خانوادۂ رضا

اعلیٰ حضرت امام احمد رضا کے تجدیدی کارنامے

از قلم: ابوحامد محمد شریف الحق رضوی ارشدی مدنی کٹیہاری
امام وخطیب نوری رضوی جامع مسجد وخادم دارالعلوم نوریہ رضویہ رسول گنج عرف کوئلی ضلع سیتامڑھی بہار انڈیا

اعلیٰ حضرت عظیم البرکت مجدد دین وملت الشاہ امام احمد رضا خاں فاضل بریلوی رضی اللہ عنہ (المتوفی 1340/ھ) کے حالات زندگی کا اگر مطالعہ کریں تو حیرت انگیز تفصیلات معلوم ہوں گی ‘ امام احمد رضا سے پہلے جتنے بھی مجدد ہوئے ان میں اور امام احمد رضا میں ایک نمایاں فرق نظر آئےگا کہ ماضی کے مجددین کے زمانے میں ایک دو یا زیادہ سے زیادہ چار پانچ فتنے تھے – ان تمام فتنوں کا ان حضرات نے احسن طریقے سے تدارک فرمایا ‘ لیکن امام احمد رضا کے دور میں جتنے فتنے تھے ان کی ایک طویل فہرست مرتب ہوگی – علاوہ ازیں ایک اور بھی وضاحت کردینا ضروری ہے کہ امام احمد رضا محدث بریلوی کے دور میں جتنے فتنے اٹھے تھے ان فتنوں کو درپردہ ‘ ایسی طاقتوں کی پشت پناہی حاصل تھی کہ بنظر ظاہر ان کا مقابلہ کرنا ایک مشکل سے مشکل مرحلہ تھا – لیکن وہ ” جاءالحق وزحق الباطل ” کے صدقے اور طفیل میں حق کو فتح ونصرت اور باطل کو شکست وذلت حاصل ہوئی – امام احمد رضا پر آقائے کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کا کرم تھا اسی وجہ سے وہ ہر محاذ پر کامیاب اور فتح مند ہوئے امام احمد رضا کا بارگاہِ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم میں مندرجہ ذیل استغاثہ قابلِ غور ہے۔

ایک طرف اعدائے دیں، ایک طرف ہیں حاسدیں
بندہ ہے تنہا شہا تم پہ کروڑوں درود
کیوں کہوں بےکس ہوں میں، کیوں کہوں بے بس ہوں میں
تم ہو میں تم پر فدا تم پہ کروڑوں درود

المختصر : امام احمد رضا کے دور میں جتنے فتنے شباب پر تھے ان کی ایک جھلک ملاحظہ کریں –
(1) فتنۂ غیر مقلدیت (2) فتنۂ نیچریت (3) فتنۂ نجدیت ووہابیت (4) فتنۂ فرق اہل قرآن (5) فتنۂ قادیانیت (6) فتنۂ دارالندوہ (7) فتنۂ فلسفہ قدیمہ (8) فتنۂ وقوعِ کذب باری تعالیٰ (9) فتنۂ انکار شفاعت (10) فتنۂ روافض (11) فتنۂ معتزلہ (12) فتنۂ فلسفہ جدیدہ (13) فتنۂ انکار سماع موتیٰ (14) فتنۂ خلافتِ عثمانی (15) فتنۂ انکارِ ختمِ نبوت (16) فتنۂ خاکساری فرقہ (17) فتنۂ ترک قربانی گائے (18) فتنۂ جواز سجدۂ تعظیمی (19) فتنۂ عدم جواز میلاد وقیام تعظیمی (20) فتنۂ انکار معراج جسمانی (21) فتنۂ ترک موالات (22) فتنۂ آریہ (شدی کرن) (23) فتنۂ اتحاد عن المشرکین (24) فتنۂ عدم جواز تعظیم آثار مقدسہ (25) فتنۂ عدم جواز کتابت برکفن (26) فتنۂ توہین حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ (27) فتنۂ حکم درالحرب (28) فتنۂ انکار علمِ غیبِ انبیاء واولیاء (29) فتنۂ انکار حیات انبیاء (30) فتنۂ جواز مروجہ تعزیہ داری (31) فتنۂ جواز سماع مع مزامیر (32) فتنۂ بر اذان ثانی (33) فتنۂ انکار اذان قبر (34) فتنۂ عدم جواز معانقہ ومصافحہ عید (35) فتنۂ عدم جواز تعمیراتِ مزاراتِ اولیاء (36) فتنۂ عدم جواز تقبيل الابهامين (37) فتنۂ انکار ایمان ابوین کریمین النبی (38) فتنۂ جواز زکوٰۃ برائے سادات (39) فتنۂ عدمِ جواز چراغاں برمزاراتِ صالحین (40) فتنۂ حلت اشیاء نشہ آور (41) فتنۂ حلت اکل زاغ (42) فتنۂ قرطاس دراھم (43) فتنۂ مساوات عن النبی (44) فتنۂ حرکتِ زمین (45) فتنۂ خروج نساء برائے زیاراتِ قبور (46) فتنۂ امکانِ ظل نبی (47) فتنۂ صلاۃ جنازۃ الغائب (48) فتنۂ نکاح المرتدین (49) فتنۂ عدم جواز تعین فاتحہ (50) فتنۂ تنقیصِ رسالت (51) فتنۂ عدم اعتقاد اختیارات انبیاء واولیاء (52) فتنۂ نفاذ شرک درباب ندا واستغاثہ (53) فتنۂ نفاذ شرک فی الاسماء (54) فتنۂ حرمت اکل وشرب (55) فتنۂ حرمت منی آرڈر (56) فتنۂ خلافت کمیٹی (57) فتنۂ تنازعہ در رویت ہلال (58) فتنۂ فرق بین شریعت وطریقت (59) فتنۂ اکل اشیاء حرام عن الذبیحہ (60) فتنۂ حرمت ذبیحہ للاولیاء –
الغرض : مذکورہ بالا فتنوں کے علاوہ سینکڑوں دیگر فتنے بھی عام ہوچکے تھے ‘ بعض کا تعلق اصول دین سے تھا اور بعض کا فروع دین سے – بعض فتنے اہل سنت وجماعت کہلانے والے افراد کے اٹھائے ہوئے اور بقیہ اکثر فتنے عقائد باطلہ ضالہ پر مشتمل فرقوں کی جانب سے اٹھائے گئے تھے جن میں سے اکثر کا تعلق اصل دین سے تھا یعنی کہ اس کے ماننے یا نہ ماننے کی وجہ سے ایمان اور کفر کے احکام صادر ہونے کا مدار تھا – ہر روز کوئی نہ کوئی فتنہ رونما ہوتا تھا ‘ کسی فتنے کا موجد کوئی مولوی ہے ‘ کسی کا بانی کوئی پیر زادہ ہے ‘ کسی کا موید کوئی سیاسی لیڈر ہے ‘ کسی کا حامی کوئی اہل ثروت ہے ‘ کسی کا ناصرکوئی حاکم ہے ‘ کسی کا ناشر کوئی ادیب ہے’ کسی کا معین کوئی صاحبِ اقتدار ہے ‘ کسی کا مونس کوئی صوفی ہے ‘ کسی کا مددگار کوئی سجادہ نشین ہے ‘ کسی کا محرک کوئی سیاسی لیڈر ہے ‘ کسی کا سرپرست کوئی مذہبی رہنما ہے ‘ کسی کا قائد کوئی خادم قوم ہے ‘ کسی کا والی کوئی نواب ہے ‘ کسی کا مقوی کوئی ماہر فن ہے ‘ کسی کا مخیل کوئی منطقی ہے ‘ کسی کا مہدی کوئی فلسفی ہے – کسی کا کیمیا ساز کوئی سائنسدان ہے –
الغرض ! سماج کے ہر طبقے سے کوئی نہ کوئی بانئ فتنہ سامنے تھا – ان کے زیر اثر لوگ اپنی حسب استطاعت اس کی تشہیرکرتے تھے – عوام عجیب ذہنی الجھن میں مبتلا تھی- ہر طرف سے اپنے عقائد باطلہ ونظریاتِ فاسدہ کی صحت وصداقت ثابت کرنے کے لیے قرآن وحدیث کا سہارا لےکر غلط استدلال کر رہا تھا ‘ سلف صالحین کی کتب معتمدہ ومعتبرہ کی عبارات توڑ مروڑ کر اپنے مفاد کا مفہوم نکالنے کی کوشش کی جا رہی تھی ‘ حق وباطل کا فرق کرنا دشوار ہوگیا تھا – ماحول اتنا پراگندہ ہوگیا تھا کہ اہل فہم وبصیرت رو رو کر بارگاہ خداوندی میں دست بدعاء تھے – گڑاگڑا کر ملتجی تھے کہ کوئی مرد مجاہد اٹھ کھڑا ہو اور ان فتنوں کا قلع قمع کرے –
الحمدللہ ! ایسے موقع پر اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے محبوب اعظم واکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی امتِ مرحومہ کی رہنمائی کے لیے امام احمد رضا کو منتخب کیا اور علوم وفنون میں کمال عطا فرماکر مجدد کے اعلیٰ منصب پر فائز وسرفراز فرمادیا –
امام احمد رضا محدث بریلوی کے دور میں مذکورہ بالا جو جو فتنے رائج تھے اس کا تدارک وتعاقب آپ نے ایسے حسن اسلوبی سے فرمایا کہ جس کی نظیر نہیں ملتی – آپ اپنی معرکۃ الآراء تصانیف میں علوم وفنون کے جو دریا بہائے ہیں اس کی گہرائی ابھی تک کوئی ناپ نہ سکا – یہاں تک کہ تمام فرق باطلہ متحد ومجتمع ہوکر بھی امام احمد رضا کے سامنے علمی جنگ میں ٹھہر نہ سکے اور انہیں مجبور ہوکر ہتھیار ڈال دینے پڑے – میدان علم کی یلغار سے راہِ فرار اختیار کرنے والے ندامت وانتقام کی آگ میں جل اور تڑپ رہے تھے مگر کیا کریں ؟ اور کیا کرسکتے تھے ؟ کیونکہ ان کے دلائل ضعیفہ نرم لوہے کی تلواریں کند ہوچکے تھے براہین باطلہ کے نیزے ٹوٹ چکے تھے – کلکِ رضا ” ذوالفقار حیدری ” کا جوہر دکھا رہا تھا جو بھی اس کے زد میں آتا تھا وہ آنًا فانًا ‘ گاجر مولی کی طرح کٹ کر تڑپ رہے تھے۔
(امام احمد رضا ایک مظلوم مفکر)

کلکِ رضا ہے خنجر خونخوار برق بار
اعداء سے کہدو خیر منائیں نہ شر کریں

ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانب دار نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین و خبریں

جواب دیں

Back to top button