افسانہ

افسانہ: ڈاڑھی (چوتھی قسط)

افسانہ نگار : شیخ اعظمی

بدیس میں یہ دو ہفتے دو سال کے برابر لگے ، سیمینار میں چاہ کر بھی پوری توجہ نہ دے سکا ، روزانہ رات کو اس کا فون آ جاتا ، علیک سلیک کے بعد وہی رسمی گفتگو ہوتی حال احوال پوچھے جاتے اور اگلے دن رابطے کے وعدے پر فون رکھ دیا جاتا، گفتگو کا دورانیہ ٥/منٹ سے زیادہ نا ہوتا ہمارے پاس اس رسمی گفتگو کے علاوہ کوئی موضوع تھا بھی نہیں اور ہوتا بھی کیسے ؟ درمیان میں فاصلے جو تھے ؛ لیکن یہ رسمی گفتگو بھی روزانہ نئی معلوم ہوتی ، ایسا لگتا کہ سالوں بعد ہو رہی ہے جب تک اس کا فون نہ آ جاتا ایک عجیب سی بے چینی رہتی ، بار بار نگاہیں گھڑی اور موبائل کی طرف اٹھتیں ، موبائل کا لاک کھولتا اسکرین پر نظر ڈال کر وقت دیکھتا اور بند کر دیتا ، جب فون آ جاتا تو فوراً موبائل ہاتھ میں لے لیتا ؛ لیکن فون نہ اٹھاتا بلکہ تھوڑی دیر گھنٹی بجنے دیتا تاکہ انتظار کا گمان نہ ہو ، ایک طرف تو بے چینی رہتی اور دوسری طرف یہ خوف بھی کہ کہیں حالِ دل آشکار نہ ہو جائے ، جب فون اٹھا لیتا تو وہ یہ سوال ضرور کرتی کہ مصروف تھے؟ میں منع کر دیتا تو پھر یہ پوچھتی : اتنی دیر کیوں لگی فون اٹھانے میں ، میں سائلینٹ موڈ کا بہانہ بنا دیتا ، اس کی ایک خاص بات یہ تھی کہ کبھی فون کرنے سے پہلے کھانا نہ کھاتی ، سبب دریافت کرنے پر کام کی مصروفیت کا بہانہ بنا دیتی ، میں کہتا کہ کھانا پہلے کھا لیا کریں ، کہتی : کل سے پہلے کھا لوں گی ؛ لیکن پھر اگلے دن کھائے بغیر ہی فون کردیتی ، مجھے بھی اس کے فون سے پہلے کھانا اچھا نہ لگتا لیکن میری مجبوری تھی ، سیمینار کے وقت کا پابند تھا ، یہاں عشاء کے معاً بعد کھانے کا معمول تھا ، ہوتے ہوتے یہ دو ہفتے بھی گزر گئے ، آج جمعرات کا دن تھا ، کل جمعہ کے دن میری واپسی تھی ، آج بھی اس کا فون آیا اس کو شاید میری واپسی کا وقت یاد تھا ، کہنے لگی: کل تو شاید آپ آ جائیں گے ؟

جی ! کل آجاؤں گا ! آپ کے لیے کچھ لاؤں ؟
” نہیں بس آپ آجائیں یہی کافی ہے "_
اہلِ خانہ کے تحفے تحائف لے جانا میرا معمول تھا میں نے سب کےلیے کچھ نہ کچھ خریدا اور اس کےلیے بھی چند حیدرآبادی بیش قیمت جوڑے لے لیے _

"امی ! "
بولو بیٹی ! کیا ہوا؟
"میں یہ کہہ رہی تھی کہ وہ آج آ رہے ہیں "
"ہاں ہاں ، مجھے پتا ہے ” والدہ نے کہا-
"سوچ رہی ہوں کچھ ان کی پسند کا پکالوں ” ندا نے کہا-
” تو پکا لو ، یہ تو بہت اچھے بات ہے "
” کیا پکاؤں ؟ میرا مطلب ہے ان کو کیا پسند ہے ؟
” شادی کو پانچ چھے مہینے ہو گئے ہیں اب تک شوہر کی پسند بھی نا جان سکیں ، ہم اپنے زمانے میں شوہر کی پسند ناپسند کا بغور مطالعہ کرتے تھے مجال ہے جو ان کی غیر پسندیدہ کوئی چیز گھر میں پک جائے خواہ وہ ہمیں کتنی ہی مرغوب کیوں نہ ہو ” والدہ نے مختصر سا لیکچر دیا
"میں تو بس آپ سے بطور مشورہ پوچھ رہی تھی ، آپ بتا دیں گی تو زیادہ بہتر ہوگا "
ٹھیک ہے ، پھر ایسا کرو چنگیزی، شامی کباب اور نہاری پکا لو –
” جی امی جان ! بہتر ہے _
واپسی کا سفر کاٹے نہیں کٹتا تھا ، لمحہ لمحہ شاق گزر رہا تھا سوچ رہا تھا کسی طرح اڑ کر جلدی سے گھر پہنچ جاؤں : حالانکہ ہوائی جہاز میں حکماً اڑ ہی تو رہا تھا لیکن انسان کی جلدبازی کا کیا کیا جائے ، بہر حال با دلِ بےتاب شام کے تقریباً ٥/بجے گھر پہنچا ، کھانے کی شاندار خوشبوؤں نے میرا استقبال کیا ، گھر کے سبھی لوگ میرے منتظر تھے ، اہل خانہ سے رسمی ملاقات کے بعد نماز کی تیاری میں لگ گیا ، نماز کے بعد شام کی چائے وائے کے ساتھ دسترخوان پر میری منتظر تھی ، فضا میں تحلیل ہوتی چائے کی خوشبو سونگھ کر صبر کا پیمانہ چھلکا جاتا تھا ، آج کی چائے میں اک الگ ہی رنگ اور ایک منفرد ذائقہ تھا جو میرے اور چائے کے رشتے کو مضبوط سے مضبوط تر کر رہا تھا ، عشائیہ سب نے ایک ساتھ تناول کیا ، عشائیے کے بعد مختصر مجلس لگی ؛جس میں سفر کی کارگزاری لی گئی اور کچھ ادھر ادھر کی باتیں ہوئیں، پھر سب اپنے اپنے ٹھکانوں پر چلے گئے ، میرا ٹھکانہ مطالعہ کا کمرہ تھا میں وہاں چلا گیا اور کوئی کتاب کھول کر ورق گردانی کرنے لگ گیا ، تقریباً ایک گھنٹہ یونہی گزر گیا اچانک دروازے پر ہونے والی کھٹکھٹاہٹ نے میری محویت کو توڑ کر اپنی طرف متوجہ کیا میں نے کہا: اندر آجائیں ! دروازہ کھلا تو وہ ندا تھی جو لبِ حجرہ ہی کھڑی رہی
اندر تو آجائیں ! میں نے کہا
وہ اندر آئی اور بیٹھ گئی ، کچھ لمحے خاموشی رہی ، نا تو وہ بولی اور نا ہی میری زبان سے کچھ نکلا اور دونوں نظریں جھکائے بیٹھے رہے ، دونوں میں سے کسی نا کسی تو کچھ بولنا تھا ورنہ ساری رات یونہی خاموشی کی نذر ہوجاتی ، آخرکار میں نے سکوت کو توڑتے ہوئے زبان کو حرکت دی اور پوچھا : خیریت سے ہیں ؟
جی ٹھیک ہوں ! آپ کا سفر کیسا رہا ؟ ” اس نے پوچھا
اچھا رہا الحمد للہ !
"کھانا کیسا لگا ؟ "
میں اس غیر متوقع سوال پر حیران سا ہوا ” اچھا تھا ماشاءاللہ”
اور چائے ؟ "
وہ بھی بہت مزیدار تھی ، آپ نے بنائی تھی ؟ "
” جی”
اچھی تھی بہت "
پھر کچھ لمحے خاموشی رہی ” کچھ کام تھا ؟” میں نے پوچھا
ن ن نہیں ! بس یونہی !
جی!! کیا مطلب ؟
"نہیں کچھ نہیں !”
پھر ذرا گردن جھکائی اور کچھ سوچنے لگی
"اچھا میں چلتی ہوں ” اچانک یہ کہتے ہوئے اٹھ کر چلی گئی اور میں دیکھتا رہ گیا
شعر
آ گلِ لالہ ذرا بیٹھ کے رونا روئیں
اڑ گئی تتلی کسی گل سے پکاری نہ گئی
(رضا خیال دہلوی)
لیکن مجھے لگا کہ وہ کچھ کہنا چاہتی تھی لیکن کہہ ن سکی۔

(جاری)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے