صحت و طب

اومیکرون، تشویش اور احتیاطی تدابیر


تحریر: محمد احمد حسن سعدی امجدی
البرکات اسلامک ریسرچ اینڈ ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ علی گڑھ
8840061391

کرونا وائرس نے گزشتہ دو سالوں میں پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا ، دنیا کے تمام ترقی یافتہ ممالک احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کے بعد بھی اس کی زد سے محفوظ نہ رہ سکے، ایک رپورٹ کے مطابق کرونا سے پوری دنیا میں چھبیس کروڑ چھیالیس لاکھ پینتیس ہزار نو سو بیاسی لوگ متاثر ہوئے جن میں باون لاکھ تریپن ہزار پانچ سو چھتیس لوگ اپنی عزیز ترین جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ، کرونا کی اب تک تین لہریں آ چکی ہیں،جن میں سب سے خطرناک پہلی اور تیسری لہر ثابت ہوئی جسے ڈیلٹا پلس Delta plus کا نام دیا گیا , یقینا اس سے قبل بھی طاعون وغیرہ جیسی مہلک وباؤں نے دنیا میں دستک دیا اور بے شمار لوگ اس کی چپیٹ میں آۓ لیکن جو تباہی اور بربادی کرونا وائرس سے پیش آئی پوری تاریخ انسانی میں دور دور تک اس کی مثال نہیں ملتی،جس نے بچے بوڑھے اور جوان سبھی کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ،مسلسل ڈیڑھ سال گزرنے کے بعد اب ایک بار دنیا پھر سے اپنے قدموں پر کھڑی ہو رہی تھی،تقریبا تمام ملکوں میں کرونا وائرس کے معاملے ختم ہوتے نظر آرہے تھے اور دنیا اس خوفناک اور ڈراؤنی وباء کو بھولنے کی کوشش کر رہی تھی لیکن گزشتہ ماہ 18 نومبر2021 کو ساؤتھ افریقہ کے ایک ملک بوٹسوانا میں کرونا کی ایک نئے ویرینٹ کا معاملہ سامنے آیا، جس کی تفتیش کے بعد اسے اومیکرون کا نام دیا اور عالمی ادارہ صحت W H O کے مطابق یہ نیا وائرس اب تک کا سب سے خطرناک وائرس ثابت ہو سکتا ہے، واضح رہے کہ پھیلاؤ کے متعلق سب سے پہلے خبردار کرنے والوں میں سے ایک افریقی ڈاکٹر کا کہنا ہے کہ یہ ویرینٹ 40 یا اس سے کم عمر والے افراد کو متاثر کر رہا ہے ، ساؤتھ افریقین میڈیکل ایسوسی ایشن کی سربراہ ڈاکٹر اینجلیک نے اپنا بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنے مطب clinic میں کچھ ایسے مریض دیکھے ,جن کی علامات ڈیلٹا پلس سے مختلف تھی وہ یہ کہ مریضوں کے پٹھوں میں درد، تھکاوٹ خشک کھانسی اور گلے میں خراش تھی، عالمی ادارہ صحت کو آگاہ کیا گیا ، پھر اس اس بات کا خلاصہ ہوا کہ یہ ڈیلٹا پلس نہیں بلکہ کرونا کی نئی لہر اومیکرون ہے ، یہ خبر پوری دنیا میں بجلی کی طرح پھیل چکی ہے اور اس حوالے سے تمام ممالک انتہائی تشویش کے عالم میں ہیں اور اس سے بچنے کے احتیاطی تدابیر اختیار کر رہے ہیں،جن ملکوں میں اس کے معاملے پاۓ جا رہے ہیں فورا اس ملک پر سفری پابندیاں لگا دی جا رہی ہیں،لیکن اس کے باوجود یہ ویرینٹ اب تک دنیا کے 25ملکوں میں پھیل چکا ہے جن میں برطانیہ کینیڈا، پرتگال ، بیلجیم، ہالینڈ اور متحدہ عرب امارات بھی شامل ہیں۔
اور ابھی بھی بڑی برق رفتاری سے پھیلتا جا رہا ہے، بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق یہ ویرینٹ وطن عزیز میں بھی آ چکا ہے،کرناٹک کے 66 اور 46 سالہ دو افراد اومیکرون سے متأثر پاۓ گئے ہیں، اسی کے ساتھ ملک ہندوستان میں بھی لوگوں میں کافی تشویش پائی جا رہی ہے ، اس حوالے سے بھارتی وزارت صحت نے مرکزی حکومت سے اس پر غور کرنے اور فوری احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کے اپیل کی ہے، اس کی وجہ سے لوگوں میں شدید بے چینی پائی جا رہی ہے اور عوام کے دل و دماغ میں یہ سوال ہے کہ کیا مرکزی حکومت اس بار اس مرض پر کنٹرول کرنے پر کامیاب ہو سکے گی؟ کیونکہ گزشتہ مرتبہ ڈیلٹا پلس کی آمد کے وقت جس طرح پورے ملک میں لوگ تیزی سے آکسیجن کی کمی کی وجہ سے ہلاک ہو رہے تھے ،وہ منظر آج تک عوام فراموش نہیں کر پائی اور حکومت ہند اس وقت آکسیجن سپلائی کرنے میں مکمل طور پر ناکام ثابت ہوئی تھی، لہذا حکومت کو چاہیے کہ اپنی گزشتہ غلطیوں کو ہرگز نہ دوہراۓ ، اس وائرس کی روک تھام کے لیے بھر پور کوشش کرے،کیونکہ جب حکومت اسے روکنے میں ناکام ہوگی تو اخیر میں لاک ڈاؤن کا آپشن ہی بچے گا اور ہمیں پھر ایک بار لاک ڈاؤن کی صعوبتوں سے دوچار ہونا پڑے گا، گزشتہ مرتبہ لاک ڈاؤن سے اجتماعی طور پر پورے ملک کو کافی نقصان اٹھانا پڑا تھا یہاں تک کہ لوگوں کے گھروں میں کھانے پینے کی قلت ہو رہی تھی، اسکول اور کالج بند ہونے کی وجہ سے بچوں کا تعلیمی نقصان ہوا ، لہذا ہم حکومت ہند سے امید کرتے ہیں کہ تمام کاموں کو بالاۓ طاق رکھتے ہوئے حکومت سب سے پہلے اس نۓ ویرینٹ کو پوری سنجیدگی سے لےگی اور اس کے حوالے سے احتیاطی تدابیر اختیار کرے گی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے