غزل : اب وہ آنکھیں مجھے دکھاتی ہے

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

خیال آرائی : فرید عالم اشرفی فریدی

رنج و غم دل سے وہ مٹاتی ہے
خوب خوشیاں مجھے دلاتی ہے

دل مرا جھومتے ہوئے جائے
پاس جب ہمنشیں بلاتی ہے

بات کیا ہے اداس کیوں آخر
اے صنم کیوں نہیں بتاتی ہیں

سانسیں رک جاتیں ہیں اچانک ہی
جام دیدار جب پلاتی ہے

پہلے تو پیار سے بلاتی تھی
اب وہ آنکھیں مجھے دکھاتی ہے

تیری فرقت سہی نہیں جاتی
کیوں بھلا خواب میں تو آتی ہے

کر نہیں سکتا میں بیاں تم سے
میرا دل کتنا وہ دکھاتی ہے

دونوں طرفہ فریدی الفت ہو
تب کہیں چاہ رنگ لاتی ہے

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

About ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانب دار نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

Check Also

غزل: دیکھا جو اس نے پیار سے میں تو سنور گئی

نتیجہ فکر: گل گلشن، ممبئی بھٹکی ہوئی نگاہ تھی مجھ پر ٹھہر گئیدیکھا جو اس …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔