مذہبی مضامین

ملت ساز جلسوں کو کس نے آفت انگیز بنایا؟

تحریر: مشتاق نوری
۴؍نومبر ۲۰۲۱ء

آج کل جلسے جلوس کی محفل گرم کرنے کے لیے پیر حضرات اپنی ٹولی و ڈولی لے کر، نعت خواں حضرات تان سین والے ساز باز لے کر، مقررین خطابی گھنگرج کے شمع خراش طنبورے لے کر نکل پڑے ہیں۔ان لوگوں کی کمائی کا سیزن اوپن ہوچکا ہے۔لاک ڈاون کے بعد یہ جلسہ مارکٹ ایک بار پھر سے چالو ہوچکا ہے۔یہ الگ بات ہے کہ ائمہ و مدرسین کی تنخواہ مہینہ پر تو کجا، ڈیڑھ دو مہینے کے بعد ملنے کا محض بھروسہ جتایا جاتا ہے مگر پیر صاحب یا کسی مشہور بازاری خطیب کے لیے پہلے سے لاکھ ڈیڑھ لاکھ مختص کر کے ان کی تاریخ کا انتظار کیا جاتا ہے۔اس قوم کی تباہی کے لیے اتنی سوچ ہی کافی ہے۔

ایک دو زخم نہیں، جسم ہے سارا چھلنی
درد بے چارہ پریشاں ہے کہاں سے نکلے

اسی ۲۰ نومبر کو میرے گانوں سے ۱۳؍کیلو میٹر دوری پر ایک بڑا جلسہ ہے۔جس میں ایک مشہور خطیب صاحب تشریف لا رہے ہیں۔اتفاق اسی تاریخ میں میری پہل پر میری بستی کے لڑکوں نے بھی جلسہ ٹھان لیا ہے۔اسی مذکورہ خطیب سے میں نے رابطہ کیا۔تو کہنے لگے ٹھیک ہے پہلی تقریر وہاں ہوگی۔آپ گاڑی لے کر پہنچ جائیں پھر دوسری تقریر آپ کے جلسے میں۔میں خوش گمان تھا کہ حضرت ایک ہی رات میں دو جلسے میں خطاب کریں گے تو مجھے کم نذرانہ چکانا پڑے گا۔مگر یہ گمان بس گمان ہی تھا۔میں نے سہمے لہجے میں نذرانہ پوچھ لیا تو ۲۲ ہزار سے شروع ہو کر اٹھارہ ہزار پہ گرہ لگا دیئے۔اتنے مول بھاؤ تو شاید سبزی کی دکان پر بھی نہیں ہوتے۔کہنے لگے کم نذرانے پہ پروگرام کرنے سے مارکٹ خراب ہوتا ہے۔پھر میں نے فون ڈسکنیکٹ کر دیا۔کیوں کہ ان کا نذرانہ میرے بجٹ سے بہت آگے کا تھا۔
میں نے ان سے اپنے جلسے کی کریٹیکل سچوئیشن شیئر کی کہ حضرت گانوں کے لڑکے کرکٹ میچ کے لیے پیسے جمع کر رہے تھے۔میری خاص ترغیب و توشیق پر جلسہ کے لیے تیار ہوۓ ہیں۔ورنہ وہ لوگ بھی یہی کہ رہے تھے کہ شاعر مقرر کی بڑی بڑی ڈیمانڈ ہم لوگ پوری نہیں کر پائیں گے۔میں نے یقین دلایا ہے کہ کم سے کم نذرانے میں خطبا شعرا کو بلوا دیتا ہوں تب جاکر کرکٹ کو جلسے میں تبدیل کیا گیا ہے۔اتنی رودادِ درد و آزار سنانے کے باوجود شیخ جی نہ مانے۔اپنی متعینہ فیس پر اٹل رہے۔

ابھی ایک صاحب ثروت کے ہاں ایک مہنگے پیر صاحب اپنی ٹولی و ڈولی کے ساتھ تشریف فرما تھے۔(یہ لوگ غریب مریدوں کو اس قابل نہیں سمجھتے کہ ان کے گھر بھی کبھی جایا جاۓ)کہا گیا کہ حضرت تریپورہ کے مسلمانوں کے لیے دعا فرما دیں۔عجب یہ کہ نہ انہیں تریپورہ کے سلگتے حالات کا علم تھا اور نہ ہی ان مسائل سے کوئی دلچسپی دکھی۔ دعا میں تریپورہ والوں کے لیے کوئی لفظ تک نہیں آیا۔
پھر بھی لوگ کہتے ہیں کہ تم پیروں کے مخالف ہو۔تم فلاں پیر کے باغی ہو۔تم دشمن شیخ ہو۔تم یہ ہو تم وہ ہو۔ارے صاحبان! بتا تو دیں کہ کس بنیاد پر پیروں کے قصیدے پڑھوں؟کس اینگل سے ان کے ہاتھ کو غوث اعظم کا ہاتھ مانوں؟ کس اختصاص پر ان کے دامن کو نجات اخروی کا ضامن سمجھوں؟نیک، مخلص و باعمل شیوخ کی آج اشد ضرورت ہے۔ان کی قدر، ان کا اکرام ملحوظ ہے۔اس پر کوئی حرف نہیں آ سکتا۔جو لوگ قوم و ملت کا درد رکھ کر ملی اصلاح کا کام کرتے ہیں، بندگان خدا کے قلوب و اذہان کے اندر روحانیت ڈالنے کے لیے واقعۃ حریص و محرض ہیں انہیں شیخ ہونا ہی چاہیے۔قوم انہیں سر آنکھوں پہ بتھاۓ تو تکلیف نہیں ہوگی۔ان کی توقیر سدا سلامت رہے گی۔کوئی بے رحم ناقد بھی ان کی مخالفت نہیں کر سکتا۔ان کی پگڑی کے اقبال کے لیے قلم کو زندہ باد و مبارک باد لکھنا ہی پڑے گا۔مگر قوم کے بھولے پن کا فائدہ اٹھانے والے جاہ طلب و زر اندوز لوگ بخشے بھی نہیں جائیں گے۔قلم کی آبرو بحال رکھنے کے لیے باضمیر لکھاریوں کو ان حضرات سے لڑائی مول لینی ہی پڑتی ہے۔

کچھ سمجھ کر ہی ہوا ہوں موج دریا کا حریف
ورنہ میں بھی جانتا ہوں عافیت ساحل میں ہے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے