منقبت

منقبت: ہو کیوں نہ ترا رتبہ بڑا نور علی شاہ

ازقلم : فرید عالم اشرفی فریدی

ہوکیوں نہ ترا رتبہ بڑا نورعلی شاہ
حسنین سے ہے رشتہ ترا نورعلی شاہ

پاتے ہیں سبھی فیض در پاک سےتیرے
ہے لطف غلاموں پہ ترا نور علی شاہ

عشاق ہیں جتنے بھی شہ کون ومکاں کے
ہراک ہےفدا تجھ پہ شہا نور علی شاہ

ہرگام شہ دین کی سنت پہ چلے ہو
ہونائب سلطان ہدی نور علی شاہ

دنیاکی بلاوُں نے مجھے گھیر رکھاہے
ہوچشم کرم مچھ پہ ذرا نورعلی شاہ

دربارمقدس پہ نکمے کوبلا کر
دل کی جوتمناہےنبھا نورعلی شاہ

کیوں غیروں کے دربار کبھی جاؤں بھلا میں
بھردیجئے دامان مرا نورعلی شاہ

دربارمیں بیٹھا ہے گدابن کے فریدی
خیرات اسےکیجے عطا نور علی شاہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے