منقبت

منقبت: کرم کی بھیک ہو مجھ کو عطا محبوب سبحانی

نتیجہ فکر : محمد جیش خان نوری امجدی مہراجگنج یوپی

ملا خلدِ بریں کا راستہ محبوبِ سبحانی
تمہارا نقشِ پا جب مل گیا محبوبِ سبحانی

بصد فرط و ادب میں آپ کی محفل سجاتا ہوں
کرم کی بھیک ہو مجھکو عطا محبوب سبحانی

کوٸی بیمار آیا گر ترے دربارِ اقدس میں
اسے تونے عطا کی ہے شفا محبوب سبحانی

مقدر پر وہ اپنے کیوں نہ نازاں ہو زمانے میں
ترا دیدار جس نے بھی کیا  محبوب سبحانی

جسے پینے سے ہوجائے مجھے دیدِ شہِ بطحا
پلا دیجے کوئی ایسی دوا محبوب سبحانی

کیے مردے کو زندہ، ڈوبی کشتی بھی نکالے ہیں
مری بگڑی بنا دیجے ذرا محبوب سبحانی

خدا کے فضل سے سرکار بطحا کی عنایت سے
ہیں واصف آپ کے کل اولیا محبوب سبحانی

خیال و فکرِ نوری کو عطا کردیں توانائی
لکھے یہ آپ کی مدحت سدا محبوب سبحانی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے