اصلاح معاشرہ

تضیع اوقات ایک اختیار کردہ نحوست، وقت کا صحیح استعمال کریں

اللہ تعالیٰ نے ہمیں اشرف المخلوقات بنایا اور اپنے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کا امتی اور غلام بنایا اور ہمارے لئے اس دنیا میں ہر قسم کی نعمتیں پیدا کئے،ان نعمتوں میں سے ایک عظیم نعمت وقت بھی ہے،یہ ایک ایسا قیمتی متاع ہے کہ اس کی ضرورت زندگی کے ہر شعبہ میں مسلم ہے،حضوراقدس صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان عالی کافی ہے کہ پانچ چیزوں کو پانچ چیزوں سے پہلے غنیمت جانو!جوانی کو بڑھاپے سے پہلے،صحت کو بیماری سے پہلے،مال داری کوتنگدستی سے پہلے،فرصت کو مصروفیت سے پہلے اور زندگی کو موت سے پہلے۔

اس بات میں کوئی شک نہیں کہ انسان کے پاس سب سے قیمتی چیز وقت ہے، ہم اپنے اعمال اور کوششوں سے جو کچھ بھی حاصل کرنا چاہتے ہیں،اس کے حصول کا راز وقت کے صحیح استعمال میں موجود ہے،وقت کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے کیا جاسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے کلام قرآن حکیم کے ایک سورہ مبارکہ کا نام ہی العصر یعنی زمانہ یا وقت ہے،اللہ تعالیٰ نے فرمایا، اس زمانہ محبوب کی قسم: بیشک آدمی ضرور نقصان میں ہے، مگر جو ایمان لائے اور اچھے کام کئے اور ایک دوسرے کو حق کی تاکید کی اور ایک دوسرے کو صبر کی وصیت کی۔یہ سورہ مبارکہ ہمیں دعوت عمل دے رہی ہے کہ ہم اپنی زندگی اور وقت کی اہمیت کو سمجھیں اور زندگی اس طرح گزاریں کہ ہم صاحب ایمان ہوں، سنتوں پر عمل پیرا ہوں اور نیکی کی طرف بلانے والے ہوں اگر اس طرح ہماری زندگی گزرتی ہے تو اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے محروم نہیں ہوں گے۔ افسوس ہے کہ آج ہمارے نزدیک سب سے سستی اور بے قیمت چیز وقت ہوچکا ہے،اس کی قدر و قیمت کو ہم قطعاً محسوس نہیں کرتے غیر ضروری کاموں اور باتوں میں ہم اپنا وقت گذارا کرتے ہیں،ہمارا کتنا ہی وقت ایک دوسرے پر نکتہ چینی اور بہتان، ایک دوسرے کی غیبت کرتے ہوئے گذرجاتا ہے۔وقت بڑی قیمتی دولت ہے، اس سے جو فائدہ حاصل کیا جا سکتا ہے، وہ کر لیا جائے،حضوراقدس صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں صحت اور فراغت دو ایسی عظیم نعمتیں ہیں، جن کے سلسلہ میں بے شمار لوگ خسارہ میں رہتے ہیں اس لیے بعد میں پچھتانے سے یہ بہتر ہے کہ انسان آج ہی قدرکر لے۔اگر ہم اپنے اسلاف کی مقدس زندگیوں کا مطالعہ کریں تو اندازہ ہوگا کہ وہ وقت کی بہت قدر کیا کرتے اور کس انداز میں وقت کی قدر کرنے کی تاکید فرمائی ہے،مولائے کائنات سیدنا علی المرتضیٰ ؓ فرماتے ہیں یہ ایام تمہاری زندگی کے صفحات ہیں ان کو اچھے اعمال سے زینت بخشو۔ایک مرتبہ حضرت عمر بن عبدالعزیز ؓ سے کہا گیا،اے امیرالمومنین! یہ کام آپ کل کرلیں،فرمایا میں روزانہ کا کام ایک دن میں بمشکل مکمل کرپاتاہوں، اگر آج کاکام بھی کل پرچھوڑ دوں گاتو پھر دو دن کا کام ایک دن میں کیسے کر پاؤں گا۔حضرت امام شافعی ؓ فرماتے ہیں اہل اللہ کی صحبت سے سیکھنے کو ملی کہ وقت دودھاری تلوار ہے، اگر تم نے اسے نہ کاٹا، وہ تمہیں کاٹ ڈالے گی۔حضرت امام رازی ؒ نے فرمایا وقت نہایت ہی قیمتی دولت ہے۔حضرت سلیم رازی ؒ کا قلم جب لکھتے لکھتے گھس جاتا تو نوک تراشنے کے وقت ذکر الٰہی شروع کردیتے تاکہ یہ وقت صرف قلم کی نوک تراشنے میں خرچ نہ ہو،حضرت شمس الدین اصبہانی ؒ اس خوف سے کھانا کم کھاتے کہ زیادہ کھانے کی وجہ سے بار بار بیت الخلاء جانا پڑے گا اور وقت ضائع ہوگا۔حضرت خطیب بغدادی ؒ راستہ چلتے ہوئے بھی مطالعہ جاری رکھتے تاکہ صرف چلنے میں وقت ضائع نہ ہو۔

انسان کے عقل وشعور کا تقاضہ یہ ہے کہ وہ اس فانی زندگی میں حاصل ہونے والے لمحات کو بہت توجہ کے ساتھ گذارے،مرنے سے قبل زندگی میں ملنے والے وقت کو غنیمت سمجھے اور اس بات کو ذہن میں رکھے کہ کل قیامت کے دن اس وقت کا حساب ہوگا،اس سے اس بارے میں باز پرس ہو گی اور اسے اپنے ہر ہر قول و فعل کا جواب دینا ہے،کل نہ معلوم کس بیماری کا شکار ہو نا پڑجائے، آج زندگی ہے، کل منوں مٹی کے نیچے مد فون ہونا ہے، آج فر صت ہے کل نہ معلوم کتنی مشغولیتیں در پیش ہو جائیں۔

۞ مولانا ممشاد پاشاہ قادری کا جمعہ میں خطاب کا نچوڑ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے