سیاست و حالات حاضرہ

تریپورا جل رہا ہے اور سیکولر خاموش ہیں

تحریر محمد زاہد علی مرکزی( کالپی شریف)
چئیرمین تحریک علمائے بندیل کھنڈ
رکن روشن مستقبل دہلی

1857 ء سے شروع کریے اور تاریخ کے ابواب الٹتے جائیے تاریخ کے ہر صفحے پر قوم مسلم کے خون کی لالی سیاہی پر غالب نظر آئے گی، ہر صفحہ آپ کو مسلمان ہونا یاد دلائے گا، ہر لفظ مثل نشتر آپ کے بدن کو چھلنی کرتا ہوا دکھے گا، ہنستا کھلیتا ملک پہلے انگریزوں نے تباہ کیا، دہلی سے لاہور تک لاشوں کے ڈھیر اور درختوں پر لٹکتے علمائے اسلام کے اجسام ہماری بربادی کی داستان سناتے دکھیں گے، حالات کچھ سازگار ہوتے ہیں تو 1920 ء کے آس پاس پھر مسلمانوں اور غیر مسلموں کے درمیان شدھی تحریک کے اثرات اور فسادات، شر انگیزی دکھے گی، کچھ اور آگے بڑھیے تقسیم وطن کے لئے ہونے والے فسادات دیکھیے اور اپنے مسلمان ہونے کا مطلب سمجھیے، آگے بڑھیے اور 1947ء کی آزادی اور تقسیم دیکھیے، لاکھوں مسلمان اس تقسیم میں لقمہ اجل بن گئے، اپنوں نے ہی اپنوں کو لوٹ لیا، برسوں کی محبتیں پل بھر میں تار تار ہوگئیں، گھر ہی نہیں جلے دل بھی جل گیے اور ساتھ ہی آنکھوں کا پانی بھی جل گیا –
لاکھوں مسلمانوں کی قربانی کے بعد سوچا تھا نئی صبح ہوگی، اپنوں کا درد بھلا دیا، ملک کی ترقی کے خواب بنے جانے لگے، نقصان طرفین کا تھا اگر چہ ہمارا تناسب ہمیشہ ہی زیادہ رہا، اس لیے دل کو بہلا لیا، خون کے آنسو پی لیے، لیکن کسے پتا تھا کہ مسلمان ہونے کی قیمت ہمیں رہتی دنیا تک چکانی ہے – یہی وجہ ہے کہ آزادی کے بعد بھی آئے دن چھوٹے موٹے فسادات اور ہر دو چار سال میں کوئی نہ کوئی بڑا فساد دیکھنے کو مل ہی جاتا ہے جو ہمیں یہ یاد دلانے کے لیے ہوتا ہے کہ تم مسلمان ہو اور ہم ہندو، تم اقلیت ہو اور ہم اکثریت، لہذا تم اپنے آپ کو اس ملک کا آزاد شہری مت سمجھنا، ان کے یہ نعرے "ہندوستان میں رہنا ہوگا تو رام رام کہنا ہوگا” جب ملے کاٹے جائیں گے تو رام رام چلائیں گے ” وغیرہ وغیرہ اسی ذہنیت کی اپج ہیں –

آسام اور تریپورا کے حالیہ فسادات کیا کہتے ہیں –

گزشتہ چند سالوں سے عمومی طور پر پرسکون رہنے والے علاقے شدت پسندوں کی نظروں میں ہیں اور چن چن کر انھیں علاقوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے کیونکہ وہ اس کا کامیاب تجربہ دیگر صوبوں میں کر چکے ہیں – موجودہ حکومت کے لیے لوک سبھا اور راجیہ سبھا میں اکثریت کا حصول اسی صورت ممکن ہوسکتا ہے جب سارا ہندوستان ان کے نظریے کا شکار ہو جائے ، اتر پردیش، مہاراشٹر، بہار ،مدھیہ پردیش، گجرات، راجستھان، آسام جیسے صوبوں میں شدت پسند پہلے ہی قابض ہیں اور خاصی پکڑ رکھتے ہیں، لیکن جنوبی ہند میں بھارت کے کچھ صوبے جیسے آندھرا پردیش، کرناٹک، کیرلا، تلنگانہ اور تمل ناڈو کے ساتھ ساتھ لکشدیپ اور پونڈیچری، شمال مشرقی بھارت (Northeast India) جس میں اروناچل پردیش، منی پور، میگھالیہ، میزورم، ناگالینڈ، تریپورہ اور ہمالیائی ریاست سکم وغیرہ ملک کے دیگر صوبوں میں تشدد پسند اپنے پیر جمانے کے لیے ہر وہ حربہ استعمال کر رہے ہیں جس سے موجودہ حکومت کو فائدہ ہو سکے – جنوبی اور شمال مشرقی بھارت زیادہ تر سرسبز علاقوں پر مشتمل ہے اور اس میں بے شمار قدرتی خطے موجود ہیں – جس طرح یہ علاقہ سر سبز و شاداب ہے اسی طرح ان علاقوں کے لوگ بھی سیدھے، خوش حال، ملنسار ہیں لیکن ان سبز وادیوں اور انکے باشندوں کو اب خوں آشام کیا جارہا ہے اور انھیں اس خونی بھیڑ میں تبدیل کیا جارہا ہے جو مذہب کے نام پر اپنی زندگیوں کو بھی تباہ کر لیں، دوسرے لفظوں میں انھیں "خود کش حملہ آور” بنائے جانے سے تعبیر کیا جاسکتا ہے –
ظاہر ہے اس ملک میں ہندو مسلم فسادات سے بڑھ کر گیم چینجر کوئی دوسری چیز نہیں ہو سکتی، سب سے جلد رزلٹ اسی کا آتا ہے اور سب سے کم سزا کا تناسب اسی میں دیکھا گیا ہے، صد فیصد رزلٹ دینے والا یہ نسخہ برسر اقتدار جماعت کے لیے آب حیات کی حیثیت رکھتا ہے، جہاں جہاں یہ نسخہ اپلائی کیا ہے وہاں کامیابی حاصل کی ہے، موجودہ فسادات بھی اسی کی ایک کڑی ہیں –

سیکولر لیڈر کہاں ہیں؟

تریپورا سے ملی اطلاعات کے مطابق اب تک سولہ مساجد میں توڑ پھوڑ کی گئی ہے کئی مساجد تقریباً شہید ہو گئ ہیں تو کئ کو شدید نقصان پہنچا ہے وہیں جانی مالی نقصان بھی بہت زیادہ ہے، ہزاروں لوگ نقل مکانی کر گئے ہیں، ہزاروں کی بھیڑ جلوس کی شکل میں حملے اور آگ زنی کر رہی اور آقا علیہ السلام کی شان میں نازیبا نعرے لگائے جارہے ہیں قریب دس دنوں سے یہ حملے جاری ہیں لیکن ملک کا الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا پوری طرح سے خاموش ہے جیسے کہیں کچھ ہوا ہی نہیں –
پچھلے چند سالوں سے سیکولر لیڈر مسلم معاملات میں بالکل خاموش رہتے ہیں، انھیں ڈر لگنے لگا ہے کہ اگر وہ مسلمانوں کی حمایت کریں گے تو ان کا ہندو ووٹ بینک کھسک جائے گا، حالیہ واقعات نے سیکولر ازم کے علم برداروں کی قلعی کھول دی ہے، اس سے قبل بھی جتنے فسادات ہوے ان سب میں بھی سیکولر لیڈروں نے سوائے بیان بازی کے کچھ نہیں کیا، یہی وجہ ہے کہ شدت پسندوں کے حوصلے بلند ہوتے گئے، عوام پر شدت پسندوں کی گرفت اس قدر ہوگئی ہے کہ سیکولر لیڈر آسام ہو یا تریپورا یا ملک کے کسی حصے میں کوئی مسلمان ظلم کا شکار ہوجائے یہ سیکولر لیڈر کہیں نظر نہیں آتے، اس کی حمایت میں ایک ٹویٹ تک کرنے کی ہمت نہیں کر پارہے، وہیں اگر مظلوم غیر مسلم ہے تو پھر ان کی فعالیت دیکھتے ہی بنتی ہے، ان کے گھر بھاری امداد کے ساتھ نہ صرف پہنچتے ہیں بلکہ بولتے ہوئے بھی دکھتے ہیں، اور حکومتی امداد کے لئے بھی دباؤ بناتے ہیں، مظلوم کے ساتھ کھڑا ہونا بہت اچھا ہے لیکن مظلوم کا مذہب دیکھ کر اگر درد اٹھتا ہے تو پھر انھیں اپنے بنائے ہوئے سیکولر قوانین کو پڑھنے کی ضرورت ہے –
پہلے سیکولر لیڈر اور سیکولر عوام اس قسم کے واقعات کی سخت مذمت کرتی تھی اور اس طرح کی حرکات پر شدید احتجاج بھی درج کراتے تھے، لیکن اب چند سالوں سے عوام بھی خاموش حمایت کرتی ہوئی نظر آتی ہے، آپ پٹ رہے ہوں یا آپ کے گھر لٹ رہے ہوں آپ کی حمایت میں ایک بندہ بھی نہیں نکلتا، یہ ماحول کیا کہہ رہا ہے بآسانی سمجھا جا سکتا ہے –

مجھے لگتا ہے کہ اب سیکولر ازم کے پردے بھی جب چاک ہو ہی گیے ہیں تو مسلمانوں کو بھی ایسے پردے نہیں اوڑھنا چاہیے جسے پہن کر بھی آدمی خود کو بے پردہ ہی محسوس کرے، سوچیے اور نام نہاد سیکولرازم کی طلسمی دنیا سے خود کو بچائیے –
موجودہ سیکولر لیڈروں کے لیے کسی کا یہ شعر بہت موزوں ہے

ہم نے بے پردہ تجھے ماہ جبیں دیکھ لیا
اب نہ کردہ کہ او پردہ نشیں دیکھ لیا

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے