انتقال و تعزیت

ڈاکٹر شرر مصباحی صاحب کی رحلت علمی بزم کا عظیم نقصان

٢٩ ویں شبِ رمضان(شبِ اتوار) یہ روح فرسا خبر ملی کہ الجامعۃ الاشرفیہ مبارک پور کے رُکن مجلسِ شوریٰ حضرت مولانا ڈاکٹر فضل الرحمٰن شرر مصباحی (سابق پرنسپل کوٹھی طبیہ کالج دہلی) مبارک پور کی سرزمین پر رحلت فرما گئے- انا للہ وانا الیہ رٰجعون
ڈاکٹر موصوف ممتاز ناقد، محقق اور ادیب تھے- طبیب حاذق تھے- متعدد کتابوں کے مصنف تھے- حضور حافظ ملت کے شاگرد رشید تھے- ان کے دستر خوانِ علم کے خوشہ چیں تھے- الجامعۃ الاشرفیہ مبارک پور سے گہرا تعلق تھا، الجامعۃ الاشرفیہ کے لیے مخلصانہ فکر رکھتے تھے- چند سال قبل اسی سلسلے میں فون پر کافی دیر تک گفتگو کی- بعض ان عناصر سے متعلق بھی نقد و نظر کے موتی لٹائے جن سے مشنِ اعلیٰ حضرت سے روگردانی کا احساس ہوتا تھا- آپ فکرِ اعلیٰ حضرت سے بہت متاثر تھے- اسی لیے اگر کسی اپنے کو اس بارے میں منفی سوچ کا حامل پاتے، مضطرب ہو جاتے اور اس کی اصلاح کے متمنی ہوتے-
اعلیٰ حضرت کے مجموعہ کلام "حدائق بخشش” پر علمی کام کیا- بطورِ مقدمہ فنی تفہیم پر زبردست مقالہ قلم بند کیا جس میں علم عروض اور بحور پر اعلیٰ حضرت کے درک پر بھی روشنی ڈالی- یہ منفرد ایڈیشن متعدد بار دہلی و ممبئی سے چھپ چکا ہے- معارفِ رضا کراچی کے سالانہ مجلہ میں رضویات پر متعدد تحریریں مطبوع ہیں-
سال نامہ یادگارِ رضا احقر ہر سال بذریعۂ ڈاک بھیجتا- ملنے کی اطلاع دیتے- مضامین پر زبانی تاثرات کا اظہار فرماتے- مشورے دیتے- شفقت فرماتے- مطبوعات پر بھی روشنی ڈالتے- کام کے جہات اور نشانات متعین فرماتے- متعدد خطوط بھی اس ضمن میں ارسال فرمائے-
چند ماہ قبل کال آئی تو اہل سنت کے کئی قلم کاروں کی بابت گفتگو رہی- بعض ان محققین کا بھی ذکر ہوا جو اب علالت کے مرحلے سے گزر رہے ہیں- ڈاکٹر طلحہ برق رضوی کا نمبر طلب کیا- ان کے قلمی کام کا تذکرہ فرمایا-
انھیں اکثر اس بات کا شکوہ رہا کہ بعض اہلِ علم اعلیٰ حضرت کے انھیں پہلوؤں کی طرف متوجہ ہیں جن پر کافی کچھ کام ہو چکا ہے جب کہ ہزاروں پہلو تشنۂ تحقیق و منتظرِ تحقیق ہیں، بھانت بھانت خدمات کے نقوش پر بھی علمی کام کی ضرورت ہے- ایک بار فرمایا کہ اعلیٰ حضرت پر کام کے بکثرت پہلو ایسے ہیں جن کو اب تک اہلِ قلم نے چھوا بھی نہیں- سنجیدہ و تحقیقی کام کی ضرورت ہے- معیاری کام ہونا چاہیے- اعلیٰ حضرت کے علمی اثاثے پر تعمق نگاہ سے تحقیق کی ضرورت ہے- افسوس اس بات کا ہے کہ اکثر اسکالرز وہی باتیں لکھتے ہیں جو پہلے ہی لکھی جا چکی ہیں- حدائقِ بخشش پر بہت کام کیا جا سکتا ہے- جہتیں اور راہیں کشادہ ہیں- محنت و لگن سے کام کیا جائے-
راقم اپنی تحریریں انھیں واٹس ایپ کرتا- لفظ لفظ پڑھ جاتے- کبھی کبھی فون پر رائے مشورہ دیتے اور ذہن سازی کرتے- کبھی تاثرات بھی دیتے- راقم کو حیرت ہوتی کہ ڈاکٹر موصوف ایک ایک مقالہ بغور پڑھتے ہیں، پھر مضمون کے پہلوؤں کا جائزہ بھی لیتے ہیں- باریک سے باریک پہلوؤں پر تبصرہ کرتے ہیں- نکات اُجاگر کرتے ہیں-
ان کا تنقیدی شعور بڑا پختہ تھا- نافع تنقید وہی ہے جس سے فن پارہ میں نکھار آئے اور بزمِ تحقیق منور ہو جائے- ڈاکٹر صاحب کی تنقیدات بھی حسنِ فن کا اظہار ہوتیں- وہ متمنی تھے کہ نقد و نظر کے پیمانے آباد ہوں- اعلیٰ حضرت کی عدیم النظیر ادبی خدمات کی خوشبو سے جہانِ اہل سنت مہک مہک اُٹھے-
ایسے ناقد و ادیب اور محقق کا رُخصت ہونا بزمِ ادب کا بڑا نقصان ہے- اللّہ تعالیٰ! درجات بلند فرمائے اور پسماندگان کو صبرِ جمیل عطا فرمائے اور ان کے علمی کام کی کرنیں شعر و ادب کی وادیوں کو روشن روشن کر دیں- آمین

ازقلم: غلام مصطفیٰ رضوی
نوری مشن مالیگاؤں
٢٩ رمضان المبارک ١٤٤٣ھ
یکم مئی ٢٠٢٢ء

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے