علما و مشائخ

ہمارے مہتمم صاحب: تکنیکی دور کے کتابی آدمی!!

مولانا محمد یامین نعیمی رحمہ اللہ (سابق مہتمم جامعہ نعیمیہ مرادآباد) کی پہلی سالانہ فاتحہ پر خراج عقیدت

ازقلم: غلام مصطفےٰ نعیمی
مدیر اعلیٰ سوادِ اعظم دہلی

مہتمم صاحب کا نام لکھتے/سنتے ہی پردۂ ذہن پر پرانی وضع قطع کے ایک ایسے عالم دین کی تصویر ابھرتی ہے جو جامعہ نعیمیہ جیسے مشہور ومعروف ادارے کے مہتمم ہونے کے باوجود دکھاوے اور ریا کاری سے کوسوں دور تھے۔سادگی کی چلتی پھرتی تصویر اور ہم جیسے سست مزاجوں کے دور میں وقت کی پابندی کرنے والے ایسے انسان تھے جن کا تذکرہ ہم عموماً کتابوں میں پڑھتے ہیں۔

کتاب زندگی

مولانا محمد یامین صاحب نعیمی(1939/2021) بن حافظ اصغر حسین بن حافظ ابرار حسین، جامعہ نعیمیہ مرادآباد کے تیسرے مہتمم تھے۔جامعہ کے دوسرے مہتمم حضرت مولانا یونس نعیمی علیہ الرحمہ آپ کے سگے تایا اور آپ کے مربی وکفیل تھے۔مہتمم صاحب نے باضابطہ 1945 میں جامعہ نعیمیہ میں قدم رکھا۔حالانکہ اس سے دو سال قبل بھی آپ نعیمیہ پہنچے مگر بہ مشکل ایک سال گزار کر واپس چلے گیے۔ابتدا سے درجہ فضیلت تک کی تعلیم نعیمیہ میں ہی حاصل کی۔سن 1961ء میں آپ کی فراغت ہوئی۔فراغت کے اگلے سال بہ غرض تدریس آپ بلاری ضلع مرادآباد چلے گیے۔یہاں مسلسل 11 سال آپ نے تدریسی خدمات انجام دیں۔سن 1973 میں مولانا یونس نعیمی کے انتقال کے بعد آپ کو جامعہ نعیمیہ بلایا گیا اور تدریس کے ساتھ اہتمام کی ذمہ داری بھی سپرد کر دی گئی۔اس طرح آپ مولانا یامین سے "مہتمم صاحب” کہلانے لگے جو آگے چل کر بہ منزلہ علم ہوگیا۔دو بیٹے اور پانچ بیٹیاں پائیں۔بڑے بیٹے محمد ضیا اشرف ہیں جو مکتبہ نعیمیہ دہلی کے مالک ہیں۔مہتمم صاحب کو دو مرتبہ حج بیت اللہ کا شرف حاصل ہوا۔ایک قابل رشک زندگی گزار کر 11 اپریل 2021 کو اس دار فانی سے وصال فرمایا۔آخری آرام گاہ آبائی وطن سنبھل میں بنی۔نماز جنازہ جامعہ نعیمیہ کے سینئر استاذ، مفتی سلیمان نعیمی(نائب مفتی اعظم مرادآباد) نے پڑھائی۔یوں تو مہتمم صاحب کی زندگی کے بارے میں بتانے کے لیے بہت کچھ ہے مگر سر دست ان سے وابستہ چند یادیں سطح ذہن پر ظاہر ہورہی ہیں۔

خوش خط پسندی

اچھا خط اور خوب صورت تحریر سبھی کو اچھی لگتی ہے مگر خوش خطی پانا اتنا آسان نہیں ہے۔یہ مسلسل مشق اور لگاتار لکھنے کے بعد ہی آتی ہے، فارسی کا مشہور شعر ہے:

گر تو می خواہی کہ باشی خوش نویس
می نویس، می نویس ومی نویس

اگر تو چاہتا ہے کہ اچھی تحریر لکھے تو لکھتا جا، لکھتا جا اور لکھتا جا۔

ایک زمانہ تھا کہ خوش خطی انسان کا طرہ امتیاز ہوا کرتی تھی۔انسان کی علمی حیثیت اس کے خط سے بھی پہچانی جاتی تھی۔آج بھلے ہی کمپوٹر کی آمد سے خوش خطی کا زمانہ گزرے دنوں کی بات ہوگیا ہے لیکن آج بھی کہیں کوئی خوش خط انسان ملتا ہے تو لوگ اسے رشک بھری نگاہوں سے دیکھتے ہیں۔پرانے زمانے میں خوش خطی کے ماہرین کسی کے خط(تحریر) سے ہی اس کی شخصیت کا اندازہ لگانے کا دعویٰ بھی کیا کرتے تھے۔اس ضمن میں کچھ باتیں خاصی مشہور تھیں، گو کہ ہمیں ان کی قطعیت پر اصرار نہیں لیکن باتیں اچھی خاصی دل چسپ ہیں:
🔹جو لوگ جھوٹے الفاظ لکھتے ہیں وہ قدرے شرمیلے، پڑھاکو اور باریک بیں ہوتے ہیں۔
🔸بڑے اور جلی حروف لکھنے والے دوسروں کی توجہ چاہنے کے خواہش مند ہوتے ہیں۔
🔹جو لوگ الفاظ کے درمیان فاصلہ رکھتے ہیں وہ آزاد رہنا پسند کرتے ہیں، انہیں بھیڑ بھاڑ پسند نہیں ہوتی۔
🔸جو حضرات الفاظ ملا کر لکھنا پسند کرتے ہیں وہ مل ملا کر رہنے کو فوقیت دیتے ہیں اور وہ محفل پسند ہوتے ہیں۔
ماہرین خوش خط اس طرح کی بہت ساری باتیں بیان کرتے ہیں۔ان کی صحت وعدم صحت سے قطع نظر یہ بات مسلم ہے کہ خوش خطی انسان کی شخصیت میں چار چاند لگاتی ہے۔ہمارے مہتمم صاحب بھی بڑے اعلی درجے کے خوش خط تھے۔اور طلبہ کو بھی اپنی طرح خوش خط دیکھنا پسند کرتے تھے۔اس لیے طلبہ پر خوش خطی کے لیے بہت زیادہ زور دیا کرتے تھے۔اس سلسلے میں اپنے دور طالب علمی کا ایک واقعہ بھی بہ طور نصیحت سنایا کرتے تھے۔
قصہ کچھ یوں تھا کہ مہتمم صاحب کو ایک نکاح پڑھانے کا اتفاق پیش آیا۔آپ رجسٹر لیکر محفل نکاح میں پہنچے۔دولہا دلہن اور وکیل وگواہان کی تفصیلات درج کرنے لگے۔بارات کا ایک شخص آپ کو بڑی توجہ سے لکھتے دیکھ رہا تھا۔آپ نے کئی بار نوٹ کیا مگر محفل کی وجہ سے پوچھنا مناسب نہ سمجھا۔
خیر! آپ نے ایجاب وقبول کرایا اور نکاح کی رسید ذمہ داروں کو تھماتے ہوئے جانے کی اجازت مانگی۔ٹھیک اسی وقت وہی بندہ جو مہتمم صاحب کو بہ غور دیکھ رہا تھا قریب آیا اور نہایت شائستہ لہجے میں کہا:
"مولانا صاحب! دعا کریں کہ اس رسید کو پڑھنے کی نوبت نہ آئے ورنہ اسے پڑھنے کے لیے آپ کو ہی بلانا ہوگا۔”

مہتمم صاحب کا کہنا ہے کہ ان کی یہ بات سن کر میں پانی پانی ہوگیا، میں سمجھ گیا تھا کہ وہ کنایتاً میری خراب تحریر کی جانب اشارہ کر رہے تھے بس اسی دن سے میں نے تہیہ کرلیا کہ کسی بھی طور پر اپنی تحریر اچھی کرنی ہے۔”
مہتمم صاحب نے جو ارادہ کیا وہ کر دکھایا۔آپ نے خطاطی پر اتنی مشق کی کہ آپ کی تحریر نہایت خوب صورت ہوگئی۔جو بھی آپ کی تحریر دیکھتا وہ رشک کرتا۔مہتمم صاحب چاہتے تھے کہ نعیمیہ کے ہر طالب علم کی تحریر اچھی ہونا چاہیے، اس سلسلے میں آپ اکثر یہ فرماتے تھے کہ عام آدمی کسی بھی عالم کے علم کی گہرائی جانتا ہے نہ سمجھتا ہے وہ یا تو عالم کی بات سنتا ہے یا اس کی تحریر دیکھتا ہے اس لیے بولنے کی مشق کے ساتھ لکھنے کی مشق لازمی سمجھو تاکہ کوئی تمہیں میری طرح طعنہ نہ دے سکے۔خوش خطی کے لیے آپ اس قدر سنجیدہ تھے کہ آپ نے باضابطہ ادارے میں خطاطی کا شعبہ قائم کرایا اور ادارے کے ایک فاضل مولانا کاتب حبیب احمد نعیمی کو أستاذ مقرر کیا۔اعدادیہ تا رابعہ کے طلبہ کے لیے دستہ لکھنا لازم تھا۔دستہ رجسٹر سائز کی ایک سفید کاپی ہوا کرتا تھاجس میں عام کاپیوں کی طرح لائنیں نہیں ہوتی تھیں بس سادہ سا کاغذ ہوتا تھا۔ اسی پر طلبہ لکھنے کی مشق کرتے تھے۔دستہ لکھنا مہتمم صاحب کو اتنا پسند تھا کہ ایسے طلبہ کو انعام واکرام سے بھی نوازتے تھے۔آپ کے اس مزاج کی وجہ سے کئی چنچل طالب علم سبق سے زیادہ دستہ لکھنے پر دھیان دیتے اور آپ سے مختلف فوائد حاصل کرتے تھے۔ہم حفظ قرآن کے زمانے سے ہی لکھنا سیکھ چکے تھے اور مسلسل لکھتے رہتے تھے اس لیے ہماری تحریر بہت اچھی بھلے نہیں تھی مگر سمجھ میں آنے لائق ضرور تھی،کتابت کی طرف میلان نہیں تھا اس لیے ہم تو دستہ لکھنے کی سے دور ہی رہے لیکن ہمارے دوستوں میں ڈاکٹر خورشید نعیمی، مولانا مستفیض احمد اور مفتی باقر علی نعیمی وغیرہ نے خوب مشق کی اس لیے ان حضرات کی تحریر آج بھی بہت خوب صورت ہے۔جو بجا طور پر مہتمم صاحب کی رغبت اور تربیت کا نتیجہ ہے۔

حوصلہ افزائی

اچھے کاموں پر طلبہ کی حوصلہ افزائی بھی مہتمم صاحب کی پہچان تھی۔یہ حوصلہ افزائی مختلف نوعیت کی ہوا کرتی تھی کبھی طلبہ کو چائے پلاتے، کبھی کوئی کتاب پیش کرتے اور کبھی ناشتہ وغیرہ کراتے۔حوصلہ افزائی کا انداز بھی مہتمم صاحب کی طرح ایک دم الگ اور دوسروں سے بہت مختلف ہوتا تھا۔جس طالب علم سے خوش ہوتے تو کہتے ہاں بھئی چُنّا چودھری آج تو تم نے کمال کردیا،چلو میرے ساتھ آؤ۔بٹھاتے اور پوچھتے چائے پیو گے؟
پوچھنے کا مطلب ہوتا کہ چائے پینی ہی ہے،اس لیے مہتمم صاحب کے اتنا کہتے ہی طالب علم چائے بنانے کے لیے کھڑا ہوجاتا۔جیسے ہی وہ کھڑا ہوتا مہتمم صاحب بتانے لگتے کہ دیکھوچینی،چائے کی پتی ادھر رکھی ہے اور دوددھ اس جانب رکھا ہے۔اس طرح چائے بنتی اور چائے کی چسکیوں کی بیچ عام سی باتیں کرتے اور اختتام چائے پر کہتے کہ دیکھو فلاں کتاب تلاشو، کتاب تلاش کر مہتمم صاحب کو پیش کی جاتی تو فرماتے ارے چنا چودھری یہ تمہارے لیے ہے! جاؤ اور خوب محنت سے پڑھو، اور ہاں اپنے ساتھیوں کو بھی سمجھایا کروکہ وہ بھی محنت کیا کریں۔
اختتام سال پر ہماری تقریری و تحریری انجمن کا خصوصی پروگرام ہوتا تھا، مہتمم صاحب اس پروگرام میں بہ نفس نفیس حاضر رہتے اور ممتاز طلبہ کو ہدایا وتحائف سے نوازتے۔ایک موقع پر ہمارے رفیق جانی مفتی منظم نعیمی ازہری کو نمایاں کارکردگی دکھانے پر صدرالافاضل کی اطیب البیان فی رد تقویۃ الایمان سے نوازا تھا۔اس کے علاوہ بھی مختلف اوقات میں طلبہ کی کسی نہ کسی طور حوصلہ افزائی کرتے رہتے تھے۔

تکیہ کلام

چُنّا چودھری !!
یہ مہتمم صاحب کا تکیہ کلام تھا۔کسی طالب علم کی عزت افزائی اور اپنائیت جتانے کے لیے "چُنـا چودھری” نہایت عزت دارانہ جملہ مانا جاتا تھا۔طلباے نعیمیہ کے درمیان یہ تکریمی خطاب مہتمم صاحب کی شناخت وپہچان اور ان کے حق میں محفوظ تھا۔اس تکیہ کلام کی بنیادی وجہ تو معلوم نہیں، شاید اس کی وجہ یہ رہی ہو کہ جامعہ نعیمیہ کے متصل لال باغ میں چُنـّا ہوٹل ہوا کرتا تھا۔جو اپنے مالک کے نام سے منسوب تھا شاید اسی ہوٹل مالک کے کسی کارنامے سے متاثر ہوکر مہتمم صاحب نے لفظ چُنـا مستعار لیا اور اس پر چودھری کا لاحقہ لگا کر چُنـا چودھری بنا دیا۔اس طرح نعیمیہ میں یہ تکیہ کلام وقت کے ساتھ پروان چڑھتا چلا گیا۔نعیمیہ کے جملہ طلبہ مہتمم صاحب کے تکیہ کلام سے خوب واقف تھے۔اس لیے جب بھی، ہاں بھئی چنـّا چودھری! کہاں جارہےہو/کہاں سے آرہے ہو/کیا کر رہے ہو، جیسے جملے نعیمیہ کی ہواؤں میں گردش کرتے تو سارے طلبہ سمجھ جاتے کہ اس وقت مہتمم صاحب اچھے موڈ میں ہیں۔بس یہی وقت ہوتا جب طلبہ چھٹی لینے اور کھانے کی پرچی بنوانے جیسے کام نپٹانے میں لگ جاتے تھے۔

صفائی پسند

مہتمم صاحب اعلی درجے کے صفائی پسند تھے۔طلبہ کے کمرے ہوں یا ہاسٹل کا باہری حصہ، اگر ذرا سی گندگی نظر آتی تو ڈانٹ پڑنا لازمی تھی۔جامعہ نعیمیہ میں یومیہ صفائی کے لیے sweeper کی تعیناتی تھی مگر مہتمم صاحب اس کے طریقہ صفائی سے مطمئن نہیں ہوتے تھے۔باضابطہ اس کے ساتھ رہ کر اپنی نگرانی میں صفائی کراتے تھے۔کبھی کبھار ایسا ہوتا کہ کسی وجہ سے مہتمم صاحب موجود نہ ہوتے تو sweeper کو بھی قدرے سکون ملتا کہ چلو آج حضرت موجود نہیں ہیں۔طلبہ آئے دن اس کا مشاہدہ کرتے تھے۔اس لیے کبھی کبھار ہنسی مذاق میں بعض طلبہ لطف لینے کے لیے sweeper کو چَڑھاتے کہ مہتمم صاحب بڑے سخت مزاج ہیں تم سے کئی لوگوں کے برابر کام لیتے ہیں اور تنخواہ ایک کے برابر بھی نہیں دیتے، تم مہتمم صاحب سے اپنی تنخواہ بڑھواؤ، بھلا تمہارے جیسا sweeper کہاں ملے گا؟
اسے لگتا کہ طلبہ ہمدردی کر رہے ہیں، بس جیسے ہی مہتمم صاحب ملتے تنخواہ بڑھانے کا مطالبہ کردیا جاتا اور مہتمم صاحب sweeper کی جم کر کلاس لگاتے۔طلبہ کی شرارتوں کا دائرہ sweeper کے علاوہ جامعہ کے چوکی دار تک بھی پہنچا ہوا تھا۔وہ چوکی دار بھی غضب کے تھے، کہنے کو جامعہ کی چوکی داری کرتے تھے لیکن صحیح معنی میں اُنہیں اپنی دیکھ بھال کے لیے خود ایک چوکی دار کی ضرورت تھی مگر طلبہ اُن سے بھی خوش طبعی کرتے کہ آپ کس قدر محنتی اور فعال چوکی دار ہیں مگر آپ کی تن خواہ کس قدر کم ہے، جب کہ مرادآباد میں چوکی داروں کو آپ سے تین گنا زیادہ تن خواہ ملتی ہے۔آپ پہلی فرصت میں مہتمم صاحب سے تن خواہ بڑھانے کا مطالبہ کریں۔بس چوکی دار صاحب جوش میں آجاتے اور موقع ملتے ہی مہتمم صاحب سے تن خواہ بڑھانے کا مطالبہ کر بیٹھتے اور حسب توقع مہتمم صاحب ان کی ایسی ضیافت فرماتے کہ اگلے کئی دنوں تک وہ مہتمم صاحب کے سائے سے بھی بھاگتے۔

مہتمم صاحب ہفتے عشرے میں بعد عصر طلبا کو جمع کرتے، صفائی ستھرائی کی افادیت اور اس کی سماجی اہمیت پر روشنی ڈالتے۔اس موقع پر تقریباً یہ جملے ضرور ادا فرماتے:
"صفائی ستھرائی کی اہمیت سبھی جانتے ہیں مگر اس پر عمل بہت کم لوگ کرتے ہیں۔جانتے ہو کیوں؟
کیوں عمل اسی وقت ہوتا جب کسی کام کی عادت بن جائے اس لیے تم لوگ بھی ابھی سے صفائی ستھرائی کی عادت بنا لو ورنہ کتنے ہی بڑے علامہ فہامہ بن جاؤ مگر رہوگے ایسے ہی! میں نے کتنے ہی بڑے بڑے مولویوں کو دیکھا ہے کہ جن کے علم وفن کے بڑے چرچے ہوتے ہیں مگر جب ان کی رہائش گاہ دیکھی تو ایسی ہی نکلیں جیسے تمہاری ہوتی ہیں، چادر کہیں، تکیہ پھٹا ہوا، بستر سکڑا ہوا، کمرے میں جالے وغیرہ وغیرہ۔اب بتاؤ اگر کوئی ان کی رہائش گاہ دیکھ لے تو کیا تاثر لے گا؟ اس لیے ابھی سے صفائی ستھرائی کو اپنی عادت کا حصہ بنالو ورنہ بعد میں بھی کوڑھی کے کوڑھی ہی رہوگے۔”

بعد فراغت نیا روپ ہوتا

زمانہ طالب علمی میں مہتمم صاحب جتنی ڈانٹ ڈپٹ کرتے فراغت کے بعد وہ سختی ایک دم غائب ہوجاتی اور ایک الگ ہی شخصیت سامنے آتی۔فراغت کے بعد طلبہ کو نام سے پکارنا بند کردیتے نام سے پہلے مولانا لازمی لگاتے۔فارغین طلبہ سے ملتے تو نہایت محبت و اپنائیت سے پیش آتے۔گھر کے حال چال پوچھتے، چائے ناشتے اور کھانے کا خصوصی خیال رکھتے۔ان کی ذمہ داریوں کی بابت دریافت کرتے اور اخلاص سے کام کرنے کی نصیحتیں کرتے۔مختلف علما کی مثالیں سناتے کہ فلاں فلاں نے کیسے کیسے نامساعد حالات میں کام کیا۔مشکلات اٹھائیں مگر تعلیم دین اور تبلیغ اسلام کی خاطر دل جمعی سے کام کرتے رہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے انہیں عزت ودولت سے خوب نوازا ،اس لیے کبھی بھی محض روپے پیسے کے لیے کام مت کرنا بلکہ اپنا کام خدمت کے جذبے کے تحت کرنا تاکہ اخلاص بنا رہے اور کام میں برکتوں کا ظہور ہو۔
جن طلبہ سے گہری شناسائی ہوتی یا ان کی علمی ودینی خدمات سے متاثر ہوتے انہیں گاہے گاہے فون بھی کرتے۔ حال چال اور ان کے دینی وعلمی کاموں کی رودداد بھی پوچھتے ۔مگر اپنے مزاج کی طرح چند لفظوں میں ہی خیریت،حال چال اور متعلقہ دینی وعلمی کام کی رودداد پوچھ لیتے اور بات ختم ہوجاتی۔انداز کچھ اس طرح ہوتا تھا:
السلام علیکم،
محمد یامین نعیمی بات کر رہا ہوں۔
ہاں بھئی،سب خیر وعافیت ہے؟
اور بچے وغیرہ ٹھیک ٹھاک ہیں؟
اور سناؤ آج کل کیا کام چل رہا ہے؟
نعیمیہ کب آرہے ہو؟
آؤ تو اپنا مسودہ لیتے آنا ،میں بھی ایک نظر دیکھ لوں۔اچھا اپنا خیال رکھنا السلام علیکم۔

میں کبھی کبھی سوچتا کہ مہتمم صاحب اتنے کم لفظوں میں اپنا مافی الضمیر کس طرح ادا کرلیتے ہیں؟
کئی بار کوشش کی کہ ہم بھی اسی طرح کرکے دیکھتے ہیں لیکن ناکام رہے کہ ہم بہرحال تکنیکی دور کے سست انسان ہیں اور اور وہ اِس دور میں کتابی آدمی تھے جن کے نزدیک وقت ایک نہایت قیمتی شے تھا۔

وقت کی پابندی

وقت زندگی کی طرح اللہ تعالیٰ کی بیش بہا نعمت ہے۔وقت کی پابندی اور اس کی قدر رب کی شکر گزاری ہے۔جو لوگ وقت کی قدر نہیں کرتے وہ ہمیشہ نقصان اٹھاتے ہیں۔حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا:
نِعْمَتَانِ مَغْبُونٌ فِیْہِمَا کَثِیْرٌ مِنَ النَّاسِ: الصِّحَّۃُ وَالْفَرَاغُ۔
’’دو نعمتیں ایسی ہیں کہ جن میں بہت سارے لوگ گھاٹے میں رہتے ہیں۔اور وہ ہیں صحت اور فراغت۔‘‘
(صحیح البخاری :6412)
یعنی زیادہ تر لوگ یہ دو نعمتیں پاکر بھی ان سے پورا فائدہ نہیں اٹھا پاتے اور اپنی سستی وکاہلی سے وقت اور صحت کو یوں ہی بے کار کے کامون میں ضائع کر دیتے ہیں۔
مہتمم صاحب نے گویا وقت کو اپنے حساب سے سیٹ کیا ہوا تھا۔ہر کام متعین وقت پر بہ آسانی پورا کرلیا کرتے تھے۔یہ محض مبالغہ یا استاذ سے محبت نہیں بلکہ حقیقت ہے، وقت کی پابندی کرنے میں اپنی مثال آپ تھے۔وقت پر درس گاہ لگواتے، وقت پر اٹھتے، اٹھتے ہی طلبہ کو نماز کے لیے آواز لگاتے۔نماز کے فوراً بعد کھانا کھاتے، کھانے کے بعد قدرے قیلولہ کرتے اور اس کے بعد اپنے مکتبے کے کام میں مصروف ہوجاتے۔اس درمیان عصر کا وقت آجاتا تو پھر نماز کے لیے آواز لگاتے اور موقع ملنے پر دوڑاتے بھی، اگر موڈ ہوتا تو نماز کے بعد طلبہ کو جمع کرتے اور مختلف نصیحتیں فرماتے۔کبھی کوئی طالب علم اپنی مسجد آنے کی دعوت دیتا تو بعد مغرب جامعہ سے نکلتے اور کوشش کرتے کہ عشا کی نماز جامعہ ہی میں ادا فرمائیں۔

پابندی وقت کی مثال

مہتمم صاحب کے اوقات کس قدر متعین اور طے شدہ ہوتے تھے اس کا اندازہ ایک مثال سے لگائیں؛ مہتمم صاحب کا معمول تھا کہ آپ روزانہ اپنے گھرسنبھل تشریف لے جاتے تھے۔سنبھل اور مرادآباد کے درمیان قریب ۳۰؍کلومیٹر کا فاصلہ ہے۔دسمبر اور جنوری کی سردیوں میں رات دس بجے تک آپ طلبہ سے پڑھائی کراتے۔دس بجے کے بعد جامعہ سے گھر کے لیے نکلتے۔بس اڈہ جامعہ سے تقریباً ایک کلومیٹر کی دوری پر ہے ،وہاں تک رکشہ سے جاتے اور وہاں سے بس پکڑ کر سنبھل پہنچ جاتے۔مہتمم صاحب کے جاتے ہی طلبہ بے فکر ہوجاتے اور مختلف قسم کی مکالمہ مباحثہ کی محفلیں سج جاتیں جو دیر گیے رات تک جاری رہتیں۔تھک جاتے تو بستر میں جاپڑتے۔نیند کا ایک آدھ ہی دور نکلا ہوتا کہ مہتمم صاحب نعیمیہ میں وارد ہوجاتے۔طلبہ مستی کی نیند میں سو رہے ہوتے تھے کہ مہتمم صاحب کی نیند بھگاؤ مہم شروع ہوجاتی۔ہاسٹل کے کسی بھی گوشے میں غیر معمولی چہل پہل سے ہی سارے طلبہ سمجھ جاتے کہ مہتمم صاحب واپس تشریف لا چکے ہیں۔یہ مہتمم صاحب کا یومیہ معمول تھا ،رات دس بجے جامعہ سے سنبھل جانا اور تڑکے پانچ چھ بجے سنبھل سے جامعہ واپس آنا۔اب ایک طرف تو طلباے نعیمیہ آپ کے شیڈول سے پریشان رہتے تھے کہ حضرت ابھی تو گیے ہی تھے، سکون کی سانس تک بھی نہ لے پائے تھے کہ تڑکے میں ہی پھر نمودار ہوگیے،ادھر آپ کے گھر میں بھی تقریباً یہی صورت حال ہوتی تھی،آپ کے بڑے صاحب زادے محترم ضیا اشرف نعیمی بیان کرتے ہیں:
"ابا رات کو گیارہ بارہ بجے گھر پہنچتے۔پہنچتے ہی مکتبے کا حساب وکتاب چیک کرتے،کتابوں کی فہرست بنواتے،چیک کرتے، آئے ہوئے خطوط پڑھتے ان کے جواب لکھتے اور ان پر ایڈریس وغیرہ لکھوا کر پوسٹ کرنے کی تاکید کرتے۔مختلف مقامات کے آئے ہوئے آرڈر چیک کرتے کتابوں کے بنڈل پیک کراتے اور ان سارے کاموں سے فارغ ہوتے تو کہتے جاؤ اب آرام کرلو۔اس طرح رات کو ایک ایک دو بجے چھٹی ملتی۔بہ مشکل دو ڈھائی گھنٹے سو پاتے کہ ابا پھر اٹھا دیتے کہ چلو مجھے بس اڈے تک پہنچا کر آؤ۔اس طرح میں ابا کی کتابیں اٹھاتا اور انہیں بس میں بٹھا کر آتا،تب کہیں جاکر بے فکری سے لیٹ پاتا۔”
ذرا سوچئے!
جنوری کی سرد راتوں میں،جب اچھے اچھوں کی گھر سے باہر نکلنے کی ہمت نہیں ہوتی تب مہتمم صاحب کا گھر جانا یومیہ معمول تھا۔گھر جائیں سو جائیں اچھا ہے مگر گھر جاکر کام کرنا اور بیٹوں کو کام میں لگانا،پھر مختصر سا آرام کرکے واپس بستر چھوڑنا کس قدر مشکل کام ہے۔ہم جیسے جوان بھی رات کو چار پانچ بجے بستر چھوڑنے کے بارے میں دس نہیں سو بار سوچیں گے مگر مہتمم صاحب عجیب ہی مزاج کے تھے جسے لوگ سوچنے میں وقت لگائیں وہ اسے اس طرح کر گزرتے تھے جیسے کوئی بات ہی نہیں تھی۔

صدرالافاضل سیمینار و کانفرنس

سال 2013 چل رہا تھا، سال کے اخیر میں ہماری شادی متوقع تھی، ارادہ تھا کہ شادی کے بعد حضرت صدرالافاضل کی حیات و خدمات پر ایک سیمینار و کانفرنس کریں گے۔اس حوالے سے برادر گرامی محمد زبیر قادری(ایڈیٹر افکار رضا ممبئی) سے بات ہوئی تو انہوں نے کہا کہ یہ کام شادی سے پہلے ہی کرلو، شادی کے بعد مصروفیت بڑھ جائے گی تو اس طرح کے کام میں بہت دقت ہوگی۔زبیر بھائی شادی شدہ اور پرانے تجربہ کار تھے اس لیے ان کی رائے مناسب لگی اور ہم نے اپنے رفیق جانی مفتی منظم نعیمی ازہری کے ہمراہ مرادآباد پہنچ کر اساتذہ نعیمیہ سے اپنے ارادے کا اظہار کیا۔جسے اساتذہ کرام نے بہ صد خلوص قبول فرمایا اور اپنے مکمل تعاون کا یقین دلایا۔اس وقت مہتمم صاحب کی خوشی دیدنی تھی کہ آپ کی عرصہ دراز سے خواہش تھی کہ صدرالافاضل پر شایان شان تحریری کام ہو مگر؛

اے رضا ہر کام کا ایک وقت ہے

اب جب یہ لمحہ آیا تو مہتمم صاحب جذباتی ہوگیے اور اپنی خوشی کا اظہار کرتے ہوئے یوں کہا:
"میں نعیمیہ میں آیا تو جوان تھا، اس وقت سے سوچتا تھا کہ یہاں ایسے طلبہ تیار ہوں جو صدرالافاضل پر کام کریں مگر میرا انتظار لمبا ہوتا گیا حتی کہ جوانی رخصت ہوئی بڑھاپا آگیا مگر خواب ادھورا رہا، اب تو یہ سوچنے لگا تھا کہ پتا نہیں میری زندگی میں یہ خواب پورا ہوگا کہ نہیں، آج میں بے حد خوش ہوں کہ دیر سے ہی سہی میرا دیرینہ خواب پورا ہورہا ہے۔”

اس پروگرام میں مہمان خصوصی کی حیثیت سے نبیرہ اعلی حضرت تاج الشریعہ مفتی اختر رضا قادری علیہ الرحمہ اور دیگر اہم مندوبین میں محدث کبیر علامہ ضیاء المصطفے قادری، مولانا آفتاب قاسم ساؤتھ افریقہ، حضرت سید اشرف میاں کچھوچھوی، اور ہمارے مہربان بھائی مفتی شعیب نعیمی رحمہ اللہ بھی شامل تھے۔ابتدائے کار سے اختتام سیمینار و کانفرنس تک مہتمم صاحب نے جس اپنائیت کے ساتھ ہمارا ساتھ دیا، جس طرح ہماری سرپرستی کی وہ ایک طویل داستان ہے جسے ان شاء اللہ بہ فرصت لکھوں گا لیکن سر دست اتنا ضرور کہوں گا کہ اس اہم پروگرام کی کامیابی میں مہتمم صاحب اور أستاذ گرامی مفتی محمد سلیمان نعیمی(نائب پرنسپل جامعہ نعیمیہ) ہمارے سر پر ایک شفیق باپ کی طرح موجود رہے جس کی بنا پر اتنا بڑا علمی پروگرام کس طرح ہوگیا پتا ہی نہیں چلا۔آج جب پلٹ کر اس پروگرام کی جانب دیکھتا ہوں تو سوچتا ہوں کہ ایک نوعمر لڑکا کس طرح اتنا بڑا پروگرام کرنے میں کامیاب ہوگیا تو بے اختیار دل سے جواب آتا ہے کہ یہ مخلص اساتذہ کی سرپرستی کا ثمرہ ہے جب سر پر ایسے مخلص مہربان ہوں تو بچوں کو کامیاب ہونے سے بھلا کون روک سکتا ہے۔

ایک خواہش جو ادھوری رہ گئی

مہتمم صاحب کی بڑی تمنا رہتی تھی کہ جب بھی کچھ لکھوں پہلی فرصت میں مہتمم صاحب کو دکھاؤں۔جب فروری 2021 کو میرے مضامین پر مشتمل کتابیں "ہمارے عہد کا بھارت اور منزلوں کے نشاں” منظر عام پر آئیں تو ارادہ کیا کہ جلد ہی کچھ سیٹ لیکر نعیمیہ حاضر ہوں اور اساتذہ کی خدمت میں پیش کروں۔ابھی سوچ ہی رہا تھا کہ مہتمم صاحب کا فون آگیا۔حسب روایت علیک سلیک کے بعد سیدھا پوچھا:
"سنا ہے تمہاری دو کتابیں شائع ہوئی ہیں؟
عرض کیا جی، فرمایا؛
اچھا دونوں کتابوں کا ایک ایک سیٹ ضیا(فرزند اکبر)کے ہاتھ بھجوا دو۔
عرض کیا، میں خود لیکر حاضر ہوتا ہوں۔فرمایا ٹھیک ہے اور لگاتار لکھو اب آرام کا وقت نہیں ہے۔اللہ تعالیٰ تمہیں خوب نوازے، السلام علیکم.

یہ آخری بات تھی جو مہتمم صاحب سے ہوئی اس کے بعد یہ آواز سننے کو کان ترس گیے اور مہتمم صاحب کو اپنی کتابیں دکھانے کی خواہش بھی ادھوری ہی رہ گئی۔یہ خواہش بھلے ہی ادھوری رہ گئی لیکن آپ کی خواہش پر کام کی رفتار کو کم نہیں ہونے دیا بلکہ بڑھا دیا ہے۔اللہ کریم مجھ ناتواں کو مہتمم صاحب کی خواہش پوری کرنے کی قوت وتوفیق عطا فرمائے۔

کامیاب زندگی

مہتمم صاحب نے ہر لحاظ سے ایک کامیاب اور قابل رشک زندگی گزاری۔آپ کے وصال کو ایک سال ہونے کو آیا مگر اب بھی ایسا لگتا ہے کہ آپ نعیمیہ میں موجود ہیں اور آج کل میں ہی ان کا فون آئے گا، حال چال اور تحریری کاموں کے متعلق پوچھیں گے مگر افسوس آپ اس سفر پر روانہ ہوگیے ہیں جہاں سے کوئی واپس نہیں آتا مگر سکون اس بات کا ہے کہ آپ بھلے ہی رخصت ہوگئے مگر اپنے پیچھے ایک روشن قندیل چھوڑ گیے ہیں جو زمانے کو راستہ دکھاتی رہے گی۔

آں ہا کہ سبق ز شمع آموختہ اند
خود سوختہ وبزم بر افروختہ اند

وہ لوگ جنہوں نے شمع سے سبق پڑھا
خود بھلے ہی جل گیے مگر بزم کو روشن کر گیے۔