محبت کیا ہے؟

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

ازقلم: عبدالحکیم، رانچی

محبت کیا ہے روز اول سے لے کر آج تک یہ سلسلہ جاری ہے اور آگے بھی جاری رہے گا، دراصل محبت کے بارے میں لکھنے والے ہر شاعر، ادیب، دانش ور، صحافی، صوفی، بزرگ، ولی، گویا جس کے دل و دماغ میں محبت کے لیے جو حُسن پیدا ہوا سب نے اپنے الفاظوں میں محبت کی تعریف قلم بندھ کر دی آپ یوں کہہ سکتے ہیں کے محبت ایک ایسا سفر ہے جس کی چاہت، جس کی تعریف کا زوال نی ہوا،
محبت کا لفظ کئی معانی رکھتا ہے، محبت کئی قسموں کی ہوتی ہے یہ محبت عام کسی شے سے بھی ہو سکتی ہے اور کسی خاص ہستی سے ، شخص یا رشتے سے بھی ہو سکتی ہے۔ محبت معمولی سی بھی ہو سکتی ہے اور شدید بھی ہو سکتی ہے۔ شدید محبت جان دینے اور لینے کی حد تک بھی ہو سکتی ہے۔ اسے ہم پیار یا عشق بھی کہتے ہیں! محبت کی کئی قسمیں ہیں۔ مثلا مذہب کی روح سے پیار، کسی خاص رشتے سے پیار، حب الوطنی یعنی وطن کے لیے پیار جس کا کوئی ثانی نہیں ، کسی انسان کے لیے پیار
گویا ہر کسی کو اپنی پسندیدہ شے سے محبت کو سکتی ہے مزید اس میں (اشرف المخلوقات) انسان سے لے کر ہر چرند پرند شامل ہیں کہیں انسان کو انسان سے بے پناہ محبت ہے تو کہیں انسان دنیا سے ہٹ کر خدا کی بنائی دوسری مخلوقات سے بھی محبت کے رنگ بکھیرتا ہے گویا محبت ایک ایسی رحم دلی ہے جو کسی ایک شے کے لیے مختص نہیں کی جا سکتی کیونکہ محبت انسان کے اختیار میں نہیں ہے.

اس کائنات میں محبت سے بڑھ کچھ نہیں، سب کچھ محبت ہے، انسان سے انسان اور پھر انسان سے کائنات اور کائنات سے خدا تک کا سفر محبت کے سوا کچھ نہیں انسان کے لیے ہی یہ کائنات بنائی گئی گویا جس کو جس سے محبت ہوئی اس نے اُسی کی تعریف میں محبت کے حُسن کو قلم بندھ کر دیا میں یہ ضرور کہوں گا محبت ایک بہت ہی پیارا احساس ہے
محبت جیسا احساس جس کے دل میں پیدا ہو جائے وہ محبوب کے لیے کوئی کچھ بھی کرنے کو تیار ہو جاتا ہوے, جو انسان محبت کے بارے میں جان لیتا پھر وہ اس کائنات اور ﷲ سے واقفیت حاصل کر لیتا ہے
اگر کسی انسان کے میں محبت نہیں تو پھر اس دنیا میں نظریات، سائنس، فلسفہ اور روحانی دنیا کے علم کرنے کا کوئی فائدہ نہیں کیونکہ دلی لگن، محبت ہی اپ کو سب کچھ سکھاتی ہے
محبت ہے تو سب کچھ ہے محبت کے ہونے سے ہی سب کچھ ممکن ہے
محبت کا مطلب ایک ہوجانا، اس کائنات سے جڑ جانا، زندگی اور موت سے جڑ جانا، اسی کو محبت کہتے ہیں.
انسان کچھ بھی بن جائے، دانش ور، صوفی، مرشد، مذہبی مفکر،سائنسدان، روحانی مفکر، اگر انسان کے دل و دماغ میں محبت نہیں ہے تو اس کائنات میں ہماری کوئی وقعت ہی نہیں ہے کیونکہ یہ محبت ہی ہے جو ہمیں انسانیت سے محبت کرنا سکھاتی ہے

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

About ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانب دار نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

Check Also

کپڑے ہی سب کچھ نہیں ہوتے !!

ازقلم: غلام مصطفےٰ نعیمیروشن مستقبل دہلی یادش بخیر!زمانہ طالب علمی تھا، ہمارے عزیز دوست مولانا …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔