مذہبی مضامین

تحفظ ناموس رسالت کی آئینی حیثیت

ازقلم: محمد شعیب رضا نظامی فیضی
رجسٹرڈ قاضی(غوث اعظم فاؤنڈیشن) شہر گولا بازار ضلع گورکھ پور یو۔پی۔ انڈیا
صدرمدرس: دارالعلوم رضویہ ضیاءالعلوم، پرساں گولا بازار گورکھ پور

ہمارے عزیز ترین وطن بھارت میں گزشتہ چند سالوں سے آپسی بھائی چارہ گی کو ٹھیس پہنچانے کے لیے بہت سی تنظیمیں سرگرم رہی ہیں جنھوں نے ہمارے مذہبی جذبات و احساسات کو تہ تیغ کر نفرتی ہیجان پیدا کر دیا ہے۔ اسی نفرتی پروپیگنڈہ کی ایک بڑی کڑی ہمارے پیارے آقا مختار کائناتﷺ کی شان میں مسلسل گستاخیاں ہے۔
مسلمانوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچانے کے لیے بہت سے بدبخت، تاج دارِ دو عالمﷺ کی شان میں گستاخی کرکے جہاں اپنی عاقبت خراب کرتے ہیں،وہاں مسلمانان عالم کو اذیت اور تکلیف پہنچاتے اور ان کے جذبات سے کھیلتے ہیں۔ آج کل سوشل میڈیا کا دور ہے جس میں ہر آدمی جو چاہتا ہے، وہ کہہ دیتا اور لکھ دیتا ہے، ایک عرصے سے سوشل میڈیا پر انسانیت کے کئی مجرم بدبختوں نے حضور اکرمﷺ اور حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم کی شان میں گستاخی کو ایک مہم اور مشن کے طور پر اپنا لیا ہے۔کبھی اُن پر الزام تراشی کرکے کردارکُشی کرنے کی کوشش ہوتی ہے ،توکبھی آزادی اظہار ِرائے کے نام پر ان مقدس ہستیوں کی توہین کی جاتی ہے۔
چوں کہ نبی کریمﷺ یا دوسرے مذہبی پیشوائوں کی گستاخی اور توہین کا معاملہ ہمیشہ سے حساس ہوا کرتا ہے۔ ہم صدیوں سے دیکھتے آرہے ہیں کہ کسی بھی معاشرے میں کسی مذہب یا مذہبی پیشوا کی گستاخی فتنہ و فساد، نفرت انگیزی اور قتل و غارت گری کا باعث ہوا کرتی ہے۔ جس کے متعلق مشہور بیوروکریٹ اور ادیب قدرت اللہ شہاب کا تجزیہ دعوت فکر و عمل دیتا ہے، جس میں انھوں نے گستاخی رسول کے سلسلے میں مسلمانوں کے جذبات کا تجزیہ کرتے ہوئے کافی حد تک صحیح لکھا ہے: ’’رسول خدا کے متعلق اگر کوئی بد زبانی کرے تو لوگ آپے سے باہر ہوجاتے ہیں اور کچھ لوگ تو مرنے کی بازی لگابیٹھتے ہیں،اس میں اچھے، نیم اچھے ، بُرے مسلمان کی بالکل کوئی تخصیص نہیں، بلکہ تجزیہ تو اسی کا شاہد ہے کہ جن لوگوں نے ناموس رسالت پر اپنی جان عزیز کو قربان کردیا، ظاہری طور پر نہ تو وہ علم و فضل میں نمایاں تھے اور نہ زہدوتقویٰ میں ممتاز تھے، ایک عام مسلمان کا شعور اور لاشعور جس شدت اور دیوانگی کے ساتھ شانِ رسالت کے حق میں مضطرب ہوتا ہے، اس کی بنیاد عقیدے سے زیادہ عقیدت پر مبنی ہے، خواص میں یہ عقیدت ایک جذبے اور عوام میں ایک جنون کی صورت میں نمودار ہوتی ہے۔‘‘
اور یہ صرف مسلمانوں سے متعلق سروے نہیں ہے بلکہ دنیا کے کسی بھی دھرم اور مذہب پیروکار اپنے پیشواوں کی شان میں گستاخی قطعی برداشت نہیں کرتا۔ یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جس کی نوعیت سمجھنا انتہائی ضروری ہے اس مسئلہ کی حساسیت کی بنا پر بہت سارے ممالک میں کچھ قوانین وضع کیئے گئے ہیں جو اس طرح کی رذیل حرکتوں پر لگام لگاتے ہیں۔ شاید کم لوگ جانتے ہیں کہ تضحیکِ مذہب اور تاریخ کی مقدس شخصیات کی ہتک کی روک تھام پہ عالمی قوانین بھی موجود ہیں ،حتیٰ کہ یو-این چارٹر میں بھی انسانی عزت و احترام کی حفاظت کی ضمانت دی گئی ہے۔

دیگر ممالک میں قدآور شخصیتوں کے ناموس کے قوانین
یہ امر مخفی نہیں رہنا چاہیے کہ قدآور شخصیتوں کے شان میں گستاخی نہ ہو اس لیے سخت قوانین ایک دو ملک نہیںبلکہ امریکہ سمیت بہت سے مغربی ممالک میں بھی اس نوع کے قوانین موجود اور نافذ ہیں۔۔۔
٭ برطانیہ اور امریکہ میں آزادیِ تحریر و تقریر کے باوجود ان کے آئین میںجیسس( حضرت عیسیٰ علیہ السلام) کی توہین جرم ہے۔
٭روس میں لینن کو گالی دینا قابل تعزیر جرم ہے۔
٭جرمنی، آسٹریا اور باقی یورپ میں ہولوکاسٹ سے انکار کرنا بھی قابل تعزیر جرم ہے۔
٭آئرلینڈ میں حال ہی میں اسی طرح کی قانون سازی ہوئی ہے۔
٭جرمنی کے فریڈرک ٹوبن اور انگلینڈ کے ہنری اس جرم میں ، سال قید کی سزا بھگت چکے ہیں۔
٭انگلینڈ کے ایک پادری بشپ جانسن کو صرف اس لیے نوکری سے نکال دیا گیا کہ انھوں نے ہولوکاسٹ کے واقعے کو مبالغہ آرائی کہا تھا۔
٭انگلینڈ میں ہائیڈ پارک میں ہر طرح کی آزادیِ اظہار کے باوجود ملکہ کی تقدیس لازم ہے اور اس کی عدم تقدیس پر سزا مقرر ہے۔
٭گے نیوز کے ایڈیٹر لے ون نے جیسس(حضرت عیسیٰ علیہ السلام) کی مجرد زندگی کے بارے میں ایک مزاحیہ نظم شائع کی تھی جس پر برطانیہ کی عدالت نے اسے توہینِ مسیح کے جرم میں سزا دی۔ اسکی اپیل ہاوس آف لارڈز نے خارج کر دی۔ اس نے یورپین کورٹ آف ہیومن رائٹس میں دوبارہ اپیل دائر کی لیکن اسے بھی اس بنا پر اکثریتی فیصلے سے مسترد کر دیا گیا کہ اس نظم سے عیسائی فرقہ کی دل آزاری ہوتی ہے جسے برداشت نہیں کیا جا سکتا بلکہ ہاوس آف لارڈز کے جج اسکارمن نے اپنے ایک فیصلے میں قانون توہینِ مسیح کو برطانیہ کی سالمیت کے لیے ناگزیر جمہوری ضرورت قرار دیا۔
٭اس سلسلے میں یورپین ہیومن رائٹس میں دائر ایک اور مشہور مقدمہ بھی نہایت اہم ہے جو ایک فلم ساز نیگل ونگرو نے برطانوی مملکت کے خلاف دائر کروایا۔ ونگرو کیس کی عدالتی کارروائی کا آغاز 1989ء میں ہوا جو برطانیہ کی اپیل ٹربیونل سے ہوتا ہوا وائس آف لارڈز میں گیا پھر یورپی یونین کی حقوق انسانی کی عدالت عظمیٰ نے بلاس فیمی لاء کے تحت اس کی تفصیلی سماعت ہوتی رہی۔ یہ کیس دراصل ایک ویڈیو فلم کے ایک ایسے سین سے متعلق تھا جس میں سولہویں صدی کی ایک راہبہ سینٹ ٹریسا کو حضرت مسیح کی تصوراتی شبیہ کے سامنے ہیجان انگیز حالت میں رقص کرتے ہوئے دکھایا گیا تھا۔ 7 سال تک جاری رہنے والے اس مشہور مقدمے میں نہ صرف اس ویڈیو فلم پر پابندی کو برقرار رکھا گیا بلکہ اس طرح کی کسی بھی کاوش کو قابل تعزیر عمل قرار دیا گیا جس سے برطانیہ کے کسی بھی شہری کے مذہبی احساسات مجروح ہونے کا خدشہ ہو۔
آزادی اظہار رائے کی حدود
جہاں تک آزادی یا آزادی اظہار رائے کا تعلق ہے تو دنیا کے کسی بھی دستور میں آزادی مطلق کا حق نہیں دیا گیا، یہاں سیکولر ہونے کے دعوے دار چند معروف دستوروں کے حوالے پیش کیئے جاتے ہیں۔۔۔
٭فرانس(جہاں کے اخبارات نے حضور اکرمﷺ کی شان میں اہانت آمیز خاکے شائع کئے اور اسے آزادی اظہار رائے کا اپنا حق قرار دیا ہے۔) کے آرٹیکل نمبر1 میں کہا گیا ہے : انسان آزاد پیدا ہوا ہے اور آزاد رہے گا اور سب کو مساوی حقوق حاصل ہوں گے، لیکن سماجی حیثیت کا تعلق مفاد عامہ کے پیش نظر کیا جائے گا۔ اور آرٹیکل نمبر 4میں کہا گیا ہے: آزادی کا حق اس حد تک تسلیم کیا جائے گا، جب تک کہ اس سے کسی دوسرے شخص کا حق متاثر یا مجروح نہ ہو اور ان حقوق کا تعین بھی قانون کے ذریعے کیا جائے گا۔
٭جرمنی کے آئین کے آرٹیکل نمبر5 میں کہا گیا ہے: ہر شخص کو تحریر ، تقریر اور اظہار خیال کی آزادی کا حق حاصل ہے۔ مگر اس کے ذیلی آرٹیکل نمبر 2میں واضح کردیا گیا ہے کہ یہ حقوق شخصی عزت و تکریم کے دائروں میں رہتے ہوئے استعمال کئے جاسکیں گے۔
٭امریکی دستور میں بھی مطلق آزادی کا کوئی تصور نہیں۔ امریکن سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق دستور میں ایسی تحریر اور تقریر کی اجازت نہیں، جو عوام میں اشتعال انگیزی یا امن عامہ میں خلل اندازی کا سبب بنے یا اس سے اخلاقی بگاڑ پیدا ہو، ریاست کو ایسی آزادی سلب کرنے کا اختیار دیا گیا،اسی طرح آزادی مذہب کے نام پر توہین مسیح کے ارتکاب کو ممنوع قرار دیا گیا ہے۔(امریکن سپریم کورٹ کے اس فیصلے کی تفصیل محمد اسماعیل قریشی ایڈووکیٹ نے اپنی کتاب ناموس رسالت اور توہین رسالت کے باب پنجم میں لکھی ہے)
٭یہی حال برطانیہ کا ہے، وہاں بھی حضرت عیسیٰ علیہ السلام یا برطانیہ کی ملکہ کی شان میں کسی قسم کی گستاخی کی اجازت نہیں،وہاں ہائیڈپارک میں اسپیکر کارنر کے نام سے ایک گوشہ مختص ہے ،جہاں مخصوص اوقات میں ہر شخص کو جو جی میں آئے کہنے یا بکنے کی چھوٹ دی گئی ہے، لیکن یہاں بھی کسی کو یہ اجازت نہیں کہ وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی توہین کرے یا ملکہ کی شان میں گستاخی کرے۔

مذکورہ بالا تمام باتوں کا ماحصل یہ ہے کہ دنیا کے نام نہاد آزاد اور ترقی پسند ممالک میں بھی جب اس طرح کے قوانین موجود ہیں کہ کسی عام انسان کی توہین برداشت نہیں کی جاتی ہے، ملکہ کی توہین ناقابل معافی جرم تصور کی جاتی ہے، مذہبی پیشوائوں کی تضحیک قابل تعزیر جرم مانی جاتی ہے اور ہمارے ملک کی آئین میں بھی اس طرح کی ہتک عزت کی مثال دفعات موجود ہیں تو اب حکومت وقت اور بلاتفریق تمام حکمرانوں کو چاہیے کہ ناموس رسالت اور اس کے ساتھ ساتھ دیگر مذہبی پیشوائوں کی ناموس کو آئینی حیثیت سے قانونی تحفظ فراہم کرتے ہوئے ایک مستقل قانون بنائے، تاکہ آئے دن وقوع پذیر ہورہی اس طرح کی رذیل اور شرمناک حرکتوں پر قدقن لگایا جاسکے اور ہمارا ملک امن و سلامتی کے ساتھ ایک خوش گوار فضا میں ترقیوں کی طرف گامزن ہو۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے