از: محمد سلیم انصاری حنفی ادروی (الہند)
موجودہ دور میں پاکستان میں شوافع حضرات زیادہ تر کراچی (سندھ) میں آباد ہیں۔ ان کی کالونیوں اور محلوں کے ناموں سے ایسا لگتا ہے کہ یہ لوگ ہندوستان کی شافعی آبادی والے علاقوں مثلا کوکن اور بمبئی (مہاراشٹر)، ملبار (کیرالا) اور بھٹکل (کرناٹک) وغیرہ سے جا کر پاکستان میں بسے ہیں۔ کراچی میں ان کی سات مساجد (شافعی جامع مسجد منوڑہ، شافعی جامع مسجد بمبئی ٹاؤن بلاک ڈی نارتھ ناظم آباد، شافعی جامع مسجد کوکن سوسائٹی، شافعی جامع مسجد کوکن کالونی، شافعی جامع مسجد کامل گلی صرافہ بازار، شافعی جامع مسجد [ملباری محلہ] شیر شاہ کالونی اور شافعی جامع مسجد [ملباری محلہ] مہاجر کیمپ) ہیں، اور چند ایک مدرسے (مدرسہ فیض الاسلام/ قیام: سنہ ١٩٦٧ء) بھی۔ راقم الحروف کے ایک پاکستانی فیس بک فرینڈ، ماہر حدیث قبلہ رضا عسقلانی صاحب بھی شافعی المذہب ہیں۔ چوں کہ میرے مضمون کا موضوع "پاکستان کے متاخرین اکابر شوافع علما” ہے، اس لیے ماضی قریب کے جن پاکستانی اکابر شوافع علما کے نام دست یاب ہو سکے، ان کا مختصر تعارف نیچے پیش کر رہا ہوں۔
استاذ العلماء مولانا محمد معین الدین شافعی قادری علیہ الرحمہ: آپ استاذ الہند صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ کے ممتاز تلامذہ میں سے ایک تھے۔ جامعہ قادریہ رضویہ فیصل آباد کو ترقی دینے میں آپ نے اہم کردار ادا کیا۔ افسوس کہ راقم الحروف کو آپ کی مکمل سوانح حیات کہیں سے دست یاب نہ ہو سکی۔
مولانا محمد محسن فقیہ الشافعی علیہ الرحمہ: مولانا محمد محسن فقیہ الشافعی بن شیخ الوقت مولانا محمد یوسف صاحب فقيہ شافعی چشتی قادری اشرفی علیہما الرحمہ سنہ ١٩٠٧ء کو بمبئی میں پیدا ہوئے۔ تعلیم کا آغاز گھر سے کیا اس کے بعد بمبئی میں تعلیم حاصل کی۔ دارالعلوم منظر اسلام بریلی شریف سے سنہ ١٩٣٦ء میں فارغ التحصیل ہوئے۔ پاکستان جانے سے قبل مدرسہ محمدیہ جامع مسجد بمبئی میں درس وتدریس اور امامت وخطابت کے فرائض انجام دیتے تھے۔ آپ نے ہندوستانی اردو داں شوافع کے لیے فقہ شافعی سے متعلق آسان اردو میں ایک کتاب "سامان آخرت” تصنیف فرمائی، جو سنہ ١٩٣۴ء میں آگرہ سے شائع ہوئی۔ اس کے علاوہ بھی آپ نے چند ایک کتب تصنیف فرمائیں۔ سنہ ١٩۴٨ء کو آپ پاکستان تشریف لے گئے۔ آپ مجاہد ملت علامہ عبد الحامد بدایونی علیہ الرحمہ کے ساتھیوں میں سے تھے اور انہیں کے ساتھ تحریک پاکستان میں کام کیا۔ قیام پاکستان کے بعد کراچی میں انہی کے ساتھ استحکام پاکستان، نفاذ اسلام اور دینی تبلیغی کام کیے اور انہی کی رفاقت میں بیرون ممالک تبلیغی دورے پر گئے۔ جن دنوں علامہ بدایونی جمعیت علماے پاکستان کے صدر تھے، ان دنوں مولانا محسن فقيہ شافعی نے جمعیت علماے پاکستان میں ناظم کی حیثیت سے کام کیا۔ علاوہ ازیں جامع مسجد شافعی کوکن سوسائٹی کراچی کے بانئ رکن، پہلے امام وخطیب اور نکاح رجسٹرار کی حیثیت سے بھی دینی خدمات سر انجام دیں۔ دارالعلوم امجدیہ کراچی سے بھی آپ کا برابر تعلق رہا۔ سنہ ١٩٨٠ء میں آپ کا وصال ہوا، مفتی اعظم پاکستان مفتی ظفر علی نعمانی بلیاوی علیہ الرحمہ (بانی: دارالعلوم امجدیہ کراچی) نے نماز جنازہ پڑھائی۔ چوں کہ آپ کی تمام اولاد میں کوئی عالم دین نہ تھا، اس لیے آپ کے وصال کے بعد آپ کی لائبریری دارالعلوم امجدیہ کراچی کو وقف کر دی گئی۔ (انوار علماے اہل سنت سندھ/ص: ٩۵٣-٩۵٧)