سیرت و شخصیات صحابہ کرام

حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی سیرت ایک نظر میں۔

تحریر : ظفر نوری ازہری

گزشتہ جمعہ ٦/٨/٢٠٢١ کو موتی مسجد میں حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی سیرت پر بیان کیا، تقریباً ٤٠ منٹ کا بیان ہے، جو یوٹیوب پر بھی اپلوڈ کردیا گیا ہے، اس بیان کے شروع کرنے سے پہلے میں نے اس بات کا اعلان کردیا تھا کہ، بیان مکمّل ہونے پر اسی بیان سے آپ حضرات سے ایک سوال کیا جائے گا، جو اس کا جواب دے دےگا اسے ایک واٹر کولر تحفہ کی شکل میں پیش کیا جائے گا، ہمارا مقصد اتناسا ہے کہ بس لوگ بیان کو غور سے سنیں، بیان کے بعد سوال یہ کیا گیا کہ، حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی نانی جان کا کیا نام ہے؟ پورے نمازیوں میں سے ایک صاحب جن کا نام خورشید حسین تھا انہوں نے صحیح جواب دیا اور انہیں وہ تحفہ دے دیا گیا۔
پھر نمازی حضرات میں سے عالی جناب عبد العزیز بھائی (سندھی کالونی) والوں نے کہا کہ یہ طریقہ بہت اچھا لگا ان شاء اللہ پانچ ایسے تحفے میری طرف سے ہیں، ہر جمعہ کو آپ اِسی طرح بیان سے سوال کیا کریں تاکہ لوگ جلدی آئیں اور غور سے بیان سنیں۔

آپ حضرات بھی اختصار کے ساتھ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی سیرت ملاحظہ فرمائیں!

🔷 حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے والد کا نام عفان اور والدہ کا نام اروی بنت کریز ہے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پھوپھی زاد بہن تھیں، آپ کی نانی ام حکیم البیضا بنت عبد المطلب ہیں جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے والد حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ کی جوڑوا بہن تھیں۔ اپ حضور کے ددھیال کی طرف سے بھتیجے لگتے تھے اور ننیھال کی طرف سے بھانجے لگتے تھے، آپ کا سلسلہ نسب والد کی طرف سے پانچویں پشت میں جاکر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے نسب شریف سے مل جاتا ہے۔ اور والدہ کی طرف سے دوسری پشت میں جاکر مل جاتا ہے۔

🔷 اپ کی پیدائش ٥٧٦ عیسوی میں مکہ شریف میں ہوئی۔

🔷 اپ کا شمار مکہ مکرمہ کے ان چند گنے چنے لوگوں میں تھا جو لکھنا پڑھنا جانتے تھے۔ اس لیے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپ کو کتابت وحی پر معمور فرمادیا تھا۔

🔷 اسلام قبول کرنے والے اپ چوتھے شخص تھے۔ (اس وقت آپ کی عمر ٣٤ سال تھی) [طبقات ابن سعد]
◾”وَالسَّابِقُونَ الْأَوَّلُونَ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنصَارِ”
[سورہ توبہ١٠٠]

🔷 اسلام قبول کر نے کے بعد اپ پر بہت سختیاں کی گئیں مگر اپ نے اسلام نہیں چھوڑا اپ کا چچا (حکم بن ابو العاص) نے اپ کو بہت زد کوب کیا۔ رسیوں سے باندھ دیا تھا۔ [تاریخ ابن عساکر ج ٣٩]

🔷 حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ خود فرماتے ہیں کہ میں نے اسلام سے پہلے کھبی شراب نہیں پی، اور نہ کبھی زنا کے قریب گیا، نہ چوری کی، نہ کبھی گانا گایا، جب سے سرکار صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی اس کے بعد سے کبھی اپنے سیدھے ہاتھ سے اپنی شرمگاہ کو نہیں چھوا۔ (آپ ایسی حیاء والے تھے)
[حلیۃ الاولیاء ج ١/ریاض النظرہ ج ٢/تاریخ ابن عساکر ج ٣٩/ابن ماجہ]
◾حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا "الحیاء شعبة من الایمان” [بخاری/مسلم]
◾آپ بہت شرم و حیا والے تھے، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا "اشدُّ اُمتی حیًا عثمانُ بنُ عفان” [حلیۃ اولیاء]
◾حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا "الا استحی من رجل تستحی منه الملائکة” [مسلم]

🔷 اعلان نبوت کے تیسرے سال آپ کا نکاح حضرت رقیہ رضی اللہ عنہا سے ہو گیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا "ان اللہ عزوجل اوحی الیَّ ان ازوجَ کریمتی من عثمان” [معجم صغیر ج ١ / معجم اوسط ج ٤]

🔷 اعلان نبوت کے پانچویں سال آپ نے پہلے حبشہ کی طرف ہجرت فرمائی پھر مدینے شریف کی طرف ہجرت فرمائی، اس لیے اپ کو "ذو الہجرتین” کے لقب سے بھی یاد کیا جاتا ہے۔ [تاریخ ابن عساکر ج ٣٩]

🔷 نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ حضرت لوط علیہ السلام کے بعد حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ پہلے شخص ہیں جنہوں نے اپنی فیملی کے ساتھ ہجرت فرمائی۔[معجم کبیر ج ١]
◾حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’میری امت میں عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ پہلے شخص ہے جنہوں نے اپنے اہل و عیال کے ساتھ ہجرت کی‘‘۔
[اصابه ج٨]

🔷 حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے تمام غزوات میں حصہ لیا سوائے غزوۂ بدر کہ اس وقت حضرت رقیہ رضی اللہ عنہا بیماری تھیں، اس لئے اس غزوۂ بدر میں شامل نہ ہوسکے۔ لیکن آپ کو جنگ بدر میں شریک ہونے والوں کے برابر ثواب ملے گا۔[بخاری]

🔷 دو ہجری ماہ رمضان حضرت رقیہ رضی اللہ عنہا کا وصال ہو گیا۔ جب لوگ جنگ بدر سے مدینہ منورہ پہونچے ادھر حضرت رقیہ کی مٹی لگ رہی تھی۔

🔷 ربیع الثانی ٣ ہجری میں آپ کا نکاح حضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہا سے ہوا۔ اس کے بعد اپ کا لقب ذوالنورین ہو گیا۔ امام بدرالدين عینی فرماتے ہیں حضرت ادم علیہ السلام سے لیکر ہمارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم تک یہ شرف صرف حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے حق میں آیا کہ کسی نبی کی ایک بعد ایک دو بٹیاں اپ کے نکاح میں آئیں۔[عمدۃ القاری]

🔷 سرکار صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر میری دس بیٹیاں بھی ہوتیں تو ایک بعد ایک میں عثمان کے نکاح میں دے دیتا۔[معجم اوسط ج ٤]

♦️ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے فضائل

🔷 حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے تعلق سے فرمایا "انت ولیی فی الدنيا و ولیی فی الاخرۃ” [مستدرک حاکم]

🔷 نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا "لکل نبی رفیق و رفیقی فی الجنة عثمان” جنت میں ہر نبی کا رفیق ہے اور میرا رفیق عثمان ہے۔ [ترمذی / ابن ماجہ / مشکوۃ]

🔷 حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں جنازہ لایا گیا، تو حضور نے اس کی نماز جنازہ نہیں پڑھائی "انه کان یبغض عثمان” کیونکہ وہ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ سے بغض رکھتا تھا۔ [ترمذی]

♦️حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی سخاوت

🔷 بئیر رومہ قبیلہ بنی غفار کے ایک شخص کا تھا سرکار صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا جنت کے چشمے کے بدلے یہ کنواں مجھے بیچ دو، مگر انہوں نے کہا یارسول اللہ! میرا گزر بسر ایسی سے ہوتا ہے میں نہیں بیچ سکتا۔ پھر حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے اس کنوئیں کو ٣٥ ہزار درہم میں خرید کر مسلمانوں کو وقف کردیا۔[معجم کبیر]
◾ شیخ عبد الحق محدث دہلوی نے فرمایا ہے کہ ایک روایت اس طرح بھی ہے کہ یہ کنواں ایک یہودی کا تھا حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے ٢٠ ہزار درہم کا خرید کر مسلمانوں کیلئے وقف کر دیا۔

◾ غزوۂ تبوک کے موقع پر اپ نے ایک ہزار اونٹ اور ستر گھوڑے مہیا فرمائے۔[الاستيعاب جلد ٣]
◾ غزوۂ تبوک کے وَقت آپ نے ٩٥٠ اُونٹ، ٥٠ گھوڑے اور ١٠٠٠ دینار پیش فرمائے، پھر بعد میں ١٠ ہزار دینار اور پیش فرمائے۔ [مراٰۃ المناجیح،ج ٨]
◾ مسجد نبوی اور جنة البقیع کی توسیع آپ کے تعاون سے ہوئی۔
◾ ہرجمعہ کو آپ ایک غلام آزاد فرماتے، اگر کسی جمعہ کو ناغہ ہوجاتی تو اگلے جمعہ کو ٢ غلام آزاد فرماتے۔
[تاریخ ابن عساکر ج ٣٩]
◾ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سخاوت ایک جنتی درخت اور عثمان اس کی ایک شاخ ہیں۔ [کنزالعمال]

♦️ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو جنت کی بشارت

🔷 حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ عشرہ مبشرہ میں سے ہیں اور سرکار صلی اللہ علیہ وسلم نے اپ کو کئی مرتبہ جنت کی بشارت دی۔
◾ اور سرکار صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا کہ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی شفاعت سے ستر ہزار ایسے لوگوں اللہ تعالیٰ جنت عطا فرمائے گا، جن پر جہنم واجب ہوچکی ہوگی۔ [تاریخ دمشق]

🔷 اپ جب کسی قبرکے پاس کھڑے ہوتے تواِس قَدَر روتے کہ آنسوؤں سے آپ رضیَ اللہُ تعالٰی عنہ کی رِیش(یعنی داڑھی) مبارَک تَر ہو جاتی۔ [ترمذی]

♦️ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی خلافت

🔷 حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنی شہادت سے پہلے فرمایا تھا ان چھ لوگوں میں سے کسی کو خلیفہ منتخب کرلینا۔ ١ حضرت عثمان غنی، ٢ حضرت علی، ٣حضرت عبد الرحمن بن عوف، ٤ حضرت سعد ابن ابی وقاص، ٥ حضرت زبیر، ٦ حضرت طلحہ رضی اللہ عنہم۔

◾ آپ کا دور خلافت یکم محرم الحرام ٢٤ ہجری سے شروع ہوا۔

◾ آپ کا دورے خلافت سب سے زیادہ لمبا رہا ١٢ سال، [گیارہ سال گیارہ ماہ ٢٢ دن یہ اپ کی مدت خلافت ہے۔[الاصابہ]

◾ آپ کے دور خلافت میں ویسے تو بہت سے اہم کام ہوئے ان میں ایک قرآن شریف کا جمع کر کے اسے پوری دنیا میں پہونچانا بھی ہے۔ آپ نے قرآن شریف کے سات نسخے تیار کرائے۔(١) ایک نسخہ مدینہ شریف میں رکھا، اور ایک ایک۔ (٢)مکہ شریف، (٣) کوفہ، (٤) بصرہ، (٥) مصر، (٦) شام، (٧)بحرین میں بھیجوائے۔

◾ جمعہ کے دن پہلی آذان کا اضافہ بھی آپ نے فرمایا۔[مصنف عبد الرزاق ج ٣]

◾ موذنین کے وظیفہ کا آغاز بھی آپ نے ہی فرمایا۔ [مصنف عبد الرزاق ج ١]

🔷 حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ سے ١٤٦ حدیثیں مروی ہیں۔ [نیوز ایکسپریس ٢٣ اکتوبر ٢٠١٣، مفتی عبد الرازق نقشنبدی]

◾ آپ کی حکومت کابل سے مراقش تک لاکھوں مربع میل پر پھیلی ہوئی تھی۔

◾ شہادت کے وقت آپ قرآن شریف کی اس آیت کی تلاوت فرما رہے تھے۔ فسیکفیکهم اللہ وھو السمیع العلیم (١٣٧)

🔷 آپ نے بیاسی سال کی عمر میں، ١٨ ذوالحجہ ٣٥ ہجری بروز جمعہ عصر کے وقت جام شہادت نوش فرمایا۔

🔷 نماز جنازہ حضرت جبیر بن مطعم نے پڑھائی۔
[اسد الغابہ]

🔷 اپ کی شہادت کے بعد حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہ نے خواب میں دیکھا کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جنت میں عثمان کو دولہا بنا گیا۔ [ریاض النظرۃ ج ٢]

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے