از قلم: عبدالجبار علیمی ثقافی
استاذ: جامعہ قادریہ بشیرالعلوم، بھوج پور ضلع مرادآباد
صبح صبح خوب کڑاکے کی سردی میں بغرض تدریس درسگاہ میں جاناہوا۔طلبہ پر نظر پڑی تو محسوس ہوا کہ کسی غم و اندوہ میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ مزاج میں اداسی کی جھلک اور کچھ طلبہ کسی دوسرے کام میں مصروف نظر آئے۔ایسا لگا کہ کہیں جانے کی تیاری کررہےہوں بعد استفسار معلوم ہوا کہ”خانقاہ برکاتیہ کے چشم و چراغ شہزادۂ حضوراحسن العلماء سید افضل میاں قادری برکاتی مارہروی” اس دار فانی سے کوچ کرکے دارباقی کی طرف چلے گئے ! ! !”
إنا للّٰه وإنا إليه راجعون
کچھ دیر تک تو یقین ہی نہیں ہوا کہ ایسا ہوگیا۔کیونکہ ابھی چند مہینے پیشتر آپ کے صحتیابی کی خبر موصول ہوئی تھی۔مگر قدرت کے فیصلے پر کسے جائے فرار ہے ؟
جیسا کہ ناچیزنےاپنے اکابر کی زبانی سنا اور پڑھاہے کہ” آپ بہت ہی خوش مزاج، علماء نواز،مہمان نواز،منکسر المزاج،شریف الطبع،ایماندار، صاف وشفاف طبیعت کے مالک اور ہندوستان کے اعلی ترین محکمہ پولس میں ایک ذمہ دار آئی،پی،ایس آفیسر تھے۔
مجدداعظم سیدی سرکار اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان علیہ الرحمۃ والرضوان کے بڑے عقیدت مند اور مداح تھے۔ اس کا اندازہ اس وقت ہوا جب آپ نے اپنی صحتیابی کی خبر اپنےعقیدتمندوں میں نشر فرمائی تھی تو اس میں کلام اعلیٰ حضرت کے چند اشعار بڑے اچھوتے انداز میں پیش فرمائی۔ جس میں ایک شعر یہ تھا۔
دل عبث خوف سے پتہ سا اڑا جاتا ہے
پلّا ہلکا سہی بھاری ہے بھروسہ تیرا
اس سے یہ بات عیاں ہو جاتی ہے کہ آپ کو اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ کے اشعار سے کافی لگاؤ اور شغف تھا۔
یقیناً ایسے عظیم محسن اورمربی کا سانحۂ ارتحال ملک و ملت کے لیے ناقابل تلافی نقصان ہے۔
ناچیز حضورامین ملت،حضور رفیق ملت،حضور اشرف ملت(أطال اللّٰه تعالی عمرهم مع الصحة والعافية)اور دیگر لواحقین کی بارگاہ میں تعزیت پیش کرتاہے۔
دعاء ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے محبوب صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وسلم کے صدقے میں حضرت کو جنت الفردوس میں اعلی سے اعلی مقام عطا فرمائے اور پسماندگان کو صبر جمیل کی توفیق عطا فرمائے اور ملک و ملت کو آپ کا نعم البدل عطا فرمائے۔(آمین)
ابر رحمت تیری مرقد پر گہر باری کرے
حشر تک شان کریمی ناز برداری کرے
ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے
بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا