مذہبی مضامین

لو جہاد اور شریعت اسلام

تحریر: انیس الرحمن حنفی رضوی
بہرائچ شریف یوپی الھند رکن تحریک فروغ اسلام دہلی 9517223646

یقینا فرقہ وارانہ منافرت پھیلانے کے لئے شرپسند عناصر بالخصوص مخالفینِ اسلام نے مسلمانوں کو بدنام کرنے کے لئے طرح طرح کے حیلے و طریقے استعمال کرتے ہوئے اسلام اور مسلمانوں کے خلاف قابل اعتراض اور نفرت انگیز باتیں پھیلات رہتے ہیں تعجب کی بات یہ ہے کہ میڈیا بھی محسوس اور غیر محسوس انداز سے اس میں شامل ہو گیا ہے میڈیا پر جب بھی ایسے لڑکوں کو دکھایا جا رہا ہے تو ان کی داڑھی کو کلوزاپ کرکے دکھایا جا رہا ہے
یہ بات ذہن نشین ہونا چاہیے جس طرح ہر داڑھی منڈانے اور کٹوانے والا کافر نہیں ہوتا اسی طرح ہر داڑھی رکھنے والا مسلمان بھی نہیں ہوتا۔ کیونکہ تاریخ انسانی شاہد ہے کہ کئی غیر مسلم افراد ہی نہیں، بلکہ کئی معروف و مشہور غیر مسلم سائنس داں بھی ایسے گزرے ہیں، جنھوں نے داڑھی رکھی تھی۔ لہذا داڑھی یا صرف نام کی بنیاد پر کسی کو مسلمان قرار دینا بے بنیاد ہے۔ لیکن آج کا میڈیا بغیر کسی تحقیق و تفتیش کے ایسے واقعات کو بار بار اپنے چینلس پر دکھا رہا ہے
معاشرے میں ایسے بھی واقعات رونما ہوتے ہیں، جس میں غیر مسلم لڑکے مسلم لڑکیوں کو دھوکہ میں رکھ کر شادیاں کرتے ہیں، لیکن میڈیا ان پر کوئی توجہ نہیں دیتا اور نہ ان واقعات کو منظر عام پر لاتا ہے۔ کیا یہ میڈیا کا تعصب نہیں ہے؟۔ اسلام اور مسلمانوں کو بدنام کرنے کے لئے آئے دن جو سازشیں رچی جا رہی ہیں، ان ہی منصوبہ بند سازشوں میں سے ایک شیطانی دماغ کی تخلیق لَوجہاد بھی ہے، جو ایک طرف اسلام کی مقدس اصطلاح جہاد کی عظمتوں اور فضیلتوں کو دانستہ طورپر کم کرنے کی ایک ناپاک کوشش کی جا رہی ہے تو دوسری طرف فسادی کارروائیوں کو ’’لَوجہاد‘‘ کا نام دے کر اسلام سے جوڑنے کی مذموم کوشش کی جا رہی ہے، تاکہ مذہبی منافرت پھیلاکر سیاسی مقاصد حاصل کرسکیں’’لَوجہاد کیا ہے؟ تو کہا جا رہا ہے کہ مسلم لڑکے اپنے نام کو مخفی رکھ کر غیر مسلم لڑکیوں سے شادی رچا رہے ہیں اور بعد میں ان غیر مسلم لڑکیوں پر جبراً اسلام قبول کرنے کے لئے دباؤ ڈال رہے ہیں۔ اگر ’’لَوجہاد‘‘ کی یہی حقیقت ہے تو بنیادی طورپر چند وجوہ سے یہ غیر انسانی اور مذموم حرکت کا مذہب اسلام و شریعت اسلام سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہے
پہلی وجہ یہ ہے کہ اسلام میں جبر و زبردستی کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ اگر جبر کرنا اسلام میں جائز ہوتا تو رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ کے وقت اپنے ماننے والوں کو حکم دیتے کہ تمام مخالف اسلام قبائل پر دباؤ ڈالا جائے کہ اسلام قبول کرلیں۔ اس وقت ہر مشرک کو یہ خوف لاحق تھا کہ آج مسلمان بہت طاقتور ہو گئے ہیں۔ چوں کہ وہ فاتح مکہ بن کر آرہے ہیں، ہو سکتا ہے ہم پر ظلم و ستم ڈھائیں گے یا پھر ہمارے ساتھ جبر و زبردستی کا معاملہ کریں گے، لیکن ان اندیشوں اور خطرات کے بالکل برعکس رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ صرف عام معافی دے دی، بلکہ فرمایا: ’’آج جو کٹر مخالف اسلام کے گھر میں بھی پناہ لے گا تو اسے بھی امن کی نوید دی جاتی ہے‘‘۔ اس عفو و درگزر کا نتیجہ یہ نکلا کہ کچھ ہی عرصہ میں مشرکین اپنی خطاؤں اور سیاہ کاریوں سے تائب ہوئے اور داخل اسلام ہو گئے۔ یہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ جبر و زبردستی سے انسان کے جسم پر تو حکومت کی جاسکتی ہے، لیکن دل کی دنیا کو نہیں بدلا جاسکتا اور دل کی دنیا صرف اخلاق حسنہ سے ہی بدلی جاسکتی ہے۔ جبر کرنا اخلاق حسنہ کی ضد ہے اور ایمان اخلاق حسنہ کا ہی دوسرا نام ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جو قوم حاکم ہوکر جبر کرنے کو پسند نہیں کرتی، وہ محکوم ہوکر جبر کیسے کرسکتی ہے؟۔
دوسری وجہ یہ ہے کہ نکاح کرنے کے لئے اسلام نے مسلمانوں پر بنیادی شرط و قید یہ رکھی ہے کہ ایسی خواتین سے نکاح کرو، جو پسند آئے۔ سورۃ النساء کی آیت (۳) میں پسندیدہ کے لئے لفظ ’طاب‘ کا استعمال ہوا ہے، جو ایسی اشیاء کے لئے استعمال ہوتا ہے، جو مرغوب بھی ہو اور حلال بھی، یعنی ایسی چیز سے طبیعت نفرت کرے اور نہ ہی شریعت کراہت۔ اگر کسی چیز میں سے مرغوبیت یا حلت کا عنصر نکل جائے تو وہ طیب برقرار نہیں رہتی۔ مثال کے طورپر طلاق حلال تو ہے، لیکن مرغوب نہیں ہے، اسی لئے شریعت مطہرہ نے ابغض المباہات قرار دیا۔ اسی طرح شراب مرغوب تو ہے، لیکن حلال نہیں ہے، اسی لئے یہ بھی طیب کے زمرے میں شامل نہیں ہے۔ اسی طرح نکاح میں سے بھی اگر مرغوبیت اور حلت میں سے کوئی ایک جز بھی نکل جاتا ہے تو طیب برقرار نہیں رہتا قرآن مجید تو کھلے الفاظ میں کہہ رہا ہے کہ غیر مسلم خواتین سے نکاح نہ کریں، یہاں تک کہ وہ خود برضا و رغبت ایمان نہ لے آئیں۔ پھر ارشاد ربانی ہوتا ہے ’’اور بے شک مسلمان باندی بہتر ہے (آزاد) مشرک عورت سے اگرچہ وہ بہت پسند آئے تمھیں‘‘ (سورۃ البقرہ۔۲۲۱) قرآن مجید کی تعلیمات تو یہ ہیں کہ نکاح سے پہلے مشرک خواتین ایمان لائیں تو نکاح کرو، ورنہ مسلم باندی بہتر ہے اگرچہ وہ مشرک خاتون تمھیں پسند ہی کیوں نہ ہو، جب کہ آج لوگ مسلمانوں پر یہ الزام لگا رہے ہیں کہ وہ پہلے شادی کرتے ہیں، پھر مسلمان بننے کے لئے دباؤ ڈالتے ہیں۔
تیسری وجہ یہ ہے کہ شرپسند عناصر ’لَوجہاد‘ کی جو تعریف بیان کر رہے ہیں، اس کے مطابق اس طرح سے شادی کرنا تو سراسر دھوکہ دینا ہے اور دھوکہ دینا مؤمن کا شیوہ ہرگز نہیں ہے، کیونکہ دھوکہ دہی کو اسلام نے حرام قرار دیا ہے، دھوکہ دہی سے انسانی حقوق تلف ہوتے ہیں۔ خلیفہ اول حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’تین اشخاص جنت میں داخل نہیں ہوں گے (۱) دھوکہ باز (۲) بخیل اور (۳) احسان جتانے والا‘‘۔ (کنز ال عمال)< br>چوتھی وجہ یہ ہے کہ عاقدین (یعنی دولھا اور دلہن) کے درمیان کوئی موانعات نکاح نہ پائی جائیں، جو نکاح کے صحیح ہونے میں مانع ہو۔ جس طرح نسبی، رضاعی، سسرالی اور سببی محرمات سے نکاح نہیں کیا جاسکتا، اسی طرح ایک مسلمان کسی غیر مسلم مرد و عورت سے نکاح نہیں کرسکتا، چوں کہ یہ بھی مانع نکاح ہے۔ اگر بالفرض محال کوئی مسلم لڑکا کسی غیر مسلم لڑکی سے شادی کر رہا ہے تو اسے نکاح نہیں کہہ سکتے، اور اس بے حیائی کی دین اسلام میں کوئی جگہ نہیں ہے۔
یہ تو رہی اغیار اور مخالفین اسلام کے جھوٹے اور مکروہ پروپیگنڈے کی بات، تصویر کا دوسرا اور تاریک پہلو یہ ہے کہ اغیار اور مخالفین اسلام پوری شدت اور مستعدی کے ساتھ سازشیں رچ رہے ہیں، تو ہمارا یہ حال ہے کہ ہمیں اب تک یہ معلوم نہ ہوسکا کہ دعا کرتے ہوئے ہاتھ اٹھانا چاہئے یا نہیں، دعا بلند آواز سے کرنا چاہئے یا دبی آواز میں کرنا چاہئے۔ یعنی ہماری تمام تر توانائیاں ان ہی فروعی اختلافات میں صرف ہو رہی ہیں۔ کاش! ہم اسلامی تعلیمات کو عام کرنے میں اتنا وقت اور توانائیاں صرف کریں تو معاشرے میں پائی جانے والی بے شمار برائیوں کا ازالہ ممکن ہے۔ اگر ہم اپنے معاشرے کو سیئات سے پاک کرنے میں کامیاب ہو جائیں تو کسی مخالف کی ہمت نہیں ہوگی کہ وہ ہم پر ایسے گھٹیا الزامات لگائے
رب سے دعا گو ہوں کہ رب قدیر ہم کو مذہب اسلام کا سچا مبلغ بنا اور دین اسلام کو بول بالا فرما آمین یا رب العلمین بجاہ سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم

ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانب دار نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین و خبریں

جواب دیں

Back to top button