جہان حضور شعیب الاولیاء

شعیب الاولیاء: شیداے اعلی حضرت

پورے عالم اسلام میں جن علماے اسلام کو شہرت اور مقبولیت حاصل ہوئی ان میں سیدنا اعلی حضرت امام احمدرضا بریلوی قدس سرہ (1272ھ/ 1856ء- 1340ھ/1921ء) کی شخصیت انوکھی اور نرالی ہے۔ خصوصا ہند وپاک کے بچے،بوڑھے،جوان،مرد اور عورت میں سے کون ہوگا جو سیدنا امام احمد رضا قدس سرہ کی ذات سے واقف نہ ہو؟
آپ کی اس شہرت عام اور مقبولیت تام کی متعدد وجوہات ہیں ،جن میں سے تین یہ ہیں.
علم:
سیدنا اعلی حضرت کے علوم کی پیمائش کے لیے ان علوم کو جاننے ،پڑھنے ،اور سمجھنے والا ہونا چاہیے۔ جب کہ موجودہ دور میں ان کے علوم کو کما حقہ سمجھنے والا کم از کم ہند وپاک میں نظر نہیں آتا.

کسی نے سچ کہا ہے

منار قصر رضا تو بلند کافی ہے
تم اس کے پہلے ہی زینے پہ چڑھ کے دکھلادو
فتاوی رضویہ تو اک کرامت ہے
ذرا حدائق بخشش ہی پڑھ کے دکھلا دو

اعلی حضرت قدس سرہ بحرالعلوم تھے،جس بحر کی تہہ تک کوئی غواص پہنچ سکا نہ کنارے تک کوئی ملاح۔ گویا اس میں گہرائی اور وسعت دونوں بے پناہ تھیں۔ سیدنا اعلی حضرت نے پوری زندگی جتنی روٹیاں نہ کھائی ہوں گی،ان سے زیادہ نئے موضوعات،جدید فقہی تحقیقات اور مختلف نادر علوم و فنون پر ان کی تصانیف اور فتاوے موجود ہیں۔ ہند و پاک کے ماہرین علوم و فنون مل جل کر بھی وہ کارنامے انجام نہیں دے سکتے جو سیدنا اعلی حضرت تن تنہا دے گئے۔
عشق رسول:
ایمان نام ہے نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم سے سچی محبت کا۔ علم تو ابلیس لعین کو بھی بہت زیادہ تھا،مگر حب نبی سے خالی تھا اس لیے خائب و خاسر ہوا۔
جب انسان دل میں محبت بساکر کوئی کام کرتا ہے تو کام میں اخلاص لازما پیدا ہوجاتا ہے۔وہی محبت جب عشق کا روپ دھار لے تو کام میں وہ نکھار پیدا ہوتا ہے جس کی نظیر زمانہ پیش نہیں کر سکتا۔ سیدنا امام احمد رضا قدس سرہ کے کارناموں کی چمک دمک پوری دنیائے سنیت کی آنکھوں کو خیرہ کررہی ہے۔اس کی ایک وجہ ان کا عشق رسول بھی ہے ،جو ان کے جسم میں خون کی طرح رواں تھا۔ ان کے اپنے اور بے گانے کے درمیان خط فاصل ناموس رسالت ہی تھا۔عشق رسول ان کےپڑھنے ،لکھنے،بولنےاور سوچنے کا محور تھا۔اس لیے دنیا انہیں عاشق رسول مانتی ہے۔
تقوی:
دل سے تصدیق کرنا ،زبان سے اقرار اور عمل بر ارکان ،ایمان کامل کے یہ عناصر ثلاثہ ہیں۔تصدیق و اقرار تو ایمان کی بنیاد ہیں۔ ارکان پر مکمل پوری پابندی کے ساتھ عمل کرنے کو عرف عام میں تقوی کہتے ہیں۔اس کے بغیر ایمان کامل نہیں۔مگر یہ سب کے بس کی بات بھی نہیں۔فضل خدا سے جن کے اندر کا عشق رسول جتنا پختہ ہوگا ،ان کے لیے ارکان پر عمل اتنا ہی آسان، مزے دار اور لذت بخش ہوگا ۔اور جب عمل میں لذت عشق شامل ہو جائے تو پھر کیا کہنا؟ پھر تو وہ دنیا میں جینا بھی چاہے گا تو اسی لذت کو پانے کے لیے۔سیدنا اعلی حضرت قدس سرہ نے اس لذت کو صرف پایا نہیں تھا بلکہ آپ لذت عشق میں ڈوبے ہوئے تھے۔اس لیے زندگی بھر خلاف سنت تو کیا خلاف اولی تک کوئی فعل آپ سے سرزد نہ ہوا۔
گویا اعلی حضرت قدس سرہ کا علم،ان کا تقوی اور عشق رسول تینوں نے ان کو "احمد رضا” سے” امام احمد رضا” اور”حضرت” سے” اعلی حضرت”تک پہونچا دیا
حضور شعیب الاولیا،شیخ المشائخ،خواجہ،صوفی شاہ محمد یار علی علیہ الرحمة والرضوان (1307ھ/ 1387ھ) کی زندگی کا مطالعہ کرنے سے یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہوجاتی ہے کہ آپ کو ان تینوں چیزوں کا وافر حصہ رب تعالی نے عطا فرمایا تھا۔
علم و فضل کی بات کریں تو آپ کا شمار زمانے کے چوٹی کے علما میں ہوتا تھا۔آپ عالم اور علما ساز تھے۔ بہ قول حضرت صاحب زادہ غلام عبد القادر رابع ،
"حضور مفتی اعظم ہند (1310ھ/1402ھ) کے بعد جتنے علما ومشائخ حضور شعیب الاولیا کے مرید تھے موجودہ(ان کےزمانے کے) مشائخ میں کسی کے اتنے مرید نہ تھے”۔یہ اس بات کی واضح دلیل ہے کہ آپ متبحر عالم دین،صوفی کامل تھے۔بلکہ کثیر علما کا آپ سے شرف بیعت رکھنا اس بات کا بھی ثبوت ہے کہ حضور مفتی اعظم ہند کے بعد سب سے بڑے متقی اور پرہیز گار بھی آپ تھے۔آپ پینتالیس سال تک سفر و حضر میں تکبیر اولی کے ساتھ نماز باجماعت کے پابند رہے کبھی تکبیر اولی تک فوت نہ ہو پائی۔اتباع شریعت میں آپ اپنے اقران میں منفرد تھے۔
اگر عشق رسول کی بات کریں تو اس میں بھی آپ لا ثانی نظر آتے ہیں ۔آپ نے دارالعلوم فیض الرسول کی بنیاد رکھی تو شیخ العلما حضرت علامہ غلام جیلانی اعظمی علیہ الرحمہ نے اس کا نام دارالعلوم یار علویہ رکھنے کا مشورہ دیا ۔مگر آپ نے نسبت رسول کو بنیاد بتا کر ان کے مشورہ کو قبول نہ فرمایا۔ عام روش سے ہٹ کر ادارہ اور خانقاہ کو خاندان و سلسلہ سے منسوب نہ کرکے نسبت رسول کو اہمیت دینا عشق رسول کی وجہ سے ہی ہے۔
خانقاہ ما رہرہ مطہرہ ضلع ایٹہ اور خانقاہ فیض الرسول براوں شریف دونوں خانقاہیں بڑی عظمت رکھتی ہیں ۔دونوں علم و فضل کے مالک ہیں ۔ اور نسبی فضیلت بھی رکھتے ہیں۔ مگر دونوں خانقاہوں نے مسلک اعلی حضرت امام احمد رضا قدس سرہ کو اپنا اوڑھنا،بچھونا بنا لیا ہے۔ دونوں کو اعلی حضرت سے عشق کی حد تک لگاو ہے۔ اس کی وجہ بھی عشق رسول ہے ۔ ناموس رسالت کے تحفظ میں اعلی حضرت نے قلم کو تلوار اور اپنے علم کو اس کی دھار بنا لیا تھا ۔یہ تلوار جب بھی چلی عظمت رسول کے دفاع میں چلی اور چلتی رہی۔
حضرت شعیب الاولیا کی اعلی حضرت سے ملاقات نہ تھی نہ ہی سلسلہ رضویہ سے بیعت رکھتے تھے۔ خود سادات سے تھے۔ اپنا نسبی فضل خوب جانتے تھے۔ اس کے باوجود وہ اعلی حضرت پر فدا تھے۔ آپ کی فدائیت کو دیکھ کرہی آپ کے قبہ مزار پر آپ کے نام کے ساتھ "شیدائے اعلی حضرت”لکھا گیا۔
عموما پیران طریقت اپنے مریدین و متوسلین کو اپنے طریق پر چلنے کی ہدایت کرتے ہیں۔ ہر خانقاہ کے رسوم و معمولات میں کچھ تفردات ہوئے ہیں،جو بسا اوقات بہ ظاہر فتاوی رضویہ سے میل نہیں کھاتے۔ مگر حضرت شعیب الاولیا اپنے مریدین متوسلین کو مسلک اعلی حضرت پر چلنے کی تلقین فرماتے ۔ خلفا کو اپنے مریدین سے مسلک اعلی حضرت پر چلنے کا عہد لینے کی وصیت فرماتے۔مسلک اعلی حضرت سے ہٹ کر آپ کے یہاں کسی رسم و دستور کی کوئی گنجائش نہ تھی۔ یہ سب امام اہل سنت اور مذہب اہل سنت دونوں سے سچی محبت کی واضح نشانیاں ہیں۔
اخیر میں ” شعیب الاولیا: ایک تعارف ". ( از حضرت صاحب زادہ غلام عبد القادر رابع)
سے کچھ تلخیصات پیش کرنے کی سعادت حاصل کرتاہوں،جن سے اعلی حضرت سے شعیب الاولیا کا عشق نمایا ہوتا ہے۔

آپ کھلم کھلا رد کو پسند فرماتے.

شیر بیشہ اہل سنت علامہ حشمت رضا خان علیہ الرحمہ (وفات1380ھ) کو ساتھ لے کر بستی بستی گھوم گھوم کر وعظ کرواتے اور یہ سلسلہ بر سوں تک جاری رہا.

شیر بیشہ اہل سنت جیسا متصلب فی الدین آپ کی ہمیشہ تعظیم فرماتے رہے.

حضور مفتی اعظم ہند نے آپ کو ” محب سنت مخلص مبلغ مذھب اہل سنت مسلک اعلی حضرت”. جیسے القاب سے یاد فرمایا.

حضور مفتی اعظم ہند نے مزید فرمایا
"رضویت کی اشاعت سنت کی ترویج کا جذبہ جو فیض الرسول میں پایا کہیں نا پایا”.

*. دستار فضیلت سے قبل فارغین سے حسام الحرمین پر دستخط لینے کا سلسلہ سب سے پہلے فیض الرسول براوں شریف میں آپ ہی نے شروع کروایا ۔ جس پر حضور مفتی اعظم ہند نے فرمایا
” یہ ایسی بے مثال چیز ہے جو اور مدارس تو اور خود مرکز اس ضروری امر کی طرف توجہ نہ کر سکا”

آپ نے اپنی ذاتی زمین کو خانقاہ فیض الرسول کے نام وقف کی تو اس زمین کو
” مسلمانان اہل سنت ہم عقیدہ اعلی حضرت امام احمد رضا کی ملکیت” قرار دیا.

خانقاہ فیض الرسول کے سجادہ نشیں کے لیے مستند عالم ہونے کے ساتھ اعلی حضرت امام احمد رضا بریلوی قدس سرہ کا ہم عقیدہ ہونا شرط قرار دیا ۔
*. سجادہ نشیں کا انتخاب چالیس آدمیوں کا وفد کرے ،جو علما صلحا کے ساتھ اعلی حضرت امام احمد رضا بریلوی قدس سرہ کا ہم عقیدہ ہو۔ یہ شرط آپ نےلگائی.

آپ نے اپنے بڑے فرزند حضرت صوفی شاہ محمد صدیق احمد علیہ الرحمہ کو اپنا جانشیں مقرر فرمایا۔ مگرساتھ میں یہ بھی لکھ دیا کہ میرے مقرر کردہ سجادہ نشیں میں کوئی مذہبی خرابی پیدا ہوجائے ،تو مجلس عاملہ اسے معزول کردے۔

مجلس عاملہ کے جملہ ارکان کا اعلی حضرت کا ہم عقیدہ ہو نا ضروری فرمایا.

1385ھ میں آپ نے ماہنامہ فیض الرسول کا اجرا فرمایا ،تو اس کے پہلے صفحہ پر اسے "مذہب اہل سنت کا تر جمان مسلک رضویت کا نقیب” قرار دیا۔

اہل سنت کی ہر تحریک میں آپ بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے رہے۔

مناظرہ بھدرسہ اڑیسہ کے مقدمہ کی پیروی کےلیے اپنی جیب خاص سے روپیہ صرف فرمایا اور شیر بیشہ اہل سنت کی بھر پور حمایت فرمائی۔
غرض کہ "شعیب الاولیا:ایک تعارف”مطالعہ کرنے کے بعد جی چاہتا ہے کہ براوں شریف کا دوسرا نام بریلی شریف اور دارا لعلوم فیض الرسول کا دوسرا نام دارالعلوم منظر اسلام رکھ دوں۔ اللہ تعالی حضور شعیب الاولیا کی نسل کو تا قیامت مسلک اعلی حضرت کا پاسبان بنائے آمین بجاہ النبی الکریم

تحریر: محمد شہروز کٹیہاری
موہنا چوکی، کدوا،کٹیہار بہار

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے