نعت رسول

دفتر گل کا اگر ہوتا میسر کاغذ

ازقلم : محمد اشرفؔ رضا قادری

نعت لکھنے سے ہوا کیسا منور کاغذ
تم نے دیکھا ہے کہیں ایسا حسیں تر کاغذ

غیر معمولی بنا دیتی ہیں اس کو نعتیں
یوں تو بازار سے لاتا ہے سخنور کاغذ

وصفِ سرکار رقم کرنا ہے جبریل امیں
اپنے دفتر سے عطا کیجے اٹھاکر کاغذ

کرتا وصفِ کفِ پائے شہِ کونین رقم
دفتر گل کا اگر ہوتا میسر کاغذ

رب کے محبوب کی توصیف و ثنا ہو جس میں
دفتر دہر میں ہے سب سے وہ بہتر کاغذ

کلفتیں دور ہوئیں پائی جگر نے ٹھنڈک
رکھ لیا نامِ نبی لکھ کے جو دل پر کاغذ

جس پہ لکھا تھا کبھی دل سے درود اور سلام
کام آیا وہی اشرفؔ سرِ محشر کاغذ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے