آہ! سرزمین اٹک کے مرید اقبال علامہ غلام فرید نقشبندی بھی نہ رہے

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

بسم اللہ الرحمن الرحیم
نحمدہ ونصلی ونسلم علی رسولہ النبی الامین صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ اجمعین

اس دنیا آب و گل میں حیات وممات کا سلسلہ نہایت تیزی سے جاری وساری ہے۔ خالق کائنات کے حکم سے نسل انسانی کی آب یاری اور پھر سفر آخرت پر تیاری ایک ایسی حقیقت ہے جس کا انکار کوئی دھریہ بھی نہیں کرسکا۔ اللہ تعالیٰ نے دنیا فانی میں اشرف المخلوقات میں سے گونا گوں انسانوں کو پیدا فرمایا جنہوں نے اپنی حیات مستعار میں اپنے فرائض منصبی کو کچھ اس انداز میں سرانجام دیا کہ آنے والی نسلیں بھی انہیں خراج تحسین پیش کرتی ہیں اور ان کی قابلِ رشک زندگی جو سراپا بندگی ہوتی ہے اسے سلام عقیدت پیش کرتی ہیں۔۔۔۔ ایسی ہی نفوس قدسیہ میں سے علامہ غلام فرید نقشبندی رحمۃ اللہ علیہ کی شخصیت ہے۔۔ ابھی ابھی اس دل خراش اور روح فرسا خبر نے تڑپا کر رکھ دیا کہ آپ بھی اب اس فانی دنیا میں نہیں رہے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔
علامہ غلام فرید نقشبندی رحمۃ اللہ علیہ کا تعلق سرزمین اٹک سے ہے ‌ آپ کی ولادت باسعادت 1940ء میں اٹک کی تحصیل حسن ابدال کے مشہور قصبہ پوڑ میانہ میں ہوئی۔ آپ کی ابتدائی تعلیم وتربیت اپنے گاؤں میں ہوئی، 1959ء میں گورنمنٹ ہائی سکول حسن ابدال ( موجودہ ہائیر سیکنڈری ) سے میٹرک ، 1966ء میں فاضل فارسی اور 1967ء میں لاہور بورڈ سے ایف اے کا امتحان پاس کیا۔۔ بعد ازاں عربی اور علومِ اسلامیہ کی تکمیل فرمائی۔ پاکستان آرڈیننس فیکٹری واہ کینٹ میں ملازمت کی۔ آپ کو شروع میں لکھنے پڑھنے سے بالکل دلچسپی نہ تھی ۔ 1967ء میں آپ نے ترجمان حقیقت مصور پاکستان علامہ ڈاکٹر محمد اقبال رحمۃ اللہ علیہ کے مزار پر انوار پر حاضری دی تو آپ کی کایا پلٹ گئی، 1974ءمیں دوبارہ مزار اقبال پر حاضری دی،1993ء میں اپنے دفتر میں بیٹھے ہوئے تھے اچانک نیند آئی خواب میں علا اقبال رحمۃ اللہ علیہ کی زیارت ہوئی اور انہوں نے آپ سے فرمایا: قلم پکڑو،کاغذ اٹھاؤ اور لکھنا شروع کرو۔ پھر آپ کی عجیب و غریب کیفیت ہوئی۔ اشعار کی آمد ہوئی، اورصرف دو ہفتوں میں آپ کےدو شعری مجموعے تیار ہو گئے۔ پھر دیکھتے ہی دیکھتے آپ کے شعری مجموعوں کی تعداد چالیس سے بھی تجاوز کرگئی‌۔ آپ کی پہلی کتاب 2016ء میں شائع ہو کر سامنے آئی۔ اس کے بعدآپ کی مزید دوتین کتابیں شائع ہوئیں۔ ہنوز ابھی تک آپ کا ایک بڑا شعری ذخیرہ منتظر اشاعت ہے۔ آپ اقبال کے روحانی فرزند ہیں اور اسی لیے اپنے آپ کو”مرید اقبال”کہتے اور لکھتے بھی تھے۔ آپ کو علامہ اقبال رحمۃ اللہ علیہ سے بہت زیادہ عقیدت و محبت تھی۔ آپ نے افکار اقبال کو عام کرنے کے لئے نومبر 2014ء کو”مرید اقبال فاؤنڈیشن (انٹرنیشنل) پاکستان کا قیام عمل میں لایا ۔ آپ کے سارے کلام میں آمد ہی آمد ہے ‌ آورد نام کا ایک مصرع تک نظر نہیں آتا ‌ آپ نے عشق رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں ڈوب کر شاعری کی ہے جس پر آپ کا مطبوعہ نعتیہ دیوان”سدرہ سے آگے” شاھد و ناطق ہے ‌ امت مسلمہ کی زبوں حالی پر آپ خون کے آنسو روتے تھے اور پھر ان آنسوؤں کو شعروں کی صورت میں سلک مروارید کی طرح موتیوں میں پروتے تھے ۔آپ کے کلام سے یہ حقیقت طشت از بام ہوجاتی ہے کہ آپ کا علم وہبی اور کلام الہامی ہے۔ کلام میں عشق رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تڑپ اور صحابہ کرام، اہل بیت اطہار کی محبت ومؤدت اظہر من الشمس ہے ۔ محافظین ختم نبوت اور ناموسِ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے آپ کی محبت وعقیدت دیدنی ہے۔ تحریک لبیک یا رسول اللہ کے امیر المجاھدین علامہ حافظ خادم حسین رضوی رحمتہ اللہ علیہ کی جرآت واستقامت سے بہت زیادہ متاثر تھے۔ اس کا اظہار ان کی اس منقبت سے عیاں ہے جو آپ نے فقیر کی خواہش پر امیر المجاھدین رحمۃ اللہ علیہ کی شان میں لکھی ہے۔ یہ منقبت ماہ نامہ مجلہ الخاتم انٹر نیشنل کے امیر المجاھدین نمبر کے حصہ منظومات کی زیب و زینت بنی ہوئی ہے۔۔ المختصر آپ قافلۂ عشق ووفا کے راہی اور پیارے آقا و مولا حضرت احمد مجتبیٰ محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فدائی تھے۔۔ آج کل آپ احمد نگر واہ کینٹ میں رہائش پذیر تھے۔۔ آپ کے فرزند ارجمند شاھد قاسمی آپ کے جانشین اور علمی و روحانی وارث ہیں۔ آپ کی اچانک وفات حسرت آیات سے ہماری علمی و روحانی بزم ایک بار پھر سونی ہو گئی ہے ۔ اہل علم و قلم پریشان اور غمگین ہیں۔ اداس ہیں لیکن مرضی مولی از ہمہ اولی کے سامنے ہم سب کو راضی رہنا ہے اور یہ دکھ بھی سہنا ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے محبوب حضرت احمد مجتبیٰ محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے طفیل مرید اقبال علامہ غلام فرید خان رحمۃ اللہ علیہ کی بخشش فرما کر ان کے درجات بلند فرمائے اور پسماندگان کو صبر جمیل اور صبر جمیل پر اجر جزیل عطا فرمائے آمین ثم آمین بجاہ سید المرسلین خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وازواجہ وذریتہ واولیاء امتہ وعلما ملتہ اجمعین۔
شریک غم اور پر نم، دعا گو ودعا جو، گدائے کوئے مدینہ شریف، احقر سید صابر حسین شاہ بخاری قادری غفرلہ”خلیفۂ مجاز بریلی شریف”سرپرست اعلیٰ ماہ نامہ مجلہ الخاتم انٹر نیشنل، سرپرست اعلیٰ”ہماری آواز” مدیر اعلیٰ الحقیقہ، ادارہ فروغ افکار رضا و ختم نبوت اکیڈمی برھان شریف ضلع اٹک پنجاب پاکستان پوسٹ کوڈ نمبر 43710(2/ربیع الآخر 1443ھ(8/نومبر 2021ءبروز پیر بوقت 11:43دن)

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

About ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانب دار نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

Check Also

آہ! ترکی کے معروف عالم ربانی الشیخ محمود آفندی نقشبندی بھی داعی اجل کو لبیک کہہ گئے

سوگوار قلم: سید صابر حسین شاہ بخاری قادریبسم اللہ الرحمن الرحیم ، نحمدہ ونصلی ونسلم …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔