جہان اہل سنت ،خانوادہٕ برکات کے قابل شرف اور لاٸق فخر فرزند حضرت سید افضل میاں برکاتی علیہ الرحمہ اب ہمارے درمیان نہیں رہے۔حکومتی انتظامی امور کے اعلیٰ مناصب پر فاٸز رہ کر جس حسن انتظام وانصرام کی مثال آپ نے قاٸم فرمائی وہ آنے والی عہدہ نشیں نسل کے لیے رہنما اصول ثابت ہوگی ،اور دین پر ثابت قدمی اور فراٸض منصبی کی انجام دہی کے مابین شرعی روابط کی حیثیت کو اجاگر کرتی رہے گی ۔آپ نے حاکمانہ حیثیت رکھ کر بھی خاکسارانہ مزاج کا ہی ہمیشہ ثبوت دیا ۔آپ جب تک دنیا میں رہے اسی عقیدہ پر جمے رہے”ہم جہاں بھی رہیں ،جس حال میں رہیں ۔مسلمان بن کر جٸیں اور مسلمان بن کر مریں“۔۔یہ تمام باتیں آپ کی عملی زندگی سےمترشح تھیں ۔
آپ حضور مفتٸ اعظم ہند علیہ الرحمہ سے والہانہ عشق وشغف رکھتے تھے یہی وجہ ہےکہ آں حضورسےہی شرف ارادت حاصل ہوا بعدہ اپنے والد ماجد حضور احسن العلما سے سند خلافت ملی اور اپنے دورکےکاملان وقت ثابت ہوۓ۔ایسے نجیب الطرفین سید ،مناصب دارین کی حامل شخصیت کا ہمارے درمیان سے روپوش ہوجانا انتہاٸ رنج وقلق کی بات ہے ۔ہم رنج کی اس گھڑی میں غلام خانوادہٕ برکات کی حیثیت سے ان کے غم میں شریک وسہیم ہیں اور بارگاہ رب لم یزل میں دست دعا بلند کۓ ہوۓ ہیں کہ حضرت کے درجات کو رفعت ملے اور ہم سب کو آپ کے فیوض وبرکات سے مالا ہونے کا فرحت بخش موقع ۔
حضرت کے معتقدین و متوسلین اور متعلقین کو صبرواجر کی بے بہا دولت عطا ہو اٰمین
یکے از غم زدگان
قاضی فضل رسول مصباحی
دارالعلوم اہل سنت قادریہ سراج العلوم برگدہی ضلع مہراج گنج یوپی
انتہائی دکھ کی بات ہے کہ چشم و چراغ حضرت امین ملت سید محمدامین میاں برکاتی ،زیب سجادہ خانقاہ برکاتیہ مارہرہ )کا وصال ہوگیا ہے۔ اللہ کریم انھیں غریق رحمت فرمائے اوران کے تمام اہل خانہ اور متوسلین کو صبر جمیل عطافرمائے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین بجاہ سید المرسلین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم تسلیما کثیرا کثیر۔
شریک غم: منظور الھی خان قادری
مقیم حال۔۔۔دولة الكويت