مضامین و مقالات

رازداری کی اہمیت اور ہمارا معاشرہ

ازقلم: غلام مصطفےٰ نعیمی

مسلمانوں کے زوال میں بہت سارے اسباب وعوامل شامل ہیں۔جن میں ایک بڑا سبب رازداری سے غفلت برتنا بھی ہے۔جس کی بنا پر ہمارے انفرادی اور اجتماعی دونوں طرح کے کام متاثر ہوتے آئے ہیں۔رازداری کی اہمیت نہ سمجھنے اور اس کی حفاظت نہ کرنے کی بنا پر ہمارے زیادہ تر کام ابتدا ہی میں ناکام ہوجاتے ہیں جس کی وجہ سے دورِ زوال لگاتار بڑھتا ہی جارہا ہے۔ویسے تو غور وفکر کا عمل دورِ عروج میں بھی جاری رہنا چاہیے تاکہ زوال کو راہ نہ ملے، مگر زمانہ زوال میں اسبابِ زوال کی نشان دہی اور انہیں دور کرنے کی غور وفکر کرنا از حد ضروری ہے تاکہ زوال کی تاریکی ختم ہو اور عروج کا سورج طلوع ہو۔

رازداری کی اہمیت
راز کی حفاظت کسی بھی انسان/سماج اور قوم کی سب سے بڑی طاقت ہوا کرتی ہے۔رسول کریم ﷺ ایک مثالی معاشرہ تشکیل دینے کے لیے تشریف لائے تھے اس لیے آپ نے اس محاذ پر بھی امت کی بہترین رہنمائی فرمائی ہے، راز کی اہمیت بیان کرتے ہوئے آپ ارشاد فرماتے ہیں:
إذا حدث الرجل الحديث ثم التفت فهي أمانة.(سنن ترمذی رقم الحدیث1959)

"جب تم میں سے کوئی آدمی بات بیان کرے پھر(اسے راز میں رکھنے کے لئے) دائیں بائیں دیکھے تو وہ بات تمہارے پاس امانت ہے۔”

دوسرے مقام پر یوں فرماتے ہیں:
استعينوا على قضاء حوائجكم بالكتمان فإن كل ذي نعمة محسود.
(رواہ الطبرانی فی الصحیح:943)

لوگوں سے چھپا کر اپنے مقاصد کی کامیابی پر مدد طلب کرو کیوں کہ ہر نعمت والا حسد کیا جاتا ہے۔

مذکورہ روایات میں دو اہم نکتوں کی نشان دہی کی گئی ہے؛
1- راز امانت ہے۔
2- رازداری کامیابی کی بنیاد ہے۔

پہلی روایت کا تعلق انسانوں کے اس طبقے سے ہے جس کا اپنا تو کوئی راز نہیں ہوتا لیکن اس پر اعتماد کرتے ہوئے اسے راز میں شریک کر لیا جاتا ہے۔اس انسان کی ذمہ داری ہے کہ وہ راز کو امانت سمجھے اور کسی طرح کی خیانت نہ کرے اگر خیانت کی تو دنیا میں اپنا بھرم کھوئے گا اور آخرت میں اللہ کو جواب دہ ہوگا۔
دوسری روایت کا تعلق ان انسانوں سے ہے جو کسی اہم کام کی تکمیل میں جٹے ہیں، انہیں حکم دیا گیا کہ وہ اپنے بنیادی مقاصد کو ہر کس وناکس سے کہتے نہ پھریں بلکہ بہ کمال حکمت مقاصد کو پوشیدہ رکھیں، پھر لوگوں سے مقاصد کے حصول کے لیے مدد طلب کریں، کہیں ایسا نہ ہو کہ مقاصد ظاہر ہوجانے سے سب کچھ ابتدا میں ہی ختم ہوجائے۔

انسانوں میں دو بنیادی طبقے پائے جاتے ہیں:
1- کام کرنے والے
2- کام نہ کرنے والے

رسول کریم ﷺ نے کام کرنے والوں کو حکم دیا کہ مقاصد کی کامیابی تک رازداری کا خصوصی اہتمام کریں، اس دوران دیگر افراد کی ضرورت پیش آئے تو ان پر ایک دم مقاصد ظاہر نہ کریں بلکہ پوشیدہ رکھیں تاکہ کامیابی کی راہ میں مشکلات نہ آئیں۔

کام نہ کرنے والوں میں دو طرح کے لوگ ہو سکتے ہیں:
1- موافقت کرنے والے۔
2- مخالفت کرنے والے۔

مخالف تو خارج از بحث ہے، اسے تو سرے سے کسی راز میں شامل ہی نہ کیا جائے ہاں جس سے حمایت کی امید ہے اسے رسول کریم ﷺ نے امانت کا پابند بنایا ہے کہ جب وہ کسی راز میں شریک ہوجائے تو بہر صورت راز کی حفاظت کرے اگر ایسا نہ کیا تو وہ قیامت کے دن خیانت کرنے والوں میں شمار کیا جائے گا۔

رازداری کی تربیت
رازداری کی اہمیت پر نبی اکرم ﷺ کی تربیت وحکمت کا اندازہ حضرت انس رضی اللہ عنہ کی اس روایت سے لگائیں، فرماتے ہیں:
أَتَى عَلَيَّ رَسُولُ اللهِ ﷺ، وَأَنَا أَلْعَبُ مَعَ الْغِلْمَانِ، قَالَ: فَسَلَّمَ عَلَيْنَا، فَبَعَثَنِي إِلَى حَاجَةٍ، فَأَبْطَأْتُ عَلَى أُمِّي، فَلَمَّا جِئْتُ قَالَتْ: مَا حَبَسَكَ؟ قُلْتُ بَعَثَنِي رَسُولُ اللهِ ﷺ لِحَاجَةٍ، قَالَتْ: مَا حَاجَتُهُ؟ قُلْتُ: إِنَّهَا سِرٌّ، قَالَتْ: لَا تُحَدِّثَنَّ بِسِرِّ رَسُولِ اللهِ ﷺ أَحَدًا۔
(صحيح مسلم رقم الحديث 6378)

حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: رسول اللہ ﷺ میرے پاس تشریف لائے اس وقت میں لڑکوں کے ساتھ کھیل رہا تھا۔آپ نے ہم سب کو سلام کیا اور مجھے کسی کام کے لیے بھیج دیا تو میں اپنی والدہ کے پاس تاخیر سے پہنچا ، جب میں گھر پہنچا تو والدہ نے پوچھا تمھیں دیر کیوں ہوئی؟ میں نے کہا مجھے رسول اللہﷺ نے کسی کام سے بھیجا تھا۔انھوں نے پوچھا، وہ کام کیا تھا؟ میں نے کہا وہ ایک راز ہے۔میری والدہ نے کہا تم رسول اللہﷺ کا راز کسی پر ظاہر نہ کرنا۔

اس روایت میں کئی چیزیں غور طلب ہیں جو مجموعی طور پر ہمارے لیے تربیت وحکمت کا بہترین خزانہ ہیں:
کھیل میں مشغول بچوں سے حضور ﷺ خود سلام میں پہل فرماتے ہیں۔
حضرت انس بچے ہونے کے باوجود اتنے معتمد تھے کہ حضور نے انہیں کو کام سے بھیجا۔ یہ اعتماد بلا وجہ نہیں ہوگا یقینی طور پر حضرت انس حضور کی تربیت میں ہونے کے باعث درجہ اعتماد کو پہنچے ہوں گے۔
نو عمری کے باوجود حضرت انس تربیت رسالت کے باعث اتنے پختہ ہوچکے تھے کہ والدہ کو بھی راز نہیں بتایا۔

حضرت انس کی رازداری کا اندازہ اس سے بھی لگائیں کہ آپ نے حضرت ثابت سے یہ روایت بیان کرتے ہوئے فرمایا:
وَاللهِ لَوْ حَدَّثْتُ بِهِ أَحَدًا لَحَدَّثْتُكَ يَا ثَابِتُ۔( ایضاً)

اے ثابت! اللہ کی قسم اگر میں وہ راز کسی کو بتاتا تو تمہیں ضرور بتاتا۔

یعنی حضرت انس نے بچپن کے راز کی حفاظت اخیر عمر تک فرمائی، اس طرز عمل سے آپ اندازہ لگائیں کہ رسول پاک ﷺ نے اپنے صحابہ کی کیسی تربیت فرمائی اور رازداری کے تعلق سے صحابہ کرام کا مزاج ومنہج کیسا تھا۔

ہمارا رویہ
رازداری کے معاملے میں قوم مسلم نہایت کمزور اور حد درجہ لاپرواہ ہوگئی ہے۔انفرادی معاملہ ہو کہ اجتماعی، رازداری کا تصور ختم سا ہوگیا ہے۔ اس غفلت میں اوپر مذکور دونوں ہی طبقے شامل ہیں۔انسان خود اپنے راز کی حفاظت میں کمزور ثابت ہوتا ہے اور جسے راز میں شامل کیا جاتا ہے وہ پہلے والے سے چار ہاتھ آگے نکلتا ہے۔اسی بنا پر معاشرے کے انفرادی اور اجتماعی معاملات مسلسل بے سمتی کے شکار ہیں۔ انفرادی معاملات میں لاپرواہی کا یہ عالم ہے کہ میاں بیوی اپنے ذاتی تعلقات کے راز اپنے دوستوں اور سہیلیوں کو فخریہ اور مزے لے لے کر سناتے ہیں جب کہ یہ کام غفلت کے ساتھ ساتھ اعلی درجے کی بے غیرتی اور بے حیائی بھی ہے۔ لیکن جہاں رازداری کا سرے سے کوئی تصور ہی نہ ہو وہاں غیرت کا احساس پیدا بھی کیوں اور کہاں سے ہو؟

ایک شخص مجبوری میں کسی قریبی سے قرض طلب کرتا ہے، قرض تو کیا ملتا الٹے اس کی معاشی تنگ دستی کا راز سارے زمانے کو پتا چل جاتا ہے۔

ایک انسان کسی کو اپنا خیر خواہ سمجھ کر اپنے بیٹے/بیٹی کو کسی برائی سے روکنے کی گزارش کرتا ہے، اب تک اس کے بچے/بچیوں کے عیب پوشیدہ ہوتے ہیں مگر خیر خواہ سے کہتے ہی سارے رشتہ دار ان بچوں کے عیبوں سے واقف ہوجاتے ہیں۔

مذکورہ مثالیں معاشرے کی پوری سچائی بیان کر دیتی ہیں۔انفرادی سطح پر ہمارے یہاں رازداری گزرے دنوں کی بات ہوتی جارہی ہے جس کی بنا پر سگے رشتے ناطوں میں ہر وقت بے اعتباری کا ماحول بنا رہتا ہے۔کان پر ہوا بھی سرسرا جائے تو کسی رشتہ دار کی کرتوت معلوم ہوتی ہے۔

رازداری کے معاملے میں اجتماعی امور میں بھی بلا کی لاپرواہی اور غفلت پائی جاتی ہے۔ جس کی وجہ سے ہمارے اجتماعی امور تنظیم وتحریک ہو کہ دیگر معاملات، شروع ہوتے ہی ختم ہونے لگتے ہیں۔ ہر کام کی ابتدا ڈھول نگاڑے پیٹ کر کی جاتی ہے۔اسٹیج سجا کر تنظیمیں اپنے مقاصد بیان کرتی ہیں۔ میڈیا والوں کو بلا کر سارا منصوبہ اور طریقہ کار بڑی تفصیل سے بتایا جاتا ہے، اس طرح آغاز سے پہلے ہی ایک ایک بات پوری دنیا کے سامنے آجاتی ہے اور کچھ ہی دنوں میں تنظیمات وتحریکات لیٹر ہیڈ تک سمٹ جاتی ہیں۔اس لیے گذشتہ 70 سالوں میں ہماری سیکڑوں تنظیمیں بنیں اور نسیاً منسیاً ہوگئیں۔رازداری نہ برتنے کی وجہ سے اجتماعی معاملات جہاں سے شروع ہوئے اس سے چار قدم پیچھے پہنچ گئے۔سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں:
سرك أسيرك فإذا تكلمت به صرت أسيره،
(ادب الدنیا والدین، للماوردی)

تمہارا راز تمہارا قیدی ہے اگر تم نے اسے ظاہر کردیا تو اب تم راز کے قیدی ہو۔

حضرت عمر بن عبدالعزیز کا قول ہے؛
القلوب أوعية ألاسرار، والشفاه أقفالها، والألسن مفاتيحها، فليحفظ كل امرى مفتاح سره.
(ادب الدنیا والدین للماوردی)

دل رازوں کا برتن ہے، دونوں ہونٹ اس کا تالا ہیں اور زبان اس کی کنجی ہے۔لہذا ہر انسان اپنے راز کی حفاظت کرے۔

ہمارے اسلاف نے راز کی حفاظت اور رازداری برتنے کی کس قدر تاکید فرمائی ہے مگر ہمارا مزاج ایسا بن گیا ہے کہ ہماری تنظیمیں پہلے دن ہی اپنے راز ظاہر کرکے سب کی نگاہوں میں بھی آجاتی ہیں اور کامیابی کا راستہ بھی ہماری پہنچ سے دور ہوجاتا ہے جو تمام تر کوششوں کے بعد بھی ہماری پکڑ میں نہیں آتا۔

کیا ان سے کچھ سیکھیں گے؟
پچھلے مہینے (8جولائی 2021) کو بھارت کی سب سے بڑی اور طاقت ور تنظیم آر ایس ایس نے مستقبل کے چلینج اور موجودہ مشکلات کے حل کے لیے پانچ روزہ میٹنگ منعقد کی۔میٹنگ کی رازداری بنائے رکھنے کے لیے اسے دلّی سے سات سو کلومیٹر دور چترکوٹ (ایم پی) میں منعقد کیا۔دلی وممبئ جیسے شہر میں رازداری نہایت مشکل تھی اس لیے نہایت خاموشی کے ساتھ ایک آشرم میں یہ مجلس منعقد ہوئی۔آر ایس ایس نے اتنے پر ہی اکتفا نہیں کیا بلکہ 13 کلومیٹر پہلے سے ہی بیرونی افراد کے لیے داخلہ بند کرا دیا تاکہ کوئی جاسوس صحافی بھی کسی صورت وہاں نہ پہنچ سکے۔

ذرا سوچیں اور ٹھنڈے دماغ سے سوچیں!
اس وقت مرکز سمیت اکثر ریاستوں میں ان کی حکومت ہے۔ایوان صدر سے ضلع انتظامیہ تک ان کا رسوخ ہے، پھر بھی وہ اس قدر رازداری کیوں برتتے ہیں؟
شاید کوئی خطرناک منصوبہ ہو۔
زیادہ تر لوگ یہی جواب دیں گے، لیکن اگر وہ کھلے عام بھی ایسا منصوبہ بنائیں تو انہیں کون روک سکتا ہے؟

آئے دن ان کے کارکنان اقلیت مخالف بیانات دیتے رہتے ہیں، دستور ہند بدلنے کی بات کرتے ہیں، مسلم کو لڑکیوں کو اٹھانے اور مسلمانوں کو جبراً ہندو بنانے کی بات کرتے رہتے ہیں، کیا قانون وانتظامیہ نے انہیں روکا؟
تو آر ایس ایس بھی کھلے عام ایسا منصوبہ بیان کردے تو کون روک سکتا ہے؟

صحیح بات یہ ہے کہ وہ ایک بیدار اور حقیقت پسند تنظیم ہے وہ جانتے ہیں کہ راز جتنا کم لوگوں کے درمیان رہے کامیابی کے امکان اتنے ہی زیادہ ہوتے ہیں راز جب آؤٹ ہوجائے تو تعداد یا طاقت بھی اسے کامیاب نہیں بنا سکتی کیوں کہ مقابل دفاعی تیاری شروع کر دیتا ہے، بس اسی بنیادی نکتے کے مد نظر آر ایس ایس نے رازداری کا اتنا اہتمام کیا۔

غور کرنے کا مقام ہے کہ جس قوم کے پاس اقتدار کی طاقت ہے وہ بنیادی اصولوں کا کتنا خیال رکھتی ہے اور ایک ہم ہیں جو ملک کی سب سے پس ماندہ اور کمزور قوم ہیں لیکن ہمارے تنظیمی اجلاس اس انداز میں ہوتے ہیں مانو ہم دور مغل میں جی رہے ہوں۔وقت رہتے ہمیں اپنے رویوں اور طریقہ کار میں تبدیلی لانے کی سخت ضرورت ہے تاکہ زوال کا دور ختم ہو اور ہم پھر سے عظمت رفتہ حاصل کر سکیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے