ملک کی موجودہ صورتحال اور ہمارا طرز عمل

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

از قلم: محمد احمد حسن سعدی امجدی

15 اگست 1947 کو وطن عزیز ہندوستان بے شمار قربانیوں کے بعد انگریزوں کے چنگل سے آزاد ہوا، اس وقت ہندوستان میں مختلف مذاہب کے ماننے والے موجود تھے ،لہذا وطن کو ضرورت تھی ایک ایسے قانون کی جو ہر مذہب کے ماننے والوں کو مذہبی معاملات میں مکمل طور سے آزادی فراہم کر سکے، جس کے ذریعے ہر شخص ملک کی کھلی فضا میں آزادانہ طور پر سانس لے سکے، پھر ایک ڈرافٹنگ کمیٹی تشکیل دی گئی اور 26 جنوری 1950 کو کانسٹی یوشن آف انڈیا کے نام سے گنگا جمنی تہذیب کو سامنے رکھ کر ہندوستان کا قانون عمل میں آیا اور پوری دنیا میں بھارت کے جمہوری ملک ہونےکا اعلان کیا گیا ، اس کے بعد ہر مذہب کے پیروکار بھارت میں کھل کر زندگی گزارنے لگے کسی پر کوئی پابندی اور کوئی زبردستی نہیں تھی، اور یہی ہمارے ملک کی خوبصورتی ہے۔

لیکن اگر موجودہ صورتحال کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوگا کہ اس وقت ہندوستان کی حالت ٹھیک نہیں ہے، آئے دن شرپسند عناصر کے ذریعہ مسلمانوں اور دوسری اقلیتوں پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے جا رہے ہیں، ہجومی تشدد کے معاملات بڑھتے ہی جا رہے ہیں اور 2014 کے بعد سے ملک کے گوشے گوشے میں ماب لنچنگ کے بے شمار واقعات سامنے آئے، ایک رپورٹ کے مطابق گزشتہ سات سالوں میں ہجومی تشدد کے ڈھائی سو سے زائد معاملے سامنے آئے، جن میں 90 فی صد سے زیادہ مسلمانوں کو نشانہ بنایا گیاہے ، لنچنگ کے واقعات میں سے چند دردناک واقعات آپ کے سامنے پیش کرتا ہوں۔

1 اپریل 2017 کو راجستھان کے پہلو خان کو گائے فروشی کے نام بعض انتہا پسند ہندؤوں نے خوب پیٹا اور دو دنوں کے بعد اس بےچارے مظلوم کی ہسپتال میں موت ہوگئی، مقدمے کے بعد ملزمین کو گرفتار تو کیا گیا لیکن سال دو سال کے بعد تمام ملازمین کو آزاد کر دیا گیا ۔
اسی طرح جھارکھنڈ میں 17 جون 2019 کو تبریز انصاری کو چوری کے الزام میں چند لوگوں نے کھمبے سے باندھ خوب مارا اور افسوس کی اس سے جۓ شری رام کے نعرے بھی لگوائے گئے اور اس انسانیت سوز ظلم کا ننگا ناچ سوشل میڈیا پر نشر کیا گیا،پھر 21 جون کو اس بیچارے مظلوم نے بھی اپنی آخری سانسیں لی ، میں پوچھنا چاہتا ہوں کہ اگر اس نے چوری کی تھی تو اس سے مذہبی نعرے لگوانے کی کیا ضرورت ؟ یہ نعرے بیان کر رہے ہیں کہ اس کو چوری کے جرم میں نہیں بلکہ مسلمان ہونے کے جرم میں مارا گیا، اس کیس کے تمام ملزمین کو بھی گرفتار کیا گیا اور بعد میں تمام لوگوں کو آزاد کر دیا گیا۔
کیا یہی ہندوستان کی گنگا جمنی تہذیب ہے؟ کہ مسلمانوں سے شری رام کے نعرے لگوائے جائیں اور پھر انہیں موت کے گھاٹ اتار دیا جائے، لیکن افسوس کہ ایسے واقعات مسلسل پیش آرہے ہیں لیکن حکومت اور بھارتی میڈیا اس پر خاموش ہے ، ابھی حالیہ دنوں اندور میں لنچنگ کا ایک اور واقعہ پیش آیا جس میں سڑک پر چوڑی بیچنے والے غریب مسلمان تسلیم علی سے پہلے اس کا نام پوچھا گیا اور پھر بعض ہندو دہشت گردوں نے اسے خوب مارا پیٹا اور اس علاقے میں دوبارہ نظر نہ آنے کی دھمکی دی اس طرح کے سارے واقعات موجودہ حکومت اور انتظامیہ کے منہ پر زور دار طمانچہ ہیں، ایسے واقعات ہمارے ملک کے امن وامان کو نقصان پہنچا رہے ہیں لہذا حکومت کو چاہیے کہ اس پر ٹھوس اقدامات کریں لیکن اس کے خلاف ابھی تک حکومت کا کوئی رد عمل سامنے نہیں آیا۔

اور اس وقت ٹی وی چینلز پر جیسے کوئی مہم چل رہی ہو ، جب بھی مسلمانوں کی کوئی بات ہوتی ہے یا کوئی معاملہ سامنے آتا ہے تو اسے فورا لفظ جہاد سے جوڑ کر پیش کیا جاتا ہے مدارس اسلامیہ کی دینی تعلیم کو جہادی تعلیم، ہمارے اسلامی لباس کو جہادی لباس ،یہاں تک کہ آپ کو معلوم ہوگا کہ کرونا کے آغاز میں جب پوری دنیا کرونا کے نام کی روک تھام اور اس کے سد باب کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہی تھی لیکن اس وقت بھی ہندوستان میں مذہب کا چولا اوڈھے بھارتی میڈیا، موجودہ مرکزی حکومت اور صوبائی حکومت نے کھل کر اپنی اسلام اور مسلم دشمنی کا مظاہرہ کیا اور تبلیغی جماعت کے حوالے سے افواہیں اُڑائیں اور اس پورے مسئلہ کو کرونا جہاد کے نام سے متعارف کروایا ۔

اس کے علاوہ ایک بات جو ابھی تک مجھے سمجھ میں نہیں آئی کہ 20 نومبر 2020 کو یوگی حکومت نے راجیہ سبھا میں لو جہاد کے نام سے ایک قانون پاس کیا اور اس کا مقصد یہ بتایا کہ بہت سے مسلم نوجوان اپنے نام بدل کر ہندو لڑکیوں کو اپنی محبت کے جال میں پھنساتے ہیں اور شادی کے نام پر ان کا دھرم پرورتن یعنی انھیں ان کا مذہب تبدیل کرنے پر مجبور کرتے ہیں، اور اس قانون کے مطابق ایسا کرنے والے پر پچاس ہزار جرمانہ تاہم دس سال کی جیل بھی ہوسکتی ہے ، لیکن اگر اس کو حقیقت پر محمول کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ لو جہاد یہ انھیں کی طرف سے گڑھی گئی ایک اصطلاح ہے، جس کا حقیقت سے کوئی واسطہ ہی نہیں بلکہ معاملہ تو اس کے برعکس ہے، جس تیزی کے ساتھ مسلم بچیوں کے ارتداد کی خبریں سامنے آرہی ہیں اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس کے پیچھے ان کی کوئی مخصوص تنظیم ہے جو نوجوان ہندو لڑکوں کو مسلم بچیوں کا مذہب تبدیل کرانے پر انعام و اکرام سے نوازتی ہے اور اس حوالے سے چند سال قبل جھارکھنڈ ہندو یوا واہنی کی ایک ویڈیو بہت تیزی سے نشر ہورہی تھی جس میں ہندو نوجوانوں کو مسلم لڑکیوں سے شادی کرنے پر چھ مہینے کا راشن اور دو لاکھ روپے دینے کی بات کی جارہی تھی۔
معزز قارئین! ذرا غور کریں کہ مسلم لڑکے اگر ہندو لڑکیوں سے محبت کرکے شادی کریں تو اسے لو جہاد کا نام دیکر اس کے خلاف قانون بنایا جاتا ہے اور ہندو لڑکے مسلم لڑکیوں سے شادی کریں تو اسے گھر واپسی کا نام دے کر ان کا خیر مقدم کیا جاتا ہے ، لیکن پھر بعد میں الہ باد ہائی کورٹ نے اس قانون کو کالعدم قرار دیا۔
مختصر طور یہ سمجھیں کہ جب سے بی جے پی اقتدار میں آئی ہے تب سے ملک کی جمہوریت روزانہ پامال ہو رہی ہے، کسی خاص مذہب یا کسی خاص طبقے کے خلاف زہر اگلنا آسان سا ہو گیا ہے، جو اپنے حقوق کی باتیں کرتا ہے دنگا بھڑکانے کے جرم میں اسے کئی سال جیل میں بند رہنا پڑتا ہے اور دوسری طرف بی جے پی، آر ایس ایس اور دیگر شدت پسند ہندو تنظیموں کے کارکنان کھلے لفظوں میں مسلمانوں کے خلاف کچھ بھی بول دیتے ہیں لیکن پولیس اور انتظامیہ ان کے خلاف کوئی ایکشن نہیں لیتی ۔ اب تو حالات اس قدر ابتر ہو چکے ہیں کہ 8 اگست2021 کو دہلی کے جنتر منتر پر ہمارے خلاف نعرے بازیاں کی گئی جس میں مسلمانوں کو کھلے لفظوں میں کاٹنے کی بات کی گئی ،
ایک جمہوری ملک کے لیے اس سے بڑی شرم ناک بات اور کیا ہو سکتی ہے۔

اس کے علاوہ ابھی گزشتہ مہینے 15 یا 16 اکتوبر کو بنگلہ دیش کے ایک معاملہ کے نتیجے میں شمالی ہند میں واقع صوبہ تری پورہ میں 20اکتوبر 2021 کو آرایس ایس اور ہندو یوا واہنی کی جانب سے مسلمانوں کو نشانہ بنایا گیا، تری پورہ کے مختلف اضلاع میں مسلمانوں پر تشدد کیا گیا اور ان کی عورتوں کے ساتھ بد تمیزی کی گئی ، حتی کہ مساجد کو بھی نقصان پہنچایا گیا اور ان دہشت گردوں کی جانب سے مسلمانوں کی کئی بستیاں جلا دی گئیں اور مسلمانوں کو بے گھر کر دیا گیا ،
اور مزید برآں تریپورہ میں کھلم کھلا مسلم مخالف نعرے بازیان کی گئیں،
سوشل میڈیا کے ذریعہ صرف ملک ہندوستان ہی نہیں بلکہ پوری دنیا سے امن پسند حضرات اس معاملہ پر افسوس کا اظہار کر رہے ہیں لیکن بھارت کی مرکزی حکومت کی طرف سے ابھی تک کوئی ایسا اعلان سامنے نہیں آیا جس میں اس ظلم و زیادتی کی مذمت کی گئی ہو اور نہ ہی ان دنگائیوں کے کے خلاف ابھی تک کوئی ایکشن لیا گیا ہے۔

بجائے اس کے دو نومبر2021 کو تحریک فروغ اسلام کے صدر حضرت قمر غنی عثمانی صاحب اپنی ٹیم کے ساتھ متاثرہ علاقوں کے دورے کے لیے گئے تھے، پہلے پولیس والوں نے حفاظت کے نام پر انھیں تھانے بلایا اور پھر دنگا بھڑکانے کا جھوٹا الزام لگا کر انھیں بشمول پوری ٹیم کے حراست میں لے لیا گیا، اس کے علاوہ دو صحافی عورتیں اور سپریم کورٹ کے چند وکیل بھی تریپورہ دورے پر گیے تھے، پولیس والوں نے انھیں بھی جبرا حراست میں لے لیا گیا اور پھر نصف ماہ کے بعد ان سبھوں کو چھوڑ دیا گیا۔

ذرا دیکھیں کہ ہندوستان کی موجودہ صورتحال کس قدر ابتر ہو چکی ہے،یہاں کس طریقے سے مسلمانوں پر ظلم وستم کے پہاڑ توڑے جا رہے ہیں،یہاں ہم محفوظ ہیں نہ ہماری عبادت گاہیں اور نہ ہی ہماری آنے والی نسلیں۔
چھوٹے چھوٹے معاملات کو رائی کا پہاڑ بنا کر پیش کرنے والی بھارتی میڈیا اس انسانیت سوز سانحہ پر خاموش کیوں ہے؟ایسے نازک ترین صورتحال میں حکومت اپنی خاموشی سے کیا ثابت کرنا چاہتی ہے؟
بلا شبہہ ملک کی موجودہ صورتحال کو دیکھ کر ایک معمولی عقل رکھنے والا شخص بھی یہ سمجھ سکتا ہےکہ وطن عزیز کی جمہوریت خطرے میں ہے ، یہاں کی گنگا جمنی تہذیب خطرے میں ہے ۔
بلا شبہہ وطن عزیز ہندوستان کی حالت ناگفتہ بہ ہے لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے ان حالات کا سامنا کرنے کے لیے ہم کس قدر تیار ہیں؟ موجودہ حالات پر قابو پانے کے لیے ہمارا جدید طرز عمل کیا ہے؟ ہم ان مسائل سے چھٹکارا پانے کے لیے کیا کر رہے ہیں؟ تو معلوم ہوگا کہ رد عمل کے نام پر ہم ابھی تک اپنے گھروں میں خاموش بیٹھے ہیں،
یاد رکھو مسلمانوں، ڈاکٹر اقبال نے بہت پہلے کہا تھا ،
نہ سمجھو گے تو مٹ جاؤ گے اے ہندوستاں والوں
تمہاری داستاں تک بھی نہ ہوگی داستانوں میں
لہذا ہمیں ان حالات کو سمجھنا ہوگا اور جتنا جلد ہوسکے سنبھلنا ہوگا ورنہ بہت دیر ہو جائے گی۔
اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ان حالات کا سامنا ہم کیسے کریں؟ مسلمان ہونے کی حیثیت سے شرپسند موجودہ حکومت اور زعفرانی ذہنیت کے حامل لوگوں سے اپنی قوم کو کیسے بچائیں؟
اس حوالے سے چند معروضات پیش کرتا ہوں۔
1، سب سے پہلے ہمیں اپنی بد اعمالیوں سے اللہ کی بارگاہ میں توبہ کرنا چاہئے کیونکہ یہ ظالم حکمراں اور یہ نا خوشگوار حالات ہماری بد اعمالیوں کا نتیجہ ہے،
2، دوسرا یہ کہ یہ اغیار جو ہمیں نقصان پہنچانے میں دن بدن کامیاب ہو رہے ہیں ، معذرت کے ساتھ میں اپنی رائے پیش کرنا چاہتا ہوں کہ اس کی ایک بڑی وجہ مسلم امت میں مسلکی اختلافات ہیں، ہم وہابی، دیوبندی اور شیعہ، سنی کے جھگڑے میں اس قدر پھنس چکے ہیں کہ ہم اس جھگڑے سے بالاتر ہو کر حالات کو دیکھنا ہی نہیں چاہتےاور ہمارے حریف ہماری اسی کمزوری کا فائدہ اٹھانے میں لگے ہیں اور ایک حد تک اس میں کامیاب بھی ہو رہے ہیں، میں یہ نہیں کہہ رہا کہ ہمیں اپنے مسلکی اختلافات کو بھلا دینا چاہیے بلکہ اعتقادی مسائل پر جو اختلافات ہیں وہ اپنی جگہ مسلم ہیں، لیکن حالات کو دیکھتے ہوئے، تمام مسلم جماعتوں کو لفظ مسلم پر جمع ہونا یہ وقت کی اشد ضرورت ہے، اور اس کی ایک مثال ماضی قریب میں بھی ملتی ہے، مسلم پرسنل لا بورڈ کے قیام کے وقت حضور مفتی اعظم ہند نے اہل سنت کی دو عظیم متصلب شخصیات حضور برہان ملت اور قائد اہلسنت جمشیدپوری کو مسلم پرسنل لا بورڈ کی کانفرنسوں میں شرکت کی اجازت عطا فرمائی تھی اور دونوں حضرات اس کی بہت سی محفلوں میں شریک بھی ہوئے۔
اس کے علاوہ پڑوسی ملک پاکستان میں 1973 کو حضور مبلغ اسلام علامہ عبد العلیم میرٹھی علیہ الرحمہ کے صاحبزادے شاہ احمد نورانی علیہ الرحمہ نے قادیانیوں کے خلاف تمام مسلم جماعتوں وہابی دیوبندی شیعہ سنی اہل حدیث کو اکٹھا کیا اور پاکستان کی پارلیمنٹ سے قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دیا۔
لہذا وقت کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے تمام مسلمانان ہند کو بھی اتحاد امت کے لئے کوشش کرنی چاہیے تاکہ حکومت اور شرپسندوں کو ہمارے استحصال سے روکا جا سکے۔

3۔ یہ کہ ہمیں دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ عصری تعلیم سے آراستہ و پیراستہ کر اپنے وجود کو ملک کے لیے مفید ثابت کرنا ہے تاکہ ہم میں کچھ ماہر ،انجینئر ڈاکٹر اور سائنسداں اور دیگر سرکاری اعلی مناصب پر فائز ہوں،
4۔اس کے علاوہ ہمارے دانشور اور نوجوان طبقے کو سیاست کے میدان میں پیش قدمی کرنا چاہیے کیونکہ اس وقت مسلمانوں کے جو حالات ہیں، اس کی ایک وجہ مسلمانوں کی سیاست سے دوری بھی ہے، پہلی بات تو یہ کہ ہم سیاست میں آتے نہیں ہیں لیکن اگر کوئی مسلم پارٹی پر عزم طریقے سے حکومت کا سامنا کرنے کے لیے محنت کرتی ہے تو بجائے اس کے کہ ہم اس کی حمایت کریں اور قدم قدم پر اس کا ساتھ دیں، ہم اسی پر تنقید کرنے لگتے ہیں، حالیہ دنوں یوپی کے اسمبلی انتخابات کے لیے مجلس اتحاد المسلمین بھی خوب جدوجہد کر رہی ہے لیکن ہم میں بہت سے لوگ مجلس پر طرح طرح کے الزامات لگاکر اسے بدنام کرنے کا کام کر رہے ہیں، جبکہ حالات کے تناظر میں ہماری ذمہ داری تو یہ ہے کہ ہم مجلس کا کھل کر سپورٹ کریں۔

مذکورہ تمام چیزوں کے حوالے سے اگر ہم فکرمند ہوں اور اس پر عمل کریں تو وہ دن دور نہیں جب ہم حالات پر قابو پاتے ہوئے نظر آئیں گے، اور یاد رہے کہ ہمیں ملک کے موجودہ حالات کی وجہ سے پریشان اور رنجیدہ نہیں ہونا ہے ، بلکہ پوری ہمت اور جواں مردی سے اپنی شجاعت کا مظاہرہ کرتے رہنا ہے،۔
ڈاکٹر اقبال نے کہا تھا،
نہیں تیرا نشیمن قصر سلطانی کے گنبد پر
تو شاہیں ہے بسیرا کر پہاڑوں کی چٹانوں میں
لہذا ہمیں کبیدہ خاطر ہوکر ہاتھ پہ ہاتھ دھرے نہیں بیٹھنا ہے بلکہ ہم شاہین وقت ہیں لہذا ہمیں پہاڑوں کی چٹانوں میں بسیرا کرنے کے حوالے سے فکر مند ہونا ہے، اور خوب محنت کرنی ہے۔
قرآن پاک میں اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے، ولا تهنوا ولا تحزنوا وأنتم الأعلون إن كنتم مؤمنين.
کمزور نہ ہو غم نہ کھاؤ،اگر تم حقیقی مومن رہوگے تو کامیابی تمھارے قدم چومے گی۔
لہذا ہمیں کسی چیز کے حوالے سے گھرانا ہے اور نا ہی پریشان ہونا ہے،بلکہ سب سے پہلے اللہ سے اپنے رشتہ کو مضبوط کرنا ہے اور مذکورہ باتوں پر عمل کی کوشش کرنی ہے ان شاءاللہ یہ زعفرانی ذہنیت کے حامل لوگ ہمارے سامنے گھٹنے ٹیکتے ہوۓ نظر آئیں گے۔
میں ڈاکٹر اقبال کے اس شعر پر اپنے اس مضمون کا اختتام کرتا ہوں ۔
عقابی روح جب بیدار ہوتی ہے جوانوں میں
نظر آتی ہے ہم کو اپنی منزل آسمانوں میں

از قلم ۔

محمد احمد حسن سعدی امجدی۔
ریسرچ اسکالر۔ البرکات اسلامک ریسرچ اینڈ ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ علی گڑھ۔
8840061391

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

About ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانب دار نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

Check Also

وقت رہتے حکومت کی شاطرانہ چال کو سمجھے مدارس اسلامیہ

ازقلم: آصف جمیل امجدی حکومت ہند کی ہمیشہ سے مدارس اسلامیہ پر شاطرانہ نگاہ رہی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔