نبی کریمﷺ

آدابِ بارگاہِ رسالت مآبﷺ(قسط نمبر 9)

از قلم : ابوحامد محمد شریف الحق رضوی ارشدی

باعثِ ایجادِ عالم ‘شہنشاہِ دوعالم ‘ حضور اقدس ‘ رحمتِ عالم ‘ نورِ مجسم ‘ شفیعِ معظم ‘ احمد مجتبیٰ ‘ محمد مصطفیٰ ‘ محمد رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم جب کسی کے حق میں کوئی فیصلہ فرمادیں تو پھر کسی کے لیے حکم عدولی کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہ جاتی –
آیۂ کریمہ
فلا وربك لايؤمنون حتی يحكموك فيما شجر بينهم ثم لايجدوا فی انفسهم حرجا مما فضيت ويسلموا تسليما
(پارہ ‘ 5/ سورۂ نساء ‘ رکوع ‘ 6/ آیت ‘ 65/
ترجمہ : تو اے محبوب تمہارے رب کی قسم وہ مسلمان نہ ہوں گے جب تک اپنے آپس کے جھگڑے میں تمہیں حاکم نہ بنائیں پھر جو کچھ تم فرمادو اپنے دلوں میں اس سے رکاوٹ نہ پائیں اور جی سے مان لیں –
(کنزالایمان)
معنی یہ ہیں کہ جب تک آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے فیصلے اور حکم کو صدق دل سے نہ مان لیں مسلمان نہیں ہوسکتے سبحان اللہ اس سے رسول کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی شانِ اقدس معلوم ہوتی ہے –
شانِ نزول :
پہاڑ سے آنے والا پانی جس سے باغوں میں آب رسانی کرتے ہیں اس میں ایک انصاری کا حضرت زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے جھگڑا ہوا معاملہ سیدعالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے حضور پیش کیا گیا حضور اقدس رحمت عالم نور مجسم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم فرمایا اے زبیر (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) تم اپنے باغ کو پانی دےکر اپنے پڑوسی کی طرف پانی چھوڑدو یہ انصاری کو گراں گزرا اور اس کی زبان سے یہ کلمہ نکلا کہ زبیر آپ کے پھوپھی زاد بھائی ہیں – باوجودیکہ فیصلہ میں حضرت زبیر کو انصاری کے ساتھ احسان کی ہدایت فرمائی گئی تھی لیکن انصاری نے اس کی قدر نہ کی تو حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے حضرت زبیر (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) کو حکم دیا کہ اپنے باغ کو سیراب کرکے پانی روک لو انصافًا قریب والا ہی پانی کا مستحق ہے اس پر یہ آیت نازل ہوئی –
(خزائن العرفان)
اصالتِ کل ‘ امامتِ کل ‘ سیادتِ کل ‘ امارتِ کل
حکومتِ کل ‘ ولایتِ کل ‘ خدا کے یہاں تمہارے لیے
(امام احمد رضا علیہ الرحمہ)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے