علما و مشائخ

امام ابن حبان کا ایک مزے دار واقعہ!

تلخیص: محمد سلیم انصاری ادروی

امام ابو حاتم محمد ابن حبان رضی الله عنہ (سنہ ٢٧۵ھ-٣۵۴ھ) بلند پایہ محدث اور فقيہ گزرے ہیں۔ خراسان کے مشہور شہر بست میں آپ کی ولادت ہوئی، نیز وہیں پر آپ کا وصال ہوا اور اپنے مکان کے قریب ایک چبوترہ میں دفن کیے گئے۔ آپ کی تصانیف کی تعداد ۴٠ سے ٦٣ تک بتائی جاتی ہے، جن میں سے صحیح ابن حبان کو سب سے زیادہ شہرت حاصل ہوئی۔ امام ابن حبان نے شائقین علم کے لیے اپنا ذاتی ایک مدرسہ اور کتب خانہ قائم کیا تھا دور دراز کے طلبا کو وہ اپنے گھر سے کھانا دیتے تھے، یہ آپ کی سخاوت و فیاضی کی دلیل ہے۔

آپ نے رواج زمانہ کے مطابق طلب علم کے شوق میں دور دراز ملکوں اور شہروں کا سفر کیا اور بے شمار اساتذہ و شیوخ سے کسب علم کیا۔ آپ کا بیان ہے کہ ہم نے اسبیجاب اور اسکندریہ کے درمیان سے دو ہزار بزرگوں سے حدیثیں لکھیں۔ آپ کے علمی ذوق کا یہ عالم تھا کہ آپ اپنا وقت کبھی ضائع نہ کرتے تھے۔ سفر ہو یا حضر ہر جگہ تحصیل علم کا شغل جاری رکھتے۔ ابو حامد نیشاپوری فرماتے ہیں:

ایک مرتبہ ہم لوگ امام ابن خزیمہ [رضی الله عنہ] کے ساتھ نیشاپور سے کہیں جا رہے تھے۔ ہمارے ساتھ ابو حاتم بستی [امام ابن حبان] بھی تھے۔ یہ بار بار راستہ میں ان سے سوالات کرتے رہتے تھے حتیٰ کہ وہ تنگ ہو گئے اور فرمایا کہ (دور رہو، تنگ مت کرو!) انہوں نے پھٹکار کا یہ جملہ بھی لکھ لیا۔ جب ان سے کہا گیا کہ اس جملہ کو بھی لکھ ڈالا؟ تو آپ نے فرمایا کہ آں جناب کی ہر بات قابل غور ہے۔

(محدثین عظام کی حیات وخدمات/از: ڈاکٹر عاصم اعظمی)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے