سیاست و حالات حاضرہ

 سیاست سے دوری کیوں؟

ازقلم: بدرالدجی امجدی

ویسےتوسیاست کے کئ معانی ہوتے ہیں مگر ان سب کا نچوڑ صاف اور سرل لفظوں میں بیان کروں تو سیاست نام ہے "مخلوق کی خدمت کا” اور مخلوق کی خدمت کرنے سے نہ تو  اسلام منع کرتا اور نہ ہی دنیاوی دیگر مذاہب, بلکہ سیاست تو اسلام ہی کا ایک حصہ ہے جو انبیاء کرام علیہم السلام کے زندگی میں بھی پایا جاتا ہے اور قرآن و حدیث میں سیاسی، سماجی، ملکی اور ملی کی حفاظت کا قانون بتلایا گیا ہے پھر بھی مسلمان سیاست سے دور کیوں؟ سیاست بذات خود کوئی بری چیز نہیں ہے بلکہ سیاستدانوں نے اس کی پاور کا غلط استعمال کر کے اس کی عزت و آبرو کو نیلام کر رکھا ہے، یہی وجہ ہے کہ عوام تو عوام خواص بھی اسی غلط فہمی کے شکار ہوتے ہوئے نظر آتے ہیں کہ سیاست علماء، شرفاء اور اچھے لوگوں کا حصہ نہیں ہے.
علماء اور شرفاء کو تو صرف اور صرف مسجد، مدرسہ، روزہ، نماز، حج و زکوٰۃ کی ہی باتیں کرنی چاہیے،ان کو سیاست کے چکر میں نہیں پڑنا چاہیے، جیسے سیاست ان کے گھر کی باندی یا ان کے باپ کی جاگیر ہو جبکہ تاریخیں اس بات سے بھری پڑی ہیں کہ علماء کرام ہی نے سیاستدانوں کو ہر موڑ پر گائیڈ کیا ہے اور ضرورت پڑی ہے تو خود سیاسی میدان میں اتر کر سیاست کے باگ دوڑ کو سنبھالا بھی ہے. یہ علماء کرام ہی کی دین ہے جو آج ہم اور آپ اس ملک میں آزادی کی سانس لے رہے ہیں، یہی علماء کرام تھے جنہوں نے 1857ء میں جہاد کے نام پر آزادی کی روح پھونک دی تھی جس کے نتیجے میں 1947ءکو ہندوستان آزادی کے شکل میں ہمے اور آپ کو نصیب ہوا- علماء کرام کی فہرست اتنی طویل ہے کہ اس پر مختصر سا تبصرہ کرنے کے لیے ایک عظیم کتاب درکار ہے.
برصغیر کے علماء کرام قطب الدین بختیار کاکی، حضرت مجدد الف ثانی اور ملا احمد جیون کی طرح سیاستدانوں کے اصلاح کی فرائض انجام دئیے ہیں، حضرت محی الدین اورنگ زیب عالمگیر رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ جو ایک جید عالم وحافظ وقاری تھے اسی ہند کے سرزمین پر قرآن و سنت کو نافذ کرنے میں کامیابی حاصل کی،   توصرف اور صرف اس لئے کہ انہوں نے اپنے باپ اور بھائیوں کو شکست دے کر سیاسی زمامِ کار کو اپنے اوپر لازم کر لیا تھا
یاد رکھئے! جب پڑھے لکھے اور نیک لوگ سیاست میں حصہ نہیں لینگے، تو پھر آپ پر جو برے اور نکمے لوگ مسلط ہیں وہی لوگ اپنے جہالت کے تاریکی میں تمہارے سیاسی تقدیر کے فیصلے کرتے ہوئے نظر آئیں گے اور آپ کو چاہ کر اور نہ چاہ کر بھی ان کو برداشت کرنی پڑے گی.
ہر شخص اپنے بیٹوں اور بیٹیوں کو ڈاکٹر، انجنئیر، اسکالر، پروفیسر، وکیل اور عالم و حافظ کی شکل میں دیکھنا چاہتا ہے، مگر یہ سب ملک نہیں چلاتے بلکہ یہ سب ملک کا ایک حصہ بنتے ہیں، ملک سیاستدان  چلاتے ہیں قانون اور پالیسی وہی بناتے  ہیں اور وہی بگاڑتے ہیں، بلکہ ایک ملک کا دوسرے ملک سے رشتہ کیسا ہوگا  یہ بھی سیاستدان ہی ہم کو بتاتے ہیں.
جب شریف لوگ سیاست سے کنارہ کشی اختیار کرتے گئے تو جاہل ان پڑھ، لُکھِّے لفنگے اور نکمے لوگ سیاست کو اپنے گھر کی باندی سمجھ کر اپنے ہوس کا شکار بنانے لگے اور اپنے خاندان کی جاگیر سمجھنے لگے، یہی وجہ ہے کہ دور حاضر میں جو جتنا بڑا جھوٹا، مکار، دغاباز اور لُچاَّ لفنگاّ ہوتا ہے وہ اتنا ہی بڑا اپنے قوم کا ہیرو اور سیاست دان سمجھا جاتا ہے، ظاہر سی بات ہے جب ایسے لوگ پارلیمنٹ جائیں گے تو پھر یہی جاہل، ان پڑھ لوگ دیش کے پارلیمنٹ کے دیواروں کے سائے تلے بیٹھ کر چِلِّم چِلاَّ، ہلاّ گُلاَّ کرتے ہوئے نظر آئیں گے پچھلے کچھ سالوں میں جس طرح سے پارلیمنٹ کے اندر طوفان بدتمیزی برپا کیا گیا ساری دنیا نے اس کو اپنے ماتھے کے نظروں سے ملاحظہ کیا – شاید یہی وجہ تھی جن کی بنیاد پر ڈاکٹر راحت اندوری نے کہا تھا-


اندھی، گونگی، بہری سیاست رسی پر چلتی ہے
کئ مداری ہیں اور ایک بندریہ ہے، بڑھیا ہے!
ایمانوں کا سودا ان دوکانوں میں ہوتا ہے
سنسد کیا ہے بھیا؟ ایک بازریہ ہے، بڑھیا ہے!

بھارت کے سیاست میں ساری قومیں اپنی اپنی حصہ داری کی بات کرتی ہوئی نظر آتی ہیں اگر کوئی قوم ہے جو بھارت کے سیاست کے حصے داری سے محرومی کا شکار ہوتی ہوئی نظر آ رہی ہے تو یہ وہی قوم ہے، جو تعلیمی میدان میں سب سے پیچھے، تجارت میں پیچھے اور جس کو ساری دنیا مٹانے کی پوری کوشش کر رہی ہے، ہاں! ہاں! وہ قوم، قوم مسلم ہے-

بھارت کے مسلمانوں کا سیاست میں قانونی اور آئینی حق ہے مسلمانوں کو سیاست میں حصہ لے کر اپنے فلاح و بہبودی اور ترقی کا مانگ رکھنے کا ایسے ہی حق ہے جیسے دیگر قوموں کا، جس ملک اور جس سٹیٹ میں آپ رہتے ہیں اس ملک کے بجٹ، اس ملک کے خزانے میں اور اس کے ترقیاتی فنڈز میں آپ کا اتنا ہی حصہ ہے جتنا دوسری قوموں کا- اس لئے ملک ہند کے سیاست میں مسلمانوں کو ضرور حصہ لینا چاہئیے، ملک کے سیاست میں حصہ لے کر نہ صرف مخلوق کی خدمت کی جاسکتی ہیں، بلکہ ملک و ملت کے تمام تر خرابیوں اور برائیوں کا خاتمہ بھی کیا جا سکتا ہے، مالی اور اقتصادی حالات سدھارنے کے ساتھ ساتھ سیاست میں کھوئے ہوئے عزت وقار کو دوبارہ حاصل بھی جاسکتی ہے.
ہاں! یہ بات بالکل درست ہے کہ موجودہ سیاست بلاشبہ گندے لوگوں کے ہاتھوں کا میل بن چکا ہے لیکن جب تک کچھ صاف ستھرے لوگ اس گندگی کو صاف کرنے کے لئے قدم نہیں اٹھائیں گے تب تک اس گندگی میں  دن بدن اضافہ ہی ہوتا رہے گا، اسی لئے دانشمندی اسی میں ہے کہ سیاست کو ان ناپاک اور ظالم و جابر ہاتھوں سے چھیننے کی بھر پور کوشش کی جائے – کیونکہ حدیث کی مشہور کتاب ابوداؤد شریف میں ہے (ان الناس إذ رأوأ الظالم فلم يأخذوا على يديه، او شك ان يعمّهم الله بعقابه)، اگر لوگ ظالم کو دیکھ کر اس کا ہاتھ نہ پکڑیں تو کچھ بعید نہیں کہ اللہ تعالٰی ان سب پر اپنا عذاب عام نازل فرمائے!:- اس حدیث سے پتہ چلتا ہے کہ اگر آپ ماتھے کے نظروں سے ملاحظہ کر رہے ہیں کہ ظلم ہو رہا ہے اور سیاست میں حصہ لے کر اس ظلم کو روکنے کی قوت ہے تو آپ پر لازم ہے کہ گونگے، بہر اور اندھے بننے کے بجائے اس کو روکنے کی بھرپور کوشش کریں-.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے