یوم آزادی و یوم جمہوریہ

یومِ جمہوریہ کا پیغام

ازقلم: جمال احمد صدیقی اشرفی القادری شل پھاٹا

کسی بھی ملک اور باشندگان ملک کے لئے آزادی کسی نعمت سے کم نہیں ہوتی ۔ ہمارے ملک کی آزادی میں جہاں ہرمذہب کے ماننے والوں کی قربانیاں شامل ہیں ۔ وہیں جدوجہد آزادی میں مسلمانوں کی سرگرم شمولیت اور قربانیاں بھی کسی سے کم نہیں ہیں ۔
ہندوستان کو طویل جدوجہد کےبعد آزادی کی نعمت حاصل ہوئی ۔ جس کے لیے ہمارے اسلاف نے زبردست قربانیوں کا نذرانہ پیش کیا ہے ۔ جان ومال کی قربانیاں دیں ۔ تحریکیں چلائیں ۔ تختہ دار پر چڑھے ۔ پھانسی کے بھندے کو جراءت وحوصلہ اور کمالِ بہادری کےساتھ بخوشی گلے لگایا ۔ قیدوبند کی صعوبتیں جھیلیں اور حصولِ آزادی کی خاطر میدانِ جنگ میں نکل پڑے ۔ آخر غیر ملکی ( انگریز ) ملک ہندوستان سے نکل جانے پر مجبور ہوئے ۔ 15 اگست 1947ء کو مجاہدین آزادی کی ناقابلِ فراموش جدوجہد اور بےمثال قربانیوں کےبعد ہمارا یہ ملک آزاد ہوا ۔ ایک طویل اور صبرآزما جدوجہد کےبعد ہمیں آزادی جیسی عظیم نعمت ملی ۔
ہمارے ملک ہندوستان کا شمار دنیا کے سب سے بڑے جمہوری ملکوں میں ہوتا ہے ۔ 26 جنوری 1950ء میں ہندوستان نے اپنے لئے جو دستور طے کیا اس کے آغاز میں ایک بہت خوبصورت جملہ لکھا گیا ہے ۔ ہم ہندوستانی عوام تجویز کرتے ہیں کہ انڈیا ایک آزاد ۔ سماجوادی ۔ جمہوری ہندوستان کی حیثیت سے وجود میں لایا جائے جس میں تمام شہریوں کےلئے سماجی ۔ معاشی ۔ سیاسی انصاف ۔ آزادئ خیال ۔ اظہارِ رائے ۔ آزادئ عقیدہ ومذہب وعبادات ۔ مواقع ومعیار کی برابری ۔ انفرادی تشخص اور احترام کو یقینی بنایا جائے اور ملک کی سالمیت ویکجہتی کو قائم ودائم رکھا جائے گا ۔ یومِ جمہوریہ کے دن ملک بھر میں ہرجگہ جشنِ جمہوریہ کا پروگرام منعقد کیا جاتا ہے ۔ ترانے پڑھے جاتے ہیں ۔ راشٹریہ گیت گایا جاتا ہے ۔ سیکولرازم کے عنوانات سے بیانات ہوتے ہیں ۔ ہندوستان میں جمہوریت کی بقا رہنی چاہیے ۔ ہرہندوستانی کو اپنے مذہب اور عقیدہ کی مکمل آزادی ہونی چاہیے ۔ سب کو رہنے سہنے اور کھانے پینے کا مکمل اختیار ہونا چاہیے ۔ ہرہندوستانی کو ہندوستان کا ایک شہری ہونے کے ناطے جو سہولیات ملنی چاہئیں وہ ہر ہندوستانی کو ملنی چاہیے ۔ اقلیتوں کےساتھ انصاف ۔ ہندو ۔ مسلم ۔ سکھ ۔ عیسائی اور ہندوستان کے دوسرے تمام مذاہب کے ماننے والوں کا آپس میں اتحاد واتفاق اور اخوت بھائی چارگی کےساتھ رہیں ۔ ملک کی تمام شرورفتن سے حفاظت اور دیش کی ترقی کےلئے ہمیں بھرپور کوشش کرنی چاہیے ۔
ہندوستانی جمہوریت کیا ہے ؟
یعنی ایک جماعت کی لیڈر شپ وہ بھی عوامی طریقے سے یعنی عوام نمائندے بن کر آنے کے بعد اس کا اصل معنی عوام کی حکومت عوام آقا ہوتے ہیں جو ہرپانچ سال میں ایک مرتبہ انتخاب کے ذریعہ یہ جماعت ( پارٹی ) اقتدار پر آتی ہے اور سارے ملک کا نظام چلاتی ہے ۔ جمہوریت آزادی مساوات قانون کی قومیت اور انفرادی ترقی کو زیادہ اہمیت دیتی ہے ۔ ذات کا بھید بھاؤ بھٹک ہی نہیں سکتا ۔ اس جمہوری نظام کے تحت قانون کی بہت اہمیت ہے ۔ کیونکہ عوام وخواص لیڈر ونیتا سبھی قانون کے دائرے میں آتے ہیں ۔ قانون کی نظر میں سب برابر ہیں ۔
پہلے ملک کی آزادی کے حصول کی خاطر اور بعد ازاں جمہوریت کے قیام کےلئے ملک کے مسلمانوں اور علماء کرام نے جو کارہائے نمایاں انجام دیا ۔ جس انداز میں یہاں کے مسلمانوں کی جانفشانی ۔ حریت ۔ شہادت اور قربانیاں شاملِ تحریک رہیں ۔ ان کی بنیاد پر یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ یہاں کے مسلمان آزادی کے حصول اور جمہوریت کے قیام کی تحریک میں ہراول دستہ کے طور پر شامل رہے ۔ کیونکہ ملک کی جنگ آزادی میں مسلمانوں کا کردار ایک قائد ۔ لیڈر اور رہنماء کے رہی ۔ بایں وجہ کہ ظالم انگریزوں نے حکومت مسلمانوں سے غصب کیا تھا ۔ یک لخت اسے حاکم سے محکوم بننا پڑا تھا ۔ اس لئے غلامی کے داغ کو مٹانے کےلئے اصل لڑائی بھی انہیں کو لڑنی پڑی تھی ۔
دورِ فرنگی سے نجات حاصل کرنے کے بعد مجاہدین آزادی نے یہ ضروری سمجھا کہ جمہوری طرزِ حکومت کے قیام کیلئے ایک متوازن اور جامع آئین مرتب کیا جائے ۔ چنانچہ اس وقت کے بااثر اور دوراندیش قانون ساز افراد کی ایک ٹیم کو ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر کی قیادت میں آئین سازی کی ذمہ داری سپرد کی گئی ۔ جس کی تیاری کے بعد اسے دستور ساز اسمبلی کے سامنے پیش کیا گیا ۔ تو قانون ساز اسمبلی نے 26 جنوری 1950ء کو جمہوریہ ہند کے آئین کے نفاذ کو ہری جھنڈی دی ۔ اس طرح 26 جنوری 1950ء کو باضابطہ دستور ہند کا نفاذ عمل میں آیا ۔
تب سے اب تک جمہوری طرز حکومت ہمارے یہاں قائم ھے ۔
ملک کا آئین ۔
ہمارے ملک کو آبادی کے لحاظ سے بھی دنیا کی سب سے بڑی پارلیمنٹری اور غیر مذہبی جمہوری ملک ہونے کا شرف حاصل ہے ۔ ہمارے ملک کا آئین ایسا جامع اور مکمل ہے جس میں ملک میں بسنے والے شہریوں کو اپنی حکومت منتخب کرنے کے لئے بااختیار بنایا گیا ہے ۔ ہرایک کو آزادی رائے اور آزادی خیال کی مکمل اجازت دی گئی ہے ۔ اس کی شخصی تحفظ کی بھی ضمانت دی گئی ہے ۔ دستورِ ہند میں ملک میں بسنے والے اقلیتوں اور پسماندہ لوگوں کو بھی پوری پوری آزادی دی گئی ہے کہ وہ اپنی تہذیب وتمدن اور اپنی ثقافت کی ترویج واشاعت کیلئے علیحدہ اسکول ۔ کالج ۔ انسٹی ٹیوٹ قائم کریں ۔ دستور میں دیئے گئے حق سے فائدہ اٹھائیں اور ملک کی تعمیر وترقی میں بھرپور کردار ادا کریں ۔
جدوجہد آزادی میں مسلمانوں نے سب سے زیادہ قربانیاں دیں لیکن ان کی قربانیوں کو جان بوجھ کر چھپا دیا گیا یا عوام کی نظروں سے اوجھل کردیا گیا ۔ چلئے سچائی جاننے اور اس کی تہہ تک پہنچنے کے لئے ہندوستانی تاریخ میں جھانک کر دیکھتے ہیں ۔
یومِ جمہوریہ ہم کیوں من ائیں ؟
آج ی ہ سوال ہمارے ہر ہندوستانی کے ذہن میں گردش کرتا ہے کہ ہم یومِ جمہوریہ کیوں منائیں ؟
تو اس کا جواب یہ ہے کہ ماضی میں ہمارے علماء کرام نے جنگ آزادی میں جو عظیم قربانیاں پیش کی ہیں انہیں کو نسلِ نو تک یہنچانے اور ان کی عظیم قربانیوں کو یاد کرنے کے لئے ہم یومِ جمہوریہ اور یومِ آزادی مناتے ہیں ۔
سرزمینِ ہند کو مسلمانوں نے اپنے خون سے سینچا ہے ۔ مسلمانوں نے گلشنِ ہند کی اپنے لہو سے آبیاری کی ہے ۔ اور یہ لہو اتنا زیادہ ہے کہ اس زمین کے ذرے ذرے سےہمارا لہو مہکتا ہے ۔ ہماری قربانیوں نے اس ملک کی آن بچائی ہے ۔ ہماری محبت نے اس ملک کی شان بڑھائی ہے ۔ ہمارے اسلاف نے اس ملک کی آزادی کےلئے تحریکیں چلائیں ۔ قید وبند کی صعوبتوں کو برداشت کیا ۔ کمالِ جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے تختہ دار پر چڑھ کر بخوشی پھانسی کے پھندے کو گلے سے لگایا ۔ لاکھوں جانوں کا نذرانہ پیش کیا تب کہیں جاکر اس ملک کو انگریزوں کے پنجۂ غلامی سے آزادی ملی اور یہ ملک آزاد ہوا ۔
ہر ہندوستانی کو ان ناقابلِ ترديد حقائق کے بارے میں باخبر ہونا چاہیے اور اپنے بچوں کو بھی ملک کی تحریک آزادی کی حقیقت سے واقف کرانا چاہئے ۔ یہ ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ ہر ہندوستانی کو جدوجہد آزادی میں مسلمانوں کی قربانیوں سے واقف کرائیں ۔ ہندوستان پر انگریزوں کے غاصبانہ قبضہ اور پھر ان کے خلاف جدوجہد آزادی کے آغاز کا جائزہ لیں تو یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ پہلی جدوجہد آزادی حیدر علی اور ان کے فرزند ٹیپوسلطان نے 1780ء میں شروع کی اور 1790ءمیں پہلی مرتبہ فوجی استعمال کےلئے حیدر علی اور ٹیپوسلطان نے میسوری ساختہ راکٹس کو بڑی کامیابی سے نصب کیا ۔ حیدر علی اور ان کے بہادر فرزند نے 1780ء اور 1790 ء میں برطانوی حملہ آوروں کے خلاف راکٹیں اور توپ کا مؤثر طور پر استعمال کیا ۔
ہندوستان میں ہرکوئی جانتا ہے کہ رانی جھانسی نے اپنے متبنی فرزند کےلئے سلطنت وحکمرانی کے حصول کی خاطر لڑائی لڑی ۔ لیکن ہم میں سے کتنے لوگ یہ جانتے ہیں کہ بیگم حضرت محل پہلی جنگ آزادی کی گمنام ہیروئن تھیں جنھوں نے برطانوی چیف کمشنر سرہنری لارنس کو خوف ودہشت میں مبتلا کردیا تھا ۔ اور 30 جون 1857ء کو چن پاٹ کے مقام پر فیصلہ کن جنگ میں انگریزی فوج کو شرمناک شکست سے دوچار کیا تھا ۔
کیا آپ جانتے ہیں کہ ہندوستان کی ہندوستان کی پہلی جنگ عظیم کو کس نے منظم کیا تھا اور اس کی قیادت کس نے کی تھی ۔؟ اس کا جواب مولوی احمد اللّٰہ شاہ ہے جنھوں نے ملک میں پہلی جنگ آزادی منظم کی تھی ۔ جدوجہد آزادی میں بےشمار مجاہدین آزادی نے اپنی زندگیوں کا نذرانہ پیش کیا جن میں 90 فیصد مسلم مجاہدین آزادی تھے ۔ برطانوی راج کے خلاف سازش کے الزام میں اشفاق اللّٰہ خان کو پھانسی دی گئی ۔ اس طرح وہ انگریز حکومت کے خلاف جدوجہد کی پاداش میں پھانسی پر چڑھ جانے والے پہلے مجاہد آزادی بن گئے ۔ جس وقت اشفاق اللّٰہ خان کو پھانسی دی گئی اس وقت ان کی عمر صرف 27 سال تھی ۔
کوئی بھی مسلم مجاہدین آزادی کی تحریک آزادی میں قربانیوں پر ہزاروں صفحات تحریر کرسکتا ہے لیکن بدقسمتی سے فرقہ پرست ۔ انتہا پسند ۔ فاشسٹ طاقتوں نے اس سچائی وحقیقت کو عام ہندوستانیوں کی نظروں سے چھپائے رکھا اور اس پر ہی اکتفا نہیں کیا بلکہ ہندوستان کی تاریخ کی کتب میں تاریخ کو مسخ کرکے پیش کیا گیا ۔ حقیقت یہ ہے کہ ووٹوں کے حصول کی خاطر اور عوام کو منقسم کرنے کے لئے تاریخ کو توڑ مروڑ کر ازسرِ نو قلمبند کیا گیا ۔ محب وطن ہندوستانیوں کو ناپاک عزائم کے حامل سیاستدانوں کی مکاریوں وعیاریوں کا شکار نہیں ہونا چاہیے بلکہ ایک مضبوط ومستحکم اور ترقی پسند ملک کے لئے تمام شہریوں کو متحد کرنے کے لئے کام کرنا چاہیے ۔ آج جمہوریت کو بچانے کی ضرورت ہے ۔ جمہوریت کی بقاء میں ملک کی سالمیت ہے ۔ اور جب ملک سلامت رہے گا تو عوام بھی چین وسکون کی سانس لیں گے ۔
وطن کے عزیزو ! یہ آزادی ہمیں بھیک میں نہیں ملی ہے ۔ ہمارے بزرگوں نے اپنی جانیں قربان کرکے اس کی قیمت ادا کی ہے ۔ اس لئے ہمیں آزادی کی قدروقیمت اور اس کی اہمیت کو سمجھنا چاہیے اور آپس میں پیارومحبت بھائی چارگی اور امن وسکون کو بڑھاوا دینا چاہیے اور ایسی فضا پیدا کرنی چاہیے جس سے ہمارے ملک کا نام روشن ہو اور اس وقت ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ کس طرح ہمارے عظیم رہنماؤں نے اپنی جانوں کی قربانیاں دے کر ملک کو آزاد کرایا تھا ۔
ہمیں یاد رکھیں جب لکھیں تاریخ گلشن کی ۔
کہ ہم نے بھی جلایا ہے چمن میں آشیاں اپنا ۔
تقریباً ایک صدی تک چلنے والی تحریک آزادی میں مسلمانان ہند نے بے مثال اور لازوال کردار ادا کیا اور وطنِ عزیز کو غاصب انگریزوں کے پنجۂ ظلم اور باشندگان ہند کی گردنوں کو طوقِ غلامی سے آزاد کروانے کےلئے اپنی جان ومال ۔ عزت وآبرو کی وہ عظیم قربانیاں پیش کیں جن کا تذکرہ کئے بغیر تاریخِ ہند نامکمل ہے ۔
کچھ فرقہ پرست طاقت جمہوری نظام کو درہم برہم کرنا چاہتے ہیں انہیں یہ بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے کہ ۔
شمعِ جمہور کی لو کم نہیں ہونے دیں گے ۔
وطنِ عزیز کا سرخم نہیں ہونے دیں گے ۔
لاکھ اشکوں سے یہ دنیا نوازے لیکن ۔
اے وطن آنکھ تیری نم نہیں ہونے دیں گے ۔

ہندوستان زندہ باد
یومِ جمہوریہ پائندہ باد

طالب خیر ۔ جمال احمد صدیقی اشرفی بانی دارالعلوم مخدوم سمنانی شل پھاٹا ممبرا ۔۔۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے