شعیب رضا

ہر کلمہ گو مودت اہل بیت کا پابند ہے: سید محمد اشرف کچھوچھوی

نوتنواں بازار میں جشن عید میلادالنبیﷺ

نوتنواں بازار، 4 نومبر، ہماری آواز(سالک مصباحی)

نبیرہ سرکار کلاں، شہزادہ شیخ اعظم،مجدد تعلیمات اشرفیہ حضور اشرف ملت پیرطریقت حضرت علامہ سید شاہ محمد اشرف اشرفی جیلانی کچھوچھوی دامت برکاتہم آدرار انڈیاعلماومشائخ بورڈ کی جامعہ کا ملیہ مفتاح العلوم کولھو بازار ضلع مہراج گنج یوپی امد کے موقعے پر گورکھپور ایرپورٹ پر مولانا سالک مصباحی، اور شمیم اشرفی نے استقبال کیا، پہلے موہناپور میں جلوہ افروز ہوئے اور لوگ حلقہ ارادت میں داخل ہوئے، درجنوں نوجوانوں نے جھنڈے اوربینر کے ساتھ حضرت کا استقبال کیا، موہناپور سے جلوس کی شکل میں یہ کاروان کولھوئی بازار کی طرف روانہ ہوا، ہوہناپور سے کولھوئی بازار کا فاصلہ نو کیلومیٹر میٹر ہے، اس دوران نوجوان طرح طرح سے آل رسول سے اپنی عقیفت کااظہار کرتے رہے، نوجوانوں کے جوش و ولولے سے حضرت اشرف ملت بہت متاثر ہوئے، اور ڈھیر ساری دعائیں دی۔عصر کے بعد کولھو ئی بازار میں جلوس پہنچا، وہاں نماز مغرب کی امامت فرمائی اور طالبان حق وصداقت کو داخل سلسلہ فرمایا، اس کے بعد نوتنواں بازار کے لیے روانہ ہوگئے، جہاں سید افتخار احمد صاحب کے مکان پر قیام فرمایا، جو آپ کے عقیدت مندوں میں اہم مقام رکھتے ہیں، نماز علاقے بعد نوتنواں کے معروف تاجر جناب عبدالمجید انصاری مرحوم آرامشین والےکے گھرتشریف لے گئے، جن کے صاحب زادے عتیق احمد انصاری نے نئے مکان کے افتتاح کے لیے حضرت اشرف ملت کو دعوت زحمت د یا تھا، حضرت نے فیتاکاٹ کر مکان کاافتتاح کیااور خیروبرکت کی دعا فرمائی اور پھر مکان کی چھت پر منعقد محفل عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم میں تشریف لے گئے، الحمد للہ نوتنواں بازار کے اہل سنت کی بڑی تعداد شریک محفل رہی، اور بڑا ہی پر کیف پروگرام ہوا۔ نعت و منقبت کا خوبصورت سلسلہ چلتا رہا۔تلاوت کلام پاک کے بعد عزیز القدر جناب رفیق احمد انصاری نے اپنی خوبصورت آواز میں بارگاہ رسالت مآب میں نعت پاک کا ہدیہ پیش کیا۔
اس کے بعد تقاریر کا سلسلہ شروع ہوا۔ مولانا برکت حسین مصباحی، پرنسپل جامعہ کا ملیہ مفتاح العلوم کولھوئی بازارنے اپنے مفکرانہ خطاب میں کہا آل رسول کا مرتبہ کسی ایک مفتی یا مصنف کی وجہ سے نہیں پہچانا گیا بلکہ قرآن پاک میں اللہ جل شانہ نے ان کا مقام ومرتبہ بیان کیا ہے، درجنوں، سیکڑوں احادیث کریمہ میں اہل بیت رسالت کے مراتب بیان کیے گئے ہیں، چودہ دو سالوں میں لاکھوعلماومحدثین نے ال رسول کی تعظیم کی ہے، تعظیم اہل بیت اسلامی تاریخ کااہم حصہ ہے۔
معروف اسلامی اسکالر حضرت مولانامفتی صوفی مقبول احمد سالک مصباحی بانی و مہتمم جامعہ خواجہ قطب الدین بختیار کاکی، نئی دہلی نے کہا کہ خطہ مہراج گنج و نیپال کاتعلق سلسلہ اشرفیہ سے نہایت مضبوط رہاہے، اس علاقے میں بہ کثرت مشائخین کچھوچھہ مقدسہ کی آمدورفت رہی، انھوں نے اس علاقے کو اپنے خون جگر سے سینچاہے، جس میں پیر طریقت سید کمیل اشرف اشرفی جیلانی، پیر طریقت سید محمد اجمل حسین اشرفی جیلانی،پیرطریقت سید علی اشرف اشرفی جیلانی سرفہرست ہیں۔ اور اب مجدد تعلیمات اشرفیہ، نبیرہ سرکار کلاں، شہزادہ شیخ اعظم حضرت علامہ سید شاہ محمد اشرف اشرفی جیلانی کچھوچھوی صدرآل انڈیاعلماومشائخ بورڈ اور چیرمین ورلڈ صوفی فورم کی آمد آمد ہے، جوکام اگلوں نت ادھوراچھوڑ دیا تھا، اسے حضرت اشرف ملت پورا فرمارہے ہیں۔
حضور اشرف ملت کے خطاب نایاب سے قبل نوتنواں بازارکےمشہورہومیوپیتھی ڈاکٹر جناب نیاز احمد اعظمی نے تحت لفظ میں اپنا تازہ کلام پیش کیا، جس سے حکومت اشرف ملت کافی محظوظ ہوئے۔
بعدہ اشرف ملت رونق اسٹیج ہوئے، اورخطبہ مسنونہ کے بعد آیت مودت کواپنا موضوع سخن بنایا اور کہاکہ محبت میں ذات کا تصور باقی رہتاہے، جب کہ عشق میں ذات کا تصور ختم ہوجاتے، بندہ فنائیت کی منزل میں داخل ہوجاتاہے،اور مودت میں ذات کے ساتھ اختیار بھی ختم ہوجاتاہے، مومن اہل بیت سے مودت کرنے کا پابند ہے، انھوں نے کہا کہ تاریخ کے ہر دور میں اہل بیت پر ظلم ہوا، اس خصوص میں بنی امیہ کے ساتھ ساتھ بنی عباس بھی شریک ہیں، اشرف ملت نے اپنا درد دل بیان کرتے ہوئے کہا کہ تمام ائمہ فقہ عشاق اہل بیت تھے، امام اعظم کے لیے حضرت سید زید رضی باللہ عنہ تھے، ان کے استاذ حضرت امام جعفر صادق تھے، فقہ حنفی دراصل فقہ جعفریہ ہے۔
پروگرام میں سید افضال احمد, افتخار احمد، سید ابرار احمد، اشرفی، شمیم احمد اشرفی، وغیرہ موجود رہے۔ صلاۃ وسلام اور حضور اشرف ملت کی دعا پر مجلس کا اختتام ہوا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے