سیر و تفریح

صوبہ کیرالا(کیرلا) سے متعلق چند دل چسپ معلومات!

● ہندوستان میں یہودی، عیسائی اور مسلمان بحری راستے سے سب سے پہلے کیرالا میں تشریف لائے۔

● ہندوستان کے دیگر صوبوں کے مقابلے میں کیرالا کا تعلیمی لیول سب سے بہتر ہے۔

● اس صوبہ کے مسلمانوں کی اکثریت مسلکاً سنی اور مذہباً شافعی ہے۔

● کیرالا کو مسالوں کا باغیچہ بھی کہا جاتا ہے۔

● کیرالا بھارت کا ایک ایسا صوبہ ہے، جہاں عربی زبان بولنے اور سمجھنے والوں کی بھی ایک بڑی تعداد آباد ہے۔

● ہندوستان کی اولین مسجدوں میں سے اک، مسجد مالک بن دینار [رضی اللہ عنہ] کیرالا کے کاسر کوڈ ضلع میں موجود ہے۔

● جامعہ مرکز الثقافة السنیہ (کوزی کوڈ) اور جامعہ سعدیہ (کاسر کوڈ) وغیرہ جامعات اسی صوبہ میں موجود ہیں۔

● کوزی کوڈ کا ہی دوسرا نام کالی کٹ ہے۔

● جامعہ مرکز الثقافة السنیہ اعلیٰ دینی اور عصری تعلیم دینے والا ہندوستان کا سب سے بڑا مدرسہ ہے، اس میں تقریبا بیس ہزار طلبا و طالبات زیر تعلیم ہیں۔

● جامعہ مرکز الثقافة السنیہ کے بانی شیخ ابوبکر احمد شافعی حفظہ اللہ اپنی قائم کردہ مرکز نالج سٹی (کیرالا) میں ہندوستان کی سب سے بڑی مسجد کی تعمیر کرا رہے ہیں، مسجد کا تقریبا ستر اسی فی صد کام مکمل ہو چکا ہے۔

● شیخ ابوبکر احمد ہندوستان کے غالبا پہلے مفتی اعظم ہیں، جن کا تعلق جنوبی ہند اور شافعی مذہب سے ہے۔

● انٹر نیشنل میلاد کانفرنس کا انعقاد صوبہ کیرالا ہی میں ہوتا ہے، جس میں دنیا بھر کے درجنوں علما و مشائخ اہل سنت شریک ہوتے ہیں۔ اور غالبا یہی پروگرام ہندوستان کا سب سے بڑا محفل میلاد کانفرنس ہوتا ہے۔

● کیرالا کے جید عالم دین، شیخ علی شافعی علیہ الرحمہ (متوفیٰ ٢٠٢١ء) کو یہاں کے شوافع تاج الشریعہ کے لقب سے یاد کرتے ہیں۔ شیخ علی کے علاوہ صاحب وقایہ محمود بن احمد بن عبید اللہ بن ابراہیم محبوبی اور مفتی اختر رضا خاں ازہری محدث بریلوی علیہم الرحمہ کو بھی اسی لقب سے یاد کیا جاتا ہے۔

ازقلم: محمد سلیم انصاری ادروی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے