صحابہ کرام

امیر المومنین عثمان بن عفان رضی اللہ تعالیٰ عنہ

طالب خیر : محمد انس قادری رضوی

پیدائش اور نام و نسب:

آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی پیدائش عام الفیل کے چھ سال بعد ہوئی۔
آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا نام "عثمان” کنیت ابو عمر اور لقب "ذوالنورین” ہے-
آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا سلسلہ نسب یوں ہے
عثمان بن عفان بن ابوالعاص بن امیہ بن عبد شمس بن عبد مناف۔
یعنی پانچویں پشت میں آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا سلسلہ نسب حضورﷺ کے شجرہ نسب سے مل جاتا ہے۔
آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی نانی ام‌حکیم جو حضرت عبدالمطلب کی بیٹی تھیں وہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے والد گرامی حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ ایک ہی پیٹ سے پیدا ہوئی تھیں، اس رشتہ سے حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی والدہ حضور سید عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی پھوپھی کی بیٹی تھیں۔

اسلام آوری میں سبقت
ابن اسحاق کا بیان ہے حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ، حضرت علی رضی اللہ عنہ اور زید بن حارثہ کی اسلام آوری کے فوراً بعد ہی حضرت عثمان رضی اللہ عنہ دولت اسلام سے مالامال ہوئے اس لیے آپ سابقین‌الاولین ہیں۔

حلیہ مبارک
حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ حد درجہ خوبصورت تھے آپ رضی اللہ عنہ کا حسن فخر موجودات حسن کائناتﷺ اور حضرت ابراہیم علیہ السلام سے کافی مشابہ تھا تاریخ الخلفاء صفحہ ١٥٤ و ١٥٥ پر حلیہ مبارک بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
"ابن عساکر نے کئی ذرائع سے لکھا ہے کہ حضرت عثمان کا قد درمیانہ رنگ سرخ و سفید چہرے پر چیچک کے داغ داڑھی گھنی اور چوڑی ہڈی کے تھے شانیں چوڑے پنڈلیاں بھری ہوئی ہاتھ لمبے تھے جن پر بال بھی تھے سر کے بال گھنے ہوئے اور کنپٹی کے بال کانوں تک تھے، دانت چمکدار خوبصورت تھے جنہیں سونے نے باندھ دیا تھا اور زرد خضاب کرتے تھے۔

ابن عدی نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی زبانی لکھا ہے رسول اکرمﷺ نے اپنی صاحبزادی ام‌کلثوم رضی اللہ عنہا کا حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے نکاح کر کے ام‌کلثوم رضی اللہ عنہا سے فرمایا تمہارے دولہا تمہارے دادا حضرت ابراہیم علیہ السلام اور تمہارے والد محمد مصطفیﷺ سے صورت میں بہت مشابہہ ہیں۔”

امتیازی شرف
کم و بیش ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء کرام علیھم السلام نے اس دنیا کو اپنے قدوم میمنت لزوم سے سرفراز فرمایا، وہ لوگ صاحب اولاد بھی ہوے تو جن لوگوں کے ساتھ انبیاء کرام علیھم الصلاۃ و السلام نے اپنی صاحبزادیوں کو منسوب فرمایا یقیناً وہ بے انتہا عزت و عظمت کے حقدار ہیں مگر اس سلسلے میں جو خصوصیت اور جو انفرادیت حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو حاصل ہے وہ کسی کو نہیں کہ حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر حضور خاتم الانبیاء صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم تک کسی کے نکاح میں نبی کی دو بیٹیاں نہیں آئیں ہیں لیکن یہ سعادت حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ہی حصہ ہے کہ صرف نبی ہی نہیں بلکہ خاتم الانبیاء کی دو صاحبزادیاں یکے بعد دیگرے ان کے نکاح میں آئیں۔

ذوالنورین کی وجہ تسمیہ:
بیہقی رحمتہ اللہ تعالیٰ علیہ نے اپنی سنن میں لکھا ہے کہ عبداللہ جعفی رحمتہ اللہ تعالیٰ علیہ بیان فرماتے ہیں کہ مجھ‌ سے میرے مامو حسین جعفی رحمتہ اللہ تعالیٰ علیہ نے دریافت کیا کہ تمہیں معلوم ہے کہ حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا لقب ذوالنورین کیوں ہے؟ میں نے کہا: نہیں انہوں نے کہا کہ حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم تک حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے علاوہ کسی شخص کے نکاح میں کسی نبی کی دو بیٹیاں نہیں آئیں، اسی لے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ذوالنورین کہا جاتا ہے
{سنن الکبری}

شہادت فضیلت بزبان ملائکہ
خیثمہ نے اپنی کتاب میں فضائل صحابہ میں اور ابن عساکر نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی زبانی لکھا ہے کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ وہ شخصیت ہیں جنکو آسمانی فرشتے بھی ذو‌النورین کہتے ہیں جو رسول اکرمﷺ کے ایسے داماد تھے جنکے عقد میں سرور عالمﷺ کی دو صاحبزادیاں تھیں۔
{تاریخ الخلفاء، ص ١٥٤}

شہادت:
١٨ ذوالحجہ ٣٥ھ میں خلیفۃ المسلمین عثمان غنی رضی اللہ تعالی عنہ کو شہید کیا گیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے