نبی کریمﷺ

عالم بشریت میں حضور اقدسﷺ حیاء و پاکیزگی میں سب سے بڑھ کر

حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کا قول و عمل تا قیام قیامت ہر انسان کے لئے حجت ہے، اسی لئے اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات مقدسہ کو ہر قسم کے انسانی عیوب سے پاک رکھا،اوراپنے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کے دامن کو ہر قسم کے عیوب سے پاک رکھتے ہوئے حیا کی ایسی بے مثال قوت عطا فرمائی کہ اس کی موجودگی میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات سے کسی ناپسندیدہ قول یا فعل کا صدور ناممکن ہوگیا۔حضوراقدس صلی اللہ علیہ وسلم عالم بشریت میں حیاء و پاکیزگی میں سب سے بڑھ کر اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اسماء صفاتی میں سے ایک اسم پاک الحیی یعنی سب سے زیادہ حیا والے بھی ہے۔

حضرت عبداللہ بن عمرؓ فرماتے ہیں کہ ایک موقع پر حضوراقدس صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک انصاری مسلمان کے قریب سے گذر ہوا جو اپنے بھائی کو بہت زیادہ شرم و حیا کے بارے میں نصیحت کررہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا،اسے اس کے حال پر چھوڑ دو، کیونکہ حیادراصل ایمان کاایک حصہ ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جہاں حیا کے بارے میں کئی بار تلقین فرمائی بذات خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم پیکر حیا تھے۔ حضوراقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے وصف حیا کے بارے میں خود قرآن نے فرمایا،بے شک نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس میں تکلیف ہوتی تھی وہ تو تمہارا لحاظ فرماتے تھے اور حق تعالیٰ،حق فرمانے میں حیا نہیں فرماتا۔ حضرت ابوسعید خدری فرماتے ہیں حضوراقدس صلی اللہ علیہ وسلم کنواری لڑکیوں سے بھی زیادہ حیا والے تھے اور جب آپ کسی بات کو ناپسند فرماتے تو چہرۂ اقدس پر اس سے ناراضگی کے آثار ظاہر ہوتے۔ حیا کے لغوی معنی وقار، سنجیدگی اور متانت کے ہیں،یہ بے شرمی اور بے حیائی کی ضد ہے اور اصطلاحی طور پر اس کا مطلب نفس کا کسی کام کے کرنے میں انقباص اور تنگی محسوس کرنا اور ملامت اور سزا کے ڈر سے اس کو نہ کرنا ہے۔ حضرت قاضی عیاض ؒ فرماتے ہیں حیا ایسی رقت کا نام ہے جو انسان کے چہرے پر اس وقت طاری ہوتی ہے جب کوئی ایسا فعل واقع ہو جس کی کراہت متوقع ہو یا جس فعل کے کرنے سے اس کا نہ کرنا بہتر ہو اور جس قول وفعل سے انسانی طبیعت ناپسندیدگی کا اظہار کرتی ہو اس سے اعراض کرنے کو چشم پوشی کہتے ہیں۔حیا کے نا ہونے کی بنا پر جو نقصانات ہوتے ہیں اس کا اندازہ حضوراقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان سے کیا جاسکتا ہے کہ فرمایا،جب تجھ میں حیا نہ رہے تو جو چاہے کرتا رہ۔اس کا مطلب ہے کہ کسی بھی برے کام سے روکنے کا جو واحد سبب ہے وہ شرم و حیا ہے، اور جب کسی میں شرم کا فقدان ہو جائے اور حیا باقی نہ رہے تو اب اس کا جو جی چاہے گا وہی کرے گااورجب انسان اپنی مرضی کا غلام بن جاتا ہے تو تباہی اس کا یقینی انجام بن جاتی ہے، اسی حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے حضوراقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب اللہ تعالیٰ کسی بندے کو ہلاک کرنا چاہے تواس سے شرم و حیا چھین لیتاہے۔ آج ہمارا معاشرہ اسلامی معاشرہ کی عکاسی کرنے کے بجائے مغربی تہذیب کو دلدادہ بنا ہو اہے،جوکچھ بھی حیا معمولات زندگی میں باقی رہ جاتی ہے اس کو بھی مختلف عنوانات سے ختم کرنے پر آمادہ ہیں۔ حضوراقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے جس بے حیائی و فحاشی کا خاتمہ فرماتے ہوئے پاکیزہ زندگی گذارنے کا سلیقہ عطا فرمایا،اسی محبوب رب کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کے امتی ہونے کے باوجود ہم روشن خیالی کے نام پر مغربی تہذیب کو اپناتے چلے جارہے ہیں۔مغربی استعمار کی کوشش یہی ہے کہ مسلمان اپنی شناخت سے دستبردار ہوجائیں اور شریعت کے قوانین کو بدل دیا جائے۔ یہی وہ وقت ہے جب ہمیں ہوش کے ناخن لینے چاہئیں اور اپنی آنکھوں پر سے آزادی اور ذہنوں پر سے غلامی کا پردہ ہٹا کر بے حیائی اور عریانی سے نکل کرحیا کا دامن تھام لینا چاہئے تاکہ ہماری نسلیں بھی حیادار ہوں۔

آج دشمن اپنے تمام وسائل کا استعمال کرتے ہوئے امت مسلمہ کو بے حیائی کی راہ پر چلانے میں مصروف ہے،جن کے بارے میں قرآن حکیم واضح طور پر فرمارہا ہے،وہ لوگ جو چاہتے ہیں کہ مسلمانوں میں بُرا چرچا پھیلے ان کے لیے دردناک عذاب ہے دنیا اور آخرت میں اور اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔اگر ہم نے ان فتنوں کو نہیں پہچانااور اس کے سد باب کی کوشش نہیں کی تو اس کا خمیازہ صدیوں تک نسلوں کو بھگتنا پڑے گا۔

از افادات: (مولانا) سید محمد علی قادری الہاشمی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے