سیاست و حالات حاضرہ

حبیب گنج اسٹیشن : حبیب میاں سے نظام شاہ کی بیوہ تک !!

تحریر: غلام مصطفےٰ نعیمی
روشن مستقبل دہلی

مسلمانوں سے اپنی "دیرینہ محبت” کا ثبوت دیتے ہوئے بی جے پی نے ایک بار پھر مسلم نام سے منسوب جگہ کو ہندو نام سے بدل دیا۔اس بار زعفرانی پارٹی کے نشانے پر بھوپال کا حبیب گنج ریلوے اسٹیشن آیا۔جسے ایک ہندو خاتون رانی کملا پتی کے نام سے تبدیل کردیا گیا۔اس طرح حبیب گنج اسٹیشن بھی بی جے پی کی "تہذیبی” مہم کی بھینٹ چڑھ گیا۔
مزے کی بات یہ ہے کہ بی جے پی اور اس سے وابستہ افراد چوڑے سینے کے ساتھ یہ دعویٰ کرتے نہیں تھکتے؛
"ہم دنیا کی سب سے زیادہ وسیع القلب قوم ہیں۔”

اپنی اسی وسیع القلبی کا مظاہرہ کرتے ہوئے یہ لوگ چن چن کر ایسے شہروں، محلوں، اداروں، سڑکوں اور اسٹیشنوں کے نام بدل ریے ہیں۔جن کے نام اسلام اور مسلمانوں کے نام پر رکھے ہوئے ہیں۔اس سے قبل یوپی کے مغل سرائے جنکشن کو دین دیال اپادھیائے کے نام سے بدلا گیا تھا۔اس وقت بی جے پی والے کہتے تھے کہ ہمیں مغلوں سے دقت ہے اس لیے مغل نام بدل رہے ہیں مگر ایسا تھا نہیں، اُنہیں اصل دقت مسلمانوں سے تھی اس لیے مسلم نام پر آباد شہر بھی جلد ہی ان کے نشانے پر آگیے۔تاریخی شہر الہ آباد کو پریاگ راج، فیض آباد کو ایودھیا بنا دیا گیا۔دلّی کا محمد پور گاؤں مادھو پور میں بدل دیا گیا۔شہروں سے جی نہیں بھرا تو محلوں اور چوک بازاروں تک آگیے، گورکھ پور کا اردو بازار، ہندی بازار اور محلہ علی نگر ہنومان نگر بنا دیا گیا۔آگرہ کا مغل میوزیم شواجی میوزیم میں تبدیل کردیا گیا۔معاملہ یہیں پر ختم نہیں ہوا، اس کے بعد باضابطہ انتظامی پروٹوکول کے مطابق کئی اور شہروں کے نام بدلنے کی سفارش حکومت سے کی گئ ہے۔جن میں علی گڑھ، سلطان پور، فیروزآباد، اورنگ آباد، کاس گنج اور مرادآباد جیسے شہر شامل ہیں۔ان شہروں اور محلوں کا قصور صرف اتنا ہے کہ وہ یہاں کی امن پسند اور بڑا دل رکھنے والی اکثریت کو مسلم سلطنت کی یاد دلاتے ہیں۔

_ حبیب میاں اور رانی کملا پتی

حبیب گنج ریلوے اسٹیشن جس زمین پر بنا ہوا ہے وہ بھوپال کے آخری نواب حمید اللہ کے بڑے بھتیجے نواب حبیب اللہ کی جاگیر ہوا کرتی تھی۔انہوں نے عوامی سہولت کی خاطر ریلوے اسٹیشن کے لیے اپنی ذاتی زمین بہ طور عطیہ دی تھی۔ان کی اسی فیاضی کی بنیاد پر اسٹیشن کو حبیب گنج نام دیا گیا۔تب سے لیکر آج تک یہ اسٹیشن اپنے محسن حبیب میاں کو خراج تحسین پیش کرتا آرہا ہے۔بی جےپی لیڈران کو اس نام کی چبھن تو کافی دنوں سے تھی مگر کہنے سے بچتے تھے لیکن لگاتار دوسری بار مرکز میں حکومت بنتے ہی سب اصلی رنگ میں آگیے اور اس طرح رانی کملا پتی کا نام آگے بڑھا کر حبیب میاں کے نام سے چھٹکارا حاصل کرلیا گیا۔مزے کی بات یہ ہے کہ حبیب میاں سے چھٹکارا پانے کے لیے جس خاتون کا نام استعمال کیا گیا ہے وہ بھلے ہی ایک ہندو باپ کرپال سنگھ کی بیٹی تھیں مگر ایک مسلم نواب نظام شاہ کی بیوی بھی تھیں۔

_رانی کملا پتی کا پس منظر

اورنگ زیب عالمگیر کے انتقال بعد مغل سلطنت کمزور پڑ گئی۔جس سے حوصلہ پاکر علاقائی امیروں نے بغاوت کرکے اپنی اپنی خود مختار ریاستیں بنا لیں، ایسی ہی ایک ریاست گِنّور گڑھ بھی تھی۔جو بھوپال سے قریب پچاس کلومیٹر دور آباد تھی۔اس زمانے میں بھوپال ایک چھوٹا سا گاؤں ہوا کرتا تھا۔یہ ریاست قریب 750 مواضعات پر مشتمل تھی۔اس ریاست کے حاکم نظام شاہ ہوا کرتے تھے۔رانی کملا پتی انہیں نظام شاہ کی ساتویں اور سب سے چھوٹی بیوی تھیں۔تاریخ دانوں کے مطابق رانی کملا پتی بے حد حسین وجمیل اور ذہین خاتون تھیں۔نظام شاہ کا بھتیجہ عالم شاہ لالچی اور حکومت کا حریص تھا اسی لالچ میں اس نے اپنے چچا کے کھانے میں زہر ملا دیا جس سے نظام شاہ کی موت ہوگئی۔شوہر کی موت کے بعد ان کی بیوہ رانی کملا پتی نے افغان سردار دوست محمد خان کو راکھی باندھ کر اپنا منہ بولا بھائی بنایا اور مدد طلب کی۔دوست محمد خان نے بھائی ہونے کا حق ادا کرتے ہوئے عالم شاہ کو جنگ میں قتل کیا۔تاریخ میں رانی کملا پتی اور دوست محمد خان کے مابین راکھی اور بہن بھائی والا رشتہ عوام خواص میں بہت مشہور ہے۔کچھ متعصب تاریخ نویسوں نے دوست محمد خان کو لالچی قرار دے کر ان کی کردار کشی کی کوشش بھی کی ہے مگر اکثر تاریخ دانوں نے اسے تسلیم نہیں کیا۔

__بی جےپی کا ادھورا داؤں

مسلمانوں کے تئیں بی جےپی کی پالیسی کھلی کتاب کی طرح ہے اس لیے حبیب گنج کا نام بدلنے پر کسی کو حیرت نہیں ہوئی۔کیوں کہ اُنہیں رانی کملا پتی کو خراج عقیدت ہی پیش کرنا ہوتا تو ملک کے کسی بھی اسٹیشن کا نام بدلا جاسکتا تھا۔مگر بی جے پی کی ہر حصول یابی مسلم تہذیب کی بھینٹ پر ہی تعمیر ہوتی ہے۔
ہاں! مزے دار بات یہ رہی کہ اس بار مسلم نام بدلنے کے لیے انہیں جو نام ملا وہ ایک مسلم حاکم کی بیوی کا نکلا، اور وہ بھی پہلی دوسری نہیں بلکہ ان کی ساتویں نمبر کی بیوی کا!
اب یہ بات اپنے آپ میں کس قدر مضحکہ خیز ہے کہ جو بی جے پی اسلام کے تعدد ازواج پر پابندی کی بات کرتی ہے وہ ایسی خاتون کو خراج عقیدت پیش کر رہی ہے جو ایک مسلمان کے نکاح میں تھی اور اپنے شوہر کی ساتویں بیوی تھی۔
اس طرح کہا جاسکتا ہے کہ بی جے پی کی تنگ نظری سے بھلے ہی حبیب میاں قربان ہوگیے مگر ان کی قربانی رائگاں نہ گئی کہ ان کی جگہ ان کے "دادا” نظام شاہ کی اہلیہ کا نام آیا، یعنی پوتے کی جگہ دادی کا نام درج ہوگیا اور اسی بہانے بی جے پی کا دوہرا کردار بھی عوام کے سامنے بے نقاب ہوگیا۔

٩ ربیع الثانی ١٤٤٣ھ
15 نومبر 2021 بروز پیر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے