غزل

غزل: ہم بیتے زمانوں کا احسان نہیں لیتے

نتیجہ فکر: اسانغنی مشتاق رفیقیؔ


اجڑے ہوئے محلوں سے پہچان نہیں لیتے
ہم بیتے زمانوں کا احسان نہیں لیتے

جو کچھ بھی ہیں جیسے ہیں خود اپنے کرم پر ہیں
اجداد کے اترن سے ہم شان نہیں لیتے

تم کو ہی مبارک ہو یہ طوق غلامی کا
ارباب سیاست سے ہم دان نہیں لیتے

کس ناز سے کہتے ہیں وہ قتل ہمیں کر کے
بس جسم مٹاتے ہیں ہم جان نہیں لیتے

ہم اپنے عقیدوں کے ہر رمز سمجھتے ہیں
تقلید کے پنوں سے احسان نہیں لیتے

ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانب دار نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین و خبریں

جواب دیں

اسے بھی ملاحظہ کریں
Close
Back to top button