عقائد و نظریات

ایک قصہ کاعجیب وغریب قصہ

ازقلم: طارق انور مصباحی، کیرالہ

برصغیر میں کم ازکم پچاس کروڑ سنی مسلمان ہوں گے۔ اگر بعض اہل علم کی لغزشوں کے سبب ان میں سے چند لوگ بھی گمراہ ہوجاتے ہیں اور ہم منہ تکتے ر ہیں تو یہ ناقابل تلافی جرم ہوگا۔

ان شاء اللہ تعالیٰ ہم اقوال باطلہ کی تردید کریں گے۔ کسی کی شخصیت پر تنقید نہیں ہو گی۔اگرکسی جملہ سے شخصی تنقید ظاہرہو تو اطلاع دیں،ان شاء اللہ تعالیٰ تصحیح کردی جائے گی۔

قطعی مسائل میں تفردات قبول نہیں:

باب اعتقادیات وباب فقہیات کے قطعی مسائل میں تفردات قبول نہیں۔جب قطعی مسائل میں اجتہاد کی اجازت نہیں تو تفردات کیسے قبول کیے جا سکتے ہیں۔اصحاب تفردات کے نظریات جدیدہ پر دلیل مطلوب نہیں۔دلیل سب کے پاس ہے۔ وہ نفوس عالیہ اپنے ہم منصب اکابرعلمائے اہل سنت وجماعت کی تصدیق وتائید پیش فرمائیں۔اگروہی سواد اعظم کا عقیدہ ہے تو علمائے حق ضروراس کی تائید کریں گے،ورنہ یقیناانکار ہوگا۔

سواد اعظم بفضل الٰہی ضلالت وگمرہی میں مبتلا نہیں ہوسکتا۔ظہورحق کے بعد اصحاب تفردات بھی اپنے موقف سے رجوع فرماکر دربار الٰہی میں ایمان کی سلامتی کے ساتھ حاضر ہوں۔ ہم کسی کی زندگی میں ہی گزارش کر سکتے ہیں،بلکہ ان پر دباؤبھی ڈالیں گے۔یہ ان کے حق میں بھی خیر خواہی ہے اور امت مسلمہ کے حق میں بھی خیرخواہی۔

تفردات کا معاملہ حل ہوجائے تو امت مسلمہ بھی مطمئن ہوجائے اوراصحاب تفردات بھی ایمان کی سلامتی کے ساتھ رخصت ہوں۔بعد وفات قبر کے پاس بیٹھ کر آنسو بہانے سے کچھ فائدہ نہیں۔

اعلیٰ حضرت امام اہل سنت قدس سرہ العزیز درباراعظم سے مقررفرمودہ اورتائید یافتہ تھے۔ ان کی تعلیمات کے خلاف کچھ بھی قبول نہیں۔وہ فضل الٰہی اورعطائے مصطفوی سے عظیم وبے نظیر متکلم اسلام ہیں۔ ان کے اقوال وفتاویٰ شرعی اصول وقوانین کے مطابق ہیں۔

قصہ کا جوا ب بقلم امام اہل سنت:

جو عجیب وغریب قصہ موضوع بحث ہے۔ اس کا جواب امام اہل سنت قدس سرہ العزیز اپنی حیات مبارکہ میں رقم فرماچکے ہیں۔اسی قسم کا سوال ایک فریبی شخص نے کیاتھا۔

قصہ میں تین امور کا بیان ہے۔ان تینوں کے جواب امام اہل سنت رقم فر ما چکے ہیں۔

(1)قصہ کوپڑھنے سے ظاہر ہوتا ہے کہ تاویل کے ذریعہ اشخاص اربعہ کی تکفیر کا انکار ممکن ہے۔ امام اہل سنت قدس سرہ العزیزنے مذکورہ فتویٰ میں رقم فرمایا ہے کہ ان لوگوں کے کفریہ کلمات کفری معنی میں متعین ہیں، لہٰذا تاویل یا شبہہ کے سبب ان لوگوں کی تکفیر کا انکار ہرگز درست نہیں۔ منکر پر ”من شک:الخ“کا حکم نافذہوگا۔

(2)قصہ میں بتایا گیا کہ امام اہل سنت قدس سرہ العزیزکو اسماعیل دہلوی کی تکفیر میں شک اورتأمل تھا۔امام اہل سنت قدس سرہ العزیزنے رقم فرمایا ہے کہ دہلوی کی عبارتیں کفری معنی میں متعین نہیں،لہٰذا دہلوی کی تکفیر کلامی کی صورت نہیں۔ اس کی تکفیر فقہی ہوگی۔ امام اہل سنت علیہ الرحمۃ والرضوان کو اس مسئلہ میں شک یا تأمل نہیں۔ یہ غلط الزام ہے۔

(3)قصہ میں ”من شک“ کی تشریح کی گئی ہے۔ وہ تشریح مکفر کے حق میں صحیح ہے۔ اگر مصدق پر اس کومنطبق کیا جائے اور مراد ہوکہ مصدقین کو شبہہ ہوتووہ تکفیر کا انکار کرسکتا ہے تویہ غلط ہے۔ امام اہل سنت قدس سرہ العزیز ”تمہید ایمان“کے اخیر میں فرما چکے کہ انکار کی کوئی گنجائش نہیں اور مذکورہ فتویٰ میں بھی ہے کہ تاویل یا شبہہ کے سبب انکار کی راہ نہیں۔

پس منظر اور فتویٰ:

امام اہل سنت کے عہد مسعود میں ایک فریبی شخص نے سوال کیا تھاکہ آپ اسماعیل دہلوی کے کلمات کو کفریہ بتاتے ہیں،لیکن اس کی تکفیر نہیں کرتے توآپ کا حکم کیا ہوگا؟

حضور مفتی اعظم ہند قدس سرہ العزیز نے جواب میں رقم فرمایا:
”یہ شبہہ واضطراب آپ کا اپنا نہیں، کبرائے مکلبین کو آڑے آیا،اور انہوں نے براہ مکر یہ سمجھ کرکہ وہ جس کے حافظ اللہ ورسول ہیں،جل وعلا وصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم،معاذاللہ ان کے دھوکے میں آجائے گا۔غیر جگہ سے مجہول شخص کے نام سے ایک فریبی سوال گڑھ کر بھیجا اور جواب پالیا،جسے چھ برس ہونے آئے۔

اس کے جواب متعدد ہیں۔یہاں اسی فتوے کی نقل کافی۔ اسے غور سے سمجھئے، اور خود سمجھ میں نہ آئے تو اپنے سمجھانے والوں سے سمجھ لیجئے۔وہ بھی نہ سمجھیں تو تھانوی صاحب سے سمجھئے، اور الٹی سمجھنا نہ سمجھنے سے بدتر ہے۔وہ بھی نہ سمجھیں تو اپنا اقرار عجز لکھیں۔ سمجھا دیا جائے گا:وباللہ التوفیق

فتویٰ یہ ہے: منقول ازجلد یازدہم:فتاویٰ کلامیہ:صفحہ ۲۸۷

مسئلہ:
ازسکندرآباد ضلع بلند شہر بازار مادھو داس-مرسلہ:نورمحمد:۳۲:ربیع الاول شریف۱۳ھ؁
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین:
مسئلہ ذیل میں جواب دے کر عند اللہ ماجور وعند الناس مشکور ہوں۔ ایک شخص حفظ الایمان وبراہین قاطعہ کی نسبت یہ تو کہتا ہے کہ بے شک اس میں سرور عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی صریح توہین اور گالی ہے، مگر پھر بھی تکفیر نہیں کرتا اوریہ کہتا ہے کہ ان کے مؤلف کی تکفیرکو پسند نہیں کرتا۔قابل گزارش یہ امر ہے کہ جب سرور عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو گالی دینے والے کوبھی کافرنہ کہا جائے تو کون کافر ہوگا،اور اس کافرکے کافر کہنے میں جوتأمل کرے گا، وہ خود کافرنہ ہوگا تو کس کافر کے کافر کہنے میں تأمل کرنے والا کافر ہوگا:بینوا توجروا

الجواب: صریح مقابل کنایہ ہے۔اسے ظہور کافی، نہ کہ احتمال کا نافی۔

محقق حیث اطلق نے فتح میں فرمایا:(ما غلب استعمالہ فی معنی بحیث یتبادر حقیقۃ اومجازا صریح-فان لم یستعمل فی غیرہ فاولی بالصراحۃ)
ہدایہ میں ارشاد ہوا: (انت طالق لا یفتقر الی النیۃ-لانہ صریح فیہ لغلبۃ الاستعمال-ولو نوی الطلاق عن وثاق لم یدین فی القضاء لانہ خلا ف الظاہر-ویدین فیما بینہ وبین اللّٰہ تعالٰی لانہ نوی ما یحتملہ)

بہت فقہائے کرام کے نزدیک تکفیر میں بھی اسی قدر کافی، ولہٰذا امثال اسماعیل دہلوی پر بحکم فقہائے کبار لزوم کفر میں شک نہیں جس کی تفصیل کوکبہ شہابیہ سے روشن۔
اور تحقیق اشتراط مفسر ہے۔ یہی مسلک متکلمین اور یہی مختار ومعتبر ہے۔

شخص مذکور کا قول مزبور اگر کسی ایسے کلام کی نسبت ہوتا کہ قسم اول سے تھا تو مشرب متکلمین پر محمول ہوتا، بشرطے کہ وہ ان جاہلان بے خرد کی طرح نہ ہوتا جن کومتبین ومتعین میں تمیز نہیں، مگر بد قسمتی سے اس کا قول براہین قاطعہ لما امراللہ بہ ان یوصل وخفض الایمان کے اقوال بدتر ازابوال کی نسبت ہے جو یقینا قسم دوم سے ہیں، جن کی نسبت علمائے کرام مکہ معظمہ ومدینہ منورہ حکم فرماچکے کہ:”من شک فی کفرہ وعذابہ فقد کفر“جو ان کے کفر واستحقاق عذاب میں شک کرے، وہ خود کافر ہے، لہٰذا نہ اس کے کفر میں کوئی شبہہ حائل، نہ کسی ابلیس کی تلبیس چلنے کے قابل“۔(الموت الاحمر:ص 10-9-جامعۃ الرضا بریلی شریف)

حضور مفتی اعظم ہند قدس سرہ العزیز نے منقولہ بالا فتویٰ کی توضیح وتشریح ”الموت الاحمر“(بحث ثالث)میں رقم فرمادی ہے۔ خلاصہ یہ کہ جب کلام کفر ی معنی میں مفسر اور متعین ہو،تب تکفیر کلامی ہوگی۔اگر کلام کفری معنی میں متبین ہوتو تکفیر فقہی ہوگی، تکفیر کلامی نہیں ہوگی۔ امام اہل سنت قدس سرہ العزیز نے دہلوی کو الکوکبۃ الشہابیہ اور سل السیوف الہندیہ میں کافر فقہی تسلیم فرمایا ہے۔ جب دہلوی کافر کلامی نہیں تو اسے کافرکلامی ہرگز نہیں کہا جا سکتا۔

قصہ کا جواب منقولہ بالا فتویٰ میں ہے اور قصہ مندرجہ ذیل ہے۔

داستان بے نشان:

فقیہ عصرحضرت علامہ مفتی عبید الرحمن صاحب رشیدی دام ظلہ العالی کی طرف ایک قول منسوب ہے۔ مجھے ممدوح گرامی کی کوئی تحریر دستیاب نہیں ہوئی۔ محض اس قصے پر تبصرہ ہو گا۔قصے کی نسبت کا مجھے بالکل علم نہیں، لہٰذا احتمال فی التکلم کے سبب قائل پر کوئی الزام نہیں۔

بعض بجنوری ناقلین نے لکھا کہ حضرت مفتی عبید الرحمن رشیدی صاحب نے فرمایا کہ حضرت علامہ خیر آبادی قدس سرہ العزیز نے اسماعیل دہلوی کی تکفیر کی، اور”من شک فی کفرہ وعذابہ فقد کفر“ کا استعمال فرمایا۔اسی طرح اعلیٰ حضرت قدس سرہ العزیزنے علمائے دیوبند کی تکفیر کی اور ”من شک“کا استعمال فرمایا۔ ا ب علمائے دیوبند کے کفر میں جوتاویل کرتا ہے،اسے ”من شک فی کفرہ وعذابہ فقد کفر“کا حوالہ دے کر فوراً کافر بنانے کی کوشش ہوتی ہے۔ جب کہ خود اعلیٰ حضرت، اسماعیل دہلوی کے کفر میں شک اور تأمل کرتے ہیں۔

اس ضابطے کے عموم کو اگر بلا قید وشرط مان لیا جائے تو علامہ فضل حق خیرآبادی کے فتویٰ کی روشنی میں اعلیٰ حضرت خود بھی ”من شک فی کفرہ وعذابہ فقد کفر“کی زد میں آتے ہیں،بلکہ اپنے فتویٰ کی زد میں بھی آتے ہیں،کیوں کہ جن ایام میں وہ علمائے دیوبند کے کفر کی تحقیق کررہے تھے تو تحقیق حق سے قبل علمائے دیوبند کے کفر کے حوالے سے خود بھی وہ شک میں تھے۔حسام الحر مین کے ”من شک فی کفرہ وعذابہ فقد کفر“کے عموم مطلق کے خلاف یہ بہت مضبوط شبہہ ہے،جسے سب سے پہلے میں نے ہی پیش کیا تھا۔

جس کا قصہ کچھ یوں ہے:

میں ابھی نوفارغ تھا۔ جامعہ جامعہ حمیدیہ بنارس میں مدرس تھا۔ چوری چورا اکسپریس سے گورکھپور سے بنارس کے لیے آرہاتھا۔ اتفاق سے اسی ٹرین میں علامہ مشتاق احمد نظامی بھی بیٹھے تھے جوالٰہ باد جارہے تھے۔ میں نے ان کے سامنے مذکورہ شبہہ رکھا۔ وہ سوچ میں پڑگئے۔ کہنے لگے:مولانا آپ کا یہ سوال بہت اہم ہے۔ آپ ایسا کریں، الجامعۃ الاشر فیہ کا سنگ بنیاد پڑنے والا ہے۔ وہاں تمام اکابر علمائے اہل سنت تشریف لا رہے ہیں۔ میں بھی حاضر ہوں گا۔ آپ وہاں تشریف لائیے، اور وہیں اکابر کے سامنے اپنا سوال رکھیے۔

1972میں سنگ بنیاد کے موقع پر میں حاضر ہوا۔ بہت سے اکابر علما جلوہ افروز تھے۔ میں خدمت میں تھا۔ موقع پاتے ہی میں نے اپنا سوال رکھ دیا۔ سب ایک دوسرے کو دیکھنے لگے۔ جب خاموشی ذرا طویل ہوئی تو فوراً علامہ ارشد القادری گویا ہوئے۔

ارے مولانا! آپ کا سوال بہت سنجیدہ اور علمی ہے، اور ابھی علمائے کرام ایک دوسرے مقصد کے لیے جمع ہوئے ہیں۔ اس بیچ آپ نے یہ بحث چھیڑ دی۔
آپ ایسا کریں کہ آپ کا جوبھی سوال ہو، اسے قلم بند کردیں اورنیچے اپنا نام پتہ لکھ کر حضرات مشائخ کے سپرد کردیں۔ یہ حضرات جب واپس اپنے ٹھکانوں پر جائیں گے تووہاں اطمینان سے آپ کے سوال کاجواب لکھ کر آپ کو بھیج دیں گے۔

میں نے اپنا سوال مرتب کیا۔ کاربن کی مدد سے اس کی کئی کاپیاں تیار کیں، اور تمام علمائے کرام کے حوالے کردیا۔دوسال بعد مجھے اشرف العلما نے بنارس سے دارالعلوم محمدیہ ممبئی بلا لیا۔ میرے بارے میں انہی دنوں اس قسم کے کی چہ می گوئیا ں شروع ہوگئی تھیں کہ مفتی صاحب رضوی نہیں ہیں،رشیدی ہیں،اس لیے اعلیٰ حضرت سے وہ عقیدت نہیں رکھتے، جو رکھنی چاہئے، بلکہ گاہے بگاہے اعلیٰ حضرت کی تحریروں پر سوالات بھی اٹھاتے رہتے ہیں۔ ان سب باتوں کی وجہ سے ایک طبقہ دارالعلوم محمدیہ میں میری تقرری پر چیں بہ جبیں تھا۔

اشرف العلما نے ایسے لوگوں کی زبان بندی کے لیے سہ ماہی امتحان رکھا، اور ممتحن کے طورپر سید العلما اور مجاہد ملت کو بلوایا۔ ان حضرات کے حوالے بیش تر انہی کتابوں کا امتحان رکھا جن کومیں پڑھاتا تھا۔ یہ حضرات، طلبہ کی علمی استعداداور ان کے جوابات سے بہت خوش ہوئے۔ اس کا بالواسطہ کریڈٹ مجھے بھی ملا۔

مجاہد ملت جب رخصت ہورہے تھے۔اچانک ان کی نظر میرے اوپر ٹک گئی۔

مولانا! اشرفیہ کے سنگ بنیاد کے موقع پر سوالات آپ نے ہی پیش کیے تھے؟

جی حضور!

اچھا! کسی کا جواب آیا؟

حضور! اب تک کسی کا کوئی جواب نہیں آیا۔

اچھا!آ پ ایسا کریں کہ شام میں میری قیام گاہ پر تشریف لائیں۔
مجاہد ملت نے یہ کہا اور روانہ ہوگئے۔ شام کے وقت میں مجاہد ملت کی قیام گاہ پر پہنچا۔
مجاہد ملت نے تخلیہ فرمایا۔اس کے بعد استفسار کیا:

مولانا! اب تک آپ کے پاس کسی کا کوئی جواب نہیں آیا، لیکن چوں کہ سوال پر مسؤل غور کرے،یا نہ کرے، سائل تو خود مسلسل غور کرتا رہتا ہے تو اس طویل مدت میں آپ نے بھی تو کچھ غور کیا ہوگا؟

جی حضور! میں نے غور کیا ہے اس پر۔

کیا جواب سمجھ میں آیا؟

حضور! من شک فی کفرہ وعذابہ فقد کفر کے معنی یہ ہیں کہ اطلاع شرعی کے بعد اگر کوئی شک کرے تو یقینا وہ کافر ہے، اور اطلاع شرعی کے معنی یہ ہیں کہ یہ عبارتیں اس تک صحیح طریقے سے پہنچی ہوں،اور اس کے بعد ان سے اس کے اوپر کفر واضح بھی ہوا ہو۔

مجاہد ملت یہ جواب سن کرکھل اٹھے،اورفرط مسرت میں مجھے گلے لگا لیا۔

فرمایا:مولانا یہی جواب ہے۔(قصہ تمام ہوا)

جوابات:

کسی اعتبارسے محسوس نہیں ہوتا کہ یہ قصہ ایک عالم اہل سنت کا ہے۔ناقلین کچھ بھی نقل کرکے اپنے مقصدباطل کو ثابت کرتے ہیں۔ خلیل بجنوری نے اپنی کتاب:انکشاف حق میں اس طرح کے متعددقصوں کو بیان کیاہے۔ بعض اکابر علمائے اہل سنت پر اشخاص اربعہ کی تکفیر کے انکار کا بھی جھوٹاالزام عائد کیا ہے۔مذکورہ قصے پرتبصرہ مندرجہ ذیل ہے۔

(1)کفر کلامی کا انکار تاویل کے ذریعہ ہو، یا بلا تاویل،دونوں صورتوں میں کفر کلامی کا انکار کفر ہے۔ اگر تاویل کے ذریعہ انکار کرنے پر حکم کفر عائد نہ ہوتو اشخاص اربعہ اپنی نظر میں کافر نہیں ہوں گے، کیوں کہ وہ لوگ تاویل کے ذریعہ اپنے کفر کا انکار کرتے ہیں۔اسی طرح دیگر دیابنہ بھی کافرنہ ہوں، کیوں کہ وہ لوگ تاویل کے ذریعہ اشخاص اربعہ کے کفر کا انکار کرتے ہیں۔ اسی طرح عہد حاضرکے روافض مجتہدین اور ان کے متبعین روافض بھی کافر نہ ہوں۔ ہر مرتد فرقہ تاویل باطل کے ذریعہ اپنے کفر کا انکار کرتا ہے،پس کوئی بھی کافر نہ ہو۔

مذکورہ بالا قول کسی عالم اہل سنت کا نہیں ہوسکتا۔ اگر کسی عالم نے ایسا کہا ہے تو وہ اپنے ہم رتبہ علمائے کرام کی تائیدوتصدیق پیش کریں۔خلیل بجنوری کا بھی یہی نظریہ تھا۔اسی ارتدادی نظریہ کے سبب وہ اشخاص اربعہ کی تکفیر سے توقف کرنے لگا۔انجام کار علمائے اہل سنت وجماعت نے اسے کافر قرار دیا۔ان شاء اللہ تعالیٰ تفردات باطلہ کے سبب ہم قوم کو ضلالت وگمرہی میں مبتلا ہونے نہیں دیں گے،مگر جس کی تقدیر میں ضلالت مقدر ہو۔

کفر کلامی، کفر قطعی اجماعی ہے۔ اس میں اجتہاد جاری نہیں ہوگا۔ تاویل کے ذریعہ بھی کسی امر قطعی کا انکار کفر ہے۔بعض لوگوں نے یہ سمجھ لیا ہے کہ جس طرح فقہیات میں مقیس علیہ کا حکم قطعی بھی ہوتو مقیس کا حکم ظنی ہوتا ہے،اسی طرح باب اعتقادیات کے مسائل ہیں۔

باب اعتقادیات میں قیاس جاری ہی نہیں ہوتا۔ دلائل کی روشنی میں یہ تعین کیا جاتا ہے کہ ملزم پر حکم عائد ہوگا یا نہیں؟ مثلاً زید نے کہا کہ اللہ تعالیٰ ایک نہیں، دو ہے۔اب یہ دیکھا جائے گا کہ زید کا قول، ارشاد الٰہی (قل ہو اللہ احد)کے صریح مخالف ہے یانہیں؟یہ مخالفت قطعی بالمعنی الاخص ہے یاقطعی بالمعنی الاعم؟ اگر مخالفت قطعی بالمعنی الاخص ہے تو زید کافر کلامی ہے۔یہ قیاس واجتہاد نہیں،بلکہ دلائل کی روشنی میں حکم کا تعین ہے۔

تاویل باطل کے ذریعہ کفر کا انکار بھی کفر ہے۔ تاویلات باطلہ کے غیرمقبول ہونے کاتفصیلی ذکر”تمہید ایمان“ میں مرقوم ہے۔ایک قانون مندرجہ ذیل ہے۔

امام ابن نجیم مصری حنفی نے رقم فرمایا:(وَمَن حَسَّنَ کَلَامَ اَھلِ الاَھوَاءِ اَو قَالَ مَعنَوِیٌّ اَو کَلَامٌ لَہٗ مَعنًی صَحِیحٌ-اِن کَانَ ذٰلِکَ کُفرًا مِنَ القَاءِلِ کَفَرَ المُحَسِّنُ)(البحرالرائق:جلد پنجم:ص 209)

ترجمہ: جو بدمذہبوں کے کلام کو اچھا جانے، یاکہے کہ بامعنی ہے، یا یہ کلام کوئی صحیح معنی رکھتا ہے۔اگر وہ اس قائل کا کلمہ کفرتھا تو یہ اچھا بتانے والا کافر ہوگیا۔

اہل بدعت کا وہ کلام جس پر کفر کا حکم عائدہو،ایسے کلام کو جواچھا بتائے،وہ بھی کافر ہے۔ اسی طرح جو کہے کہ وہ معنوی کلام ہے،یعنی اس کلام کا ظاہری معنی مراد نہیں،بلکہ خاص معانی مرادہیں، جیسے اشخاص اربعہ کے کلام کو بھی بعض لوگ صوفیا کے کلام کی طرح معنوی کلام قرار دے کر ان کی عبارتوں کوکفریہ نہیں مانتے،یس یہ بھی کفرہے،یا کہے کہ اس کلام کا کوئی صحیح معنی ہے تو یہ شخص بھی کافر ہے۔تاویل کے ذریعہ حکم کفر کا انکارکرنے والا بھی کافر ہے۔

(2)حضرت علامہ خیرآبادی قدس سرہ العزیز نے اسماعیل دہلوی کی تکفیر میں ”من شک“کا استعمال فرمایا تھا۔امام اہل سنت قدس سرہ العزیز کی زندگی ہی میں اس قسم ک عتراض ہوا۔

حضور مفتی اعظم ہند قدس سرہ العزیز نے امام اہل سنت علیہ الرحمۃوالرضوان کی حیا ت مبارکہ ہی میں ان سوالوں کے تفصیلی جوابات ”الموت الاحمر“میں رقم فرمادیئے، پھر سوال ہونے پر اکابر علمائے کرام ایک دوسرے کا منہ کیسے تکنے لگے؟

الموت الاحمر کے جواب کا خلاصہ یہ ہے کہ متکلمین کافرفقہی کو کافر نہیں کہتے۔ہاں، اصلاح فقہائے کرام کے اعتبارسے اسے کافر فقہی مانتے ہیں۔ اسماعیل دہلوی کافر فقہی ہے، کافر کلامی نہیں،اسی لیے امام اہل سنت قدس سرہ مذہب متکلمین پراس کی تکفیر نہیں فرماتے۔

(3)امام اہل سنت قدس سرہ العزیز نے اپنے فتاویٰ ورسائل میں اسماعیل دہلوی کی تکفیر فقہی سے متعلق مفصل بحث رقم فرمائی ہے۔ الکوکبۃ الشہابیہ اور سل السیوف الہندیہ میں دہلوی کی تکفیر فقہی کی بحث ہے۔ تمہید ایمان میں تکفیر دہلوی اور تکفیر اشخاص اربعہ کا فرق بیا ن کیا گیا ہے،پھر سوال ہونے پر اکابر علمائے کرام ایک دوسرے کا منہ کیسے دیکھنے لگے؟

(4)علامہ خیرآبادی قدس سرہ العزیز نے ”وعذابہ“کا استعمال نہیں فرمایا ہے۔ یہ تکفیر کلامی میں استعمال ہوتا ہے۔ اس کا مفہوم یہ ہے کہ کافر کلامی دائمی معذب ہے جواس کے دائمی معذب ہونے میں شک کرے تووہ بھی اسی طرح دائمی معذب ہے۔ کافرفقہی دائمی معذب نہیں ہوتا، اس لیے کافرفقہی کے لیے ”وعذابہ“حذف کر کے استعمال وارد ہے۔

حضرت امام احمد بن حنبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے عہد میں کافرفقہی یعنی خلق قرآن کے قائلین،معتزلہ،جہمیہ وغیرہ کے لیے ”من شک فی کفرہ فقد کفر“کا استعمال وارد ہوا۔ عہد ماضی کے روافض کے لیے بھی مذکورہ اصول کا استعمال ”وعذابہ“کے حذف کے ساتھ استعمال ہوا۔

(من شک فی کفر ہ وعذابہ فقد کفر)میں لفظ ”وعذابہ“سے مجرم کے دائمی معذب ہونے کا ذکر ہے،کیوں کہ کافر کلامی بھی کافر اصلی کی طرح دائمی معذب ہے۔

کافر فقہی دائمی معذب نہیں،اسی لیے حضرت امام احمد بن حنبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے عہد میں جب خلق قرآن کے قائلین کے لیے اس اصول کا استعمال ہوا تو اس کے دائمی معذب ہونے کا ذکر نہیں،یعنی (من شک فی کفر ہ وعذابہ فقدکفر)کا استعمال نہیں ہوا، بلکہ (من شک فی کفرہ فقدکفر)کہا گیا۔

قرآن عظیم کو غیر مخلوق ماننا ضروریات اہل سنت سے ہے۔ اس کا منکر کافر فقہی ہے۔معتزلہ،جہمیہ وغیرہ خلق قرآن کے قائل اورکافر فقہی ہیں۔

اسماعیل دہلوی بھی کافرفقہی ہے، لہٰذاحضرت علامہ خیرآبادی قد س سرہ العزیز نے دہلوی کی تکفیرمیں اس کے دائمی معذب ہونے کا ذکر نہیں کیا۔اہل علم کے لیے یہ واضح دلیل ہے کہ وہ فتویٰ کفر فقہی کا ہے۔تکفیر کلامی میں مجرم کے دائمی معذب ہونے کا بھی ذکر ہوتا ہے۔
حضرت علامہ خیر آبادی علیہ الرحمۃ والرضوان کے فتویٰ کا وہ حصہ منقولہ ذیل ہے۔

”وجواب سوال سوم ایں است کہ:
قائل ایں کلام لا طائل ازروئے شرع مبین بلاشبہ کافر وبے دین است۔ہر گز مومن ومسلمان نیست، وحکم اُو شرعاً قتل وتکفیر است، وہر کہ در کفر اُو شک آرد، یا تردد دارد، یا ایں استخفاف راسہل انگارد،کافر وبے دین ونا مسلمان ولعین است“۔
(تحقیق الفتویٰ قلمی نسخہ:سیف الجبار: ص88-مطبوعہ کانپور)

دہلوی کے دائمی معذب ہونے کا ذکر نہ کرنا واضح قرینہ ہے کہ یہ تکفیر فقہی ہے۔اسی طرح اس کے اعمال کے برباد ہونے کا ذکربھی نہیں، بیوی کے بائنہ ہونے کا ذکر نہیں۔تکفیر کلامی کے احکام خاصہ کا بیان نہیں۔قتل کا حکم اہل بدعت کے لیے بھی دیا جاتا ہے۔

(5)اشرفیہ کے سنگ بنیاد میں خود حضور مفتی اعظم ہند قدس سرہ العزیز جلوہ افروز تھے۔ آپ ہی ”الموت الاحمر“کے مصنف ہیں۔آپ اس عہد میں تاجدار اہل سنت اور مرجع قوم تھے۔ ایسا اہم شبہہ ان کی خدمت میں پیش کیوں نہیں کیاگیا؟ جب خود علامہ رشیدی اس اجلاس میں حاضر تھے تو خود انہوں نے حضو ر مفتی اعظم ہند سے سوال کیوں نہیں فرمایا؟

جن اکابر کا ذکر ہے،کیا اس مجمع میں حضورمفتی اعظم ہند قدس سرہ العزیزجلوہ افروز نہیں تھے۔جب سوال نامہ تحریر کیا گیا تھا تو کم ازکم تحریری سوال نامہ پیش کرنا تھا۔

(6)دوسال تک اکابرعلمائے اہل سنت وجماعت نے کوئی جواب نہیں دیا۔قابل تعجب ہے۔کسی نوپید مسئلہ میں تاخیر ہوتو ایسا ممکن ہے۔تکفیر ہلوی پر اعتراض وجواب کا سلسلہ حسام الحر مین کے بعد ہی شروع ہوگیا تھا۔ دیوبندیوں نے پہلے ”المہند“لکھ کر فریب دینے کی کوشش کی۔کامیابی نہ ملی توان لوگوں نے تکفیردہلوی پر اعتراض اٹھایا،پھروصایا شریف اور ”الملفوظ“پر سوالات کیا۔اس کے بعد خلیل بجنوری میدان میں آیا۔آج کل بجنوری کے متبعین میدان میں تڑپ رہے ہیں۔ سواد اعظم بفضل الٰہی ضلالت وگمرہی میں مبتلا نہیں ہوتا۔

فرقہ بجنوریہ نے شروع میں یہ سمجھا کہ جامعہ اشرفیہ(مبارک پور) ان کے آستانے پر جا بیٹھے گا۔یہ نہ ہوسکا توخانقاہ اشرفیہ (کچھوچھہ مقدسہ) سے قربت بڑھائی۔ وہاں بھی کامیابی نہ ملی تو قصوں کو دلیل بنا کر پیش کرنے لگے۔ان قصوں کی حقیقت مجھے معلوم نہیں۔

(7)حضور مجاہد ملت، حضرت علامہ مشتاق احمدنظامی وحضرت علامہ ارشد القادری علیہم الرحمۃوالرضوان اہل سنت وجماعت کے عظیم مناظر اورعلم وفضل کے سمندرتھے۔
یہ عقلاً بعید تر ہے کہ ان عظیم مناظرین اسلام کو الکوکبۃ الشہابیہ، سل السیوف الہند یہ، تمہید ایمان، الموت الاحمر وغیرہ کی خبر ہی نہ ہو۔ مناظروں میں تکفیر دہلوی کی بحث آتی تھی۔ سوالوں کے جواب دئیے جاتے تھے۔ کیا یہ عظیم مناظرین اسلام بالکل بے خبرتھے۔

شیر بیشہ اہل سنت حضرت علامہ حشمت علی خاں رضوی قد س سرہ العزیز نے یکم ربیع الاول 1359مطابق 10:اپریل 1940 کو موراواں ضلع اناؤ (یوپی)میں نور محمد ٹانڈوی سے مناظرہ فرمایا۔ اس میں اسماعیل دہلوی کی تکفیرفقہی بھی موضوع بحث تھی۔ اس مناظرہ کی روداد بنام:”مبلغ وہابیہ کا گریز“مطبوع ومشہور ہے۔ اسی رسالہ میں صفحہ 258-257میں اسماعیل دہلوی کی تکفیر کلامی نہ کرنے پر ٹانڈوی کے اعتراض کا جواب مرقوم ہے۔

32:سال بعد 1972میں سوال ہو رہا ہے اور اعاظم مناظرین خاموش ہیں۔سبحان اللہ

(8)مناظروں میں دیابنہ کی کفریہ عبارتوں کی بحث آتی۔دیوبندی مناظرین ان کفریہ عبارتوں کی تاویل کرتے۔ جب تاویل کرنے والوں پرحکم عائد ہی نہیں ہوتا تو پھر ان دیوبندی مناظرین کو کافر نہیں سمجھنا چاہئے، حالاں کہ تمام علمائے اہل سنت وجماعت کا اتفاق ہے کہ جو شخص عناصر اربعہ کے کفریہ عقائد اوران لوگوں پرنافذکردہ حکم کفر پر یقینی طورپر مطلع ہیں،اس اطلاع کے باوجود انکار کرتا ہے تووہ کافرہے۔

(9)صاحب قصہ کی جانب ”من شک“ کی مندرجہ ذیل تاویل منسوب ہے۔
نسبت کا علم مجھے نہیں۔ہم محض اصول وضوابط کی روشنی میں بحث رقم کریں گے۔

”من شک فی کفرہ وعذابہ فقد کفر“ کے معنی یہ ہیں کہ اطلاع شرعی کے بعد اگر کوئی شک کرے تو یقینا وہ کافر ہے، اور اطلاع شرعی کے معنی یہ ہیں کہ یہ عبارتیں اس تک صحیح طریقے سے پہنچی ہوں، اور اس کے بعد ان سے اس کے اوپر کفر واضح بھی ہوا ہو“۔

جواب:سوال نامہ مجھے دستیاب نہیں ہوسکا۔ اس کی روشنی میں مذکورہ تشریح پر صحیح تبصرہ ہوتا۔ اگر سائل نے صرف اتنا سوال کیاتھا کہ امام اہل سنت قدس سرہ العزیز جب اشخاص اربعہ اور قادیانی کے مسئلہ تکفیر کی تحقیق فرما رہے تھے،اور ابھی آپ کی تحقیق مکمل نہیں ہوئی تھی،تب آپ پر ”من شک“کا حکم وارد کیوں نہیں ہوگا؟

اگر یہی سوال تھا، اوراسی سوال کا جواب خود سائل نے دیا ہے تو بالکل صحیح جواب ہے کہ عہد تحقیق میں محقق پر”من شک“کا حکم وارد نہیں ہوگا، کیوں کہ ابھی احتمالات پر غور وفکر جاری ہے،اور ملزم کا حکم شرعی مکمل طورپرمفتی ومحقق کے لیے واضح نہیں ہوسکا ہے۔

جب محقق کوتواتر کے ساتھ یا سماع کے ذریعہ کفر یہ کلام موصول ہو،اور ہر طرح سے غوروفکر کے بعد ان کی نظر میں ملزم کا کافر ہونا بالکل واضح ہوجائے۔ کوئی احتمال یا شبہہ باقی نہ رہے تو اب اگر محقق اس ملزم کے کفر میں شک کرے تو خود اس پر حکم کفر عائد ہوگا۔

لیکن مذکورہ تاویل صرف مکفر کے حق میں درست ہے، دیگر مومنین کا یہ حکم نہیں۔

جب کفر کلامی کا فتویٰ صحیح ہو تودیگر مومنین کو تصدیق کرنی ہے۔ہرایک کو مستقل طور پرتکفیر نہیں کرنی ہے۔ حکم شرعی کی تصدیق کا حکم عوام الناس کے لیے بھی ہے،لیکن عوام الناس کو تکفیرکی اجازت نہیں،بلکہ کسی بھی شرعی مسئلہ میں عوام مسلمین کو تحقیق کی اجازت نہیں۔

اگر مذکورہ بالا تشریح میں یہ مراد ہے کہ جملہ عوام مسلمین کے لیے تمام شبہات دور ہونا ضروری ہے تو یہ معتزلہ کا مذہب ہے۔ عوام اس کے مکلف نہیں، جیسے تمام ضروریات دین میں عوام اس کے مکلف نہیں۔ توحید ورسالت، قیامت وحشر وغیرہ سے متعلق تمام شبہات اوران کے جوابات سے عوام کا واقف ہونا ضروری نہیں۔اللہ تعالیٰ نے قرآن مجیدمیں ہرطبقہ کی ایک جماعت کو فقیہ ہونے کا حکم بیان فرمایا۔ تمام افراد امت کوفقیہ وعالم ہونے کا حکم بیان نہیں فرمایا:

ارشاد الٰہی ہے:(وما کان المؤمنون لینفروا کافۃ فلولا نفرمن کل فرقۃ طائفۃ لیتفقہوا فی الدین ولینذروا قومہم اذا رجعوا الیہم لعلہم یحذرون)
(سورہ توبہ:آیت 122)

ترجمہ: اور مسلمانوں سے یہ تو ہو نہیں سکتا کہ سب کے سب نکلیں تو کیوں نہ ہوا کہ ان کے ہرگروہ میں سے ایک جماعت نکلے کہ دین کی سمجھ حاصل کریں اور واپس آکر اپنی قوم کو ڈر سنائیں، اس امید پر کہ وہ بچیں۔(کنز الایمان)

مکفرین اور دیگر مومنین کا حکم مندرجہ ذیل ہے۔ دونوں فریق کے حکم میں فرق ہے۔

مکفرین کا حکم شرعی حکم:

سوال: جب اعلیٰ حضرت قدس سرہ العزیز اشخاص اربعہ اورقادیانی وغیرہ کے حکم کی تحقیق فرما رہے تھے۔اس وقت اعلیٰ حضرت علیہ الرحمۃوالرضوان کو ان لوگوں کے کفر میں شک تھا،یقین نہیں تھا،تب (من شک فی کفرہ وعذابہ فقد کفر)کا حکم ان پر بھی عائد ہو گا،یا نہیں؟اگر ”من شک“کا حکم وارد نہ ہوتویہ قاعدہ کلیہ اپنے عموم پر محمول نہیں؟

جواب:(1)اگرمکفرکواحتمال فی الکلام کا خیال گزرے توتحقیق کی مدت میں مفتی کو یہ اعتقاد رکھناہے کہ ملزم عند اللہ جیسا ہے، ہمارے اعتقاد میں بھی ویسا ہی ہے۔یہ انکار نہیں ہے،بلکہ اجمالی ایمان ہے۔جب کسی ضروری دینی کا تفصیلی علم ہو جائے،تب تفصیلی ایمان کا حکم ہے۔جب تفصیلی علم ہی نہیں تو تفصیلی ایمان کیسے لائے گا؟

جن امور کا تفصیلی علم ہو، ان کی تفصیلی تصدیق ضروری ہے، ورنہ اجمالی تصدیق کافی۔ کسی غیر مسلم نے اجمالی طور پر کہا کہ جو کچھ مذہب اسلام میں ہے۔ہم نے سب پر ایمان لایا تو وہ مومن ہے۔جب کسی ضروری دینی کا تفصیلی علم ہونے پر انکار کر دے،تب حکم شرعی وارد ہو گا۔کیا کسی نومسلم کو تمام ضروریات دین کا تفصیلی علم ہوتا ہے؟کیا معترضین کو تمام ضروریات دین کا تفصیلی علم ہے؟اگر ہے تو تمام ضروریات دین کی صرف ایک فہرست پیش کریں۔

(2)تحقیق کی مدت میں کفریہ قول موصو ل ہوگیا، لیکن تکلم کی نسبت یقینی نہیں،یعنی احتمال فی التکلم ہے،تب مشروط تکفیر کرے گا کہ اگر اس نے ایسا کہا ہے، تب کافر ہے۔
امام اہل سنت قدس سرہ العزیزنے قادیانی کی پہلے مشروط تکفیر فرمائی، اس وقت خبر واحد کے ذریعہ عبارت پہنچی تھی۔اگست ۲۰۹۱؁ء مطابق ۰۲۳۱؁ھ میں مولانا پیر عبد الغنی کشمیری امرتسری (م۸۳۳۱؁ھ) نے مرزاکی عبارات متفرقہ لکھ کر بریلی شریف بھیجا۔ امام اہل سنت نے ان عبارات کے پیش نظر رسالہ (السوء والعقاب علی المسیح الکذاب)تحریرفرمایا،اورآپ نے رقم فرمایا کہ اس شہرمیں مرزا کا فتنہ نہیں آیا۔اس کی تحریرات یہاں نہیں ملتیں،اورآپ نے اس رسالہ میں لکھاکہ اگر یہ اقوال مرزا کی تحریروں میں اسی طرح ہیں تو واللہ واللہ وہ یقیناکافر، اور جو اس کے ان اقوال یاان کے امثال پر مطلع ہوکر اسے کافرنہ کہے،وہ بھی کافر۔

یہ قادیانی کی مشروط تکفیر تھی کہ اگر اس نے ایسا کہا ہے تو کافر ہے،کیوں کہ خبرواحد کے ذریعہ قادیانی کی عبارت موصول ہوئی تھی۔بعدمیں اس کا تیقن حاصل کیا گیا۔
آپ نے اس فتویٰ کے بعد مرزاغلام احمدقادیانی کی کتابیں منگوائیں اور ۰۲۳۱؁ھ / ۲۰۹۱؁ء میں ”المعتمد المستند“میں مرزاقادیانی کی بعض عبارات ذکرکرکے تکفیر فرمائی۔ ۳۲۳۱؁ھ میں ”قہر الدیان علیٰ مرتدبقادیان“تحریرفرمایا۔ ۳۲۳۱؁ھ/۴۲۳۱؁ھ مطابق ۶۰۹۱؁ء میں علمائے حرمین طیبین نے حسام الحرمین میں مرزاکے کافر ہونے کی تصدیق فرمائی۔

(3) کافر کلامی کے کافر کلامی ہونے کا قطعی علم ہو جانے کے بعد مفتی شک کرے، تب حکم کفر ہے۔تحقیق کی مدت میں اس کے کافر کلامی ہونے کا یقین حاصل نہیں ہوتا۔ جب تحقیق مکمل ہو گئی۔ملزم کے کفر میں کسی قسم کا شک وشبہہ باقی نہیں رہا۔مفتی شرعی دلائل کی روشنی میں اس کے کفر پر بالکل مطمئن ہو گیا۔اب مفتی شک وشبہہ کرے تومفتی پر حکم کفر عائد ہو گا۔

مسئلہ تکفیر میں دیگر مومنین کا حکم:

جب کسی ملزم کا کافر کلامی ہونا ثابت ومتحقق ہوجاتا ہے، تب فتویٰ میں ’’من شک“ قاعدہ کلیہ استعمال ہوتا ہے۔ یہاں حسام الحر مین کے فتاویٰ زیر بحث ہیں۔فتویٰ میں جب ”من شک“ کا استعمال ہوتو بالکل واضح ہے کہ اس ملزم سے متعلق ساری تحقیق ہو چکی ہے۔ اب شک وشبہہ کی گنجائش نہیں۔جو اس کے کفر میں شک کرے، وہ بھی کافر ہے۔کفریہ عقائد کا علم ضروری ہے،تاکہ وجہ کفرمعلوم ہوسکے،اور تصدیق کے لیے حکم کفر کا علم ضروری ہے۔

اگر کفر کلامی کا فتویٰ صحیح ہے توغیر مکفرین کوکافر کلامی کے کافر ہونے کی تصدیق لازم ہے،یعنی اس پر جو شرعی حکم وارد ہوا ہے،اس کوماننا لازم ہے۔جولوگ کہتے ہیں کہ کسی کو شبہہ ہو جائے اور کافر کلامی کو کافرنہ مانے تو اس پر حکم کفر نہیں۔سوال یہ ہے کہ آج کل ملحدین وجود خداوندی پر سوالات اٹھاتے ہیں۔اگر کسی کو وجود الٰہی پر شبہہ ہو جائے۔ شبہہ کے سبب اللہ تعالیٰ کے وجود کا انکار کر دے تو وہ مومن ہے یا کافر؟

مشرکین مکہ کو توحید الٰہی پرشبہہ تھا۔وہ کہتے تھے:

(اَ جعل الالہۃ الہًا واحدًا ان ہذا لشیء عجاب)(سورہ ص:آیت5)
ترجمہ:کیا اس نے بہت خداؤں کا ایک خدا کر دیا۔بے شک یہ عجیب بات ہے۔
(کنز الایمان)

شبہہ کے سبب مشرکین نے توحید کا انکار کیا توبھی اللہ تعالیٰ نے انہیں کافر ومشرک قرار دیا۔دراصل جہاں شبہات باطلہ ہوں۔وہاں شبہات باطلہ کودور کر کے حکم شرعی کو ماننا ہے۔اگر شبہات باطلہ بالکل نہ ہوں تو تکلیف کا معنی باطل ہو جائے گا۔بندے مکلف ہیں۔ تمام احکام شرعیہ کا اضطراری یقین حاصل ہو تو تکلیف کا معنی باطل ہو جائے گا۔

اسی طرح کسی کو قطعی علم حاصل ہو گیا،مثلا بیس پچیس قابل اعتماد مومنین نے بتادیا کہ تمام علمائے حق اشخاص اربعہ کواس کے فلاں فلاں کفریہ عقائدکے سبب کافر مانتے ہیں۔ اتنے مومنین کے بتانے سے اسے یقین حاصل ہو گیا کہ اشخاص اربعہ کافر ہیں۔اب وہ اس کے کافر ہونے میں شک کرتا ہے تو خودکافر ہے۔

اگر کوئی علمی شبہہ ہے تو شبہہ دور کیا جائے گا۔نہ کہ اشخاص اربعہ کے کافر ہونے میں شک کیا جائے گا۔کافر ہونے میں شک کرنا الگ ہے اور کوئی علمی شبہہ ہونا الگ ہے۔

دیابنہ اشخاص اربعہ کی تکفیر پر شبہات پیش کرتے ہیں۔علمائے اہل سنت کتابوں میں ان کے جوابات تلاش کرتے ہیں۔ان کے شبہات کو دور کرتے ہیں۔جواب تلاش کرنے کی مدت میں علمائے حق اشخاص اربعہ کی تکفیر سے متعلق کسی شک میں مبتلا نہیں رہتے ہیں،بلکہ حسب سابق ان کو یقین حاصل رہتا ہے۔

تمام مومنین کو اشخاص اربعہ کی تکفیرکلامی پر وارد ہونے والے تمام شبہات کے جواب پر مطلع ہونا ضروری نہیں۔بس حکم شرعی کو ماننا ضروری ہے۔توحید الٰہی،ہمارے رسول علیہ الصلوٰۃ والسلام کی رسالت ونبوت،قیامت اور بے شمار اسلامی احکام پر مخالفین کے طرح طرح کے اعتراضات ہیں۔تمام مومنین کو ان تمام شبہات اور ان کے جوابات پر مطلع ہونا ضروری نہیں۔معترضین کوملحدین کے کتنے شبہات اوراس کے جوابات کا علم ہے؟
نہ ہر ایک کوتمام شبہات کا علم ہے،نہ تمام کے جوابات کا ہرایک کو علم ہے۔

سارے اعتراضات اشخاص اربعہ کی تکفیر پر اٹھتے ہیں۔قادیانی کی تکفیر پر کوئی سوال نہیں،کیوں کہ دیوبندیوں نے تکفیر کر دی ہے،یعنی دیابنہ جس کو کافر کہہ دیں،وہ کافر ہے۔

جن لوگوں کی رشتہ داریاں دیوبندیوں سے ہیں،وہ حر کت مذبوحی میں مبتلا ہیں۔

مسئلہ تکفیر کلامی اور متکلمین:

ماہرمتکلمین کو کفر کلامی کی صحت وسقم کو پرکھ لینا مشکل نہیں۔تکفیر اور تاویل کے اصول وضوابط ہیں،ان کی روشنی میں تمام حقائق واضح نظر آتے ہیں۔حسام الحر مین کی تصدیقات کو ملاحظہ فرمائیں۔ 33:اکابرعلمائے حرمین طیبین بیک زبان فرماتے ہیں کہ قادیانی واشخاص اربعہ کافر ہیں۔ حسام الحر مین کے بعد ”الصوارم الہندیہ“میں 268:اکابرعلمائے برصغیر کی تصدیقات ہیں۔علمائے اہل سنت کی جانب سے انکار نہیں آیا۔

بالفرض اگر کسی کا انکار ظاہر ہوتو دیکھنا ہوگا کہ وہ متکلم ہے،یا غیرمتکلم۔خلیل بجنوری اسلاف کرام کی عبارتوں کو سمجھنے سے قاصر تھا۔ وہ فیصلہ کی منزل میں نہیں تھا، اور فیصلہ کرنے لگا۔ فیصلہ ہی تومشکل ہے۔ عبارتیں کتابوں میں موجود ہیں،پھربھی نوپیدمسائل میں فیصلہ کے واسطے ماہر علمائے کرام کی طرف رجوع لازم ہے۔ قرآن مقدس اوراحادیث طیبہ موجود ہیں، لیکن فیصلہ مجتہد کو کرنا ہے اور غیرمجتہد کوتقلید لازم۔عہد مجتہدین کے بعد بھی نوپید مسائل میں صاحب نظر فقیہ کو تحقیق کی اجازت ہے۔ہر فقیہ کو اجازت نہیں۔ظنیات وعملیات میں اس قدر محتاط حکم ہے,پھر قطعیات واعتقادیات میں کس قدر احتیاط کا حکم ہو گا۔

امام احمد رضا قادری قدس سرہ العزیز عظیم متکلم اسلام تھے۔ان کافیصلہ نافذالعمل ہوگا۔امیر المومنین فی الحدیث امام بخاری قدس سرہ العزیز میدان فقہ میں طبع آزمائی فرمائے اور صحیح نتیجہ پیش نہ کرسکے۔

جس طر ح فقہائے کرام کے سات طبقات ہیں۔ بعض مجتہد ہیں اوربعض غیر مجتہد۔ بعض فقہ جاننے والے طبقات سبعہ سے بھی خارج ہیں، جیسے عوام اور طلبائے مدارس۔

تمام فقہائے کرام یکساں نہیں،جیسے تمام ڈاکٹرس یکساں نہیں۔ تمام منسٹرس یکساں نہیں۔ ہرایک شعبہ میں مختلف درجات ومراتب ہیں۔اسی طرح متکلمین کے بھی مختلف درجات ہیں۔

صاحب نظر متکلمین کے فیصلے نافذالعمل ہوتے ہیں۔اگرتمام متکلمین ہم رتبہ وہم درجہ ہوتے تواہل سنت وجماعت باب عقائدمیں امام اشعری وامام ماتریدی کو اپنا امام تسلیم نہ کرتے، بلکہ ہر ایک کی تحقیق کو تسلیم کر لیتے،اور اس پرعمل کرتے،حالاں کہ باب فقہ میں حضرات ائمہ اربعہ کو امام تسلیم کیا جاتا ہے اور باب عقائد میں امام اشعری وامام ماتریدی کو امام تسلیم کیا جاتا ہے۔ (علیہم الرحمۃ والرضوان)اصحاب علم غوروفکر کریں اور حق پر قائم رہیں۔

فقہائے کرام کوتکفیر کلامی کی اجازت نہیں:

امام محمدغزالی شافعی(۰۵۴؁ھ-۵۰۵؁ھ)نے تحریر فرمایاکہ کفرکلامی کافتویٰ صرف علمائے متکلمین جاری کریں گے،اور فقہا کو ان کی تقلید لازم ہے۔غیر متکلم فقہا ئے کرام کو کفر کلامی کا فتویٰ جاری کرنے کی اجازت نہیں۔نہ ہی اختلاف کی اجازت ہے۔

امام غزالی قدس سرہ العزیزنے رقم فرمایا:(فاذا فَہِمتَ اَنَّ النَّظرَ فی التکفیر موقوفٌ علٰی جمیع ہذہ المقالات التی لا یَستَقِلُّ بِاٰحَادِہَا الا المبرزون- عَلِمتَ اَنَّ المُبَادِرَ اِلٰی تَکفِیرِِ مَن یُُخَالِفُ الاشعریَّ اَو غَیرَہ جَاہِلٌ مُجَازِفٌ-وَکَیفَ یَستَقِلُّ الفَقِیہُ بمجرد الفقہ بہٰذا الخطب العظیم-وَاَیُّ رُبعٍ من ارباع الفقہ یُصَادِفُ ہذہ العلوم۔
فاذا رَأَیتَ الفَقِیہَ الذی بضاعتُہ مجردُ الفقہ،یخوضُ فی التکفیر والتضلیل-فَاعرِض عنہ وَلَا تَشتَغِل بہ قَلبَکَ وَلِسَانَکَ -فَاِنَّ التَّحَدِّیَ بالعلوم غَرِیزَۃٌ فی الطبع-لَا یَصبِرَعَنہَا الجُہال-وَلِاَجَلِہ کَثُرَ الخلافُ بین الناس وَلَوسَکَتَ مَن لَا یَدرِی-لََََََََقَلَّ الخِلَافُ بَینَ الخَلقِ)
(فیصل التفرقۃ بین الاسلام والزندقہ:ص74)

عہدحاضر میں بعض لوگ نہ فقیہ ہیں،نہ متکلم،لیکن خود کو امام اشعری وامام ماتریدی کی طرح عظیم متکلم سمجھتے ہیں۔

بعض حضرات کچھ علم ومعرفت رکھتے ہیں، لیکن صاحب نظر متکلم نہیں۔ان کے تمام فیصلے نافذالعمل نہیں ہوسکتے۔وہ اپنے تفردات پر اکابر علمائے اہل سنت کی تائید وتصدیق حاصل کریں،تاکہ حق وباطل واضح ہوجائے۔سواد اعظم ضلالت وگمرہی میں مبتلا نہیں ہوسکتا۔باب فقہیات کے ظنی امور میں تفردات کا حکم الگ ہے اور باب اعتقادیات کے قطعی مسائل میں تفردات کا حکم الگ۔قطعی امور میں کوئی متفرد قول پیش کرے تو تضلیل یاتکفیر ہوگی۔قطعیات میں اجتہاد جاری نہیں ہوتا،پھر تفردات کی گنجائش کہاں۔

نا نوتوی نے مسئلہ ختم نبوت میں متفرد قول پیش کیا۔ خود بھی مبتلائے کفر ہوا،پھراپنے بے شمار متبعین کو بھی وادی کفر کی طرف ڈھکیل دیا۔متبعین آج تک نانوتوی کے کفری قول کی تاویل باطل کرتے ہیں اور خود کو مستحق جہنم بتاتے ہیں۔

اصحاب تفردات غور فرمائیں۔
ہمیں جوکچھ کرنا ہے،ان شاء اللہ تعالیٰ ہم ضرور کریں گے۔متبعین اسلام، اسلام سے بلند رتبہ نہیں۔ حدیث نبوی ہے: (الاسلام یعلو ولایعلی)(صحیح بخاری)

مسئلہ تکفیر کلامی اور غیر متکلمین:

امام غزالی نے فر مایا کہ تکفیر کلامی کی دلیل قطعی ہوتی ہے،پس فقہا اسے سمجھ سکتے ہیں۔ بالفرض اگر سمجھ میں نہ آئے تو بھی فقہا کو متکلمین کا فتویٰ تکفیر ماننا فرض ہے،جیسے کسی کو صدق نبوت کی دلیل سمجھ میں نہ آئے توبھی نبی کونبی ماننا فرض ہے۔ فقہا کوفتویٰ تکفیرسمجھ میں نہ آئے توبھی ماننا فرض ہے،اسی طرح عوام کوبھی ماننا فرض ہے،خواہ سمجھ میں آئے،یا نہ آئے۔

مذہب شافعی میں اجماع شرعی میں غیر کافر بدعتی کا لحاظ ہوتا ہے،کافربدعتی کا نہیں۔ اگر فقہائے شوافع کوکسی کافر بدعتی کے کفر کا علم نہ ہو سکا اور فقہا نے اس کافر بدعتی کے اختلاف کے سبب اجماع کو غیرمنعقد سمجھا تو اس صورت کا حکم بیان کرتے ہوئے امام غزالی نے تحریر فرمایا کہ اگر فقہا کو اس بدعتی کے کفریہ قول کا علم تھا تو فقہا پر لازم تھا کہ اس کفریہ قول کا حکم متکلمین سے دریافت کرتے،اورپھر متکلمین کا فتویٰ ماننا ان پر لازم ہوتا۔

اگر فقہاکواس بدعتی کے غلط قول کی اطلاع ہی نہیں تھی توفقہا عدم علم کے سبب اجماع کوغیر منعقد قرار دینے میں معذور ہوں گے۔

امام غزالی قدس سرہ العزیزنے رقم فرمایا:(فان قیل:فَلَو تَرَکَ بَعضُ الفقہاء الاجماعَ بِخِلَافِ المبتَدِعِ المُکَفَّرِ اِذَا لَم یَعلَم اَنَّ بدعتہ تُوجِبُ الکُفرَ- وَظَنَّ اَنَّ الاجماع لاینعقد دونہ-فَہَل یُعذَرُ من حیث اَنَّ الفقہاء لایطلعون عَلٰی مَعرفَۃِ مَا یُکَفَّرُ بِہ من التاویلات؟قلنا لِلمَسءَلَۃِ صُورَتَانِ۔

(1)اِحدَاہُمَا اَن یَقُولَ الفقہاء:نحن لَا نَدرِی اَنَّ بدعتہ توجب الکفرَ اَم لَا؟ففی ہذہ الصورۃ لاَ یُعذَرُونَ فِیہِ اِذ یَلزَمُہُم مُرَاجَعَۃُ علماء الاصول،ویجب علی العلماء تعریفُہم،فاذا اَفتوہُم بکُفرِہ فعلیہم التقلید- فَاِن لَم یَقنَعہُمُ التَّقلید-فَعَلَیہِمُ السُّوَالُ عن الدلیل،حَتّٰی اذا ذُکِرَ لہم دلیلُہ،فَہِمُوہُ لَامَحَالَۃَ-لِاَنَّ دَلِیلَہٗ قَاطِعٌ،فَاِن لَم یُدرِکہُ فَلَا یَکُونُ مَعذُورًا،کَمَن لَایُدرِکُ دَلِیلَ صدق الرسول صلی اللّٰہ علیہ وسلم فانہ لَاعُذرَ مَعَ نَصبِ اللّٰہِ تَعَالٰی الاَدِلَّۃَ القَاطِعَۃَ۔

(2)الصورۃ الثانیۃ اَن لَا یکونَ بَلَغَتہُ بِدعَتُہ وَعَقِیدَتُہ فَتَرَکَ الاِجمَاعَ لِمُخَالَفَتِہ فَہُوَ مَعذُورٌ فِی خَطَأِہٖ وَغَیرُ مُوَاخَذٍ بِِہٖ)
(المستصفٰی من علم الاصول:جلد اول: ص184)

توضیح:جب متکلمین کفرکلامی کافتویٰ صادر کردیں تو فقہاکو تقلید لازم ہے،یعنی اس حکم شرعی کوماننا لازم ہے۔اگر فقہا اس کی دلیل دریافت کریں تو متکلمین دلیل بیان کریں گے، اور فقہا یقینی طورپراس دلیل کو سمجھ لیں گے،کیوں کہ تکفیرکلامی کی دلیل قطعی بالمعنی الاخص ہوتی ہے۔اس میں کوئی احتمال نہیں ہوتا۔وہ بالکل واضح ہوتی ہے۔

اگر فقہا کو دلیل تکفیرسمجھ میں نہ آئے تو بھی انہیں فتویٰ تکفیر ماننا لازم ہے۔امام غزالی قدس سرالقوی کے قول (فَاِن لَم یُدرِکہُ فَلَا یَکُونُ مَعذُورًا)سے بالکل واضح ہو گیا کہ جو کافرکلامی کے کافرکلامی ہونے کے دلائل کونہ سمجھ سکے،وہ معذور نہیں ہے،بلکہ اس کوحکم شرعی ماننا ہوگا۔جیسے کسی کو نبی علیہ السلام کی صداقت وحقانیت کی دلیل سمجھ میں نہ آئے تووہ معذور نہیں، بلکہ نبی کو نہ ماننے کے سبب کافر ہوگا،کیوں کہ اللہ تعالیٰ نے دلائل قائم فرمادئیے،یعنی نبی کی نبوت کوثابت کرنے کے واسطے معجزہ ظاہر فرمادیا۔
امام غزالی کے قول (فعلیہم التقلید)سے خلیل بجنوری کا یہ نظریہ باطل ہوگیا کہ مسئلہ تکفیر تقلیدی نہیں،بلکہ تحقیقی ہے۔ اس میں صراحت ہے کہ غیر اہل کے لیے مسئلہ تکفیر کلامی تقلیدی ہے۔یہ بات عقل کے مطابق ہے اوریہی حکم قرآنی ہے:(فاسئلوا اہل الذکر ان کنتم لا تعلمون)،یعنی جومسئلہ جس کی قوت سے باہر ہو، وہ اس مسئلہ میں ہاتھ نہ ڈالے،بلکہ اہل علم سے اس بارے میں دریافت کرے۔فقہی مسائل میں اس قدر احتیاط ہے کہ امام مجتہد کی تقلید لازم قرار پائے،اوراعتقادی مسائل کو ہرشخص حل کرنے لگے،یہ عقل ونقل کے خلاف ہے۔

جب مسئلہ تکفیر کلامی میں فقہائے کرام کو اختلاف کی اجازت نہیں تو عوام مسلمین کو بھی اختلاف کی اجازت نہیں۔غیرمقلدین کی طرح ہرشخص قرآن وحدیث سے شرعی مسائل کا استنباط کرنے لگے تو (فاسئلوا اہل الذکر ان کنتم لاتعلمون) کا کیا مفہوم ہوگا؟
الحاصل مذکورہ بالا قصے میں بعض ارتدادی نظریات ہیں،مثلاً تاویل کے ذریعہ اشخاص اربعہ کی تکفیر کے انکار کو جائز بتانا۔جب سواد اعظم کا اجماع ضلالت وگمرہی پر نہیں ہو سکتا تو پھر ارتدادی نظریہ پر اجماع کیسے ہوسکتا ہے۔ جس کسی کا یہ نظر یہ ہے،وہ علمائے اہل سنت وجماعت کی تائید پیش کرے۔ دلیل ہرگز پیش نہ کرے۔دلیل میرے پاس بھی ہے۔

عبارت پر اطلاع یاکفریہ عقائد پر اطلاع:

مصدقین کو ملزم کے کفریہ عقائد اور حکم کفر پر مطلع ہونا ضروری ہے۔ بعینہ کفریہ قول پر مطلع ہونا ضروری نہیں، کیوں کہ ان کو تصدیق کرنی ہے، نہ کہ تکفیر۔ نہار الرجال ایک صحابی تھا، بعد میں وہ مسیلمہ کذاب کو نبی مان لیا۔ بعینہ اس کا کفریہ کلام منقول نہیں، لیکن اس کے کفر پر عہد صحابہ کرام سے آج تک سواد اعظم کا اتفاق ہے۔ کیا کسی غلط امر پر اجماع قائم ہے؟

اسی طرح عہد ماضی کے تمام کفار کلامی کے بعینہ اقوال منقول نہیں۔ہاں، حکم کفر کے ساتھ ان کے کفریہ عقائد ضرور منقول ہیں۔ چوں کہ بعض لوگ ایسا سمجھتے ہیں کہ ہرایک کو تکفیر کرنی ہے، اس لیے ہرایک کو کفریہ عبارت پرمطلع ہونالازم ہے۔ اس نظریہ کے اعتبار سے برصغیرکے جو مسلمان اردو پڑھنا نہیں جانتے ہیں، ان کو اشخاص اربعہ اور قادیانی پر نافذشدہ حکم کفر کی تصدیق لازم نہیں ہوگی،کیوں کہ وہ لوگ اردوعبارت پڑھ ہی نہیں سکتے، حالاں کہ آج تک کسی عالم نے ایسا حکم نہیں دیا، لیکن شبہہ ضرورہے کہ یہ ارتدادی نظریہ بھی آج یا کل ضرورسراٹھائے گا۔

اس کا علاج یہی ہے کہ امت مسلمہ باب اعتقادیات کے تفردات باطلہ کا انکار کریں:ایاکم وایاہم لا یضلونکم ولا یفتنونکم

عہد ماضی میں جن لوگوں پر ارتدادکا حکم نافذہوا،علمائے امت اپنے اسلاف کرام سے ان کی تکفیر کلامی اور اس کے عقائد کو سنتے آرہے ہیں اور تمام علمائے حق ان مرتدین کو کافر مانتے آرہے ہیں۔کتابوں میں بھی ان لوگوں کا ذکر موجود ہے۔ان مرتدین میں بہت سے دعویداران نبوت ہیں۔حدیث نبوی میں بھی ذکر آیا کہ دجال اکبر کے علاوہ قریباً تیس دجال ظاہر ہوں گے جو نبوت کا دعویٰ کریں گے۔

دجال اکبر الوہیت کا دعویٰ کرے گا۔ بہت سے مدعیان نبوت عہد ماضی میں ظاہر ہو چکے۔امت مسلمہ ان لوگوں کو مرتد وکافر کلامی مانتی ہے، لیکن ان تمام کے اقوال کفریہ بعینہ وبلفظہ تواتر کے ساتھ مروی نہیں۔ صرف ان کے دعویٰ نبوت کا ذکر تواترکے ساتھ مروی ہے۔
اگر کسی کا دعویٰ ہے کہ مرتدین کے بعینہ اقوال پرمطلع ہونا ضروری ہے،اور ہرایک کو تکفیر کرنی ہے تووہ تمام مدعیان نبوت کے بعینہ کفریہ اقوال کاتواتر کے ساتھ مروی ہونا ثابت کرے۔ تواتر لفظی ثابت ہونا مشکل ہے۔تواتر معنوی ثابت ہوسکتا ہے،لیکن تواتر معنوی پر تکفیر کلامی نہیں ہوسکتی،اور ہم اس بات کے قائل ہی نہیں کہ ہرایک مومن کو تکفیر کرنی ہے، بلکہ ہرایک مومن کو حکم شرعی کی تصدیق کرنی ہے۔تصدیق وتکفیر میں فرق ہے۔ تکفیر کی اجازت ہر کسی کونہیں، لیکن تصدیق سب پر لازم ہے،خواہ عوام ہوں یاخواص۔اسی حکم شرعی کا بیان ”من شک“کے ذریعہ کیا جاتا ہے۔

عہد ماضی کے مدعیان نبوت کو ہر مسلمان کافر مانتا ہے،حالاں کہ تمام مومنین کو ان مدعیان نبوت کے بعینہ کفریہ اقوال کا علم نہیں۔صرف کفریہ عقائدکا علم ہے کہ ان لوگوں نے نبوت کا دعویٰ کیاتھا، اوراس عہد کے علمائے اسلام نے انہیں کافر قراردیا۔ سب کچھ دیکھ سن کر بھی کوئی اندھا بہرا بنے تو اس کا علاج ہے:ایاکم وایاہم لا یضلونکم ولا یفتنونکم

جولوگ فیصلہ کی منزل میں نہیں، جب وہ فیصلہ کریں گے تو ہررکعت میں دوسجدہ کی طرح دورکوع کا حکم دیں گے۔بعض لوگوں کی یہ بات بھی سننے میں آئی کہ متفق علیہ قول پر عمل کرو۔ سوال یہ ہے کہ جس قول پر امت کا عمل ہی نہیں،وہ متفق علیہ کیسے ہوگیا؟

اذان ثانی سے متعلق فرقہ بجنوریہ کی ایک تحریر گشت لگار ہی ہے کہ مسئلہ اذان ثانی سے متعلق تحریری مباحثے ہوئے،اور باہمی تکفیر وتضلیل ہوئی۔ دراصل یہ خلیل بجنوری کا سوال ہے۔ ہم نے ”البرکات النبویہ“(رسالہ ہشتم:نصف اول:باب نہم)میں اس کے جوابات رقم کردئیے ہیں۔ربیع الاول شریف کی تعطیل ہوچکی ہے۔ ان شاء اللہ تعالیٰ واپسی پر بجنوری تحریر کا جواب لکھتاہوں۔ سردست فرقہ بجنوریہ سے یہ سوال کیا جائے کہ جن لوگوں کی تضلیل یاتکفیر کی گئی، ان سے روابط کیوں نہیں منقطع کیے گئے؟ یہ سب مناظراتی مباحث تھے۔جن لوگوں کو کلمات علمائے کرام کو سمجھنے کی قو ت نہیں،وہ خود کو امام اشعری وامام ماتریدی سمجھ بیٹھے ہیں: ایاکم وایاہم لا یضلونکم ولا یفتنونکم

ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانب دار نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین و خبریں

جواب دیں

Back to top button