تحریر: انصار احمد مصباحی
رکن: جماعت رضاےمصطفٰی، اتر دیناج پور ، بنگال
کہتے ہیں: ”ہر کتے کا دن آتا ہے“۔ بھارت کی نا اہل سرکار نے ، امسال کچھ نا اہلوں کے گلوں میں ملک کے اعلا ترین اعزازات کے پٹے ڈال دیے ہیں۔ بس پھر کیا ہے، اب تو ان نوازش یافتگان کے پیر ہی زمین پر نہیں پڑ رہے ہیں۔ حدیث شریف میں درست فرمایا گیا ہے: ”نا اہل کو علم کی بات سکھانا، سور کے گلے میں موتیوں کا ہار پہنانا ہے“۔ یہاں اسی کتے پر ایک اور کہاوت بھی ہے کہ: ”کتے کو گھی ہضم نہیں ہوتا“ ۔ خیر، کتوں کو چھوڑ کے انسانوں کی بات کرتے ہیں۔
موجودہ سرکار نے کچھ نا اہلوں کو ، فقط اپنی خواہش سے بڑے بڑے اعزازات تفویض کر دیے ہیں۔ چند ماہ قبل جب نوبل انعامات کا اعلان کیا گیا تو ملک عزیز کے کئی لوگوں نے آواز اٹھائی کہ نوبل، ”ہندی اور ہندستانیوں“ سے عصبیت برت رہا ہے، وغیرہ ۔ کیا کسی نے غور کیا کہ خود بھارت میں ، تقسیم انعامات میں کون سا عدل فاروقی قائم کیا گیا! اپنی جان پر کھیل کر مریضوں کی جانیں بچانے والے ڈاکٹر کو برخاستگی کا منہ دیکھنا پڑا، بابری مسجد کے ملبے کی کدال پھاوڑے سے کھدائی کرنے والے کو، فلموں میں نوٹنکی کرنے والی کو ”پدم“ اوارڈ مل گئے۔ بات مولویوں کی کریں تو مودی حکومت کی تعریفوں کے پل باندھنے والے مولوی وحید الدین خان اور مودی جی کو ”امیر“ کا خطاب دینے والے ”کلب صاحب“ پر بھی اوارڈ مہربان ہوئے۔ بتادیں کہ دنیا کے 50 کرور لوگوں کو متاثر کرنے والی شخصیت ”ازہری میاں“ اور اصلاح معاشرہ میں دنیا بھر میں ایک شناخت رکھنے والی ذات ”شیخ الاسلام“ بھی اسی بھارت کے حصہ ہیں۔
اس اوارڈ سے سب سے زیادہ خوشی کنگنا رناوت کو ہوئی ہے۔ پدم اوارڈ کیا مل گیا، اب تو وہ پھولے نہیں سما رہی ہے۔ ”بندریا کو ملی ہلدی کی گرہ، پنساری بن بیٹھی“۔
آزادی 1947ء کا مزاق اڑانا کوئی معمولی بات نہیں۔ ایسا یا تو وہ شخص کرے گا، جو قانون کو اپنے گھر کی رکھیل سمجھے یا جو اتنا ان پڑھ ہو کہ ، اسے ، میڈیا کے شور شرابے کے سوا کچھ پتا ہی نہ ہو۔ کنگنا کا تعلق اسی دوسرے قبیلے سے ہے۔ کروروں بھارتیوں کے ساتھ کنگنا کے ساتھ بھی بڑی نا انصافی ہوئی ہے، اسے گودی میڈیا نے یہی بتایا ہے کہ 2014ء سے پہلے بھارت ، بھارت نہیں، جنگل تھا؛ انسان کی جگہ یہاں کتے بلیاں رہتے تھے؛ انصاف اور انسانیت نام کی کوئی چیز نہیں تھی۔ یہ تو کچھ نہیں، کنگنا کے تیور سے لگ رہا ہے وہ یہ بھی بولنے والی ہے کہ:
” 2014ء سے پہلے لوگ غاروں اور گوفاؤں میں رہتے تھے؛ انسان کے پاس پہننے کو کپڑے اور رہنے کو مکان نہیں تھے؛ درخت کی پتیاں کھاکر اور ندی نالے کے پانی پی کر گزارا کرتے تھے؛ بلکہ 2014ء سے پہلے تعلیم عام نہیں تھی، ملک میں لکھنے پڑھنے کا رواج نہیں تھا؛ پکے راستوں کی تعمیر نہیں ہوئی تھی، لوگ پہاڑوں اور پگ ڈنڈیوں سے پیدل سفر کرتے تھے، ملک کی ساری بڑی بڑی یونیورسٹیاں، کالجیز اور اسکول 2014ء کے بعد مودی سرکار نے بنوائیں ہیں“ وغیری۔ ان کا منہ ہے ، وہ بولیں، کون کیا بگاڑ سکتا ہے۔ ”جیسا دیس ویسا بھیس “۔
میں اس پر کوئی تبصرہ نہیں کرنا چاہتا۔ بس بچوں کی ایک مشہور کہانی کی طرف اشارہ کردینا چاہتا ہوں، جس میں ایک لومڑی نہ جانے کہاں سے، ایک رنگ بھرے ناد میں ڈوب کر آجاتی ہے، جنگل کے سارے جانور اس انوکھے رنگ کے جانور کو دیکھ کر خوف زدہ ہوجاتے ہیں اور اسے اپنا سردار بنالیتے ہیں۔ لومڑی کے اچھے دن آجاتے ہیں۔ دن گزرتا جاتا ہے۔ اتفاق سے ایک دن زور کی بارش ہوتی ہے۔ لومڑی اپنی اوقات سے بے خبر، بارش کا مزا لینے لگتی ہے۔ بارش کا پانی اس کے جھول کا خول اتار پھیکتا ہے۔ سارے جانور اسے دوڑا دوڑا کر، نہایت بے آبرو کرکے جنگل سے جلاوطن کردیتے ہیں۔ کہانی ختم۔
بارش آئے گی، سب کا رنگ کھلے گا، بس انتظار کیجیے!