متفرقات

کفرفقہی کے اقسام واحکام (قسط اول)

تحریر : طارق انور مصباحی

کفر کلامی سے متعلق تفصیلی مباحث ماقبل کے مضامین میں مرقوم ہوئے۔حالیہ مضامین میں کفر فقہی کے اقسام واحکام مرقوم ہیں۔قارئین کو حسب ضرورت سوال کا اختیار ہے۔ہمارے تفصیلی دلائل ”البرکات النبویہ“میں مرقوم ہیں۔مضامین میں محض بعض مفاہیم کی توضیح وتشریح کی جاتی ہے۔امام اہل سنت قدس سرہ العزیز کے بہت سے کلامی فتاویٰ اور کلامی رسائل مفقود ہیں۔ان کی بھی تلاش وجستجو کی جائے۔وہ عظیم متکلم اسلام تھے۔
کفر کی دوقسمیں ہیں:کفر متعین اور کفر محتمل۔کفر متعین کا نام کفر کلامی ہے۔ اس کوکفر التزامی بھی کہا جاتا ہے۔کفر محتمل کا نام کفر فقہی ہے۔اس کوکفر لزومی بھی کہا جاتا ہے۔

کفرفقہی یعنی کفرلزومی کی تین قسمیں ہیں:کفر فقہی قطعی،کفر فقہی ظنی،کفر محتمل۔

اسلاف کرام کی کتابوں میں کفر فقہی کی تینوں قسموں کے احکام مرقوم ہیں۔

(1)ضروری دینی کا مفسر انکارکفر کلامی ہے۔اس کو کفر متعین اور کفر التزامی بھی کہا جاتا ہے۔ایسے کافر کے لیے ”من شک فی کفرہ فقد کفر“کا استعمال ہوتا ہے۔

بلفظ دیگر:ضروری دینی کا قطعی بالمعنی الاخص انکار ہو۔عدم انکار کا احتمال بلادلیل (احتمال بعید)بھی نہ ہوتو یہ کفر کلامی ہے۔متکلمین وفقہا ایسے منکر کو کا فر مانتے ہیں۔
کفر کلامی میں اجتہادجاری نہیں ہوتا۔یہ کفر قطعی بالمعنی الاخص ہوتاہے۔قطعی بالمعنی الاخص اور قطعی بالمعنی الاعم میں اجتہادجاری نہیں ہوتا۔ضروریات دین قطعی بالمعنی الاخص ہوتی ہیں۔ضروریات اہل سنت قطعی بالمعنی الاعم ہوتی ہیں۔یہ ضروریات دین کی قسم دوم ہے۔

عہد ماضی میں ضروریات اہل سنت کی اصطلاح مروج نہ تھی۔اسے ضروریات دین کی قسم دوم کہا جاتا تھا۔فقہائے احناف اور ان کے مؤیدین ضروریات اہل سنت کے منکر پر بھی حکم کفر عائد کرتے ہیں۔متکلمین اور دیگر فقہائے کرام ضروریات اہل سنت کے انکار پر حکم ضلالت عائد کرتے ہیں۔خواہ انکار قطعی بالمعنی الاخص ہو، یا قطعی بالمعنی الاعم۔

(2)ضروری دینی کا بطریق نص انکار کفر فقہی قطعی ہے۔ اس کوکفر متبین کہا جاتا ہے۔فقہا کی اصطلاح میں کفر فقہی قطعی،کفر التزامی ہے۔فقہائے کرام ایسے کافر کے لیے ”من شک فی کفرہ فقد کفر“کا استعمال کرتے ہیں۔

بلفظ دیگر:ضروری دینی کا قطعی بالمعنی الاعم انکار ہو۔عدم انکار کا احتمال بلا دلیل (احتمال بعید)موجود ہوتو یہ کفر فقہی قطعی ہے۔فقہا ایسے منکر کو کافر فقہی کہتے ہیں۔متکلمین اسی کفر فقہی قطعی کو ضلالت سے تعبیر کرتے ہیں اور مجرم کو گمراہ کہتے ہیں۔یہ محض اصطلاح وتعبیرکا فرق ہے۔معنوی فرق نہیں۔فقہا کافر فقہی کے لیے کافر کلامی کا حکم ثابت نہیں مانتے۔
کفر فقہی قطعی میں اجتہادجاری نہیں ہوتا۔یہ کفر قطعی بالمعنی الاعم ہوتا ہے۔

(3)ضروری دینی کا ظنی انکار کفر فقہی ظنی ہے۔ اس میں فقہاکا اختلاف ہوتا ہے۔
اس میں کفر راجح ہوتا ہے،اورعدم کفر مرجوح ہوتا ہے۔جن فقہا کے یہاں عدم کفر راجح ہوتا ہے،وہ اسے کفرنہیں مانتے ہیں۔اس کفر میں اجتہادجاری ہوتا ہے،اسی لیے اس میں فقہائے کرام کااختلاف ہوتا ہے۔

(4)کسی کلام میں کفر مرجوح ہو۔ عدم کفر راجح ہوتو اسے اصطلاح میں کفر محتمل کہا جاتا ہے۔ احتمال جس قدر ضعیف ومرجوح ہوگا،اسی قدر حکم میں تخفیف ہوگی۔کبھی حرمت وعدم جواز کا حکم ہوگا۔ کبھی اسائت وخلاف اولیٰ کا حکم ہوگا۔کفر فقہی کی تینوں قسمیں کفر محتمل ہی ہیں،لیکن اصطلاح میں اسی آخری قسم کو کفر محتمل کہا جاتا ہے۔

کفرفقہی کی قسم اول کی تفصیل مندرجہ ذیل ہے۔ان شاء اللہ تعالیٰ قسم دوم وقسم سوم کی تفصیل قسط مابعد میں مرقوم ہوگی۔ کفر فقہی سے متعلق دیگر معلومات بھی مندرج ہوں گی۔

قسم اول:کفر فقہی قطعی کی تفصیل:

اسماعیل دہلوی پر کفر فقہی قطعی کا حکم ہے۔کفر فقہی قطعی کو متکلمین ضلالت کے لفظ سے تعبیر کرتے ہیں۔ یہ محض لفظی اور تعبیری اختلاف ہے۔کفر فقہی قطعی میں عدم کفر کا احتمال بعید ہوتا ہے۔فقہائے کرام احتمال بعید کو قبول نہیں کرتے،اس لیے وہ حکم کفر عائد کرتے ہیں۔

متکلمین احتمال بعید کو قبول کرتے ہیں،اس لیے وہ مجرم کو کافر نہیں کہتے، کیوں کہ متکلمین کی اصلاح میں کافر وہ ہے جس کے ایمان کا احتمال بعیدبھی نہ ہو۔کفر فقہی قطعی میں عدم کفر کا احتمال بعید موجودہوتا ہے۔چوں کہ احتمال بعید پر کوئی دلیل نہیں ہوتی،اس لیے متکلمین ضلالت شدیدہ کا حکم عائد کرتے ہیں۔

ضلالت کے مختلف درجات ہیں۔
اسماعیل دہلوی کے کلام میں کفر فقہی قطعی پایا جاتا ہے،اسی لیے مذہب فقہا کے اعتبار سے اسے کافرکہا جائے گا،اور ”من شک فی کفرہ فقد کفر“کا استعمال بھی ہوگا،یعنی اسے کافرفقہی نہ ماننے والا بھی کافر فقہی ہے۔متکلمین دہلوی کو گمراہ کہیں گے،اورجو اسے گمراہ نہ مانے،اسے بھی گمراہ کہیں گے۔جب کفر فقہی قطعی میں اجتہاد جاری نہیں ہوتا توکوئی متکلم یا مجتہد اپنی تحقیق واجتہادکے ذریعہ اس کفرکا مطلق انکار نہیں کرسکتا۔متکلمین کا اختلاف محض تعبیری اور لفظی اختلا ف ہوتا ہے۔ متکلمین کی اصطلاح میں کافر وہ ہے جس کے ایمان کا احتمال بعید بھی نہ ہو۔ فقہاکی اصلاح میں کافر وہ ہے جس کے ایمان کا احتمال قریب نہ ہو۔ جس کے ایمان کا احتمال بعید ہو، وہ بھی فقہا کی اصطلاح میں کافر ہے۔اسی طرح جس کے ایمان کا بالکل کوئی احتمال ہی نہ ہو، وہ بھی فقہا کی اصطلاح میں کافر ہے۔

حضرت علامہ فضل حق خیرآبادی قدس سرہ العزیزنے اسماعیل دہلوی کے بارے میں رقم فرمایا:””وجواب سوال سوم ایں است کہ: قائل ایں کلام لا طائل ازروئے شرع مبین بلاشبہ کافر وبے دین است۔ہر گز مومن ومسلمان نیست، وحکم اُو شرعاً قتل وتکفیر است، وہر کہ در کفر اُو شک آرد، یا تردد دارد، یا ایں استخفاف راسہل انگارد،کافر وبے دین ونا مسلمان ولعین است“۔ (تحقیق الفتویٰ قلمی نسخہ:سیف الجبار ص88-مطبوعہ کانپور)

کفر فقہی قطعی اورمتکلمین

امام احمدرضا قادری نے رقم فرمایا:”طوائف مذکورین وہابیہ ونیچریہ وقادیانیہ وغیر مقلدین ودیوبندیہ وچکڑالویہ خذلہم اللہ تعالیٰ اجمعین ان آیات کریمہ کے مصداق بالیقین اورقطعا یقینا کفار مرتدین ہیں۔ان میں ایک آدھ اگر چہ کافر فقہی تھا، اورصدہا کفر اس پر لازم تھے،جیسے ۲/ والا دہلوی، مگر اب اتباع واذناب میں اصلاً کوئی ایسا نہیں،جوقطعا یقینا اجماعا کافر کلامی نہ ہو،ایسا کہ من شک فی کفرہ فقد کفر،جو ان کے اقوال ملعونہ پر مطلع ہوکر ان کے کفر میں شک کرے،وہ بھی کافر ہے“۔(فتاویٰ رضویہ جلدششم:ص90-رضا اکیڈمی ممبئ)

توضیح: مذکورہ بالا عبارت میں امام احمدرضا قادری نے صراحت فرمائی کہ اسماعیل دہلوی کافر فقہی ہے۔الملفوظ کی عبارت سے بھی یہی واضح ہے کہ اسماعیل دہلوی کافر فقہی ہے اور چوں کہ اعلیٰ حضرت قدس سرہ العزیز باب تکفیر میں مذہب متکلمین پر تھے،اس لیے آپ نے اسماعیل دہلوی کو گمراہ کہا،کیوں کہ متکلمین اپنی اصطلاح میں کافر فقہی قطعی کوگمراہ کہتے ہیں۔ آپ نے دہلوی کے کافر کلامی ہونے کا انکار کیا،کیوں کہ وہ کافر کلامی نہیں۔

آپ نے اسماعیل دہلوی کے گمراہ ہونے کی صراحت فرمائی۔ گمراہ ماننے کا مفہوم یہ ہواکہ آپ نے اسماعیل دہلوی کے کفر فقہی قطعی کو تسلیم فرما یا،اور متکلمین کی اصطلاح کے مطابق اسے گمراہ کہا،کیوں کہ متکلمین کافر فقہی قطعی کو اپنی اصطلاح میں گمراہ کہتے ہیں۔
اسماعیل دہلوی کے بارے میں فتاویٰ رضویہ کا ایک سوال وجواب مندرجہ ذیل ہے۔

مسئلہ: کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ جوشخص اسمٰعیل دہلوی مصنف تقویۃ الایمان کو حق جانتا ہو،اُس کے پیچھے نماز پڑھنا چاہئے یا نہیں؟ بینواتوجروا

الجواب: اگر اس کے ضلالت وکفریات پرآگاہی ہو کر اُسے اہل حق جانتا ہو تو خود اُس کی مثل گمراہ بددین ہے،اور اُس کے پیچھے نماز کی اجازت نہیں۔اگر نادانستہ پڑھ لی ہو تو جب اطلاع ہو،اعادہ واجب ہے:کما ھوالحکم فی سائر اعداء الدین من المبتدعین الفسقۃ المرتدۃ المفسدین۔اوراگرآگاہ نہیں تو اُسے اس کے اقوال ضالہ دکھائے جائیں۔ اس کی گمراہی بتائی جائے۔رسالہ: الکوکبۃ الشہابیۃ بطورنمونہ مطالعہ کرایاجائے۔

اگر اب بعد اطلاع بھی اُسے اہل حق کہے تووہی حکم ہے، اور اگر توفیق پائے حق کی طرف،فاخوانکم فی الدین-واللّٰہ سبحٰنہ تعالٰی اعلم-وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔(فتاویٰ رضویہ:جلدسوم:ص189-رضا اکیڈمی ممبئ)

امام احمد رضا قادری نے اسماعیل دہلوی کے کافر فقہی ہونے کی تفصیلی بحث اپنے رسالہ:الکوکبۃ الشہابیہ اور سل السیوف الہندیہ میں رقم فرمائی ہے۔ان دونوں رسالوں میں آپ نے اسماعیل دہلوی کے کافر کلامی ہونے کا انکار کیا،اور کافرفقہی ہونے کا اقرار کیا۔ ان دونوں رسالوں کے علاوہ بھی اپنے فتاویٰ میں اسماعیل دہلوی کے کافر فقہی ہونے کا اقرار فرمایا۔

امام احمدرضا قادری علیہ الرحمۃ والرضوان نے اسماعیل دہلوی کے بارے میں رقم فرمایا کہ جو اس کی ضلالت وکفریات فقہیہ سے واقف ہوکر بھی اسے گمراہ نہ مانے،تووہ اسی کی طرح گمراہ ہے۔ متکلمین کافر فقہی قطعی کے بارے میں ایسا ہی کہتے ہیں۔اعلیٰ حضرت قدس سرہ العزیز باب تکفیر میں مذہب متکلمین پرتھے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے