بند کامیاب یا ناکام؟

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

ازقلم: انصار احمد مصباحی
پمپری، پونہ۔ 9860664476

خوش گوار حیرت ہوتی ہے۔ نہ لاٹھیاں چلیں، نہ بندوقیں نکلیں، نہ اینٹیں پھینکی گئیں، نہ پولیس کے جبر کا سہارا لیا گیا، نہ ہی کسی طرح کی کوئی دھمکی دی گئی؛ اور گنجان آبادیون والی گلیاں بھی ”شہر خموشاں“ کے نمونے بن گئیں؛ کبھی نہ رکنے والی ممبئی کی رفتار ایک دم سی تھم گئی۔

پیسے نہیں پھینکے گئے، جاہ و حشمت کی لالچ نہیں دی گئی ، نہ ہی کسی مفاد کو پیش رو بنایا گیا، بس ایک فقیر کی صدا تھی، جس کی گونج نے ملک کی امیر ترین ریاست کو ہلاکر رکھ دیا۔ یہ کوئی سیاسی بند نہیں تھا، عاشق رسول ﷺ کی پکار تھی، ناموس رسالت پر لبیک کہنا تھا، نہ جانے کیسے آن کی آن میں ایک صداے صحرا، کروروں دلوں کی دھڑکن بن گئی۔ سچ ہے:
”دل سے جو بات نکلتی ہے، اثر رکھتی ہے“۔

پہلے صرف ممبئی بند کا اعلان کیا گیا تھا، دیکھتے دیکھتے ملک کی معاشی راجدھانی کے ساتھ بھیونڈی، ممبرا، پونہ، مالیگاوں، اورنگ آباد، ناسک، دھولیہ، جلگاؤں، جالنہ، بھساول، اکولہ اور مہاراشٹر کے کئی بڑے شہروں میں سناٹا چھایا رہا۔

بند سے کیا فائدے ہوئے؟

1۔ ملک کو باپ کی جاگیر سمجھنے والوں کو، ایک بار پھر یہ دکھا دیاگیا کہ بھارت کے سب سے زیادہ وفادار شہری مسلمان اپنے نبی ﷺ کی عزت و ناموس کے لئے، اپنے مسلم مظلوم بھائیوں کی داد رسی کے لئے، مذہبی تعلیمات کی حفاظت کے لئے اور اپنے محبوب وطن کی شان کی بقا کے لئے ، اپنے رہنماؤں کے ایک اشارے پر کچھ بھی کرگزرنے کو ہمیشہ تیار رہتے ہیں۔ مسلمانوں کا ”آئین ہند“ کی پاس داری کا خیال ہے کہ اپنے کندھوں پر ظلم و ستم کے اتنے بھاری بھرکم پہاڑ اٹھاکر بھی صبر کا دامن چھوٹنے نہیں پایا ہے۔
2۔ آزادی سے اب تک ”ملک کے سمویدھان“ کی سب سے زیادہ حفاظت مسلمانوں نے کی ہے۔
3۔ فرقہ پرستوں کو منہ توڑ جواب دیا گیا کہ اپنی ”ملک دشمن“ سیاست سے جلد باز آجائے ورنہ انھیں بہت جلد کھدیڑ کر کرسیوں سے زمین پر پٹک دیا جائے گا۔
4۔ اتحاد امت کی مثال قائم کی گئی۔ ملک کے مشرقی صوبے کے مسلمان یک طرفہ دنگوں کے شکار ہوئے، اور بندیں مغرب میں کی گئیں، مطلب صاف ہے۔ ؎
بنی آدم اعضاے یک دیگر اند
کہ در آفرینش ز یک جوہر اند

چوں عضوے بدرد آرد روزگار
دیگر عضوہا را نماند قرار

5۔ احساس دلانے کی کوشش کی گئی کہ آخر حکومت ایسا کیا کرتی ہے کہ پر امن شہری بار بار اپنے کار و بار بند کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔

اس موقع پر یہ کہنا کہ مکمل ایک سال تک لاک ڈاون کے بند سے ملک کا کچھ نہیں بگڑا، تو ایک دن کے بند سے کیا بگڑ جائے گا، احمقانہ معلوم ہوتا ہے۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ بند کچھ بگاڑنے کے لئے نہیں، انصاف مانگنے کے لئے کیے جاتے ہیں۔ جہاں تک اثر کی بات ہے تو اسے ایک مثال سے سمجھیے! اچانک ہونے والے حادثوں میں لوگوں کو گہری چوٹیں لگ جاتی ہیں اور وہ انھیں برداشت کر لیتا ہے ؛ لیکن اپنے ہاتھوں سے تھوڑی سی چمڑی بھی ادھیڑنے بولو تو بڑی تکلیف محسوس کرتا ہے۔

حکومت جتنی جلدی اپنے کرتوتوں پر نظر ثانی کرلے، اتنا ہی بہتر ہے۔ یہ بند ملک کے دوسرے مذہبی قائدین، پیران طریقت اور غیر بی جے پی ریاستوں کے وزرا کے لئے بھی تازیانہ عبرت ہے۔

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

About ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانب دار نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

Check Also

دینی آزمائش

تحریر: محمد توحید رضا علیمیخطیب مسجدرحیمیہ میسور روڈ جدید قبرستان، بنگلورمہتمم دارالعلوم حضرت نظام الدین …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔