چند مشائخِ نقشبندیہ کا اجمالی تذکرہ

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

تحریر : غلام مصطفٰی رضوی

خانقاہِ برکتیہ مالیگاؤں کے بانی مولانا سید برکت علی شاہ نقشبندی کے مرشدانِ گرامی کا ذکرِ جمیل
بموقع: عرسِ حضرت مولانا سید برکت علی شاہ نقشبندی علیہ الرحمۃ (١٤ صفر المظفر)

سلاسل طریقت کے مشائخ کرام نے روحانی و ظاہری اصلاح کے ذریعے انقلاب برپا کیا۔ فکروں کو چمکایا۔ دلوں کو مہکایا۔ایمان و ایقان کے اجالے پھیلائے اور دین کی نشر واشاعت کی۔ ان میں مشائخ نقشبندیہ کے چند آفتاب و ماہ تاب کا ذکر یہاں کیا جاتا ہے۔ جن کی خدمات سے صرف ہندوستان ہی نہیں بلکہ عرب و عجم فیض یاب ہیں۔ ان میں اصحابِ طریقت، اربابِ تحقیق، صاحبانِ تصنیف، مسند نشینانِ دارالافتاء، مصلحین گزرے ہیں جن کی خدمات کا شہرہ سمتوں میں ہوا۔ پروفیسر ڈاکٹر محمد مسعود احمد اسلاف کے تذکار کی افادیت پر لکھتے ہیں:

’’علما وصلحا، ملت کی آن اور مذہب کی آبرو ہیں، ان کے دَم سے دین ودُنیا کی رونق ہے…وہ رونق جو فریبِ نظر نہیں بلکہ حیاتِ قلب و جگر ہے، جو انسانیت کی بہار ہے اور حیوانیت سے کوسوں دور…ہاں وہ مبارک ہستیاں جنھوں نے قلب و نظر کی پرورش کی ہو، جنھوں نے رفعتِ شانِ مصطفی [علیٰ صاحبہ السلام] میں کوئی دقیقہ اُٹھا نہ رکھا ہو، آنکھوں پہ بٹھانے اور دل سے لگانے کے قابل ہیں، بے شک ان کی مبارک سیرتوں کو اُجاگر کیا جائے-"

[تقدیم؛ تذکرہ اکابر اہلِ سنّت،طبع لاہور۲۰۰۵ء،ص۲۶] [۱] حضرت مرزا مظہر جانِ جاناں علیہ الرحمہ: آپ علوی سادات ہیں۔ سلسلۂ نسب ۲۸؍واسطوں سے مولیٰ علی کرم اللہ وجہہ الکریم تک پہنچتا ہے۔مروت، عدالت،شجاعت، سخاوت اور کمالِ دین داری کی وجہ سے آپ معروف تھے۔ آپ کے اجداد میں امیر عبدالسبحان دو واسطوں سے اکبربادشاہ کے نواسے تھے، والد مرزا جان نے جاہ، دولت اور شاہی منصب ترک کر کے فقر و قناعت کی سلطنت اختیار کرلی تھی۔

وہ زمانہ بڑا پُر فتن تھا۔مغلوں کے آخری سلاطین کی دین سے دوری، عیاشی اور آرام طلبی، مشرکین کی ریشہ دوانیاں، سازشوں نے ملت کو زوال سے دوچار کیا۔۱۷۳۹ء میں نادر شاہ کے حملے تک ملک عجیب صورتِ حال سے دوچار رہا، زوال پذیر ماحول میں مرزا مظہر جان جاناں و شاہ ولی اللہ محدث دہلوی نے مسلم سلطنت کو بچانے کے لیے احمد شاہ درانی و روہیلوں کو ترغیب دی۔جس کا اندازا حضرت مظہر کے خطوط سے ہوتا۔ان کی اشاعت حضرت شاہ فضل رحمان گنج مرادآبادی نقشبندی علیہ الرحمہ نے کروائی۔حضرت مظہر نے اورنگ زیب عالم گیر [م۱۷۰۷ء]سے لے کر شاہ عالم ثانی تک ۱۱؍بادشاہوں کا زمانہ پایا۔ حضرت مظہر۱۱۹۵ھ/۱۷۸۰ء میں دشمنانِ صحابہ کے ہاتھوں شہید کر دیے گئے۔ دہلی میں دفن ہوئے۔ شاہ ابوالحسن زید فاروقی مجددی نے ۱۹۸۰ء میں شان دار گنبد تعمیر کروایا۔ سلسلۂ مجددیہ کے شیخ حضرت شاہ غلام علی دہلوی علیہ الرحمہ؛ حضرت مرزا مظہر جانِ جاناں کی خانقاہ کے عملی وروحانی جانشین ہوئے۔آپ کے ملفوظات، مکتوبات و احوال میں اصلاح و فلاح و تزکیہ کا جہان آباد ہے۔

[۲] حضرت شاہ غلام علی دہلوی؛ مجدد الف ثانی شیخ احمد سرہندی علیہ الرحمہ [م ۲۸؍صفر۱۰۳۴ھ/۱۶۲۴ء] تک اپنے مرشد کی نسبت کا ذکر کرتے ہوئے خود لکھتے ہیں: ’’حضرت [مظہر جانِ جاناں] نے طریقۂ نقشبندیہ [کا فیض] حضرت سید نور محمد بدایونی رحمۃاللہ علیہ سے حاصل کیا۔ انھوں نے حضرت شیخ سیف الدین سے نیز حضرت مظہر نے حضرت حافظ محمد محسن سے بھی استفادہ کیا تھا اور انھوں نے عروۃالوثقیٰ حضرت محمد معصوم سے اور انھوں نے اس طریقہ کے امام مجدد الف ثانی شیخ احمد فاروقی سرہندی سے۔‘‘حضرت شاہ غلام علی دہلوی کی کئی کتابیں اور ملفوظات عالیہ یادگار ہیں۔

[۳]محمد اقبال مجددی رقم طراز ہیں: حضرت شاہ غلام علی کے جانشین اول[ حضرت شاہ ابوسعید مجددی ]، حضرت مجدد الف ثانی رحمۃاللہ علیہ کے نبیرہ اور اجل عالم تھے۔ نام ’ذکی القدر‘ اور کنیت ’ابوسعید‘ تھی۔ ولادت ۲؍ذیقعدہ ۱۱۹۶ھ کو رام پور میں ہوئی۔ اور وفات شنبہ یکم شوال ۱۲۵۰ھ/۳۱؍جنوری ۱۸۳۵ء کو ریاست ٹونک میں ہوئی۔ جسدمبارک دہلی لاکر حضرت مظہر و حضرت شاہ غلام علی کے چبوترے پر دفن کیا گیا۔جید علما سے تحصیلِ علم کے بعد حدیث کی سند حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی اور حضرت شاہ غلام علی سے لی۔ ۱۲۲۵ھ/۱۸۱۰ء میں حضرت شاہ غلام علی سے بیعت ہوئے۔ بہت جلد منازلِ سلوک طے کیں یہاں تک کہ ۱۲۳۰ھ/۱۸۱۵ء میں حضرت شاہ غلام علی نے اپنی ضمنیت کا شرف بخشا۔ حضرت شاہ ابوسعید کے بہت سے خلفا تھے ان کا فیض ہند سے ترکستان تک پھیلا ہوا تھا۔فرزند گرامی حضرت مولانا شاہ احمد سعید مجددی دہلوی جانشین ہوئے۔ جب کہ چھوٹے فرزند حضرت مولانا شاہ عبدالغنی مجددی نے درس و تدریس میں شہرت پائی۔

[۴] مولانا شاہ عبدالغنی مجددی کی ولادت ۱۲۳۵ھ میں دہلی میں ہوئی۔ حفظ قرآن والد ماجد حضرت شاہ ابوسعید اور برادر بزرگ سے فرمایا۔ مولانا شاہ عبدالعزیز محدث[دہلوی] و شیخ محمد عابد سندھی مدنی سے تکمیل علوم کی، والد ماجد کے مرید اور خلیفہ تھے۔ رشد وہدایت کے ساتھ درس حدیث بھی خوب دیتے تھے۔ محرم ۱۲۹۶ھ میں مدینہ منورہ میں آپ کا انتقال ہوا۔مولانا شاہ عبدالغنی مجددی کے تلامذہ میں شیخ عثمان بن عبدالسلام داغستانی[م۱۳۲۵ھ/ ۱۹۰۷ء مدینہ منورہ]، شیخ محمد بن مصطفٰی الیاس[وصال قبل از۱۳۲۹ھ/ ۱۹۱۱ء مکہ مکرمہ]، مولانا محمود بن صبغۃاللہ مدراسی نے امام احمد رضا قادری محدث بریلوی کی کئی کتب پر تقاریظ لکھیں۔ اور عقائدِ اھلسنت کی تائید و حمایت میں خدمات پیش کیں-

[۵] حضرت مولانا شاہ احمد سعید مجددی؛ حضرت شاہ ابوسعید مجددی کے فرزند اکبر تھے۔یکم ربیع الاول۱۲۱۷ھ/۳۱؍جولائی ۱۸۰۲ء کو رام پور[مصطفٰی آباد] میں پیدا ہوئے اور ۲؍ربیع الاول ۱۲۷۷ھ/۱۸؍ستمبر ۱۸۶۰ء کو[بہ عمر۵۹برس] مدینہ منورہ میں وصال فرمایا۔ جوارِ حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالٰی عنہ میں دفن ہوئے۔ اپنے والد اور حضرت شاہ غلام علی سے کسبِ فیض کیا۔ جید علما سے مروجہ علوم کی تحصیل کی۔۱۲۴۹ھ/۱۸۳۴ء میں ہی آپ کے والدماجد نے حج کے لیے روانہ ہوتے ہوئے خانقاہ مظہری کی تولیت آپ کے سپرد کر دی تھی۔ نسب ۶؍ واسطوں سے مجدد الف ثانی سے جا ملتا ہے۔ ۱۸۵۷ء کی جنگ آزادی میں جن علما نے انگریزوں کے خلاف جہاد کا فتویٰ دیا تھا ان میں اس فتویٰ کے محرک آپ ہی تھے۔ اس تحریک کے باعث بہت سے علما کو بلادِ اسلامیہ کی طرف ہجرت کرنی پڑی، ان میں حضرت شاہ احمد سعید بھی شامل ہیں۔اساتذہ میں شاہ غلام علی، علامہ فضل امام خیرآبادی، مولوی رشید الدین خاں،شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی، علامہ شاہ فضل رسول بدایونی ،شاہ رفیع الدین، شاہ عبدالقادرشامل ہیں۔

بوقت ہجرت آپ نے خانقاہ موسیٰ زئی ڈیرہ اسماعیل خان سرحد میں اپنے خلیفہ و جانشین حضرت مولانا دوست محمد قندھاری کو خانقاہِ دہلی کی تولیت سونپی۔آپ کی تصانیف درجنوں میں ہیں، چند کے اسما اس طرح ہیں:

*سعید البیان فی مولدسیدالانس والجان[اردو مطبوعہ]،
*الذکر الشریف فی اثبات المولد المنیف[فارسی]،
*اثبات المولدوالقیام[عربی مطبوعہ]،
*الفوائد الضابطہ فی اثبات الرابطہ[فارسی]،
*انہارالاربعہ[فارسی مطبوعہ]،
*تحقیق الحق المبین فی اجوبۃالمسائل الاربعین[فارسی مطبوعہ]،مکتوبات

تصانیف میں علم و حکمت و معرفت و شریعت کے گل و لالہ موجود ہیں۔آپ نے مشاہیر کی تصانیف مثلاًالمعتقدالمنتقد المستندالمعتمد،فصل الخطاب، تحقیق الفتوی، تاریخی فتویٰ [از علامہ فضل رسول بدایونی]،’’غایۃالمرام‘‘ پر تصدیقات ثبت کیں۔ آپ کی اعتقادی خدمات کی جھلک اعلیٰ حضرت امام احمدرضا کی تصانیف میں نظر آتی ہے-

[۶] شاہ ابوالخیر مجددی؛ حضرت شاہ احمدسعید دہلوی کے پوتے اور شاہ محمد عمر کے فرزند تھے۔ نام ’’محی الدین‘‘ تجویز کیا گیا۔ ۴؍برس کی عمر میں حرم نبوی میں دادا محترم سے بیعت کی۔ ۷؍سال کی عمر میں حافظ ہوئے۔ علوم کی تکمیل شیخ الاسلام سید احمد زینی دحلان مکی شافعی سے کی۔۱۲۹۷ھ میں رام پور آئے۔پھر دہلی میں خانقاہ کوزینت بخشی۔جمادی الآخر کی ۲۹؍ویں تاریخ ۱۳۴۱ھ میں بعمر۶۱؍سال شبِ جمعہ وصال ہوا۔ مولوی اشرف علی تھانوی دیوبندی سے میرٹھ میں مباحثہ ھوا جس میں تھانوی صاحب لا جواب رہے اور بعد کو ایک کتاب "بزم جمشید” لکھوا کر غبار دل نکالا جس کے جواب میں شاە ابوالحسن زید فاروقی مجددی نے "بزم خیر” لکھ کر دیوبندی مسلک کی قلعی کھول دی- اس کتاب سے "حسام الحرمین” کی تائید ھوتی ھے-

[۷] مولانا ارشاد حسین فاروقی مجددی رام پور کے بزرگ ترین عالم، شیخ اور مصلح تھے، حضرت خواجہ محمد یحییٰ خلف اصغر حضرت امام ربانی مجدد الف ثانی سے نسبی علاقہ تھا۔ ۱۴؍ صفر ۱۲۴۸ھ میں پیدا ہوئے۔ علماے رام پور و لکھنؤ سے پڑھ کر مولانا محمد نواب خان مجددی سے تکمیل کی۔ دہلی جا کر حضرت مولانا شاہ احمد سعید مجددی سے مرید ہوئے، اجازت و خلافت سے سرفراز کیے گئے۔ حالات کی ابتری اور ملک پر انگریزی اقتدار و غلبہ کی وجہ سے حضرت شاہ احمد سعید نے جب ہجرت کا ارادہ کیا تو آپ کو رام پور جانے کا حکم دیا۔دو شنبہ ۱۵؍جمادی الاخریٰ ۱۳۱۱ھ میں وصال ہوا۔اعلٰی حضرت امام اھلسنت کی کئی کتب و فتاویٰ پر تصدیقات لکھیں۔

[۸] مولانا شاہ محمد معصوم مجددی بن شاہ عبدالرشید بن شاہ احمد سعید کی ولادت ۱۰؍شعبان ۱۲۶۳ھ خانقاہ شاہ غلام علی دہلی میں ہوئی۔حضرت شاہ احمد سعید نے تربیت کی۔ تفسیر، حدیث، فقہ،اصول، تصوف، معقول و دوسرے علوم عم مکرم شاہ محمد مظہر مجددی سے حاصل کیے۔کتب حدیث شاہ عبدالغنی سے پڑھیں،اجازت حدیث علامہ شیخ صدیق کمال مکی سے لی۔جد امجد کے ساتھ مدینہ منورہ ہجرت کی، جہاں ۲۰؍برس مقیم رہے، دس حج کیے۔۱۳۳۸ھ میں مکہ مکرمہ تشریف لے گئے اور ۱۰؍شعبان ۱۳۴۱ھ میں وصال فرمایا۔ جنت المعلیٰ میں دفن ہوئے۔ میلاد و قیام کے ثبوت میں ایک کتاب بھی لکھی اور اپنے اشعار کے ذریعے عقائد اھلسنت کی بھر پور تائید کی-

[۹] حضرت خواجہ حاجی دوست محمد قندھاری رحمۃاللہ علیہ [ولادت۱۲۱۶ھ/ ۱۸۰۱ء- وصال ۱۲۸۴ھ/۱۸۶۸ء] -آپ نے ۱۲۶۶ھ/۱۸۵۰ء میں حضرت شاہ احمد سعید مجددی کے حکم پر خانقاہِ سعیدیہ نقشبندیہ کی بنیاد رکھی۔ ۱۸۵۷ء کی جنگ آزادی کے بعد کا زمانہ مسلمانانِ ہندوستان کے لیے بہت تکلیف دہ تھا۔ ان مشکل حالات میں حضرت شاہ صاحب نے بہ مشیت ایزدی ہندوستان سے حرمین شریفین کی طرف ہجرت فرمائی۔ دورانِ ہجرت حاجی دوست محمد قندھاری کے یہاں موسیٰ زئی ڈیرہ اسماعیل خان [سرحد پاکستان]میں قیام فرمایا۔ آپ کے جانشین و سجادہ حضرت خواجہ عثمانی دامانی تھے۔آپ نے سلسلہ کی اشاعت وسیع حلقے میں کی۔ اپنے مکتوبات، ملفوظات و نصائح میں وھابیت سے بچنے کی تلقین کی اور اھلسنت پر استقامت کا درس دیا-

[۱۰] حضرت مولانا خواجہ محمد عثمان دامانی قدس سرہ کی ولادت ۱۲۴۴ھ قصبہ لونی تحصیل کلاچی ضلع ڈیرہ اسماعیل خان سرحد میں ہوئی جو کوہِ سلیمان کے دامن میں واقع ہے۔والد ماجد مولانا موسیٰ جان تھے۔ آپ کا نسب ۴؍واسطوں سے قندھار و مضافات کے قاضی القضاۃ قاضی شمس الدین سے ملتا ہے۔جو احمد شاہ ابدالی کے دور میں اس منصب پر فائزتھے۔آپ درّانی افغان تھے اور اس کی ذیلی شاخ حمید زئی، ابراہیم زئی سے تعلق رکھتے تھے۔ ۲۲؍شعبان ۱۳۱۴ھ منگل وصال فرمایا۔ نمازِ جنازہ فرزند و جانشین حضرت خواجہ سراج الدین نے پڑھائی۔حضرت دوست محمد قندھاری کے قرب میں تدفین عمل میں آئی۔

[۱۱] حضرت خواجہ محمد سراج الدین نقشبندی دامانی [ولادت ۱۲۹۷ھ/۱۸۷۹ء- وصال ۱۳۳۳ھ/۱۹۱۵ء]حضرت خواجہ عثمان دامانی نقشبندی کے خلف و جانشین تھے۔ ولادت موسیٰ زئی میں ہوئی۔سلسلۂ نقشبندیہ کی اشاعت کی۔ اصلاحی خدمات انجام دیں جن پر ملفوظات، مکتوبات شاہد ہیں۔آپ کے تلامذہ و خلفا میں بڑے بڑے علما ومشاہیر شامل ہیں۔ انھیں کے خلیفہ تھے مولانا سید محمد برکت علی شاہ بانی خانقاہِ برکتیہ مالیگاؤں۔

[۱۲] مولانا سید محمد برکت علی شاہ نقشبندی کلکتوی نے پنجاب، بنگال، مہاراشٹر میں سلسلے کی اشاعت کی۔ اسلاف کے افکار کی نمائندگی کی۔ مولانا کرم الدین دبیر جہلم کے دست راست رہے۔ آپ نے حافظ محمد اسماعیل نابینا سٹانہ اور مولانا محمد اسحق نقشبندی مالیگاؤں کو خلافت دی۔ اول الذکر دارالعلوم حنفیہ سنیہ مالیگاؤں و اکابر سے منسلک رہے جن پر الفقیہ امرتسر کی فائلیں دال ہیں،آخر الذکر کا روحانی فیض مالیگاؤں و قرب میں جاری و ساری ہے۔اس سلسلے میں تفصیلی معلومات کی لیے ’’مشائخ نقشبندیہ: حیات و افکار‘‘ [مطبوعہ نوری مشن مالیگاؤں] مصنف احقر غلام مصطفٰی رضوی کا مطالعہ کیجئے۔ جس میں ذکر کردہ تمام بزرگوں کے مدلل تذکرے موجود ہیں

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

About محمد نثار نظامی

صوبہ اترپردیش کے ضلع مہراج گنج سے تعلق رکھنے والے جناب مولانا نثار احمد صاحب نظامی مصباحی ایک بہترین مضمون نگار اور شاعر ہیں۔ موصوف ہماری آواز کے مینیجنگ ایڈیٹر ہیں۔ ہماری آواز

Check Also

نسیم فیضی آسمان کا ابھرتا ہوا ستارہ!

تحریر: ذبیح اللہ ذبیحدہلی۔بھارت کسی بھی انسان کی جدوجہد کامیاب ہو جائے تو دنیا اس …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔