سیرت و شخصیات

محدث اعظم پاکستان کا روحانی وطن اعظم گڑھ

از: محمد سلیم انصاری ادروی

محشئ صحاح ستہ محدث اعظم پاکستان علامہ سردار احمد قادری چشتی گورداس پوری علیہ الرحمہ بریلی شریف کے دونوں مرکزی جامعات (جامعہ منظر اسلام اور جامعہ مظہر اسلام) میں منصب شیخ الحدیث پر فائز ہو کر ایک طویل عرصے تک درس حدیث دیتے رہے۔ جامعہ مظہر اسلام بریلی اور جامعہ مظہر اسلام فیصل آباد آپ ہی نے قائم کیا، نیز جامعہ مظہر اسلام فیصل آباد میں آپ نے تاحیات درس حدیث دیا۔ اور اپنے دور میں "شیخ الحدیث” کے لقب سے پورے برصغیر میں مشہور ہوئے۔ صحاح ستہ پر حواشی لکھنے کے علاوہ آپ نے کئی درجن کتب بھی تصنیف فرمائیں۔ آپ کے تلامذہ کی تعداد ہزاروں میں ہے، جن میں بانیین مدارس اسلامیہ، شیوخ التفسیر، شیوخ الحدیث، مفسرین، محدثین، مصنفین اور فقہا کی ایک بڑی تعداد بھی شامل ہے۔

آپ خود استاذ الہند صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ کے دو خاص شاگردوں میں سے ایک تھے۔ صدر الشریعہ "اعظمی” تھے، اور اعظمی لکھنے کی شروعات سب سے پہلے آپ ہی نے کی تھی۔ ان سے قبل اہل اعظم گڑھ اپنے نام کے ساتھ اعظم گڑھی لکھا کرتے تھے۔ خود صدرالشریعہ کے ہم عصر، اخبار الفقیہ امرت سر کے سرپرست یعنی مولانا ابوالمحامد احمد علی مئوی علیہ الرحمہ جب اپنا نام لکھا کرتے تو یوں لکھتے "ابوالمحامد احمد علی حنفی مئوی اعظم گڑھی”۔ اعظم گڑھ ہندوستان کا ایک مشہور و معروف ضلع ہے۔ الجامعة الاشرفیه مبارک پور جیسی عالمی شہرت یافتہ اسلامک یونیورسٹی اسی ضلع کے قصبہ مبارک پور میں موجود ہے۔

سنہ ١٩٨٨ء میں ضلع مئو ضلع اعظم گڑھ سے الگ ہو کر ایک مستقل ضلع بنا۔ مولانا احمد علی مئوی علیہ الرحمہ کا شہر مئو ناتھ بھنجن جو ضلع مئو کا صدر مقام ہے۔ اسی مئو ناتھ بھنجن میں اہل سنت کے مرکزی دارالعلوم مدرسہ بحرالعلوم جس کے بانیین خلیفۂ امام احمد رضا مولانا عبدالرحمن مئوی ثم جے پوری اور محدث ثناء اللہ امجدی اعظمی مئوی علیہما الرحمہ ہیں کے اجلاس میں محدث اعظم پاکستان کی آمد ہوئی۔ محدث اعظم پاکستان نے اس جلسے سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا جسے انہیں کے شاگرد بانئ مدارس کثیرہ مفتی مجیب الاسلام نسیم اعظمی ادروی علیہ الرحمہ نے ماہ نامہ نوری کرن (مارچ و اپریل سنہ ١٩٦٣ء) میں نقل کیا ہے:

"اے مئو کے نجدیو! ہماری ظاہری غریب الوطنی کا تصور تمہیں ہرگز مفید نہ ہوگا، یہ سراسر خود فریبی ہے، ہوش میں آؤ، حضرت صدرالشریعہ علیہ الرحمہ کا یہ وطن ہے اور وہ ہمارے روحانی باپ ہیں، میرا جسمانی وطن پنجاب ہے اور روحانی اعظم گڑھ۔ یہ اسٹیج میرے روحانی وطن کا اسٹیج ہے، میں غریب الوطن نہیں، میں شر و فساد نہیں چاہتا، ورنہ اعلان کرتے ہوئے فخر محسوس کرتا کہ جس کو میری طاقت کا امتحان کرنا ہو سامنے آئے۔”

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے