلِ ایمان و اسلام کو چاہیے کہ اس طرح کی خرافات سے دور رہیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے