متفرقات

طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کی پریس کانفرنس: نشہ آور چیزوں پر مکمل پابندی کے ساتھ خواتین اور صحافت کو مکمل آزاد رکھا جائے گا، مگر شریعت سے سمجھوتہ نہیں!

اگر ہم فورا فورا پورے ملک پر کنٹرول نہ حاصل کرتے تو ہمارے بہت سے لوگ مارے جاتے: طالبان پریس کانفرنس
حکومت بننے دیں سب کچھ کلیئر ہوجائے گا
ہم سارے ہتھیار جمع کریں گے، سرحدوں سے اسمگلنگ ناممکن بنائیں گے : طالبان پریس کانفرنس
بین الاقوامی میڈیا والوں کو زیادہ سوالات کا موقع دیں : پریس کانفرنس میں طالبان رہنما
ہم جلد ہی ایک سنجیدہ حکومت بنانا چاہتے ہیں : طالبان پریس کانفرنس
تین دن سے ہمارا کابل پر کنٹرول ہے ایک بھی قتل یا اغوا کی واردات نہیں: طالبان پریس کانفرنس
ہم سیکیورٹی اہلکاروں کو لگائیں گے، لوگ ملک چھوڑیں نہیں، یہ ہمارا ملک ہے، ملک کر بہتر بنائیں گے : طالبان
ہم بچوں کو نشے سے بچائیں گے، دوسری فصلیں اگائی گے: طالبان
یقین کریں، ہم کوئی نشہ آور چیز نہ بنائیں گے نہ پیدا کریں گے نہ بیچیں گے، پہلے بھی ہم نے پابندی لگائی تھی: طالبان پریس کانفرنس
خواتین نوکریاں کرسکیں گی، بس اسلامی طور طریقوں سے رہنا ہوگا، ان کی ضرورت ہے : طالبان پریس کانفرنس
میڈیا میں خواتین کی نوکریوں پر غور ہورہا ہے، اسلامی پہناوے میں اجازت کی گنجائش کی امید ہے : طالبان پریس کانفرنس
ہم مضبوط اسلامی نظام قائم کریں گے، علماء سے مشورہ کررہے ہیں، اعلان کا انتظار کریں : طالبان پریس کانفرنس
ذبیح اللہ مجاہد پہلی بار بنا نقاب کے میڈیا کے سامنے آئے تھے، پریس کانفرنس ختم
نشے سے مستقبل خراب ہوتا ہے : طالبان پریس کانفرنس
پرانے سیاستدانوں کے رابطے کے سوال پر طالبان کا جواب سب سے مشورہ ہوگا
ہم سب سے اچھے رشتے رکھنا چاہیں گے، تاکہ معیشت بہتر ہو: طالبان پریس کانفرنس
‏افغانستان کی سرزمین کسی کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ دنیا اور تمام ہمسائیوں کو یقین دلاتے ہیں کہ افغان سرزمین کو کسی بیرونی ملک کے خلاف استعمال نہیں کیا جائے گا۔ ذبیح اللہ مجاہد
‏طالبان کسی سے دشمنی نہیں رکھتے
امیر المومنین کے حکم پر سب کو معاف کر دیا ہے۔سابق فوجی ارکان اور غیر ملکی افواج کے ساتھ بطور مترجم یا کوئی اور کام کرنے والوں سمیت کسی سے انتقام نہیں لیں گے۔کوئی بھی ان کے گھر کی تلاشی نہیں لے گا۔
طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد
‏ہماری بہنوں اور ہماری عورتوں کو یکساں حقوق حاصل ہیں۔ تعلیم، صحت اور دیگر تمام شعبوں میں وہ ہمارے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کام کرنے والی ہیں۔ خواتین کے ساتھ کوئی امتیازی سلوک نہیں ہوگا لیکن یہ سب اسلامی اصولوں کے مطابق ہوگا۔ ذبیح اللہ مجاہد
‏ہم توقع کرتے ہیں کہ بین الاقوامی برادری ہم سے براہ راست بات کرے گی۔ انھیں ہمارے مذہبی اصولوں کا احترام کرنا ہوگا کیونکہ اس کے لیے بہت قربانیاں دی گئی ہیں۔
ذبیح اللہ مجاہدترجمان

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے