ہر فضیلت کے وہ جامع ہیں نبوت کے سوا

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

ازقلم: محمد مجیب احمد فیضی
استاذ/ دارالعلوم محبوبیہ رموا پور کلاں اترولہ, بلرام پور, یوپی
رابطہ نمبر:8115775932
email:faizimujeeb46,@gmail.com

کھیتی کرنا انتہائی مشکل کام ہے,اور انسانوں کی کھیتی کرنا اور بھی زیادہ مشکل,مکہ کی وہ سنگلاخ وادی جہاں سے بظاہر کوئی پودا نہیں اگ سکتا تھا,میرے نبی نے فاران کی چوٹی سے کلمہ کی بیج ڈالی زمین بڑی سخت تھی ,اگنے میں بڑی پریشانی , بڑی بڑی دشواریوں کا سامنا کرنا پڑا, نہ جانے کتنے طعنے ,نہ جانے کتنے تشنیع ,نہ جانے کیسی کیسی پریشانیاں,کئی سالوں تک شعب ابی طالب میں محصورہنا پڑا, طائف میں پتھر بھی کھائے حضور رحمت عالم ,شکم پر پتھر بھی باندھے میرے نبی نے, مگر میرے نبی پیچھے نہ ہٹے,نبوت ورسالت کی کھیتی کرنے رسول نے تمام پریشانیوں کو برداشت کیا,اور یہ بات بھی مسلم ہے جس کو کھیتی کرنے والے کاشتکار بخوبی جانتے ہیں کہ فصل اگر اچھی ہو جائے تو کاشتکار اپنی پریشا نی بھول جاتا ہے,جس طرح کوپل نکلنے پر کاشتکار خوش ہوتا ہے,اسی طرح ابوبکر نام کا ایک پودا اگا نبی مسکرا پڑے ,میرے نبی کا کلیجہ وسیع ہو گیا,عرض کرتے ہیں: اے میرے مالک آج تیرے حبیب کی محنت وصول ہو گئی. اسلام کے پودھے بڑی مشقت سے نکلے ہیں۔

نام ہی نام ہے جو کچھ ہے حقیقت کے سوا
راستہ کوئی نہیں ان کی شریعت کے سوا
فضل ایمان پہ ہے فضل نسب بھی موقوف
ہاتھ بوجہل کو آیا نہ کچھ تبت کے سوا
مرتبہ حضرت صدیق کا یہ ہے سید!!!!
ہر فضیلت کے وہ جامع ہیں نبوت کے سوا.

حضور رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت توحید پر آزاد مردوں میں سب سے پہلے لبیک کہنے والے سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی ذات بابرکت ہے.آپ تاریخ اسلام سے اگر پوچھیں کہ سب سے ایمان والے کون کون اشخاص ہیں ؟, تو ایک روایت یہ کہے گی کہ سب سے حضرت ابوبکر ایمان لائے,ایک روایت کہے گی سب سے پہلے مولائے کائنات سیدنا علی مرتضی ایمان لائے ,ایک روایت یہ بتائے گی کہ سب سے پہلے ملت کی ماں حضرت خدیجۃ الکبری ایمان لائیں ,ایک روایت کہے گی کہ سب سے پہلے حضرت زید بن حارثہ ایمان لائے,قسم سے امت حیران تھی کہ یہ چاروں کیسے سب سے پہلے, چنانچہ سراج الامہ کشف الغمہ سیدنا امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ نے ان کے مابین اتنی شاندار تطبیق دے دی کہ جس کا کوئی جواب نہیں ,آپ نے فرمایا: مردوں میں سب سے پہلے حضرت ابو بکر ایمان لائے,عورتوں میں سب سے پہلے حضرت خدیجۃ الکبری ایمان لائیں ,بچوں میں حضرت علی سب سے پہلےایمان لائے ,اور غلاموں میں حضرت زید بن حارثہ سب سے پہلے, یہ چاروں خوش نصیب اول الاسلام اشخاص ہیں,
اور لوگوں نے تو دیکھا دیکھی رائے کرکے مشورہ کر کے غور وفکر کرکے اسلام قبول کیا لیکن حضرت صدیق اکبر نے اس وقت اسلام قبول کیا جب کوئی سیمپل اور نمونہ نہیں تھا ,عرض کرتے ہیں :”آمنت بااللہ ورسولہ” یارسول اللہ "ایمان لایا میں اللہ اور اس کے رسول پر”چنانچہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اپنے مال ومتاع کے ذریعہ اسلام,اور مسلمانوں کی ہمیشہ حفاظت فرمائی ,اور ہر مشکل گھڑی میں حضور رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے شانہ بشانہ کھڑے رہے.

آپ کا اسم مبارک عبداللہ ہے.آپ کے والد بزرگوار کا اسم گرامی حضرت عثمان ہے,جو ابو قحافہ لقب سے شہرت یافتہ ہیں.
,آپ رضی المولی عنہ کی والدہ کا نام سلمہ بنت صخر ہے.آپ رضی المولی عنہ کی کنیت ابوبکر ہے اور آپ اپنی کنیت ہی سے مشہور ہیں.

آپ رضی اللہ عنہ اوصاف حسنہ کے مالک تھے. بچپن سے ہی سچ بولتے تھے اور سچ ہی کا ساتھ دیتے تھے, آپ حضور رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہر بات من وعن تصدیق فرماتے تھے. نبئ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت توحید پر آپ سب سے پہلے بغیر کسی معجزہ کے ایمان لائے اور ساتھ دیا, آپ کی نبوت کی تصدیق کیا اس لئے آپ کا لقب صدیق (سچ بولنے والا )عطا ہوا .

اس کے علاوہ آپ کالقب عتیق بھی ہے, اس سلسلے میں ملت کی ماں طیبہ طاہرہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک دن میرے والد (ابوبکر) حاضر بارگاہ رسالت ماب ہوئے انہیں دیکھ کر مصطفی کریم علیۃ والثناء نے ان سے ارشاد فرمایا:اے ابو بکر!! اللہ جل مجدہ الکریم نے تجھے آگ سے آزاد فرمایا تب سے آپ کا لقب عیتق مشہور ہوگیا.

حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ قبیلۂ بنی تمیم سے تعلق رکھتے تھے,آپ اپنی عادت واطوار, خوش اخلاقی, اور ایمان داری کی وجہ سے مکہ کی سرزمین پر کافی شہرت رکھتے تھے,آپ ظاہری علوم سے آراستہ تھے ,یہی وجہ ہے کہ کئی موقعوں پر اہلیان مکہ نے آپ کو اپناسفیر بھی مقرر کیا ہے.آپ کی دیانت وذہانت دیکھ کر آپ کو آپ کے اہل قبیلہ نے عنفوان شباب ہی میں مقدمات کے فیصلوں پر مقررکر دیا تھا, جس کو آپ نے بحسن وخوبی انجام دیا کیوں کہ آپ اصول میں کسی قسم کا سمجھوتا نہیں رکھتے اور اپنے فیصلوں میں ہمیشہ انصاف سے کام کرتے تھے.

حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے بے شمار فضائل ومناقب ہیں.اللہ رب العزت نے قرآن مجید میں آپ کے فضائل کا تذکرہ فرمایا ہے: "اور وہ لوگ جو اپنا مال رب کی راہ میں خرچ کرتے ہیں اور اسے خرچ کرنے میں پوشیدہ رکھتے ہیں اور کبھی ان کا اظہار بھی ہو جاتا ہے پس ایسے لوگوں کے لئے رب کی طرف سے بے شمار اجر وثواب ہے”
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "خیر القرون قرنی” ترجمہ: سب سے بہتر زمانہ وہ میرا زمانہ لفظ ” قرنی” پر تھوڑا سا توجہ کریں صدیق کا آخری حرف "قاف” عمر کا آخری حرف "ر” اور عثمان کا آخری حرف ” ن ” علی کا آخری حرف ” "ی ” تب جاکے بنتا ہے قرنی پتہ چلا کہ پیغمبر اعظم نے اپنے فرمان مبارک سے اشارہ دیا کہ سب سے بہتر میرا زمانہ ہے, پھر ابو بکر کا زمانہ ہے پھر عثمان کا زمانہ ہے پھر علی کا زمانہ ہے.

علامہ” ابن حجر عسقلانی” رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی مشہور زمانہ و شہرۂ آفاق کتاب "المنبہات علی الاستعدادلیوم المعاد "میں کچھ ثلاثیات احادیث مبارکہ کا تذکرہ کیا
اس میں ایک بڑی تفصیلی حدیث ہے.
اسلام کے سب سے بڑے رہبر پیغمبر اعظم نےارشاد فرمایا: "حبب الی من الدنیا ثلث”
ترجمہ: "مجھے دنیا کی تین چیزیں پسند ہیں”صحابۂ کرام رضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین حاضر دربار رسالت ہیں,میرے نبی فرماتے ہیں: ” الطیب, والنساء وجعلت قرۃ عینی فی الصلاۃ” 1/ خوشبو 2/ ملت کا اپنے سینے میں درد رکھنے والی خواتین 3/ نماز میری آنکھوں کی ٹھنڈک بنا دی گئی” میرے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سب سے پہلی پسند خوشبو ,اور انہیں خوشبو کیوں نہ پسند ہو وہ خود اتنا مہکتے تھے کہ نبی کی تلاش کے لئے صحابہ کو کسی سے ایڈرس نہیں پوچھنا پڑتا تھا.صحیح کہا عاشق زار نے
کیا مہکتے ہیں مہکنے والے
بو پہ چلتے ہیں بھٹکنے والے.
دوسری پسند میرے نبی کی عورت ہے. لیکن ہر عورت نہیں بلکہ وہ عورت جو اپنے دل میں ملت کا درد رکھنے والی ہو .جو اپنے دلاروں کو اسلامی ثقافت وتہذیب میں پال کر ملت کے لئے پروان چڑھاتی ہو .
اور تیسری پسند مدنی آقا کی وہ نماز ہے, جس کے متعلق آپ ارشاد فرماتے ہیں : "نماز میری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے”

اتفاق سے اس محفل حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ موجود تھے عمر فاروق اعظم ,عثمان غنی اور مولائے کائنات رضی اللہ عنہ بھی موجود تھے.جب صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے اتنا سنا عرض کرتے ہیں: یا رسول اللہ !!! "مجھے بھی دنیا کہ تین ہی چیزیں پسند ہیں” عزیزو!!! پسند تو اور بھی چیزیں رہی ہوں گی مگر اس میں سے آپ نے منتخب کرکے اشارہ کیا, اے لوگو!! ہم تو نبی سے اس قدر محبت کرتے ہیں کہ تعداد میں بھی سبقت لے جانے کو مناسب نہیں سمجھتے ہیں.سنو!!حضرت صدیق اکبر کی سب سے پہلی پسند” النظر الی وجہ رسول اللہ” وانفاق مالی علی رسول اللہ وان تکون ابنتی تحت رسول اللہ” ترجمہ: عرض کرتے ہیں: یا رسول اللہ!!! آپ کے چہرۂ اقدس کا دیدار کرنا پوری کائنات میں ابو بکر کی پہلی پسند ہے . کسی نے پوچھا آپ کو بھوک پیاس نہیں لگتی کہنے لگے:
یہ شہد ہو تو پھر کسے پرواہ شکر کی ہے.

اور اپنا مال آپ کی بارگاہ میں خرچ کرنا یہ مجھے بہت زیادہ پسند ہے ,آپ کا حکم ہوتے جائے اور صدیق اپنا مال خرچ کرتا جائے. چندہ والی روایت بڑی مشہور ہے, نبی کے حکم پر سارے صحابہ نے جن سے جو کچھ ہو سکا نبی کی بارگاہ میں پیش کردیا,خلیفۂ دوم عمر فاروق اعظم آدھا مال لے گئے آدھا چھوڑ گئے اس خوش فھمی میں کہ شاید آج میں ابوبکر پر سبقت لے جاؤں گا ,اور ابوبکر اپنا پورا مال اٹھا لے گئے نبی کے استفسار پر عمر فاروق اعظم نے فرمایا آدھا لایا ہوں اور آدھا اپنے اہل وعیال کے لئے چھوڑ آیا ہوں.
نبی کے پوچھنے پر صدیق اکبر نے عرض کیا: گھر پر اللہ ورسول کو چھوڑآیا ہوں. جبکہ ابوبکر کا مال فاروق اعظم کے مال کے باالمقابل بہت کم تھا مگر میں کہتا ہوں کہ کائنات کا سب سے بڑا چندہ تھا جو ابو بکر صدیق نے نبی کی بارگاہ میں پیش کیا تھا. شاید اسی واقعہ کی صحیح عکاسی شاعر مشرق ڈاکٹر علامہ اقبال نے اپنے اشعار میں اور کہا:
پروانے کو چراغ اور بلبل کو پھول بس
صدیق کے لئے خدا کا رسول بس.

اور تیسری پسند یہ ہے میرے آقا کہ میری دختر نیک اختر میری بیٹی عائشہ جو کہ آپ کے عقد مبارک میں ہے میں اس سے بڑا خوش ہوں .
پھر اس کے بعد عمر فاروق اعظم عثمان غنی اور مولائے کائنات رضی اللہ عنہم نے بھی تین ہی تین کہا.
حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی شان بہت بلند ہے. نبی کے بعد کائنات میں سب سے افضل واعلی ہیں.اسلام کے سب سے پہلے خلیفہ رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال پر ملال کے بعد مقرر ہوئے.اور آپ کو یار غار کا شرف بھی حاصل ہے,نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ظاہری حیات آپ کو نماز پڑھانے کا حکم صادر فرمایا,اور اس کے علاوہ بہت سے تاریخ کے درخشندہ پہلو ایسے ہیں جو کہ آپ رضی المولی عنہ کے رفیع المرتبت ہونے پر صراحۃ دال ہیں.رب کی بارگاہ میں دعا ہے کہ اللہ تعالی مسلمانان عالم کو صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم سے سچی پکی محبت کی توفیق رفیق بخشے.آمین یا رب العلمین بجاہ النبی الکریم

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

About مجیب احمد فیضی

جناب مولانا محمد مجیب احمد فیضی صاحب یو۔پی۔ کے ضلع بلرام پور سے تعلق رکھتے ہیں، ایک بہترین قلم کار ہیں۔ اور ہماری آواز ادارتی پینل کے اہم رکن ہیں۔ ہماری آواز

Check Also

امیرالمومنین حضرت سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی عظمت و بصیرت: دانشورانِ مغرب کے اعترافات

ازقلم: غلام مصطفیٰ رضوی نوری مشن مالیگاؤں     سرور کونین صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔