از قلم: عاصی محمد امیر حسن امجدی رضوی، الجامعة الصابریہ الرضویہ پریم نگر نگرہ جھانسی یوپی
ہر روز ان کی یاد میں روتا ہوں مسلسل
داغِ غمِ فراق ‘میں، دھوتا ہوں مسلسل
ہے ذکر ان کا باعثِ تسکینِ قلب و روح
شب صبح یاد اس لئے کرتا ہوں مسلسل
لینے کی جب بھی نام کی ملتی ہے سعادت
تو مشک بوئے دہن سے پاتا ہوں مسلسل
جاناں کے در کا ہاں! درِ جانانہ کے در کا
حسرت لئے یہاں وہاں پھرتا ہوں مسلسل
ہاں ! روزِ حشر قرب ہو آقا کا میسر
ہر دن درودِ پاک میں پڑھتا ہوں مسلسل
خلوت میں ہوں کہ یاکہیں جلوت میں ہوں لیکن
ہر آن ان کی یاد میں رہتا ہوں مسلسل
آباد ان سے عشق کی دنیا ہی ہے ایسی
حرفِ ثنا کے گیت جو گاتا ہوں مسلسل
سرمایۂ حیات ہے بس ان کی محبتّ
دنیا کا غم اسی لئے سہتا ہوں مسلسل
اپنا امیرؔ کیوں نہ سب میں ان پے لٹاؤں
ان کے طفیل ہی تو میں جیتا ہوں مسلسل